دینی امور پر اجرت، بہترین کمائی یا دین فروشی، ابو یحیی نور پوری، قسط اول
حلت و حرمت کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔وحی الٰہی کے ذریعے ہی کسی چیز کے حلال و حرام ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا کوئی معمولی سی بات نہیں کہ ہر کس و ناکس اس میں طبع آزمائی کرتا پھرے۔لیکن افسوس ہے کہ یہ معاملہ جس قدر حساس ہے،اُتنا ہی جاہل اور غیرسنجیدہ لوگوں کے ہتھے چڑھتا رہتا ہے۔
موجودہ دَور میں ایک خاص فکر کے حاملین دینی اُمور پر اُجرت کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔اُن جاہلوں کے نزدیک خواہ دَم پر اُجرت لی جائے،خواہ قرآنی و دینی تعلیم پر وظیفہ و معاوضہ قبول کیا جائے،سب ناجائز و حرام ہے۔
حالاں کہ قرآنِ کریم اور دینی اُمور پراُجرت دو طرح سے ہو سکتی ہے :
1 دَم کی اُجرت۔اس کے جواز پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے دینی اُمور پر اُجرت کو جائز قرار نہیں دیا،انہوں نے بھی دَم کی اُجرت کو جائز ہی قرار دیا۔کوئی جاہل اور معاند شخص ہی مسلمانوں کے اجماعی نظریے سے اختلاف کر سکتا ہے۔
2 قرآنِ کریم کی تعلیم اور دیگر دینی اُمور پر اُجرت۔اسے اُمت میں سے صرف متقدمین احناف نے ناجائز قرار دیا،لیکن اُن کے گھر ہی سے اس فتوے کو ردّ کر دیا گیا۔ خود بعد والے احناف نے اس شاذ فتوے کو(قیاس کے ذریعے)ردّکرتے ہوئے دینی اُمور پر اُجرت کو جائز قرار دیا۔ یاد رہے کہ امام ابو حنیفہ سے دینی اُمور پر اُجرت کا ناجائز ہونا ثابت نہیں ہے۔محض بعض احناف کا اس کی نسبت امام صاحب کی طرف کر دینا،اس کے ثبوت کی دلیل نہیں ہے۔
یوں مسلمانوں کے نزدیک شرعی دلائل کی روشنی میں قرآنِ مجیدکی تعلیم اور دینی اُمور پر اُجرت شرعاً جائز ہے۔اس میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی شخص دینی تعلیم بغیر معاوضہ طَے کیے فراہم کرے اور لوگ اپنی خوشی سے تحفۃً اس کی خدمت کریں،تو وہ اُجرت نہیں۔رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مُعَلِّمِ کائنات تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تحفے پیش کیے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قبول فرمایا کرتے تھے۔ اسی لیے امت ِمسلمہ نے اجماعی طَور پر ان تحائف کے جائز ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔ موجودہ دَور میں بھی اہل علم کی مالی خدمت اکثر اسی زمرے میں آتی ہے۔
جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ اس مسئلے کی تفصیلات سے جہالت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے بعض لوگ اہل علم کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی تعاون کو مطلقاً ناجائز و حرام قرار دیتے ہیں، نیز اس کے جواز کے قائلین کو دین فروش،دوکان دار، وغیرہ کے بدالقاب سے ’’نوازتے‘‘ ہیں، حالاں کہ ان کے فتووں کی زَد میں سب سے پہلے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم ،پھر اسلافِ اُمت اور ہر دَور کے مسلمان آتے ہیں،جنہوں نے دَم کی اُجرت کو بھی جائز قرار دیا،دینی تعلیم کی اُجرت کے بھی جواز کا فتویٰ دیا اور دینی تعلیم و تربیت کی وجہ سے ملنے والے تحائف کو بھی قبول کیا۔
آئیے دینی اُمور پر اُجرت کے جواز پر وارد دلائل کو تفصیلی طَور پر ملاحظہ فرمائیے:
(ا) موذی جانور کے ڈسنے پر دَم :
n سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
إِنَّ نَفَرًا مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَائٍ، فِیہِمْ لَدِیغٌ أَوْ سَلِیمٌ، فَعَرَضَ لَہُمْ رَجُلٌ مِّنْ أَہْلِ الْمَائِ، فَقَالَ : ہَلْ فِیکُمْ مِنْ رَّاقٍ، إِنَّ فِي الْمَائِ رَجُلًا لَّدِیغًا أَوْ سَلِیمًا، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِّنْہُمْ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ عَلٰی شَائٍ، فَبَرَأَ، فَجَائَ بِالشَّائِ إِلٰی أَصْحَابِہٖ، فَکَرِہُوا ذٰلِکَ، وَقَالُوا : أَخَذْتَ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ أَجْرًا، حَتّٰی قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، أَخَذَ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ أَجْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا؛ کِتَابُ اللّٰہِ ۔‘
’’اصحابِ رسول کا گروہ ایک چشمے پر پڑاؤ ڈالے ہوئے لوگوں کے پاس سے گزرا۔ان میں سے کسی شخص کو موذی جانور نے ڈس لیا تھا۔ان کا ایک آدمی صحابہ کرام کے پاس آیا اور پوچھا : کیا تم میں کوئی دَم کرنے والا ہے؟چشمے کے پاس پڑاؤ کرنے والوں میں ایک شخص کو کسی موذی جانور نے کاٹ لیا ہے۔ایک صحابی گئے اور بکریوں کے عوض سورۂ فاتحہ پڑھ کر دَم کیا تو وہ شفایاب ہو گیا۔وہ بکریاں لے کر دوسرے صحابہ کے پاس آئے تو انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور (اعتراض کرتے ہوئے)کہا : آپ نے قرآنِ کریم پر اُجرت لی ہے!حتی کہ جب وہ مدینہ منورہ واپس آئے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :اللہ کے رسول!اس شخص نے کتاب اللہ پر اُجرت لی ہے۔اس پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جن چیزوں پر تمہارا اُجرت لینا جائز ہے، ان میں سب سے اولیٰ کتاب اللہ ہے۔‘‘
(صحیح البخاري، کتاب الطبّ، باب الشرط في الرقیۃ بقطیع من الغنم، رقم الحدیث : 5737)
n اسی واقعے کو سیدنا ابو سعید،خدری رضی اللہ عنہ یوں بیان فرماتے ہیں :
إِنَّ نَاسًا مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلٰی حَيٍّ مِّنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ، فَلَمْ یَقْرُوہُمْ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذٰلِکَ، إِذْ لُدِغَ سَیِّدُ أُولٰئِکَ، فَقَالُوا : ہَلْ مَعَکُمْ مِّنْ دَوَائٍ أَوْ رَاقٍ؟ فَقَالُوا : إِنَّکُمْ لَمْ تَقْرُونَا، وَلاَ نَفْعَلُ حَتّٰی تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَہُمْ قَطِیعًا مِّنَ الشَّائِ، فَجَعَلَ یَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَیَجْمَعُ بُزَاقَہٗ وَیَتْفِلُ، فَبَرَأَ، فَأَتَوْا بِالشَّائِ، فَقَالُوا : لاَ نَأْخُذُہٗ حَتّٰی نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوہُ، فَضَحِکَ وَقَالَ : ’وَمَا أَدْرَاکَ أَنَّہَا رُقْیَۃٌ، خُذُوہَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَہْمٍ ۔‘
’’صحابہ کرام کی جماعت عربوں کے ایک قبیلے کے پاس آئی تو انہوں نے مہمان نوازی نہ کی۔اسی اثنا میں ان کے سردار کو موذی جانور نے ڈَس لیا۔وہ کہنے لگے : کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا دَم کرنے والا کوئی شخص ہے؟صحابہ کرام نے کہا : تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی،ہم بھی اس وقت تک دَم نہیں کریں گے،جب تک تم ہماری اُجرت مقرر نہیں کرتے۔قبیلے والوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ مقرر کر دیا۔ایک صحابی سورۂ فاتحہ کی قراء ت کرنے لگے اور اپنی تھوک جمع کر کے اسے پھونکنے لگے۔یوں وہ شخص شفایاب ہو گیا اور صحابہ کرام بکریاں لے آئے۔کچھ صحابہ کرام نے کہا کہ ہم اس وقت تک یہ بکریاں نہیں لیں گے،جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں۔انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ ہنس دیے اور (دَم کرنے والے صحابی سے)فرمایا : آپ کو کیسے معلوم تھا کہ سورۂ فاتحہ دَم ہے؟بکریاں لے لو اور اُن سے میرا حصہ بھی نکالو۔‘‘
(صحیح البخاري، کتاب الطبّ، باب الرقي بفاتحۃ الکتاب، رقم الحدیث : 5736؛ صحیح مسلم، کتاب السلام، باب أخذ الأجرۃ علی الرقیۃ بالقرآن والأذکار، رقم الحدیث : 2201)
فقہاے اُمت اور مذکورہ حدیث :
