ذیشان خان

Administrator
خطبہ جمعہ مسجد نبوی
بتاریخ: 16؍ جمادی الآخر ؍ 1442 ھ مطابق 29؍ جنوری؍ 2021 عیسوی
خطیب: لفضيلة الشيخ/ علي الحذيفي حفظہ اللہ.
موضوع:نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی اہمیت
للمترجم: حافظ محمد اقبال راشد.

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو عرشِ عظیم کا مالک ، ولی حمید اور ہر سنگین سے سنگین مشکل کے حل کی امید ہے۔
میں اپنے رب کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، اس کی جانی و انجانی ان تمام نعمتوں پر ، جن کو اس کے علاوہ کوئی شمار نہیں کرسکتا ۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، وه جو چاہتا ہے كر گزر تا ہے ۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی و سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور ہر راہِ راست کے پیشوا رسول ہیں ۔
اے اللہ اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ اور آپ کی آل اور ان صحابہ پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما ،
جنہوں نے اسلام پر عمل اور اس کی طرف دعوت کے ذریعے اسلام کی مدد کی ، اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جہاد کیا یہاں تک کہ (نورِ) توحید سے شرک کے تمام اندھیرے چھٹ گئے۔
حمد و ثنا کے بعد:
فرائض کی ادائیگی اور ترکِ محرمات کے ذریعے اپنے پروردگار اللہ سے ڈرو ، تاکہ شاندار زندگی اور اچھے انجام کے حصول میں کامیاب ہو جاؤ ۔ ارشادِ باری تعالی ہے : یہ آخرت کا شاندار گھر ہم ان لوگوں کے لیے ہی خاص کرتے ہیں ، جو زمین میں اونچائی ، بڑائی ، فخر اور فساد کے خواہشمند نہ ہوں اور متقین کے لیے نہایت ہی شاندار انجام ہے ۔
اے مسلمانو !
اللہ تعالی نے اپنے حکم کی تکمیل اور مشیت کی تنفیذ کے لیے اس کائنات کو پیدا فرمایا۔ تاکہ ان کے درمیان اپنے من مرضى كے احکامات جاری کرے ، اور اس کے حکم میں تنقید کی کسی کو مجال نہیں۔ اور وہ اپنی قدرت ، رحمت ،حکمت اور علم پر مشتمل تدبیر سے ان کی منصوبہ بندی کرتا ہے ۔سو مخلوق کی حالت اللہ کے فضل و رحمت اور عدل و حکمت کے مابین، ہمیشہ بدلتی رہتی ہے ۔
چنانچہ مخلوق کو حاصل ہونے والی ہر خیر و بھلائی اور خوشحالی محض اس کے فضل و رحمت کی بدولت ہی ہے ۔
جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا : تجھے جو بھی بھلائی نصیب ہوتی ہے وہ صرف اللہ کی طرف سے ہے ۔
اور فرمایا : اللہ تعالی جو رحمت لوگوں کے لیے کھول دے ، اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو وہ بند کر دے اسے اس کے بعد کوئی جاری کرنے والا نہیں ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔
اور فرمایا: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالٰی نے زمین و آسمان کی ہر چیز کو تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور تمہیں اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں ۔اور فرمایا:  تمہارے پاس موجود ہر نعمت اللہ کی طرف سے ہی ہے ۔
اور فرمایا: اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے ، بے شک اللہ غفور رحیم ہے ۔
سو تمام نعمتوں کی ابتدا و انتہا کا محور صرف بزرگ و برتر پروردگار ہی ہے۔اور اس کے علاوہ کوئی بھی کسی نعمت کا حقدار نہیں۔
اللہ کی اپنے بندوں پر مہربانی ہے کہ اس نے نعمتوں کی بقا اور ان میں اضافے کے لیے ، انہیں ان پر شکر کا پابند کیا اور ان کے زوال و محرومی سے بچاؤ کے غرض سے ناشکری سے منع فرمایا.
