🌺🌺🍀انگوٹھے چومنے کی شرعی حیثیت🍀🌺🌺

تحریر:حافظ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللّٰہ تعالیٰ

⭐اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کی اطاعت وفرماں برداری کی جائے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا :

أَطِیعُونِي مَا أَطَعْتُ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ، فَإِذَا عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ؛ فَلَا طَاعَۃَ لِي عَلَیْکُمْ ۔

’’میری اطاعت اس وقت تک کرنا،جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں۔جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو تمہارے اوپر میری کسی قسم کی کوئی اطاعت فرض نہیں ۔‘‘

(السیرۃ لابن ہشام : ۶/۸۲، وسندہٗ حسنٌ)

اس لیے ہمارا فرض بنتا ہے کہ غلو وتقصیر سے بچتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو حرزِجان بنائیں۔شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وتوقیر بجالائیں، جیسا کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (۶۷۳۔۷۴۸ھ)نے کیا خوب فرمایا ہے :

فَالْغَلُوُّ وَالْاِطْرَائُ مَنْہِيٌ عَنْہُ، وَالْـاَدَبُ وَالتَّوْقِیْرُ وَاجِبٌ، فَإِذَا اشْتَبَہَ الْاِطْرَائُ بِالتَّوْقِیْرِ تَوَقَّفَ الْعَالِمُ وَتَوَرَّعَ، وَسَأَلَ مَنْ ہُوَ أَعْلَمُ مِنْہُ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُ الْحَقُّ، فَیَقُوْلُ بِہٖ، وَإِلاَّ فَالسُّکُوْتُ وَاسِعٌ لَّہٗ، وَیَکْفِیْہِ التَّوْقِیْرُ الْمَنْصُوْصُ عَلَیْہِ فِي أَحَادِیْثَ لاَ تُحْصٰی، وَکَذَا یَکْفِیْہِ مُجَانِبَۃُ الْغُلُوِّ الَّذِي ارْتَکَبَہُ النَّصَارٰی فِي عِیْسٰی، مَا رَضُوْا لَہٗ بِالنَّبُوَّۃِ حَتّٰی رَفَعُوْہٗ إِلَی الْإِلٰہِیَّۃِ وَإِلَی الْوَالِدِیَّۃِ، وَانْتَہَکُوْا رُتْبَۃَ الرَّبُوْبِیَّۃِ الصَّمَدِیَّۃِ، فَضَلُّوْا وَخَسِرُوْا، فَإِنَّ إِطْرَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُؤَدِّي إِلٰی إِسَائَۃِ الْـاَدَبِ عَلَی الرَّبِ، نَسْأَلُ اللّٰہَ تَعَالٰی أَنْ یَّعْصِمَنَا بِالتَّقْوٰی، وَأَنْ یَّحْفَظَ عَلَیْنَا حُبَّنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا یَرْضٰی ۔

’’غلو اوراطرا ( تعظیم میں حد سے بڑھ جانا) ممنوع ہے ، جبکہ ادب اور توقیر واجب ہے۔جب اطرا اور توقیر مشتبہ ہوجائیں تو عالم آدمی کو توقف کرنا چاہیے اور رُک جانا چاہیے،حتی کہ وہ اپنے سے بڑے عالم سے اس بارے میں دریافت کرلے، تاکہ اس کے لیے حق واضح ہوجائے،پھر وہ اس کے بارے میں بات کرے، ورنہ خاموشی ہی اس کے لیے اچھی ہے۔اسے وہی توقیر کافی ہے،جسے بے شمار احادیث میں کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔اسی طرح اسے اس غلو سے بچنا کافی ہے، جس کا ارتکاب نصاریٰ نے سیدنا عیسیٰ uکے بارے میں کیا۔وہ ان کی نبوت پر راضی نہیں ہوئے،یہاں تک کہ انہوں نے انہیں الہٰ اور اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا اور اللہ تعالیٰ کی شانِ ربوبیت وصمدیت میں نقب لگایا۔یوں وہ گمراہ اورناکام ہوگئے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں حد سے بڑھنا اللہ تعالیٰ کی گستاخی کی طرف لے جاتا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تقویٰ کے ذریعے ہمیں بچالے اورجیسے اسے پسند ہے،اسی طرح ہمارے دلوں میںنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت راسخ فرمادے ۔‘‘(میزان الاعتدال : ۲/۶۵۰)