1 فقیہ الامت،امام بخاری رحمہ اللہ (256-194ھ)نے اس حدیث کو کتاب الإجارۃ (اُجرت کے بیان) اور کتاب الطبّ (علاج کے بیان)میں ذکر کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآنِ کریم اور دینی اُمور پر اُجرت لینا جائز ہے۔
b شارحِ صحیح بخاری،علامہ،ابو الحسن،علی بن خلف،ابن بطال رحمہ اللہ (م : 449ھ) اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :
وَلَا فَرْقَ بَیْنَ الْـأُجْرَۃِ عَلَی الرُّقٰی وَعَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ، لِأَنَّ ذٰلِکَ کُلَّہٗ مَنْفَعَۃٌ، وَقَوْلُہٗ عَلَیْہِ السَّلَامُ : ’إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا؛ کِتَابُ اللّٰہِ‘ ھُوَ عَامٌّ، یَدْخُلُ فِیہِ إِبَاحَۃُ التَّعْلِیمِ وَغَیْرُہٗ ۔
’’دَم کے معاوضے اور قرآنِ کریم کی تعلیم پر اُجرت میں کوئی فرق نہیں،کیوں کہ دونوں معاملات منفعت پر مبنی ہیں،نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اُجرت لینے کے حوالے سے سب سے بہترین چیز کتاب اللہ ہے،یہ فرمان عام ہے اور اس میں تعلیم وغیرہ پر اُجرت کا جواز بھی شامل ہے۔‘‘
(شرح صحیح البخاري : 406/6، مکتبۃ الرشد، الریاض، 2003ئ)
b مشہور حنفی،علامہ،ابو محمد،محمود بن احمد،عینی(855-762ھ)صحیح بخاری کی شرح میں لکھتے ہیں :
مُطَابَقُتُہٗ لِلتَّرْجَمَۃِ مِنْ حَیْثُ إِنَّ فِیہِ جَوَازَ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ لقِرَائَۃِ الْقُرْآنِ، وَلِلتَّعْلِیمِ أَیْضًا، وَلِلرُّقْیَا بِہٖ أَیْضًا لِّعُمُومِ اللَّفْظِ ۔
’’اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح سے ہے کہ اس میں قرآنِ کریم پڑھ کر،اس کی تعلیم دے کر اور اس کا دَم کر کے اُجرت لینے کا جواز ہے،کیوں کہ حدیث کے الفاظ میں عموم ہے۔‘‘
(عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري : 95/12، دار إحیاء التراث العربي، بیروت)
b علامہ،محمد بن اسماعیل،امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182-1099ھ)لکھتے ہیں :
وَذِکْرُ الْبُخَارِيِّ لِہٰذِہِ الْقِصَّۃِ فِي ہٰذَا الْبَابِ، وَإِنْ لَّمْ تَکُنْ مِّنْ الْـأُجْرَۃِ عَلَی التَّعْلِیمِ، وَإِنَّمَا فِیہَا دَلَالَۃٌ عَلٰی جَوَازِ أَخْذِ الْعِوَضِ فِي مُقَابَلَۃِ قِرَائَۃِ الْقُرْآنِ، لِتَأْیِیدِ جَوَازِ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلٰی قِرَائَۃِ الْقُرْآنِ تَعْلِیمًا أَوْ غَیْرَہٗ، إِذْ لَا فَرْقَ بَیْنَ قِرَاء َتِہٖ لِلتَّعْلِیمِ وَقِرَائَتِہٖ لِلطِّبِّ ۔
’’امام بخاری رحمہ اللہ نے اس قصہ کو قرآنِ کریم پر اُجرت کے بیان میں ذکر کیا ہے۔ اگرچہ اس حدیث میں تعلیم پر اُجرت کا بیان نہیں ہوا،لیکن اس میں قرآنِ کریم پڑھنے کے بدلے معاوضہ لینے کا ذکر ضرور ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیم یا کسی دوسرے مقصد(علاج)کے لیے قرآنِ کریم کی قراء ت پر اُجرت جائز قرار دینے کے لیے اس حدیث کو بیان کیا ہے،کیوں کہ تعلیم یا علاج کے لیے قرآنِ کریم پڑھنے میں کوئی فرق نہیں۔‘‘(سبل السلام في شرح بلوغ المرام : 117/2، دار الحدیث)
2 اہل سنت کے سرتاج،امام شافعی رحمہ اللہ (204-150ھ)سے نقل کرتے ہوئے امام ترمذی رحمہ اللہ (279-209ھ)لکھتے ہیں :
وَرَخَّصَ الشَّافِعِيُّ لِلْمُعَلِّمِ أَنْ یَّأْخُذَ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ أَجْرًا، وَیَرٰی لَہٗ أَنْ یَّشْتَرِطَ عَلٰی ذٰلِکَ، وَاحْتَجَّ بِہٰذَا الْحَدِیثِ ۔
’’امام شافعی رحمہ اللہ نے مُعَلِّم کے لیے رخصت دی ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی تعلیم کے عوض اجرت لے سکتا ہے۔وہ اس کے لیے(پیشگی)طَے کرنا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ امام صاحب نے اسی حدیث سے استدلال فرمایا ہے۔‘‘
(سنن الترمذي، تحت الحدیث : 2063)
3 فقیہ و محدث،حافظ،ابو سلیمان،حمد بن محمد،خطابی رحمہ اللہ (388-319ھ)لکھتے ہیں :
وَفِي ہٰذَا بَیَانُ جَوَازِ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ، وَلَوْ کَانَ ذٰلِکَ حَرَامًا لَّـأَمَرَہُمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِرَدِّ الْقَطِیعِ، فَلَمَّا صَوَّبَ فِعْلَہُمْ، وَقَالَ لَہُمْ : أَحْسَنْتُمْ، وَرَضِيَ الْـأُجْرَۃَ الَّتِي أَخَذُوہَا لِنَفْسِہٖ، فَقَالَ : اضْرِبُوا لِي مَعَکُمْ بِسَہْمٍ ثَبَتَ أَنَّہٗ طِلْقُ مُبَاحٍ ۔
’’اس حدیث میں قرآنِ کریم کی تعلیم پر اُجرت لینے کا جواز بیان ہوا ہے۔ اگر یہ حرام ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو یہ بکریاں واپس کرنے کا حکم فرماتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فعل کو درست قرار دیا اور فرمایا کہ تم نے اچھا کیا ہے،نیز اس اُجرت کو بھی پسند فرمایا جو انہوں نے لی تھی،مزید یہ بھی فرمایا کہ اپنے ساتھ میرا حصہ بھی نکالو،تو ان سب باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دینی اُمور پر اُجرت بہر صورت جائز ہے۔‘‘(معالم السنن : 101/3، المطبعۃ العلمیّۃ، حلب، 1932ئ)
4 امام ابن حبان رحمہ اللہ (م : 354ھ)نے اس حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے :
ذِکْرُ الْإِخْبَارِ عَنْ إِبَاحَۃِ الْمَرْئِ الْـأُجْرَۃَ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا ۔
’’کتاب اللہ پر اُجرت لینے کے جواز پر دلالت کرنے والی حدیث کا بیان۔‘‘
(صحیح ابن حبّان : 546/11، قبل الحدیث : 5146، مؤسّسۃ الرسالۃ، بیروت، 1993ئ)
5 حافظ،علی بن احمد بن سعید،ابن حزم رحمہ اللہ (456-384ھ)فرماتے ہیں :
وَالْإِجَارَۃُ جَائِزَۃٌ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ، وَعَلٰی تَعْلِیمِ الْعِلْمِ، مُشَاہَرَۃً وَّجُمْلَۃً، وَکُلُّ ذٰلِکَ جَائِزٌ، وَعَلَی الرَّقْيِ، وَعَلٰی نَسْخِ الْمَصَاحِفِ، وَنَسْخِ کُتُبِ الْعِلْمِ؛ لِأَنَّہٗ لَمْ یَأْتِ فِي النَّہْيِ عَنْ ذٰلِکَ نَصٌّ، بَلْ قَدْ جَائَتِ الْإِبَاحَۃُ، کَمَا رُوِّینَا مِنْ طَرِیقِ الْبُخَارِيِّ ۔
’’قرآنِ کریم اور حدیث کی تعلیم پر ماہانہ یا یک مشت اُجرت لینا سب جائز ہے۔ نیز دَم کرنے،مصاحف(قرآنِ کریم)لکھنے اور کتب ِاحادیث کی کتابت کرنے کی اُجرت بھی جائز ہے،کیوں کہ اس سے ممانعت کی کوئی دلیل (وحی الٰہی میں) وارد نہیں ہوئی۔اس کے برعکس اس کا جواز ثابت ہے،جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی سند سے ہمیں بیان کیا گیا ہے۔‘‘(المحلّٰی بالآثار : 18/7، دار الفکر، بیروت)
6 امام بیہقی رحمہ اللہ (458-384ھ)کی باب بندی کے الفاظ یہ ہیں :
بَابُ أَخْذِ الْـأَجْرِ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی ۔
’’کتاب اللہ پر اُجرت لینے کا بیان۔‘‘
(السنن الکبرٰی : 397/7، دار الکتب العلمیّۃ، بیروت، 2003ئ)
b نیز ایک مقام پر یوں رقم طراز ہیں :
بَابُ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ وَالرُّقْیَۃِ بِہٖ ۔
’’قرآنِ کریم کی تعلیم اور دَم پر اُجرت لینے کا بیان۔‘‘(أیضًا : 205/6)
7 حافظ،ابو محمد،حسین بن مسعود،بغوی رحمہ اللہ (م : 516ھ)فرماتے ہیں :
فِي الْحَدِیثِ دَلِیلٌ عَلٰی جَوَازِ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ، وَجَوَازِ شَرْطِہٖ، وَإِلَیْہِ ذَہَبَ عَطَائٌ، وَالْحَکَمِ، وَبِہٖ قَالَ مَالِکٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَبُو ثَوْرٍ، قَالَ الْحَکَمُ : مَا سَمِعْتُ فَقِیہًا یَّکْرَہُہٗ، وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلٰی جَوَازِ الرُّقْیَۃِ بِالْقُرْآنِ، وَبِذِکْرِ اللّٰہ، وَأَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلَیْہِ ۔