چنانچہ اللہ عزوجل نے فرمایا :  اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر شکر کرو گے تو اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے ۔
سو فرائض کی ادائیگی اور فواحش و منکرات سے اجتناب اور تمام نعمتوں کو انعام دینے والے اللہ کے رضا و تعظیم اور محبت کے لیے قربان کر دینا ہی نعمتوں پر شکر ہے۔اللہ سبحانہ نے فرمایا:  اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اگرواقعی تم اسی کی عبادت کرتے ہو  ۔
ارشادِ باری تعالی ہے :  اے آلِ داود اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو ، میرے بندوں میں سے شکر گزار بندے کم ہی ہوتے ہیں ۔
بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ : رات یا دن کی کوئی ایسی گھڑی نہیں تھی ، جس میں آلِ داود کا کوئی فرد رکوع ، سجود یا کسی نیک عمل میں مصروف نہ ہو
سو اے مسلمان !
اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور غور کرو کہ تمہارے مستحق نہ ہونے کے باوجود تمہارے رب نے تمہیں ان نعمتوں سے مالامال فرمایا۔
اس لیے تمام نعمتوں پر پاکیزہ پروردگار کی اسی طرح ثنا بیان کرو ،جس طرح نبی ﷺ اپنے رب کی ثنا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "اے رحمت و مہربانی کے ساتھ دونوں ہاتھ پھیلانے والے ، اے وسیع المغفرت ، اے تمام سرگوشیوں کے مالک ، شکایات کے سننے والے ، کریم درگزر کرنے والے ، عظیم الاحسان ،قبل از استحقاق نعمتیں عطا کرنے والے ، اے ہمارے رب ، آقا اور مولا ۔ اے ہمارے منتہائے مقصود ، اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ، میرے جسم کو آگ سے نہ جلانا"۔(اسے حاکم نے المستدرک میں عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت کیا اور کہا اس کی سند صحیح ہے).
نعمتوں کی تعظیم اور یادگیری سے اللہ کی محبت اور اس سے شرم و حیا کی دولت ہاتھ لگتی ہے۔
تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک باشعور شخص احسان کرنے والے کی بے ادبی کرے۔
نبی مکرم ﷺ ے فرمایا: " اللہ سے اس کی نعمتوں کی بنا پر محبت کرو اور اس کی خاطر میرے ساتھ محبت کرو اور میری خاطر میرے اہلِ بیت سے محبت کرو"۔ (ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث صحیح ہے اور حاکم نے کہا یہ حدیث ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہے ).
سو بندوں پر یہ تمام تر فیوض و برکات اور انعامات محض اللہ کی تدبیر و احسان کی بنا پر ہی ہیں۔
اور کوئی بھی نیکیوں کے ساتھ اللہ کی ان نعمتوں کا حق ادا نہیں کر سکتا ، بلکہ یہ سارا کا سارا اللہ تعالی کا فضل ہے۔
اور وہ اپنے فضل و رحمت اور درگزر کیوجہ سے معمولی نیک عمل سے راضی ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ عمل خالص اللہ کے لیے اور سنت کے مطابق ہو ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی ایک بھی، اپنے عمل سے جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا "۔
پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ بھی نہیں ! تو آپ نے فرمایا: "ہاں میں بھی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکوں گا جبتک اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نہ ڈھانپ لے" ۔ (اسے احمد نے ابو ہریرہ کی حدیث سے روایت کیا ہے)۔
ابنِ رجب رحمہ اللہ سلف صالحین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : وہ اپنے اعمال اور توبہ پر شک کرتے اور ان کی عدمِ قبولیت سے ڈرتے رہتے تھے ، جس سے ان کے دلوں میں شدتِ خوف بڑھ جاتی اوروہ عملِ صالح کے حصول میں خوب محنت کرتے ۔
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایسے لوگ پائے ہیں کہ اگر ان کا کوئی ایک شخص زمین کی بھرائی کے برابر بھی خرچ کر دیتا ، تو وہ اپنے دل میں گناہ کے بڑا ہونے کی وجہ سے بے خوف نہ ہوتا۔ ان کا قول ختم ہوگیا۔
جس طرح تمام بھلائیاں ، نعمتیں اور خوشحالیاں اللہ تعالی کی قضا و قدر اور اس کے فضل و مہربانی سے ہوتی ہیں اسی طرح تمام شر ، مصائب اور سزائیں بھی اللہ کی قضا و قدر اور اس کے عدل و حکمت سے ہی ہوتی ہیں۔ارشادِ باری تعالی ہے : اللہ تعالی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ نبی مکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "بلا شُبہ اللہ تعالی نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ، مخلوقات کی تقدیریں لکھیں ، جبکہ اللہ کا عرش پانی پر تھا ".(اسے مسلم اور ترمذی نے روایت کیا).