بعض لوگوں نے غلو میں انتہا کردی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کی بجائے بدعات کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان کی جاری کردہ بدعات میں سے ایک بری بدعت یہ ہے کہ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ِ نامی،اسم ِ گرامی سن کر انگوٹھے چومتے ہیں۔اس پر کوئی شرعی دلیل نہیں۔ اگر یہ کوئی نیکی کا کام ہوتا یا شریعت کی رُو سے نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر ہوتی تو صحابہ کرام اورائمہ عظام ضرور بالضرور اس کا اہتمام کرتے۔وہ سب سے بڑھ کر نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنے والے تھے۔کسی ثقہ امام سے اس کا جواز یا استحباب ثابت نہیں،لہٰذا یہ دین نہیں،بل کہ دین کی خلاف ورزی ہے ۔

اس بدعت کے ثبوت پر مبتدعین کے شبہات ملاحظہ فرمائیں :

شبہہ نمبر 1 :

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق مسند الفردوس از دیلمی میں روایت ہے :

إِنَّہٗ لَمَّا سَمِعَ قَوْلَ الْمُؤَذِّنِ : أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُولُ اللّٰہِ؛ قَالَ ہٰذَا، وَقَبَّلَ بَاطِنَ الْـأُنْمُلَتَیْنِ السَّبَّابَتَیْنِ، وَمَسَحَ عَیْنَیْہِ، فَقَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’مَنْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ خَلِیلِي؛ فَقَدْ حَلَّتْ عَلَیْہِ شَفَاعَتِي‘ ۔

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو أشہد أنّ محمّدا رسول اللّٰہ کہتے سنا تو یہی الفاظ کہے اوردونوں انگشت ِشہادت کے پورے جانب ِ زیریں سے چوم کر آنکھوں سے لگائے۔اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو ایسا کرے گا،جیسا میرے پیارے نے کیا ہے،اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔‘‘

(المقاصد الحسنۃ للسخاوي، ص : ۳۸۴)

تبصرہ :

1۔یہ روایت بے سند ہونے کی وجہ سے مردود وباطل ہے۔ اس کے’’ صحیح ‘‘ہونے کے مدعی پر سند پیش کرنا ضروری ہے ۔ساتھ ساتھ راویوں کی توثیق اور اتصالِ سند بھی ضروری ہے ۔ یہ بدعتیوں کی شان ہے کہ وہ سندوں سے گریزاں ہیں ۔

2۔پھر مزے کی بات یہ ہے کہ حافظ سخاوی رحمہ اللہ (۸۳۱۔۹۰۲ھ)نے اس روایت کے متعلق لکھا ہے کہ :

لَا یَصِحُّ ۔’’یہ روایت صحیح نہیں ہے ۔‘‘

بعض بدعتی یہ کہتے ہیں کہ ’’یہ روایت صحیح نہیں ‘‘کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ ’’حسن‘‘ بھی نہیں ہے،یہ ان کے اپنے منہ کی بات ہے۔ ہمیں تو اس روایت کی سند درکار ہے ، جسے پیش کرنے سے یہ لوگ قاصر رہتے ہیں۔

شبہہ نمبر 2 :

سیدنا خضرسے روایت کی گئی ہے انہوں نے فرمایا:

مَنْ قَالَ حِیْنَ یَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ یَقُوْلُ : أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُوْلُ اللّٰہِ، مَرْحَبًا بِحَبِیْبِي وَقُرَّۃِ عَیْنِي مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ یُقَبِّلُ إِبْہَامَیْہِ وَیَجْعَلُہُمَا عَلٰی عَیْنَیْہِ؛ لَمْ یَرْمَدْ أَبَدًا ۔

’’جو شخص مؤذن سے أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے الفاظ سن کر مَرْحَبًا بِحَبِیْبِي وَقُرَّۃِ عَیْنِي مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کہے،پھر دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھے،اس کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں گی ۔‘‘

(المقاصد الحسنۃ للسخاوي، ص : ۳۸۴)

تبصرہ:
یہ بے سند وبے ثبوت روایت جھوٹی اور باطل ہے۔حافظ سخاوی رحمہ اللہ اس کو ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں :

بِسَنَدٍ فِیْہِ مَجَاہِیْلُ مَعَ انْقِطَاعِہٖ ۔

’’یہ روایت مجہول راویوں کی بیان کردہ ہے،ساتھ ساتھ انقطاع بھی ہے۔‘‘

بدعات کے شیدائی اس بحث میں پڑجاتے ہیں کہ ’’مجہول‘‘ راوی کی روایت ’’ضعیف‘‘ نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔ہم کہتے ہیں کہ یہ راویوں کی جہالت تو حافظ سخاوی رحمہ اللہ نے بیان کی، آپ اس کی سند تو پیش کریں،رہا مسئلہ ’’مجہول‘‘ راوی کی روایت کا تو لیجیے امام شافعی رحمہ اللہ کافرمان سن لیں:

لاَ نَقْبَلُ خَبَرَ مَنْ جَہِلْنَاہُ، وَکَذٰلِکَ لاَ نَقْبَلُ خَبَرَ مَنْ لَّمْ نَعْرِفْہُ بِالصِّدْقِ وَعَمَلِ الْخَیْرِ ۔

’’ہم(محدثین) مجہول راوی کی حدیث کو قبول نہیں کرتے ، نہ ہی اس شخص کی روایت کو قبول کرتے ہیں ، جس کی سچائی اور نیکی کو ہم نہیں جانتے ۔‘‘

(اختلاف الحدیث للشافعي : ۱۳، معرفۃ السنن والآثار للبیہقي : ۱/۱۲)

دوسری بات یہ ہے کہ دین متصل روایات کانام ہے۔ صحیح حدیث کی شرطوں میں بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کی سند متصل ہو۔کیا کریں کہ ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا ہے، جنہیں اپنی بدعات کی پڑی ہے ، محدثین کے اصولوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

اب ان شبہات کے متعلق علماے کرام کی آرا بھی سن لیں :

حافظ سخاوی رحمہ اللہ (۸۳۱۔۹۰۲ھ) لکھتے ہیں :

لاَ یَصِحُّ فِي الْمَرْفُوْعِ مِنْ کُلِّ ہٰذَا شَيْئٌ ۔

’’اس معنیٰ کی مرفوع احادیث میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ۔‘‘
(المقاصد الحسنۃ للسخاوي، ص : ۳۸۵)

ملا علی قاری حنفی ماتریدی (م۱۰۱۴ھ)لکھتے ہیں :
کُلُّ مَا یُرْوٰی فِي ہٰذَا؛ فَلَا یَصِحُّ رَفْعُہٗ اَلْبَتَّۃَ ۔
’’اس بارے میں کوئی بھی مرفوع روایت قطعاً ثابت نہیں ہے ۔‘‘
(الأسرار المرفوعۃ في الأخبار الموضوعۃ المعروف بالموضوعات الکبرٰی، ص : ۲۱۰)

ابنِ عابدین حنفی (۱۱۹۸۔۱۲۵۲ھ)نقل کرتے ہیں :
وَلَمْ یَصِحَّ فِي الْمَرْفُوعِ مِنْ کُلِّ ہٰذَا شَيْئٌ ۔
’’ان سب میں سے کوئی مرفوع روایت ثابت نہیں۔‘‘
(ردّ المحتار علی الدر المختار: ۱/۲۹۳)