’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ قرآنِ کریم کی تعلیم پر اُجرت لینا اور اسے طَے کرنا جائز ہے۔امام عطاء بن ابو رباح اور امام حَکَم بن عُتَیْبَہ کا یہی مذہب ہے۔امام مالک،امام شافعی اور ابو ثور رحمہم اللہ یہی فرماتے ہیں۔امام حکم تو فرماتے ہیں : میں نے کسی بھی فقیہ کو دینی اُمور پر اُجرت کو مکروہ کہتے نہیں سنا۔اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ قرآنِ کریم اور ذکر ِالٰہی کے ساتھ دَم کیا جا سکتا ہے اور اس پر اُجرت لینا بھی جائز ہے۔‘‘(شرح السنّۃ : 268/8، المکتب الإسلامي، بیروت، 1983ئ)
8 شارحِ صحیح مسلم،حافظ،ابو زکریا،یحییٰ بن شرف،نووی رحمہ اللہ (676-631ھ) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
قَوْلُہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’خُذُوا مِنْہُمْ، وَاضْرِبُوا لِي بِسَہْمٍ مَّعَکُمْ‘ ہٰذَا تَصْرِیحٌ بِجَوَازِ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلَی الرُّقْیَۃِ بِالْفَاتِحَۃِ وَالذِّکْرِ، وَأَنَّہَا حَلَالٌ، لَا کَرَاہَۃَ فِیہَا، وَکَذَا الْـأُجْرَۃُ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ، وَہٰذَا مَذْہَبُ الشَّافِعِيِّ، وَمَالِکٍ، وَّأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَأَبِي ثَوْرٍ، وَآخَرِینَ مِنَ السَّلَفِ، وَمَنْ بَعْدَہُمْ، وَمَنَعَہَا أَبُو حَنِیفَۃَ فِي تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ، وَأَجَازَہَا فِي الرُّقْیَۃِ ۔
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اُن سے بکریاں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ نکالو،اس بات میں صریح ہے کہ سورۂ فاتحہ اور ذکر ِالٰہی کے ذریعے دَم کرنے کی اُجرت لینا جائز و حلال ہے،اس میں کوئی کراہت نہیں۔یہی حکم قرآنِ کریم کی تعلیم کا بھی ہے۔امام شافعی،امام مالک،امام احمد ،امام اسحاق (بن راہویہ)،امام ابو ثور، دیگر اسلاف اور بعد میں آنے والے اہل علم کا یہی مذہب تھا۔ہاں،امام ابو حنیفہ نے قرآنِ کریم کی تعلیم پر اُجرت سے منع کیا ہے،البتہ دَم پر اُجرت کی انہوں نے بھی اجازت دی ہے۔‘‘
(المنہاج شرح مسلم بن الحجّاج : 188/14، دار إحیاء التراث العربي، بیروت، 1392ھـ)
9 مشہور مفسر،علامہ،ابوعبد اللہ،محمد بن احمد،قرطبی رحمہ اللہ (671-600ھ)لکھتے ہیں :
وَأَجَازَ أَخْذَ الْـأُجْرَۃِ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ مَالِکٌ وَّالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو ثَوْرٍ وَّأَکْثَرُ الْعُلَمَائِ، لِقَوْلِہٖ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِي حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ــــ حَدِیثِ الرُّقْیَۃِ ــــ : ’إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ‘، أَخْرَجَہُ الْبُخَارِيُّ، وَہُوَ نَصٌّ یَّرْفَعُ الْخِلَافَ، فَیَنْبَغِي أَنْ یُّعَوَّلَ عَلَیْہِ ۔
’’قرآنی تعلیم پر اُجرت لینے کو امام مالک،شافعی،احمد بن حنبل،ابو ثور اور اکثر علما جائز قرار دیتے ہیں،کیوں کہ صحیح بخاری میں مذکور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دَم والی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے کہ سب سے بہترین اُجرت وہ ہے جو کتاب اللہ پر لی جائے۔یہ فرمانِ نبوی نص ہے ،جو اختلاف کو ختم کر رہی ہے، لہٰذا اس پر اعتماد کرنا ضروری ہے۔‘‘
(الجامع لأحکام القرآن ’تفسیر القرطبي‘ : 335/1، دار الکتب المصریّۃ، القاھرۃ، 1964ئ)
کیا یہ حقِ ضیافت تھا؟
بعض لوگ اس حدیث سے صریحاًثابت ہونے والے مسئلے کا انکار کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ بکریاں دَم کی اُجرت کے طور پر نہیں بل کہ حقِ ضیافت کے طَور پر لی گئی تھیں، کیوں کہ انہوں نے ضیافت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
b پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسا کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح الفاظ کے صریحاً خلاف ہے،کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح الفاظ میں نہ صرف قرآنِ کریم کی اُجرت کہا،بل کہ اسے بہترین اُجرت بھی قرار دیا۔
کئی دفعہ تکفیری جاہلوں سے پالا پڑا اور ہم نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس جھگڑے کا فیصلہ کیوں نہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی سے کروا لیا جائے؟تم صرف ان الفاظ کا ترجمہ کر دو :
’إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ ۔‘
لیکن بصد اصرار بھی وہ اس حدیث کا ترجمہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکے،بلکہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔اب انہی کی ایک کتاب سے اس حدیث کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے :
’’سب سے زیادہ اُجرت لینے کے لائق اللہ کی کتاب ہے۔‘‘
(کیا دینی اُمور پر اُجرت لیناجائز ہے؟از فداء الرحمن ، ص : 13، چک 135،ٹی ڈی اے،تحصیل و ضلع لیہ)
یہی صاحب لکھتے ہیں :
’’دین فروش علماء و مشائخ اپنے باطل ذریعۂ معاش کو حق ثابت کرنے کے لیے صحیح بخاری کی چند واقعاتی روایات کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔‘‘(ایضاً، ص : 11، 12)
ملاحظہ فرمائیں کہ جو لوگ امام شافعی،امام مالک،امام احمد،امام بخاری رحمہم اللہ سمیت سب اسلافِ امت کو دین فروش علما و مشایخ قرار دیں،اُن کی ایمانی حالت کیا ہو گی؟ہم ذکر کر چکے ہیں کہ مذکورہ تمام ائمہ دین صحیح بخاری کی احادیث سے دینی اُمور پر اُجرت کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے۔
b دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث کے کسی بھی طریق میں ایسا کوئی لفظ موجود نہیں جس سے صحابہ کرام کاحق ضیافت کے طور پر بکریاں لینا ثابت ہوتا ہو۔اسلافِ امت میں سے بھی کسی نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔چودہ صدیوں بعد اَن پڑھ قسم کے لوگ اگر محدثین کرام کی توہین کرتے ہوئے ایسے راگ الاپیں تو یہ ان کی اپنی بدبختی ہے۔
b تیسری بات یہ ہے کہ اسلاف ِامت اور فقہاے اسلام نے اسے دَم کی اُجرت ہی قرار دیا ہے،حقِ ضیافت نہیں۔اسلاف ِامت کی مخالفت کوئی علمی کارنامہ نہیں۔
b اصل بات یہ ہے کہ اگرچہ اُن لوگوں نے حقِ ضیافت دینے سے انکار کیا تھا، لیکن صحابہ کرام نے اُن سے حقِ ضیافت نہیں،بل کہ دَم کا معاوضہ لیا تھا۔اس کی مثال یوں سمجھیں کہ اگر کسی شخص نے آپ پر احسان کیا ہو تو آپ اس کا کام بلامعاوضہ بھی کر دیتے ہیں۔لیکن اگر کسی نے کسی مصیبت کے وقت میں باوجود قدرت کے آپ کے کام آنے سے انکار کر دیا ہو،اس کی ضرورت کے وقت آپ اپنا معاوضہ معمول سے زیادہ وصول کرتے ہیں۔
ایک حدیث سے استدلال :
بعض لوگ اس حدیث کو پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’إِنْ نَّزَلْتُمْ بِقَوْمٍ، فَأُمِرَ لَکُمْ بِمَا یَنْبَغِي لِلضَّیْفِ؛ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَّمْ یَفْعَلُوا؛ فَخُذُوا مِنْہُمْ حَقَّ الضَّیْفِ ۔‘
’’اگر تم کسی قوم کے پاس پڑاؤ ڈالو اور تمہیں مہمان کے شایانِ شان ضیافت مل جائے تو قبول کر لو،اگر وہ ایسا نہ کریں تو اُن سے حقِ مہمان (زبردستی)لو۔‘‘
(صحیح البخاري، کتاب المظالم والغصب، باب قصاص المظلوم، رقم الحدیث : 2461)
اس حدیث سے استدلال کر کے کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کے پیش نظر مذکورہ واقعہ میں صحابہ کرام نے بکریاں وصول کیں۔لیکن ایسا کہنا سراسر غلط ہے،کیوں کہ :
1 اس حدیث پر عمل کی صورت میں تو صحابہ کرام،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک پر عمل کرتے ہوئے اُن لوگوں سے فوراً اور زبردستی حقِ ضیافت وصول کرتے۔اس کے لیے دَم کر کے بکریاں لینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔اگر اُن کے سردار کو موذی چیز نہ ڈَستی تو کیاصحابہ کرام مذکورہ بالا فرمانِ نبوی کی(معاذ اللہ)مخالفت ہی کرتے!
