صحت و عافیت ایک عظیم نعمت
صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو بہت زیادہ سننے والا اور جاننے والا ہے، بہت ہی قریب ہے، اور دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے، وہی اللہ ہے جو مصیبت زدہ کی مصیبتوں کو دور کرتا ہے، شکر گزاروں کی طرح ہم بھی اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں، اللہ سے توبہ و استغفار کرنے والوں کی طرح ہم بھی اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرتے ہیں، اللہ کی رحمت بہت کشادہ ہے، اور ہر چیز پر اس کی رحمت اور اس کا علم محیط ہے۔
ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں۔
اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیں درود و سلام کا حکم دیا، آپ پر درود و سلام سے ہمیں راحت و انسیت ملتی ہے، رب کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، اللہ تعالی ہمارے دلوں کو آپ سے جوڑ دے، ہمارے سینوں کو ہدایت کیلئے کھول دے، ہمارے غموں کو دور فرمائے، اور فرحت و مسرت سے ہمیں بھر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کے صحابہ پر، اور قیامت تک آپ کی اتباع کرنے والوں پر اللہ کی برکتیں نازل ہوں۔
اے لوگو اللہ کا تقوی اختیار کرو، اس سے ڈرو، خوشی میں بھی اس کا تقوی اختیار کرو، اس کا شکر بجا لاؤ، اور تکبر میں مبتلا نہ ہو، پریشانیوں میں بھی اس کا تقوی اختیار کرو، اور صبر کا دامن نہ چھوڑو، نہ گھبراؤ اور نہ مایوس ہو، صحت و عافیت میں بھی اللہ کا تقوی اختیار کرو دھوکے میں مبتلا نہ رہو،
آفات و مصیبت میں بھی، اللہ سے ڈرو ناراض مت کرو۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَاتَّقُوا اللّـٰهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّكُمْ مُّلَاقُـوْهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ (البقرة۔223)
اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم ضرور اس سے ملو گے اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو۔
اے لوگو اللہ آپ پر رحم کرے، یاد رکھو! پہلے اور بعد تک کے سارے معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اسی نے سب کو پیدا کیا، اور سارے معاملات کی تدبیر بھی وہی کرتا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَآ اَمْرُهٝٓ اِذَآ اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَـهٝ كُنْ فَيَكُـوْنُ (یس۔82)
اس کی تو یہ شان ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اتنا ہی فرما دیتا ہے کہ ہو جا، تو وہ ہو جاتی ہے۔
وہی ہے جو ہر چیز کا پھیرنے والا ہے، اس علاہ کسی کے پاس اس کی طاقت نہیں ہے، مخلوق تو با الکل کمزور ہیں۔
اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے
: قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ وَمَنْ يُّدَبِّـرُ الْاَمْرَ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّـٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (یونس۔31)
کہہ دیجئے تمہیں آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے، یا کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے، اور زندہ کو مردہ سے کون نکلتا ہے، اور مردہ کو زندہ کون کرے گا، اور سب کاموں کا کون انتظام کرتا ہے، سو کہیں گے کہ اللہ، تو کہہ دو کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔
اللہ کے بندو! غور و فکر کرنے والے جانتے ہیں کہ نعمت اسلام اور ہدایت کے بعد، سب سے بڑی کوئی نعمت ہے تو صحت و عافیت ہے، انسان کا جسم تندرست و توانا ہو، اور ہر طرح کے امراض وافات سے محفوظ ہو، اللہ کی عبادات اور اس کی اطاعت و بندگی صحیح ڈھنگ سے کر رہا ہو، اس کے اوپر یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت اور اس کا احسان ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس : الصحة والفراغ " . رواه البخاري
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " دو نعمتیں ہیں کہ ان کے معاملہ میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں، اور فریب کھائے ہوئے ہیں (اور وہ دونوں نعمتیں) " تندرستی " اور " فراغت( خالی اوقات) ہیں۔" (بخاری
اے اللہ کے بندو! ان نعمتوں کی حفاظت کرو، اس پر اللہ کا شکر ادا کرو، اور اس کی حمد و ثنا بیان کرو۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
لَئِنْ شَكَـرْتُـمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُـمْ اِنَّ عَذَابِىْ لَشَدِيْدٌ (ابراھیم۔ 7)
البتہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا۔
نبیء محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ العَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الأكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا۔
ﷲ تعالی اس بندے سے خوش ہو جاتا ہے جو کھانا کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے اور اس کی حمد و ثناء بیان کرتا اور اللہ اسے بہتر سے بہتر رزق عطا کرتا ہے۔( صحیح مسلم۔2734)
ایسے ہی دنیا اور آخرت کی عافیت و سلامتی کے لئے، اپنے جسم کی صحت و تندرستی کے لئے، اعضاء و جوارح کی سلامتی کے لئے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح و شام پڑھنے کیلئے ہمیں بہترین دعا سکھلائی ہے ۔
: اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي ، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي ، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ ، وَمِنْ خَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، وَمِنْ فَوْقِي ، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي
یا اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔ یا اللہ ! اپنے دین ،دنیا، اہل خانہ اور مال و دولت کے متعلق عافیت اور معافی کا طلب گار ہوں۔ یا اللہ ! میرے عیب چھپا دے ۔ مجھے میرے اندیشوں اور خطرات سے امن عنایت فرما ۔ یا اللہ ! میرے آگے ، پیچھے ، دائیں ، بائیں اور اوپر سے میری حفاظت فرما ۔ اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے سے اُچک لیا جاؤں ۔(صحیح ادب المفرد البانی
امام ابو داود: (5068)، امام ترمذی: (3391)
لوگو! ہمارے اوپر اپنے اولواالامر یعنی مسلم بادشاہوں کی اطاعت و فرمانبرداری، واجب ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَاِنْ تَنَازَعْتُـمْ فِىْ شَىْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّـٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُـمْ تُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيْـرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (النساء۔59)
اے ایمان والو! اللہ کی فرمانبرداری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے حاکم ہوں، پھر اگر آپس میں کسی چیز میں جھگڑا کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لاؤ، اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہو، یہی بات اچھی ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔
اور امام اھل السنة احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں
میں امیر المومنین (مسلمانوں کے بادشاہ ) کی ظاہر اور پوشیدہ طور سے، خوشحالی اور تنگی، پسندیدہ اور نا پسندیدگی ہر حالت میں اطاعت کرتا ہوں، اور میں اللہ سے اس کے لئے دن و رات توفیق مانگتا ہوں۔

مسلمانو! اطاعت اولی الامر میں سے یہ بھی ہے کہ بر وقت جو حکومت کی طرف سے موجودہ وباء اور بیماری سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کا حکم دیا گیا ہے، اس پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے، چاہے وہ ماسک کا استعمال ہو، مسجدوں میں جائے نماز لے کر آنا ہو، دوری کو بنائے رکھنا ہو، اجتماعات سے پرہیز کرنا ہو، ایسے ہی الیکٹرانک ایپ توکلنا کا استعمال ہو، اس کی پابندی بھی ہمارے اوپر واجب ہے۔
کیوں کہ یہ ساری چیزیں ہماری صحت و سلامتی کے لئے ہیں۔
لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم کسی طرح کی سستی اور کاہلی میں اور بے احتیاطی میں مبتلا نہ ہو، کیونکہ معمولی بے احتیاطی بھی ہمارے لئے، یا ہمارے ذریعہ سے دوسرے بھائیوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ تعالی تو ہماری طرف سے اس بیماری اور وبا کے لئے کافی ہوجا، ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس وبا اور مصیبت سے محفوظ رکھ۔ آمین۔
 
Top