ہم کہتے ہیں کہ ان روایات کے ’’صحیح‘‘ یا’’ضعیف‘‘ ہونے کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا،پہلے ان کی سند یں دکھائی جائیں،ورنہ بدعتی تسلیم کریںکہ ان کا ’’دین‘‘ بے سند ہے۔

تنبیہ:

1۔ملا علی قاری حنفی ماتریدی (م۱۰۱۴ھ)لکھتے ہیں :
وَإِذَا ثَبَتَ رَفْعُہٗ عَلَی الصَّدِّیقِ؛ فَیَکْفِي الْعَمَلُ بِہٖ ۔
’’جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک اس کا پہنچنا ثابت ہوگیا ہے تو عمل کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے ۔‘‘
(الموضوعات الکبرٰی، ص :۲۱۰)
تبصرہ :
پہلے اس کی سند پیش کی جائے،پھرراویوں کی توثیق۔۔۔ بے سروپابات کا کیا اعتبار؟

2۔احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب(۱۳۲۴۔۱۳۹۱ھ)’’انجیل برنباس‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’اس میں لکھا ہے کہ حضرت آدمu نے روح القدس (نور ِ مصطفوی) کے دیکھنے کی تمنا کی تو وہ نور ان کے انگوٹھے کے ناخنوں میں چمکا دیاگیا۔انہوں نے فرط ِ محبت سے ان ناخنوں کوچوما اور انگوٹھوں سے لگایا۔‘‘
(’جاء الحق‘ : ۱/۳۹۸)

تبصرہ :
ہمیں قرآن وحدیث کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے ،محرف ومبدل کتابوں کے حوالے وہی ذکر کرتے ہیں،جن کے پاس قرآن وحدیث کی دلیل نہ ہو۔ ذرا امام ابوحنیفہ سے تو اس کاثبوت فراہم کریں یا کسی ثقہ مسلمان سے باسند ِصحیح ایسا کرنا ثابت کردیں !

نیز احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں :
’’اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ حدیث ضعیف ہے،پھر بھی فضائل اعمال میں حدیث ضعیف معتبر ہوتی ہے ۔‘‘
(’’جاء الحق‘‘ : ۱/۴۰۱)

ہمارا مطالبہ سند کا ہے،دوسری بات یہ ہے کہ اس مسئلہ کا تعلق فضائل اعمال سے نہیں،بل کہ شرعی احکام سے ہے کہ اذان میں نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ِ مبارک سن کر انگوٹھے چومنے چاہئیں یا نہیں،فضائل کی بات تو بعد میں ہے ۔
قارئین کرام! خوب یاد رکھیں کہ دین ’’صحیح ‘‘روایات کانام ہے ، فضائل کا تعلق بھی دین سے ہے ،جیسا کہ :

امام ابنِ حبان رحمہ اللہ (م ۳۵۴ھ)لکھتے ہیں :
وَلَمْ أَعْتَبِرْ ذٰلِکَ الضَّعِیْفَ، لِأَنَّ رِوَایَۃَ الْوَاہِي وَمَنْ لَّمْ یَرْوِ سِیَّانِ ۔
’’میں نے اس ضعیف راوی کا اعتبار نہیں کیا،کیوں کہ کمزور راوی کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے ۔‘‘
(الثقات : ۹/۱۵۹)

نیز لکھتے ہیں :
کَأَنَّ مَارَوَی الضَّعِیْفُ وَمَا لَمْ یُرْوَ؛ فِي الْحُکْمِ سِیَّانِ ۔
’’گویا کہ ضعیف کی روایت حکم میں نہ ہونے کے برا بر ہے ۔‘‘
(المجروحین : ۱/۳۲۸، ترجمۃ سعید بن زیاد الداري)