2 اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ صحابہ کرام نے حقِ ضیافت ہی لیا تھا،قرآنِ کریم کی اُجرت نہیں، تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا کیا مطلب ہو گا،جو آپ نے یہ واقعہ سننے کے بعد ارشاد کیا کہ قرآنِ کریم پر لی جانے والی اُجرت سب سے بہترین ہوتی ہے؟جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن کی اُجرت قرار دے رہے ہیں تو کسی اُمتی کا اسے حق ضیافت قرار دیناکیسے درست ہو سکتا ہے؟
3 ویسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ گرامی عام ہے اور یہ واقعہ خاص۔اگربالفرض بکریاںحق ضیافت بھی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان قرآنِ کریم کی اُجرت کو جائز قرار دے رہا ہے،جو کہ ہمارے لیے واضح دلیل ہے۔
b حافظ،ابو عبد اللہ،محمد بن احمد بن عثمان،ذہبی رحمہ اللہ (748-673ھ)فرماتے ہیں :
فَأَجَابَ أَصْحَابُنَا ۔۔۔۔ حَقُّ الضَّیْفِ لَازِمٌ، وَلَمْ یُضَیِّفُوہُمْ، ۔۔۔، قُلْتُ : إِنَّمَا نَأْخُذُ بِعُمُومِ قَوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَا بِخُصُوصِ السَّبَبِ، وَقَدْ قَالَ : ’إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُم عَلَیْہِ أَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ ۔‘
’’ہمارے(بعض)اصحاب نے اس حدیث کا جواب یہ دیا ہے کہ ۔۔۔حقِ ضیافت فرض تھا،لیکن انہوں نے ضیافت نہ کی۔۔۔میں کہتا ہوں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی فرمان پر عمل کریں گے،نہ کہ خاص سبب پر۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عمومی طور پر)فرمایا : بلاشبہ سب سے بہترین چیز جس پر تُم اُجرت لے سکتے ہو،وہ کتاب اللہ ہے۔‘‘
(تنقیح التحقیق في أحادیث التعلیق : 132/2، دار الوطن، الریاض، 2000ئ)
4 اگر عدل و انصاف کا خون اور اسلافِ امت کی تکذیب کرتے ہوئے بزورِ تاویل اس حدیث میں معاوضے کو حقِ ضیافت قرار دے بھی لیا جائے تو سیدنا علاقہ بن صحار رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا کیا ہو گا،جو چند سطور بعد پیش کی جارہی ہے؟انہوں نے بھی دَم کے معاوضے میں ایک سَو بکریاں لیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دَم ہی کی اُجرت قرار دیتے ہوئے خلعت ِجواز پہنائی۔انہوں نے تو نہ حق ضیافت طلب کیا نہ لوگوں نے انہیں دینے سے انکار کیا!
یہ معاوضہ کافروں سے لیا گیا تھا !
جب تکفیریوں سے کوئی جواب نہیں بَن پڑتا تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ معاوضہ تو کافروں سے لیا گیا تھا اور تمہارے اہل علم تومسلمانوں سے دینی اُمور پر اُجرت لیتے ہیں۔
یہ جواب دیتے وقت انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خود اپنے جال میں پھنس رہے ہیں۔ایسا کہہ کر وہ خود یہ ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ کافروں سے دینی اُمور پر اُجرت لینا جائز ہے، حالاں کہ جب یہ لوگ دینی اُمور پر اُجرت کی حرمت کا استدلال کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہ آیات سناتے ہیں جن میں انبیاے کرام نے کافروں سے کہا : ہم تم سے اس تبلیغ دین پر کسی اُجرت کا سوال نہیں کرتے۔
گویا اِس حدیث کو ردّ کرنے کے لیے وہ اپنے ہی پیش کردہ قرآنی تقاضے کا انکار کر دیتے ہیں۔اس کا کیا جواب ہے ان لوگوں کے پاس؟
دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا علاقہ بن صحار رضی اللہ عنہ کی حدیث،جس میں دَم پر سو بکریاں لینے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسے حق و جائز قرار دینے کا ذکر ہے،اس میں دَم کرانے والے لوگ مسلمان ہی تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دینی تعلیم کو خیر قرار دیا تھا۔ملاحظہ فرمائیں؛
(ب) ایک مجنون کو دَم :
n خارجہ بن صلت رحمہ اللہ اپنے چچا،صحابی ٔ رسول،علاقہ بن صحار رضی اللہ عنہ ،سے بیان کرتے ہیں :
إِنَّہٗ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِّنْ عِنْدِہٖ، فَمَرَّ عَلٰی قَوْمٍ؛ عِنْدَہُمْ رَجُلٌ مَّجْنُونٌ مُّوثَقٌ بِالْحَدِیدِ، فَقَالَ أَہْلُہٗ : إِنَّا قَدْ حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَکُمْ ہٰذَا قَدْ جَائَ بِخَیْرٍ، فَہَلْ عِنْدَہٗ شَيْئٌ یُّدَاوِیہِ؟ قَالَ : فَرَقَیْتُہُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ [قَالَ وَکِیعٌ :] ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، کُلَّ یَوْمٍ مَّرَّتَیْنِ، فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْنِي مِائَۃَ شَاۃٍ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُہٗ، فَقَالَ : ’خُذْہَا، فَلَعَمْرِي مَنْ أَکَلَ بِرُقْیَۃِ بَاطِلٍ، لَقَدْ أَکَلْتَ بِرُقْیَۃِ حَقٍّ ۔‘
’’وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئے(اور مسلمان ہو گئے)، پھر واپس لوٹے تو ایک قوم کے پاس سے گزرے۔ان کے ہاں ایک پاگل شخص تھا،جسے لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔اس کے گھر والوں نے کہا : ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارا یہ ساتھی دینی تعلیم لے کر آیا ہے۔کیا اس کے پاس کوئی ایسا دَم ہے،جس سے یہ اس کا علاج کر سکے؟وہ صحابی کہتے ہیں :میں نے اسے تین دن سورۂ فاتحہ کا دَم کیا۔روزانہ (صبح و شام)دو مرتبہ (اپنی تھوک جمع کر کے پھونک دیتا تھا)۔وہ شفایاب ہو گیا۔اس پر انہوں نے مجھے سَو بکریاں دیں۔میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا سنایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریاں لے لیجیے۔مجھے قسم ہے،جو لوگ باطل پر مبنی دَم کر کے کماتے ہیں(آپ ان میں سے نہیں)، یقینا آپ نے تو حق پر مبنی دَم کر کے کمایا ہے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 155/36، رقم الحدیث : 21835، مؤسّسۃ الرسالۃ، بیروت، 2001ئ؛ سنن أبي داوٗد، کتاب الطبّ، باب کیف الرقی؟، رقم الحدیث : 3896، وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6110)نے ’’صحیح‘‘،جب کہ امام حاکم(160-159/1) اور حافظ نووی(الاذکار : 355/1)Hنے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے۔
فقہاے امت کا فیصلہ :
1 مشہور فقیہ و محدث،امام ابوداؤد،سلیمان بن اشعث،سجستانی رحمہ اللہ (275-202ھ) نے اس حدیث کو کتاب البیوع (خرید و فروخت کی کتاب)اور أبواب الإجارۃ (اُجرتوں کے بیانات)میں ذکر کر کے اس پر یوں باب قائم کیا ہے:
بَابٌ فِي کَسْبِ الْـأَطِبَّائِ ۔
’’طبیبوں کی کمائی کا بیان۔‘‘
2 امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں باب قائم کیا ہے :
ذِکْرُ إِبَاحَۃِ أَخْذِ الرَّاقِي الْـأُجْرَۃَ عَلٰی رُقْیَتِہٖ ۔
’’دَم کرنے والے کے لیے اپنے دَم پر اُجرت لینے کے جواز کا بیان۔‘‘
(صحیح ابن حبّان : 474/13، مؤسّسۃ الرسالۃ، بیروت، 1988ئ)
3 حافظ،محمدبن عبد الواحد،ضیاء الدین،مقدسی رحمہ اللہ (643-569ھ)نے بھی اسے کتاب البیوع(خرید و فروخت کا بیان)ہی میں ذکر کیا ہے اور ان کا باب یہ ہے:
بَابُ أَجْرِ الرَّاقِي ۔
’’دَم کرنے والے کی اُجرت کا بیان۔‘‘
(السنن والأحکام عن المصطفٰی علیہ أفضل الصلاۃ والسلام : 470/4، دار ماجد العسیري، المملکۃ العربیّۃ السعودیّۃ، 2004ئ)
4 مشہور حنفی،علامہ،ابو محمد،محمود بن احمد،عینی(855-762ھ)دینی اُمور پر اُجرت کے مخالف ہونے کے باوجود،اس حدیث کو ذکر کر کے لکھتے ہیں :
وَیُسْتَنْبَطُ مِنْہُ أَحْکَامٌ؛ جَوَازُ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلَی الْقُرْآنِ ۔
’’اس حدیث سے کئی مسائل کا استنباط ہوتا ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ قرآنِ کریم پر اُجرت لینا جائز ہے۔‘‘
(نخب الأفکار في تنقیح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار : 357/16، وزارۃ الأوقاف والشؤون الإسلامیۃ، قطر، 2008ئ)
(ج) قرآنِ کریم کی تعلیم بطور حق مہر :
n سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ امْرَأَۃٌ، فَقَالَتْ : إِنَّہَا قَدْ وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلّٰہِ وَلِرَسُولِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : ’مَا لِي فِي النِّسَائِ مِنْ حَاجَۃٍ‘، فَقَالَ رَجُلٌ : زَوِّجْنِیہَا، قَالَ : ’أَعْطِہَا ثَوْبًا‘، قَالَ ؛ لاَ أَجِدُ، قَالَ : ’أَعْطِہَا؛ وَلَوْ خَاتَمًا مِّنْ حَدِیدٍ‘، فَاعْتَلَّ لَہٗ، فَقَالَ : ’مَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ؟‘، قَالَ : کَذَا وَکَذَا، قَالَ : ’فَقَدْ زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔‘
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اس نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے (مزید)عورتوں میں کوئی رغبت نہیں۔ایک صحابی نے عرض کیا : اس عورت سے میری شادی کر دیجیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے (حق مہر میں)کوئی کپڑادے دیجیے۔اس نے عرض کیا : میرے پاس کپڑا نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے کوئی چیز ضرور دیجیے،خواہ لوہے کی انگوٹھی ہو۔اس نے پھر معذرت کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آپ کو قرآن کتنا یاد ہے؟اس نے عرض کیا:فلاں فلاں سورت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے آپ کے ساتھ اس عورت کی شادی اس قرآن کے عوض کر دی ہے جو تمہیں یاد ہے۔‘‘
(صحیح البخاري، کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم من تعلّم القرآن وعلّمہ، رقم الحدیث : 5029؛ صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب الصداق وجواز کونہ تعلیم قرآن ۔۔۔، رقم الحدیث : 1425)
فقہاے امت کی رائے :
1 امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث سے کیا ثابت کرنا چاہتے تھے،اس کے بارے میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وَہٰذَا الْحَدِیثُ مُتَّفَقٌ عَلٰی إِخْرَاجِہٖ مِنْ طُرُقٍ عَدِیدَۃٍ، وَالْغَرَضُ مِنْہُ أَنَّ الَّذِي قَصَدَہُ الْبُخَارِيُّ أَنَّ ہٰذَا الرَّجُلَ تَعَلَّمَ الَّذِي تَعَلَّمَہٗ مِنَ الْقُرْآنِ، وَأَمَرَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُعَلِّمَہٗ تِلْکَ الْمَرْأَۃَ، وَیَکُونَ ذٰلِکَ صَدَاقًا لَّہَا عَلٰی ذٰلِکَ، وَہٰذَا فِیہِ نِزَاعٌ بَیْنَ الْعُلَمَائِ، وَہَلْ یَجُوزُ أَنْ یُّجْعَلَ مِثْلُ ہٰذَا صَدَاقًا؟ أَوْ ہَلْ یَجُوزُ أَخْذُ الْـأُجْرَۃِ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ؟ وَہَلْ ہٰذَا کَانَ خَاصًّا بِذٰلِکَ الرَّجُلِ؟ وَمَا مَعْنٰی قَوْلِہٖ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ : ’زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ‘؟ أَبِسَبَبِ مَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ کَمَا قَالَہٗ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : نُکْرِمُکَ بِذٰلِکَ أَوْ بِعِوَضِ مَا مَعَکَ، وَہٰذَا أَقْوٰی، لِقَوْلِہٖ فِي صَحِیحِ مُسْلِمٍ : ’فَعَلِّمْہَا‘، وَہٰذَا ہُوَ الَّذِي أَرَادَہُ الْبُخَارِيُّ ہَاہُنَا ۔
’’یہ حدیث کئی سندوں سے صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ تھا کہ اس صحابی نے قرآنِ کریم کی کچھ سورتیں سیکھی ہوئی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ سورتیں اس عورت کو سکھانے کا حکم فرمایا۔یہی سورتیں اس نکاح میں ان کا مہر بن گئیں۔اس بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ کیا اس جیسی چیز کو حق مہر بنایا جا سکتا ہے؟یا قرآنِ کریم کی تعلیم پر اُجرت لی جا سکتی ہے؟کیا یہ معاملہ اسی صحابی کے ساتھ خاص تھا؟نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے کہ میں نے یادکیے ہوئے قرآن کی وجہ سے اس عورت سے آپ کا نکاح کر دیا ہے؟کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے سبب سے یہ نکاح ہوا؟ جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اس قرآن کی وجہ سے آپ کو تکریم دیتے ہیں۔یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس قرآن کے عوض ؟یہی عوض والا معنیٰ زیادہ قوی ہے،کیوں کہ صحیح مسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اپنی بیوی کو یہ سورتیں سکھاؤ(اگر تکریم والا معاملہ ہو تو سکھانے کے حکم کا کوئی معنیٰ نہیں رہتا۔اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بطور ِحق مہر تھا)۔یہاں امام بخاری رحمہ اللہ کی یہی مراد ہے۔‘‘(تفسیر القرآن العظیم : 68/1، دار طیبۃ للنشر والتوزیع، 1999ئ)
2 امامِ مدینہ،مالک بن انس رحمہ اللہ (179-93ھ)کے بارے میں ہے :
فِي الَّذِي أَمَرَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَّنْکِحَ بِمَا مَعَہٗ مِنَ الْقُرْآنِ؛ أَنَّ ذٰلِکَ فِي أُجْرَتِہٖ عَلٰی تَعْلِیمِہَا مَا مَعَہٗ ۔
’’اس صحابی کے بارے میں،جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد قرآن کے عوض نکاح کا حکم فرمایا تھا،امام موصوف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ قرآن سکھانا (حق مہر کے لیے)بطور ِ اُجرت تھا۔‘‘(التمہید لما في المؤطّأ من المعاني والأسانید لابن عبد البرّ : 120/21، وزارۃ عموم الأوقاف والشؤون الإسلامیۃ، المغرب، 1387ھـ، وسندہٗ حسنٌ)
3 امام شافعی رحمہ اللہ (204-150ھ)کے بارے میں امام بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی فِي جَوَازِ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلٰی تَعْلِیمِ الْخَیْرِ بِحَدِیثِ التَّزْوِیجِ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ ۔
’’امام شافعی رحمہ اللہ نے دینی تعلیم پر اُجرت لینے کے جواز پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے،جس میں قرآنِ کریم کی تعلیم پر شادی کرنے کا ذکر ہے۔‘‘
(مختصر خلافیات للبیہقي لأبي العبّاس الشافعيّ : 172/4، مکتبۃ الرشد، الریاض، 1997ئ)
4 خود امام،ابوبکر،احمد بن حسین،بیہقی رحمہ اللہ (458-384ھ)فرماتے ہیں :
وَحَدِیثُ الْمُزَوَّجَۃِ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ؛ دَلِیلٌ فِیہِ ۔
’’قرآنِ کریم کی تعلیم کے عوض نکاح والی حدیث دینی اُمور پر اُجرت کے جواز کی دلیل ہے۔‘‘(السنن الکبرٰی : 205/6، دار الکتب العلمیّۃ، بیروت، 2003ئ)
(د) اذان کی اُجرت کا جواز :
n صحابی ٔ رسول،سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ، فَکُنَّا بِبَعْضِ طَرِیقِ حُنَیْنٍ؛ مَّقْفَلِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَیْنٍ، فَلَقِیَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِیقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاۃِ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْہُ مُتَنَکِّبُونَ، فَظَلِلْنَا نَحْکِیہِ وَنَہْزَأُ بِہٖ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَیْنَا حَتّٰی وَقَفْنَا بَیْنَ یَدَیْہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’أَیُّکُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَہٗ قَدِ ارْتَفَعَ؟‘، فَأَشَارَ الْقَوْمُ إِلَيَّ وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَہُمْ کُلَّہُمْ وَحَبَسَنِي، فَقَالَ : ’قُمْ، فَأَذِّنْ بِالصَّلَاۃِ‘، فَقُمْتُ، فَأَلْقٰی عَلَيَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّأْذِینَ ہُوَ بِنَفْسِہٖ، ۔۔۔، ثُمَّ دَعَانِي حِینَ قَضَیْتُ التَّأْذِینَ، فَأَعْطَانِي صُرَّۃً فِیہَا شَيْئٌ مِّنْ فِضَّۃٍ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِینِ بِمَکَّۃَ، فَقَالَ : ’أَمَرْتُکَ بِہٖ‘، فَقَدِمْتُ عَلٰی عَتَّابِ بْنِ أَسِیدٍ؛ عَامِلِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَکَّۃَ، فَأَذَّنْتُ مَعَہٗ بِالصَّلَاۃِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
