ذیشان خان

Administrator
سمندر کی جھاگ کے برابر گناہ معاف !

حدیث : حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ من قال سبحان الله وبحمده‏.‏ في يوم مائة مرة حطت خطاياه، وإن كانت مثل زبد البحر ‏"‏‏.
ترجمہ : ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے سبحان اللہ وبحمد ہ دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ : صحیح بخاری :حدیث نمبر : 6405
حدیث کے فوائد
1/ اس حدیث سے سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔
2/ اس کلمہ کا سوبار ذکر کرنا گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے ۔
3/ تسبیح کا معنی : اللہ تعالی کا عیوب و نقائص اور مخلوق کی مشابہت سے پاک ہونا
4/ سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت:
٭سوبار پڑھنے سے گناہوں کی مغفرت
٭یہ اللہ تعالی کے محبوب کلام میں سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مسلم میں ابوذر سے نقل ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب ترین کلام پوچھا تو آپ نے بتلایا کہ ان احب الکلام الیٰ اللہ سبحان اللہ وبحمدہ یعنی اللہ کے ہاں محبوب ترین کلام سبحان اللہ وبحمدہ ہے
٭یہ میزان میں کافی وزنی ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوکلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازومیں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں۔ سبحان اللہ العظیم سبحان اللہ وبحمدہ۔(صحیح بخاری حدیث نمبر : 6406)
5/ یہ حدیث عام ہے اس لئے یہ ذکر متفرق طور پر اور پےدر پے پڑھنا دونوں طرح صحیح ہے لیکن لگاتار پڑھاجائے تو افضل ہے ۔
6/ جمہور کے نزدیک گناہوں کی مغفرت سے مراد گناہ صغیرہ ہے جبکہ گناہ کبیرہ کے لئے توبہ شرط ہے۔​
7/بعض علماء ذکرکرتے ہیں کہ اگر یہ تسبیح پڑھتے وقت
٭اخلاص اور صدق دل کے ساتھ
٭ سابقہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ
٭ اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ
جن گناہوں کے لیے بھی معافی کی نیت کی تو ان شاء اللہ تعالی وہ معاف ہو جائیں گے، چاہے صغیرہ ہوں یا کبیرۃ، تھوڑے ہوں یا زیادہ۔
واللہ اعلم بالصواب​
 
Top