اللہ عزوجل ہی اسباب اور مابعد الاسباب کا پیدا کرنے والا ہے۔
چنانچہ پروردگار اسباب اور بلا اسباب (دونوں طرح )پیدا کرتا ہے ، جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔
اور وہ خیر و شر دونوں کے ذریعے آزماتا ہے ۔
فرمانِ باری تعالٰی ہے: اور ہم تمہیں آزمانے کے لیے خیر و شر میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری طرف ہی لوٹائے جاؤ گے ۔
سو وہ فرمانبردار شکر گزاروں کو ثواب اور منکر و نافرمانوں کو سزا دیتا ہے۔
سو کائینات اللہ کے پسندیدہ اور اس کی کتاب میں بیان کردہ دستور کے مطابق چلتی ہے۔
چنانچہ قادر ، مہربان ، غالب ، حکمت والا عظیم معبود ہی ہے ،جو کائنات کو کنٹرول کرتا اور اسے چلاتا ہے ۔
فرمانِ باری تعالٰی ہے : وہی کام کی تدبیر کرتا ہے ، وہ اپنے نشانات کھول کھول کر بیان کر رہا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کر لو ۔
اور فرمایا: وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے پاس سفارش کرنے والا نہیں ، ایسا اللہ تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو ، کیا تم پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتے ۔اور اللہ عزوجل نے فرمایا: سب آسمان و زمین والے اسی سے مانگتے ہیں ، ہر روز وہ ایک شان میں ہے ۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی مکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: " ہر روز وہ ایک شان میں ہے ، اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ بخش رہا ہے ، کسی کی مصیبت دور کر رہا ہے ، کسی کی دعا قبول کر رہا ہے ، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کر رہا ہے". (اسے بزار نے روایت کیا ہے).
اگر کائنات ہمیشہ ویسے ہی چلتی جیسے لوگ چاہتے ہیں تو انبیاء علیہم السلام کبھی کسی مصیبت میں مبتلا نہ ہوتے اور نہ ہی ان کا اور ان کے متبعین کا شاندار انجام ہوتا اور نہ ہی ان کے مخالفین کو قسما قسم کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ، لیکن یہ اس لیے ہے کہ حکم صرف ایک اللہ کا ہی چلتا ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے :  آپ کہدیجئے کہ کام سارا کا سارا اللہ کے اختیار میں ہے ۔
اور فرمایا: جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو ، وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ۔
مصائب درحقیقت مسلمان کے گناہوں کے کفارے اور درجات کی بلندی کا باعث ہوتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "مومن مرد اور مومن عورت کی جان ، مال اور اولاد میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں ، یہانتک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتے ہیں کہ ان پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ".(اسے ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حاکم نے روایت کیا اور اسے صحیح قرار دیا).
محمد بن خالد سلمی اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے :" جب بندے کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ لکھ دیا جاتا ہے ، جس تک وہ عمل کے ذریعے نہیں پہنچ پاتا ، تو اللہ اسے اس کے جسم ، مال یا اولاد میں آزماتا ہے اور اسے اس پر صبر کی توفیق عطا کر دیتا ہے ، یہانتک کہ وہ اللہ کے اس عطا کردہ رتبے تک پہنچ جاتا ہے".(اسے ابوداود، احمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے ).
دین پر مضبوطی و کمزوری کے لحاظ سے ہی آزمائش ہوتی ہے ۔
حضرت مصعب بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ سب سے سنگین آزمائش کن لوگوں کی ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا: "نبیوں کی ، پھر جو ان کے بعد مرتبے میں ہوں ، پھر جو ان کے بعد ہیں ۔
یعنی بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے ، اگر بندہ اپنے دین پر مضبوط ہو تو اس کی آزمائش سخت اور اگر وہ دین میں نرم ہو تو ، اللہ بھی اسے اس کے دین کے مطابق ہی آزماتا ہے۔ پھر مصیبت بندے پر ہمیشہ رہتی ہے ، یہانتک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں رہتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا"
۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے).