’’میں ایک قافلے کے ساتھ سفر پر نکلا۔ہم حُنَیْن کے ایک راستے پر تھے،جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حُنَیْن سے واپسی پر گزر رہے تھے۔اسی راستے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ملے۔آپ کے مؤذن نے ادھر نماز کے لیے اذان کہی۔ہم نے مؤذن کی آواز سنی تو اِس سے مُتَنَفِّر تھے۔ہم مذاق میں اس کو دوہرانے لگے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز سنی توہمیں بلا بھیجا،یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس کی آواز میں نے سب سے بلند سنی ہے؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اور انہوں نے سچ ہی کہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو واپس بھیج دیا،لیکن مجھے روک لیا اور فرمایا : اُٹھ کر نماز کے لیے اذان کہیے۔ میں کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے اذان کے کلمات پڑھائے۔ جب میں اذان مکمل کر چکا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر ایک گٹھڑی عنایت فرمائی،جس میں کچھ چاندی تھی۔میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول!حکم فرمائیے کہ میں مکہ میں اذان کہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آپ کے بارے میں حکم کر دیا ہے۔میں مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گورنر سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مبارک سے اُن کے ساتھ نماز کی اذان کہی۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 98/24، مؤسّسۃ الرسالۃ، بیروت، 2001ئ؛ سنن النسائي، کتاب الأذان، باب کیف الأذان، رقم الحدیث : 632، واللّفظ لہٗ؛ سنن ابن ماجہ، کتاب الأذان والسنّۃ فیہ، رقم الحدیث : 708؛ وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ(379)اور امام ابن حبان(1680)Hنے ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے۔
اس حدیث میں اذان کہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے چاندی دینے کا ذکر ہے۔
b امام،ابو بکر،احمد بن حسین،بیہقی رحمہ اللہ (458-384ھ)نے اس حدیث کو مؤذن کی اُجرت کے جواز کی دلیل بنایا ہے۔
(السنن الکبرٰی : 631/1، دار الکتب العلمیّۃ، بیروت، 2003ئ)
شاید کوئی اس استدلال سے اختلاف کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عنایت کی گئی چاندی کو تالیف ِقلب قرار دے،لیکن مذکورہ صریح دلائل کی روشنی میں اذان کی اُجرت کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔
یاد رہے کہ بغیر اُجرت مؤذن مقرر کرنے والی جس حدیث سے بعض لوگوں نے دینی اُمور پر اُجرت کے ناجائز و حرام ہونے کا استدلال کیا ہے،اسلافِ امت و فقہاے اسلام نے اسے بھی کراہت پر محمول کیا ہے،حرمت پر نہیں،کیوں کہ اس میں حرمت والا کوئی اشارہ بھی نہیں۔
وہ حدیث اور اس کے حوالے سے اسلاف ِ امت کا فہم ملاحظہ فرمائیں :
n سیدنا عثمان بن ابو عاص ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ : ’أَنْتَ إِمَامُہُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِہِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَّا یَأْخُذُ عَلٰی أَذَانِہٖ أَجْرًا ۔‘
’’میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول!مجھے میری قوم کا امام بنا دیجیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ اُن کے امام ہیں۔ان کے کمزوروں کا خیال رکھیے اور ایسا مؤذّن مقرر کیجیے جو اپنی اذان پر اُجرت نہ لے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 200/26، 235/29، مؤسّسۃ الرسالۃ، بیروت، 2001ئ؛ سنن أبي داوٗد، کتاب الصلاۃ، باب أخذ الأجر علی التأذین، رقم الحدیث : 531؛ سنن النسائي، کتاب الأذان، باب اتّخاذ المؤذن الذي لا یأخذ علٰی أذانہ أجرا، رقم الحدیث : 672؛ وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (209)نے ’’حسن‘‘،امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (423)نے ’’صحیح‘‘ اور امام حاکم رحمہ اللہ (715، 722)نے ’’امام مسلم کی شرط پر صحیح‘‘قرار دیا ہے۔
حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ’’جید‘‘کہا ہے۔
(تنقیح التحقیق في أحادیث التعلیق : 183/4، أضواء السلف، الریاض، 2007ئ)
اس حدیث سے اذان اور دیگر دینی اُمور پر اُجرت کی حرمت قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایسا مؤذّن مقرر کیجیے،جو اذان پر اُجرت نہ لے،واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ اذان پر اُجرت لینے والے لوگ اس دَور میں موجود تھے،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو کوئی وعید نہیں سنائی۔اگر اذان پر اُجرت ناجائز و حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے صریح ہدایت فرماتے،کیوں کہ حرام کی قباحت وشناعت اتنی ہے کہ اس حوالے سے مبہم بات نہیں کی جا سکتی۔
یوں اس حدیث سے اذان کی اُجرت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔یہ ہماری اپنی بنائی ہوئی بات نہیں،بل کہ اسلاف ِاُمت اس حدیث سے یہی استدلال کرتے تھے،جیسا کہ؛
b علامہ،ابوجعفر،احمد بن محمد بن سلامہ،طحاوی رحمہ اللہ (321-238ھ)لکھتے ہیں :
فَقَالَ قَائِلٌ : فِي ہٰذَا الْحَدِیثِ مَا یَدُلُّ عَلٰی جَوَازِ أَخْذِ الْـأَجْرِ عَلَی الْـأَذَانِ ۔
’’ایک کہنے والے نے کہا : اس حدیث کے الفاظ اذان پر اُجرت لینے کے جواز پر دلیل ہیں۔‘‘(شرح مشکل الآثار : 263/15، مؤسّسۃ الرسالۃ، بیروت، 1994ئ)
پھر موصوف نے فقہ حنفی کا دفاع کرتے ہوئے اس کے جواب میں دُور کی کوڑی لانے کی کوشش بھی کی ہے۔بہر حال یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ اسلاف اسی حدیث سے اذان کی اُجرت کے جواز پر استدلال کرتے رہے ہیں۔
اکثر اہل علم نے اس حدیث کو کراہت پر محمول کیا ہے اور اُجرت نہ لینے کو بہتر قرار دیا ہے،لینے کو حرام نہیں کہا،جیسا کہ ؛
b محدث ِشہیر،امام،ابو عیسیٰ،محمد بن عیسیٰ،ترمذی رحمہ اللہ (279-209ھ)اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
وَالْعَمَلُ عَلٰی ہٰذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ؛ کَرِہُوا أَنْ یَّأْخُذَ الْمُؤَذِّنُ عَلَی الْـأَذَانِ أَجْرًا، وَاسْتَحَبُّوا لِلْمُؤَذِّنِ أَنْ یَّحْتَسِبَ فِي أَذَانِہٖ ۔
’’اس حدیث پر اہل علم کے ہاں عمل کیا جاتا ہے۔اہل علم یہ ناپسند کرتے ہیں کہ مؤذّن اذان پر اُجرت لے۔وہ مؤذّن کے لیے یہ مستحب سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی اذان میں صرف نیکی کا ارادہ رکھے۔‘‘
(سنن الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء في کراہیۃ أن یّأخذ المؤذّن علی الأذان أجرا)
b حافظ،ابو محمد،حسین بن مسعود،بغوی رحمہ اللہ (م : 516ھ)فرماتے ہیں :
وَالِاخْتِیَارُ عِنْدَ عَامَّۃِ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ یَّحْتَسِبَ بِالْـأَذَانِ، وَکَرِہُوا أَنْ یَّأْخُذَ عَلَیْہِ أَجْرًا ۔
’’اکثر اہل علم کے نزدیک بہتر یہی ہے کہ مؤذن،اذان سے صرف نیکی کا ارادہ رکھے۔وہ اذان پر اُجرت لینا ناپسند کرتے ہیں۔‘‘
(شرح السنّۃ : 280/2، المکتب الإسلامي، بیروت، 1983ئ)
b علامہ،عبد اللہ بن احمد،ابن قدامہ،مقدسی رحمہ اللہ (620-541ھ)اذان پر اُجرت کے ناپسندیدہ ہونے کے حوالے سے بعض اہل علم کے اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
لِأَنَّہٗ عَمَلٌ مَّعْلُومٌ، یَجُوزُ أَخْذُ الرِّزْقِ عَلَیْہِ، فَجَازَ أَخْذُ الْـأُجْرَۃِ عَلَیْہِ، کَسَائِرِ الْـأَعْمَالِ، وَلَا نَعْلَمُ خِلَافًا فِي جَوَازِ أَخْذِ الرِّزْقِ عَلَیْہِ ۔
’’چونکہ یہ معلوم عمل ہے،لہٰذااس پر اُجرت لینا جائز ہے،جیسے دیگر تمام اعمال پر اُجرت جائز ہے۔ہم نہیں جانتے کہ اذان پر اُجرت کے جائز ہونے میں کسی نے کوئی اختلاف کیا ہو۔‘‘(المغني : 301/1، مکتبۃ القاھرۃ، 1968ئ)
b علامہ ابو بکر،محمد بن عبد اللہ،ابن العربی رحمہ اللہ (543-468ھ)سے نقل کرتے ہوئے علامہ محمد عبد الرحمن محدث، مبارک پوری رحمہ اللہ (م : 1353ھ)لکھتے ہیں :