حافظ ابنِ حجرعسقلانی رحمہ اللہ (۷۷۳۔۸۵۲ھ) لکھتے ہیں :
وَلاَ فَرْقَ فِي الْعَمَلِ بِالْحَدِیْثِ فِي الْـأَحْکَامِ أَوْ فِي الْفَضَائِلِ، إِذًا الْکُلُّ شَرْعٌ ۔
’’احکام یا فضائل میں حدیث پر عمل کرنے میں کوئی فرق نہیں،کیوں کہ دونوں (فضائل اور احکام)شریعت ہی تو ہیں۔‘‘
(تبیین العجب بما ورد في شھر رجب، ص : ۲)
’’ضعیف‘‘ حدیث کو کوئی بھی دین نہیں کہتا ۔

جناب احمد یار خان نعیمی گجراتی بریلوی صاحب لکھتے ہیں :’’اور اس کو حرام کہنا محض جہالت ہے،جب تک کہ ممانعت کی صریح دلیل نہ ملے، اس کو منع نہیں کرسکتے۔استحباب کے لیے مسلمانوںکا مستحب جاننا ہی کافی ہے،مگر کراہت کے لیے دلیل خاص کی ضرورت ہے ۔‘‘
(’جاء الحق‘ : ۱/۳۹۹)

کسی ثقہ مسلمان سے باسند ِ صحیح انگوٹھے چومنے کو مستحب کہنا ثابت نہیں۔مدعی پردلیل لازم ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ لگتا ہے کہ نعیمی صاحب کو اپنی ذکرکردہ روایات پر اعتبار نہیں ہے ، تبھی تو لوگوں کا بے ثبوت عمل پیش کررہے ہیں۔ہم تو اس فعل کو بدعت کہتے ہیں،کیوں کہ اس پر کوئی دلیل شرعی نہیں ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ ممانعت کی صریح دلیل نہیں،اس لیے اس کو ناجائز وبدعت نہیں کہنا چاہیے،یہ قول خود ’’محض جہالت‘‘ہے ، کیوں کہ بدعتیوں کا اپنی ایجاد کردہ بدعات کو آخری سہارایہی ہوتا ہے ، حالانکہ عبادات اوردین کے متعلق احکام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے کیے جاتے ہیں،ممانعت کی بنیاد پر نہیں۔اذن واجازت کو دیکھا جاتا ہے۔اس ’’محض جہالت‘‘پر مبنی بات کو مان لیاجائے کہ ممانعت نہیں آئی،اس لیے جائز ہے تو پھر ہر بدعت والا کام دین کا حصہ قرار پائے گا۔ اگر کوئی عید الفطر سے پہلے اذان کہیجب کہ اس کے بارے میں ممانعت صریح کہیں بھی نہیں ہے ، تو کیا وہ مستحب کہلوائے گی؟

علامہ ابوشامہ رحمہ اللہ (۵۹۹۔۶۶۵ھ)فرماتے ہیں :
فَکُلُّ مَنْ فَعْلَ أَمْرًا مُّوْہِمًا أَنَّہٗ مَشْرُوْعٌ، وَلَیْسَ کَذٰلِک؛ فَہُوَ غَالٍ فِي دِیْنِہٖ، مُبْتَدِعٌ فِیہِ، قَائِلٌ عَلَی اللّٰہِ غَیْرِ الْحَقِّ بِلِسَانِ مَقَالِہٖ، أَوْ لِسَانِ حَالِہٖ ۔
’’ہر وہ شخص جو کسی کام کو مشروع سمجھتے ہوئے کرتا ہے،حالانکہ وہ مشروع نہیں ہوتا تو وہ اپنے دین میں غلو سے کام لینے والا،دین میں بدعت نکالنے والا اور زبانِ قال یا زبانِ حال کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا ہوتا ہے ۔‘‘

(الباعث علی إنکار البدع والحوادث، ص : ۲۰۔۲۱)
 
Top