مصائب ، پریشانیوں اور سنگین حادثات پر صبر اور اجر و ثواب کی امید سے امتِ مسلمہ کو اجر و ثواب ملتا ہے۔
اور یہ لوگوں کے لیے باعثِ عبرت ہیں ، تاکہ وہ غور کریں کہ یہ گناہ کے کن دروازوں سے آئی ہیں تاکہ وہ ان کے تکرار اور ان سے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے اجتناب کرسکیں۔ نیز وہ یہ یاد کریں کہ اس مصیبت سے قبل وہ کن نعمتوں میں تھے ، تاکہ اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے ان کو ہمیشہ کی عافیت ، امن اور خوشحالی نصیب ہوسکے ۔
جیسا کہ اللہ تعالی اپنا دستور بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے ، ہاں اگر تم پھر بھی وہی کرنے لگے ، تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گے ۔
اور اللہ تعالى مصائب ، پریشانیون اور دکھوں کو امت پر ہمیشہ برقرار نہیں رکھتا بلکہ جب چاہتا ہے انہیں رفع دفع کر دیتا ہے۔
سو اے مسلم !
پریشانی میں اللہ کی طرف سے فراخی کا انتظار کر اور بلاؤں کا مقابلہ دعا و انابت سے کرو۔ پس بلاشُبہ رب سبحانہ لوگوں کو عذاب دینے سے مستغنی ہے، لیکن اللہ سبحانہ چاہتا ہے کہ وہ نیک اعمال کریں اور برائیاں چھوڑ دیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :  جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں ، تو آپ بتا دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ، جب بھی کوئی دعا کرنے والا دعا کرتا ہے تو میں قبول کرتا ہوں ، سو ان کو میری بات مان لینی چاہیے اور مجھ پر یقین رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے ۔
اور فرمایا: اللہ کی رحمت بلاشُبہ احسان کرنے والوں کے بہت قریب ہے ۔
اللہ تعالی قرآنِ عظیم کو ، میرے اور تمہارے لیے باعثِ برکت بنائے ...

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں. اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہٗ لاشریک کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو قوی و متین ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی و سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسولِ امین ہیں۔
اے اللہ ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ اور ان کی تمام آل و اصحاب پر صلوۃ وسلام اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و ثنا کے بعد :
اللہ تعالی سے کماحقہٗ ڈرو اور اسلام کے مضبوط کڑے کو مضبوطی سے تھام لو۔
اے اللہ کے بندو !
جان لو کہ بندے کی تونگری و سعادت یہی ہے کہ ، اسے اللہ کے سامنے اپنے مجبورو محتاج ہونے اور ہمیشہ اس سے مانگنے پر پختہ یقین ہو۔
ارشادِ باری تعالی ہے :اے لوگو! تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو جبکہ اللہ غنی حمید ہے۔
بندے کا اپنے نفس پر مان اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور اللہ سے بے پرواہی کا گمان ہی اس کی ذلت و رسوائی ، ہلاکت وبدبختی اور خسارے کا باعث ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے : لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی ، تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کا سامان میسر کر دیں گے ،اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" دو ایسی عظیم نعمتیں ہیں ، جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے کا شکار ہیں ، ایک تندرستی اور دوسری فارغ البالی". (بخاری شریف).
اے مسلم !
جب تمہیں تمہارے رب کی طرف سے ، کوئی نعمت نصیب ہو تو شکر ادا کرو اور جب تجھے کسی ناپسندیدہ چیز کا سامنا ہو تو صبر کرو۔
کیونکہ تم محض اللہ کے بندے اور اس کی ملکیت ہو اور اپنے نفس کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہو۔
لہذا اے بندے ! جب تم پر کوئی مصیبت آجائے ، تو پوری توجہ سے اللہ کے سامنے گڑ گڑاؤ۔
جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ( جان لو کہ بلاشبہ کشادگی تکلیف کے ساتھ ، مدد صبر کے ساتھ اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
اور یہ بھی جان لو کہ یہی اعمال تمہاری سعادت مندی اور بدبختی کا باعث ہیں اور دنیا عمل کی جگہ اور آخرت خیر و شر کے بدلے کا مقام ہے
نیز جیسا کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا:( اے میرے بندو ! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں ، جن کو میں تمہارے لیے جمع کرتا رہتا ہوں ، پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا ، سو جو بہتر بدلہ پائے ، اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیےاور جو برا بدلہ پائے وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔
اے اللہ کے بندو
بیشک اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے ، نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجو
 
Top