اَلصَّحِیحُ جَوَازُ أَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلَی الْـأَذَانِ، وَالصَّلَاۃِ، وَالْقَضَائِ، وَجَمِیعِ الْـأَعْمَالِ الدِّینِیَّۃِ ۔
’’اذان،نماز،قضا سمیت دینی اُمور پر اُجرت کا جائز ہونا ہی صحیح (راجح)ہے۔‘‘
(تحفۃ الأحوذي : 528/1، دار الکتب العلمیّۃ، بیروت)
b معروف شارحِ حدیث،علامہ،حسین بن محمد،طیبی رحمہ اللہ (م : 743ھ) فرماتے ہیں :
قِیلَ : تَمَسَّکَ بِہٖ مَنْ مَّنَعَ الِاسْتِئْجَارَ عَلَی الْـأَذَانِ، وَلَا دَلِیلَ فِیہِ، لِجَوَازِ أَنَّہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَہٗ بِذٰلِکَ أَخْذًا بِالْـأَفْضَلِ ۔
’’ایک قول کے مطابق اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے،جو اذان پر اُجرت کو ممنوع قرار دیتے ہیں،لیکن اس میں ایسی کوئی دلیل نہیں،کیوں کہ عین ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم صرف افضلیت کو اختیار کرتے ہوئے دیا ہو۔‘‘
(شرح الطیبي علی مشکاۃ المصابیح، المعروف بـ الکاشف عن حقائق السنن : 918/3، مکتبۃ نزار مصطفٰی الباز، الریاض، 1997ئ)
b نیز فرماتے ہیں :
وَأَنْ یُّسْتَحَبُّ لِلْإِمَامِ التَّخْفِیفُ فِي الصَّلَاۃِ، وَاسْتِحْبَابُ الْـأَذَانِ بِغَیْرِ أُجْرَۃٍ ۔
’’امام کے لیے نماز میں تخفیف کرنا مستحب ہے،نیز اذان کو بغیر اُجرت کے کہنا بھی مستحب ہے۔‘‘(أیضًا)
b علامہ،محمد بن اسماعیل،امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182-1099ھ)لکھتے ہیں :
وَلَا یَخْفٰی أَنَّہٗ لَا یَدُلُّ عَلَی التَّحْرِیمِ ۔
’’بہت واضح ہے کہ اس حدیث سے اذان کی اُجرت کا حرام ہونا ثابت نہیں ہوتا۔‘‘
(سبل السلام في شرح بلوغ المرام : 117/2، دار الحدیث)
b علامہ،ابو الحسن،عبید اللہ بن محمد،مبارک پوری رحمہ اللہ (1414-1327ھ)فرماتے ہیں:
وَاسْتَدَلَّ بَعْضُہُمْ عَلَی التَّحْرِیمِ بِہٰذَا الْحَدِیثِ، وَلَا یَخْفٰی أَنَّہٗ لَا یَدُلُّ عَلَی التَّحْرِیمِ ۔
’’بعض لوگوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اذان کی اُجرت حرام ہے، لیکن یہ بات مخفی نہیں کہ یہ حدیث اذان کی اُجرت کے حرام ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔‘‘
(مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح : 375/2 ، الجامعۃ السلفیّۃ، بنارس، 1984ئ)
یعنی اکثر علماے امت کا اس حدیث کو حرمت کی بجائے کراہت پر محمول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اذان پر لی جانے والی اُجرت حرام نہیں،بلکہ اس میں زیادہ سے زیادہ کراہت ہے اور محض کراہت جواز ہی کی دلیل ہوتی ہے ،جیسا کہ ؛
n سینگی لگانے کی اُجرت کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’وَکَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِیثٌ۔ ‘
’’سینگی لگانے والے شخص کی کمائی خبیث(مکروہ)ہے۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب تحریم ثمن الکلب، رقم الحدیث : 1568)
n لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی کی اُجرت دینا بھی ثابت ہے۔
حُمَیْد تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، حَجَمَہٗ أَبُو طَیْبَۃَ، فَأَمَرَ لَہٗ بِصَاعَیْنِ مِنْ طَعَامٍ، وَکَلَّمَ أَہْلَہٗ، فَوَضَعُوا عَنْہُ مِنْ خَرَاجِہٖ، وَقَالَ : ’إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَیْتُمْ بِہِ الْحِجَامَۃُ۔ ‘
’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے شخص کی کمائی کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی۔آپ کو ایک غلام ابو طیبہ نے سینگی لگائی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع غلہ دینے کا حکم فرمایا،نیز اس کے مالکوں سے بات کی تو انہوں نے اس کے خراج(طلب کی جانے والی کمائی)میں کمی کر دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ بھی فرمایا کہ تم علاج کے جتنے بھی طریقے اختیار کرتے ہو،ان میں سب سے بہترین سینگی لگانا ہے۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب حلّ أجرۃ الحجامۃ، رقم الحدیث : 1577)
جب ایک اُجرت خبیث کہے جانے کے باوجود دوسرے دلائل کی بنا پر جائز ہو سکتی ہے تو جسے خبیث بھی نہیں کہا گیا،وہ دوسرے دلائل سے کیوں جائز نہیں ہوتی؟
اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح سینگی لگانے کی اُجرت کے خبیث ہونے سے مراد ناجائز و حرام نہیں،بل کہ جائز مع الکراہت ہے،اسی طرح اذان کی اُجرت نہ لینے والے مؤذّن کی تقرری سے مراد بھی جائز مع الکراہت ہی ہے،بل کہ اس کی کراہت سینگی کی اُجرت سے کم بھی ہے،کیوں کہ اس پر کوئی حکم نہیں لگایا گیا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ایک روایت :
یحییٰ بکا بیان کرتا ہے :
کُنْتُ آخِذًا بِیَدِ ابْنِ عُمَرَ، وَہُوَ یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ، فَلَقِیَہٗ رَجُلٌ مِّنْ مُّؤَذِّنِي الْکَعْبَۃِ، فَقَالَ : إِنِّي لَـأُحِبُّکَ فِي اللّٰہِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَإِنِّي لَـأُبْغِضُکَ فِي اللّٰہِ، إِنَّکَ تُحَسِّنُ صَوْتَکَ لِأَخْذِ الدَّرَاہِمِ ۔
’’میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا۔آپ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ کعبہ کا ایک مؤذّن آپ کو ملا۔اس نے کہا : میں آپ سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں۔ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے : میں تو اللہ کے لیے تم سے نفرت کرتا ہوں،کیوں کہ تم درہم لینے کی خاطر اپنی آواز کو خوب صورت بناتے ہو۔‘‘
(الصلاۃ لأبي نعیم الفضل بن دُکَیْن، باب أخذ الأجرۃ علی الأذان، ص : 162، مکتبۃ الغرباء الأثریّۃ، المدینۃ المنوّرۃ، 1996ئ، الکتاب المصنّف في الأحادیث والآثار لابن أبي شیبۃ : 207/1، مکتبۃ الرشد، الریاض، 1409ھـ، واللفظ لہٗ)
یاد رہے کہ امام ابو نعیم کی نقل کردہ روایت کے مطابق یحییٰ بکا نے بتایا ہے کہ وہ سعیدبن جبیر کا ہاتھ تھامے ہوئے طواف کر رہا تھا!
یحییٰ بن مسلم،بکا نامی راوی ’’ضعیف‘‘ہے۔
(الکاشف للذھبي : 376/2، دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیّۃ، جدّۃ، 1992ئ، تقریب التھذیب لابن حجر، ص : 597، دار الرشید، سوریا، 1986ئ)
(ھـ) کتابت ِمصاحف اور ان کی خرید و فروخت :
دورِ قدیم میں مصاحف کی نقول تیار کرنے کے لیے کتابت کروائی جاتی تھی، موجودہ دَور میں ایک دفعہ کتابت اور پھر طباعت کروائی جاتی ہے۔اس میں بھی اُجرت دینی لینی پڑتی ہے، جب کہ نقول تیار ہونے کے بعد بھی خرید و فروخت کے مرحلے سے گزر کر ہی عوام الناس تک پہنچتی ہیں۔اس اُجرت کے جواز پر صحیح بخاری و صحیح مسلم کی مذکورہ احادیث سے دلیل لیتے ہوئے معروف فقیہ و محدث،حافظ،ابو سلیمان،حمد بن محمد،خطابی رحمہ اللہ (388-319ھ)فرماتے ہیں :
وَفِي الْحَدِیثِ دَلِیلٌ عَلٰی جَوَازِ بَیْعِ الْمَصَاحِفِ وَأَخْذِ الْـأُجْرَۃِ عَلٰی کَتْبِہَا، وَفِیہِ إِبَاحَۃُ الرُّقْیَۃِ بِذِکْرِ اللّٰہِ فِي أَسْمَائِہٖ، وَفِیہِ إِبَاحَۃُ أَجْرِ الطَّبِیبِ وَالْمُعَالِجِ، وَذٰلِکَ أَنَّ الْقِرَائَۃَ وَالرُّقْیَۃَ وَالنَّفَثَ فِعْلٌ مِّنَ الْـأَفْعَالِ الْمُبَاحَۃِ، وَقَدْ أَبَاحَ لَہٗ أَخْذَ الْـأُجْرَۃِ عَلَیْہَا، فَکَذٰلِکَ مَا یَفْعَلُہُ الطَّبِیبُ مِنْ قَوْلٍ وَّوَصْفٍ وَّعِلَاجٍ؛ فِعْلٌ، لَا فَرْقَ بَیْنَہُمَا ۔
’’اس(دَم پر بکریاں لینے والی)حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مصاحف کی خرید و فروخت اور ان کی کتابت پر اُجرت لینا جائز ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت ناموں کو پڑھ کر دَم کرنا جائز ہے،نیز طبیب و معالج کی اُجرت کا بھی جواز ہے،کیوں کہ قراء ت،دَم اور پھونک جائز ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کاموں پر اُجرت کو جائز قرار دیا ہے۔اسی طرح طبیب جو مشورے، (بیماری کی)تفصیلات اور علاج تجویز کرتے ہیں،وہ بھی فعل ہیں۔اِس فعل اور اُن افعال میں کوئی فرق نہیں،جن پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُجرت کو جائز قرار دیا۔‘‘
(معالم السنن : 101/3، المطبعۃ العلمیّۃ، حلب، 1932ئ)
صحابہ و تابعین کی متفقہ رائے :
b امام شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
سَأَلْتُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَجْرِ الْمُعَلِّمِ، فَقَالَ : أَرٰی لَہٗ أَجْرًا، قَالَ شُعْبَۃُ : وَسَأَلْتُ الْحَکَمَ، فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا یَّکْرَہُہٗ ۔
’’میں نے معاویہ بن قرہ تابعی رحمہ اللہ سے معلِّم کی اُجرت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے لیے اُجرت کو جائز سمجھتا ہوں۔میں (شعبہ)نے حکم بن عُتَیْبَہ تابعی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : میں نے کسی بھی(صحابی یا تابعی) فقیہ کو اسے ناپسندیدہ کہتے نہیں سنا۔‘‘
(مسند علي بن الجعد، الرقم : 1105-1103، مؤسّسۃ نادر، بیروت، 1990، وسندہٗ صحیحٌ)
b خالد حذا تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
سَأَلْتُ أَبَا قِلَابَۃَ عَنِ الْمُعَلِّمِ یُعَلِّمُ، وَیَأْخُذُ أَجْرًا، فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا
’’میں نے ابو قلابہ عبداللہ بن زید تابعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ایک معلم تعلیم دے کر اُجرت لیتا ہے،تو(یہ ناجائز ہے؟)،لیکن انہوں نے اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا۔‘‘
(المصنّف في الأحادیث والآثار : 340/4، الرقم : 20831، مکتبۃ الرشد، الریاض، 1409ھـ، وسندہٗ صحیحٌ)
بعض اہل علم نے اُجرت نہ لینے کو اختیار کیا،تواسے حرام سمجھنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ نہ لینے کو بہتر سمجھنے کی وجہ سے۔البتہ اسے حرام قرار دینے کا نظریہ صحابہ و تابعین میں سے کسی ایک نے بھی اختیار نہیں کیا۔
تمام اہل سنت کا نظریہ اور بعض احناف :
قارئین ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ اہل سنت اتفاقی طور پر دینی اُمور پر اُجرت کو جائز کہتے ہیں۔صرف متقدمین احناف اس کو ناجائز کہتے ہیں۔
b شارحِ صحیح بخاری،حافظ،ابو الفضل،احمد بن علی بن محمد،ابن حجر،عسقلانی رحمہ اللہ (852-773ھ) فرماتے ہیں :
وَقَدْ نَقَلَ عِیَاضٌ جَوَازَ الِاسْتِئْجَارِ لِتَعْلِیمِ الْقُرْآنِ عَنِ الْعُلَمَائِ کَافَّۃً؛ إِلَّا الْحَنَفِیَّۃَ ۔
’’قاضی عیاض رحمہ اللہ نے قرآنِ کریم کی تعلیم پر اُجرت کا جائز ہونا تمام علماے کرام سے نقل کیا ہے،سوائے احناف کے۔‘‘
(فتح الباري شرح صحیح البخاري : 213/9، دار المعرفۃ، بیروت، 1379ھـ)
اور یہ متقدمین احناف بھی قرآنی دَم کی اُجرت لینا جائز سمجھتے ہیں،جیسا کہ؛
b علامہ،ابوجعفر،احمد بن محمد بن سلامہ،طحاوی رحمہ اللہ (321-238ھ)سے نقل کرتے ہوئے علامہ، عینی حنفی(855-762ھ)لکھتے ہیں :
وَقَالَ الطَّحَاوِيُّ : وَیَجُوزُ الْـأَجْرُ عَلَی الرُّقٰی، وَإِنْ کَانَ یَدْخُلُ فِي بَعْضِہِ الْقُرْآنُ ۔
’’امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : دَم کی اُجرت لینا جائز ہے،اگرچہ بعض دَم قرآنِ کریم پر مشتمل ہوتے ہیں۔‘‘
(عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري : 96/12، دار إحیاء التراث العربي، بیروت)
احناف کی حدیث رسول سے نا انصافی !
ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ دینی اُمور پر اُجرت کے حوالے سے احناف نے صریح احادیث رسول اور اسلاف ِامت کے فہم کی مخالفت تو کی ہی تھی،لیکن انہوں نے اپنے قیاس کی بنا ان نصوص سے بھی رُوگردانی کر لی،جو ان کے نزدیک دینی اُمور پر اُجرت کو حرام قرار دیتی ہیں۔پھر جرأت دیکھیے کہ مفتیٰ بہا قول بھی اِسی کو قرار دیا۔اُن کی ایک معتبر ترین کتاب سے یہ حقیقت ملاحظہ فرمائیں :
وَبَعْضُ مَشَایِخِنَا اسْتَحْسَنُوا الِاسْتِئْجَارَ عَلٰی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ الْیَوْمَ، لِأَنَّہٗ ظَہَرَ التَّوَانِي فِي الْـأُمُورِ الدِّینِیَّۃِ، فَفِي الِامْتِنَاعِ تَضْیِیعُ حِفْظِ الْقُرْآنِ، وَعَلَیْہِ الْفَتْوٰی ۔
’’موجودہ دَور میں ہمارے بعض مشایخ نے قرآنِ کریم کی تعلیم پر اُجرت طلب کرنے کو مستحسن خیال کیا ہے،کیوں کہ دینی اُمور میں سستی ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے اور اُجرت کو ممنوع قرار دینے میں حفظ ِقرآن کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی پر احناف کا فتویٰ ہے۔‘‘
(الھدایۃ في شرح بدایۃ المبتدي للمرغیناني : 238/3، دار إحیاء التراث العربي، بیروت)
سوال یہ ہے کہ جب شریعت کی نصوص دینی اُمور پر اُجرت کو حرام قرار دیتی ہیں تو متأخرین احناف کو اسے اپنے قیاس سے حلال قرار دینے کا اختیار کس نے دیا؟اور اگر دینی اُمور پر اُجرت شرعی نصوص کی روشنی میں جائز و حلال ہے تو متقدمین احناف کو اسے حرام کرنے کا مجاز کس نے بنایا؟
اگر متأخرین احناف نے امام ابو حنیفہ اور دیگر متقدمین احناف کی مخالفت میں دینی اُمور پر اُجرت کو حلال قرار دینا ہی تھا توکاش وہ ان صحیح و صریح احادیث کو دلیل بناتے ہوئے ایسا کرتے،جن کی روشنی میں اسلاف ِامت اور محدثین و فقہاے ملت نے دینی اُمور پر اُجرت کے جواز کا استدلال کیا تھا۔مگر صد افسوس کہ انہوں نے اِن احادیث کی بھی مخالفت کی اور اُن کی بھی،جن سے اُن کے نزدیک دینی اُمور پر اُجرت ناجائز قرار پاتی تھی۔یہ سب کچھ کیا کس بِرتے پر؟صرف اور صرف قیاس کی بنا پر! یَا لَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ ٭
مذکورہ بحث سے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ اب امت ِمسلمہ کا کوئی بھی مکتبہ فکر دینی اُمور پر اُجرت کو حرام قرار نہیں دیتا،یعنی پوری اُمت کا اس کے جواز پر اجماع ہے۔اب صرف ائمہ دین کو ’’دین فروش،دوکان دار اور شکم پرور‘‘قرار دینے والے تکفیری حضرات ہی اسے حرام کہتے ہیں۔ایسے لوگوں کی ہفوات کا کوئی اعتبار نہیں۔
تکفیریوں کا دوغلاپن :
ذرا دوغلاپن تو ملاحظہ فرمائیں کہ تکفیری لوگ دینی اُمور پر اُجرت لینے کو جائز نہیں سمجھتے، لیکن اکثر مواقع پر اُجرت دینے کو شاید واجب سمجھتے ہیں؟کیوں کہ وہ اُجرت لینے پر تو دین داری،دوکان داری،شکم پروری وغیرہ کے طعنے دیتے ہیں،لیکن دینے کے حوالے سے کبھی بات نہیں کرتے،حالاں کہ اگر اذان پر اُجرت نہ لینے والے مؤذن کی تقرری والی حدیث اُن کی دلیل ہو تو پھر انہیں اُجرت دینے کو بھی کم از کم حرام ہی قرار دینا چاہیے۔
وہ خود دینی اُمور پر اُجرت دینے کے قائل و فاعل ہیں۔کیا وہ مصاحف خرید کر نہیں لاتے؟اگر وہ کہیں کہ کسی نے مسجد کے لیے مصاحف وقف کیے ہیں تو بھی وہ خرید کر ہی لاتا ہے۔نیز ان کی کتابت و طباعت کے تمام مراحل پر اُجرت ادا کی گئی ہوتی ہے۔وہ اپنے نزدیک اس حرام کاروبار میں تعاون کیوں کرتے ہیں؟
مسجد کی تعمیر کو ہی دیکھ لیجیے کہ اینٹ،ریت،بجری،سریا وغیرہ سمیت عمارت کے لیے جو بھی لوازمات ہوتے ہیں،وہ سب کے سب اُجرت کے بغیر نہ بن سکتے ہیں،نہ کسی جگہ پہنچ سکتے ہیں۔یہ لوگ اِس ’’دوکان داری‘‘ اور ’’دین فروشی‘‘میں کیوں شریک ہوتے ہیں؟
ذرا وہ اس بات پر بھی غور کریں کہ کیا اُن کے بچے سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرتے؟ سکولوں میں جہاں دیگر مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے،وہیں اکثر ناظرۂ قرآن، ترجمہ قرآن اور ہر سکول میں اسلامیات کی تعلیم بھی ہوتی ہے۔مساجد میں امام صاحبان کی اُجرت انہیں بہت تکلیف دیتی ہے اور وہ اس کے خلاف بہت آواز اُٹھاتے ہیں،لیکن کبھی انہوں نے سکولوں میں دینی تعلیم پر اُجرت کے خلاف احتجاجاً اپنے بچوں کو گھر بٹھا لیا ہو؟
اور تو اور دینی اُمورپر اُجرت کو حرام قرار دینے پر مبنی ان کا اپنا تحریری مواد ایک ’’دینی امر‘‘پر اُجرت دے کر ہی کتابت و طباعت کے مراحل سے گزرتا ہے۔کیا کبھی اُنہیں ’’دین فروشی ‘‘کا حصہ بننے پر ذرا بھی شرمندگی ہوئی؟
 
Top