💐حدیثِ قرطاس، غلام مصطفی ظہیر امن پوری💐

🌺حدیث ِقرطاس
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا واقعہ ہے۔ صحابہ کرام آپ کے پاس جمع تھے کہ آپ نے فرمایا : لکھنے کے لئے لائیں، میں تحریر کیے دیتا ہوں تا کہ آپ کو یاد رہے، حاضرین میں سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال آیا کہ پیغمبر علیہ السلام انتہائی بیمار ہیں ، تکلیف کی شدت ہے ایسے عالم میں یہ زحمت کیوں اٹھائیں؟ وحی ِالٰہی تو آپ پہنچا چکے ہیں اور دین مکمل ہو گیا ہے، اسی خیال کا اظہار دوسرے صحابہ سے کیا، کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف غالب ہے”حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ” ہمیں قرآن و سنت ہی کافی ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بات پر حاضرین میں اختلا ف ہو جاتا ہے، بعض صحابہ آپ کی موافقت کرتے ہیں، بعض مخالفت، دے دیا جائے، رہنے دیجئے، دے دیا جائے، رہنے دیجئے ، تکرار کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے سے اختلاف کرنے والے کہنے لگے ”أَہَجَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ”کیوں نہیں دیتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کسی مریض کی طرح بے معنی تو ہر گز نہیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آتی ہے، کاغذ قلم رہنے دیجئے۔ آپ یہاں سے چلے جائیے، مجھے تنہا ئی چاہیے۔ تفصیل ملاحظہ ہو۔
1.سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
لَمَّا حُضِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَفِي الْبَیْتِ رِجَالٌ فِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ، قَالَ : ہَلُمَّ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَہ، ، قَالَ عُمَرُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَلَبَہُ الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمُ القُرْآنُ فَحَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ، وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْبَیْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُولُ : قَرِّبُوا یَکْتُبْ لَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَہ،، وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَکْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلاَفَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قُومُوا عَنِّي .
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت ہوا تو اس وقت گھر میں کچھ لوگ موجودتھے ، ایک سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قلم کاغذ لائیں ، میں تحریر کر دوں، جس کے بعد آپ ہر گز نہ بھولو گے۔ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور قرآن موجود ہے، لہٰذا ہمیں قرآن و حدیث ہی کافی ہے۔ گھر میں موجود لوگوں نے اس میں اختلاف کیا اور بحث مباحثہ ہونے لگا، کچھ کہہ رہے تھے کہ (قلم کاغذ) دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحریر فرما دیں، جس کے بعد آپ ہر گز نہیں بھولیں گے، کچھ کہہ رہے تھے، رہنے دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں ہیں۔ اختلاف شدت اختیار کر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس سے اُٹھ جائیں۔ ”
(صحیح البخاري : ٧٣٦٦، صحیح مسلم : ١٦٣٧)
ایک روایت کے الفاظ ہیں:
قُومُوا عَنِّي، وَلَا یَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ .
”میرے پاس سے اٹھ جائیے، میری موجود گی میں اختلاف مناسب نہیں۔”
(صحیح البخاري : ١١٤)
2.ایک روایت ہے :
اِئْتُونِي بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاۃِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاۃِ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَہ، أَبَدًا ، فَقَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَہْجُرُ .
” ہڈی اور دوات یا تختی اور دوات لائیں۔ میں تحریر کر دیتا ہوں تا کہ اس کے بعد آپ نہ بھولیں، صحابہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض موت میں تکلیف کی شدت سے تو ہرگز نہیں کہہ رہے۔”
(صحیح البخاري : ٤٤٣١، صحیح مسلم : ١٦٣٧)
3.سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جمعرات کا دن کتنا پریشان کن تھا، آپ روتے ہوئے فرما رہے تھے :
اِشْتَدَّ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَعُہ،، فَقَالَ : ائْتُونِي أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَّنْ تَضِلُّوا بَعْدَہ، أَبَدًا، فَتَنَازَعُوا وَلَا یَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا : مَا شَأْنُہ،، أَہَجَرَ اسْتَفْہِمُوہُ؟ فَذَہَبُوا یَرُدُّونَ عَلَیْہِ، فَقَالَ : دَعَوْنِي، فَالَّذِي أَنَا فِیہِ خَیْرٌ مِّمَّا تَدْعُونِي إِلَیْہِ .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض موت کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کچھ لاؤ میں تحریر کر دیتا ہوں، جس کے بعد کبھی نہیں بھولو گے، صحابہ نے آپس میں اختلاف کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں باہمی اختلاف مناسب نہیں تھا، صحابہ کہنے لگے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا معاملہ درپیش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات شدت تکلیف کی بنا پر تو ہر گز نہیں ہے۔ اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے، صحابہ آپ کو بار بار لکھنے کا کہہ رہے تھے، تو فرمایا : ”مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، آپ جو مجھے لکھنے کا کہہ رہے ہیں میرے مطابق نہ لکھنا ہی بہتر ہے۔”
(صحیح البخاري : ٤٤٣١، صحیح مسلم : ١٦٣٧)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض موت میں شدت تکلیف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرح سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی بیان کر رہے ہیں، اسی بنا پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجتہادا کہہ دیا کہ ہمارے لئے قرآن و حدیث کافی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رائے کو درست سمجھا تب ہی صحابہ کے اصرار کے با وجود نہیں لکھا۔
لفظ ہجر کی تحقیق :
ہجر کا مطلب ہے ”شدت بخار میں بے معنی گفتگو۔” صحابہ کرامy نے اس کی انکار و نفی کی ہے، ”اہجر” میں ہمزہ استفہام انکاری کاہے، ہجر فعل ماضی ہے ۔ بعض روایات میں بغیر ہمزہ کے ہجر اور یہجر کے الفاظ ہیں، یہاں بھی ہمزہ محذوف ہے، کلام عرب میں اس طرح کے محذوفات عام ہیں۔
حدیث میں فقالو مالہ اہجر جمع کا صیغہ صراحت کرتا ہے کہ یہ لفظ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے نہیں ہیں بل کہ دوسرے صحابہ کے ہیں جو آپ رضی اللہ عنہ سے اختلاف کر رہے تھے، ان کا منشا یہ تھاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدت بخار کی حالت میں بے معنی گفتگو نہیں بل کہ شعور و احساس کے ساتھ کلام فرما رہے ہیں، لہٰذا اس حدیث میں سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی تنقیص کا کوئی پہلو نہیں بل کہ یہ حدیث ان کی عظمت کا استعارہ ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موافقت فرمائی اور لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ صحیح بخاری (٤٤٣١) صحیح مسلم (١٦٣٧) میں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دَعَوْنِي، فَالَّذِي أَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِّمَّا تَدْعُونِي إِلَیْہِ .
”مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، آپ جو مجھے لکھنے کا کہہ رہے ہیں میرے مطابق نہ لکھنا ہی بہتر ہے۔”
موافقاتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بہت ساری مثالیں قرآن و حدیث میں موجود ہیں ، بیسیوں مقامات ہیں جہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رائے دیتے ہیں اور اسے شریعت کا درجہ مل جاتا ہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد ہو گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما تھے کہ اچانک اٹھ کر چلے گئے، کافی دیر تک واپس نہ آئے تو صحابہ کو پریشانی لاحق ہوئی کہ کوئی آپ کو نقصان نہ پہنچا ئے، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے کے لئے نکلے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو ایک باغ میں پا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنا جوتا دیا اور ساتھ پیغام دیا کہ جو بھی کلمہ گو راستے میں ملے اسے جنت کی بشارت دے دو، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نکلے سب سے پہلے جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہیں جنت کی خوش خبری سنائی تو انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو زور سے ہاتھ مارا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ زمین پر گر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے ہو لئے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا :
یَا عُمَرُ، مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي، أَبَعَثْتَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ بِنَعْلَیْکَ، مَنْ لَّقِيَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُسْتَیْقِنًا بِّہَا قَلْبُہ، بَشَّرَہ، بِالْجَنَّۃِ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشٰی أَنْ یَّتَّکِلَ النَّاسُ عَلَیْہَا، فَخَلِّہِمْ یَعْمَلُونَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَخَلِّہِمْ .
”عمر! ایسا کیوں کیا؟ کہا آقا میرے ماں باپ آپ پہ قربان، کیا آپ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام دے کر بھیجا تھا کہ جو کلمہ گو ملے اسے جنت کی خوش خبری دو۔؟ فرمایا : جی ہاں! تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آقا ایسا نہ کیجئے، مجھے ڈر ہے کہ لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے، انہیں چھوڑ دیجئے تا کہ یہ عمل کرتے رہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں چھوڑ دیجئے۔”
(صحیح مسلم : ٣١ )
دیکھئے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام رساں کو مارا بھی ہے، مگر جب اپنا موقف سامنے رکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اتفاق کر لیتے ہیں، جب کہ حدیث قرطاس میں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صحابہ کے سامنے اپنا خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شدید تکلیف میں ہیں ، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زحمت نہیں دینی چاہئے، بعض صحابہ اختلاف کرتے ہیں بعض اتفاق، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وغیرہ کی موافقت کر دی جیسا کہ حدیث سے عیاں ہے۔اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فہم ثاقب اور بصیرت تامہ سے نوازا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اپنے اجتہاد سے کہی تھی ساتھ دلیل بھی دی۔
حافظ نووی رحمہ اللہ (٦٣١۔٦٧٦ھ) لکھتے ہیں:
وَأَمَّا کَلَامُ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَدِ اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ الْمُتَکَلِّمُونَ فِي شَرْحِ الْحَدِیثِ عَلٰی أَنَّہ، مِنْ دَلَائِلِ فِقْہِ عُمَرَ وَفَضَائِلِہٖ وَدَقِیقِ نَظَرِہٖ .
”شارحین حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حدیث سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بصیرت، فقاہت دین اور دقت نظری پر دلالت کناں ہے۔”
(شرح صحیح مسلم للنووي :١١/٩٠)
کیا اختلاف صحابہ خلافت لکھنے میںمانع ہوا؟
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
إِنَّ الرَّزِیَّۃَ کُلَّ الرَّزِیَّۃِ مَا حَالَ بَیْنَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَیْنَ أَنْ یَّکْتُبَ لَہُمْ ذٰلِکَ الْکِتَابَ مِنَ اخْتِلاَفِہِمْ وَلَغَطِہِمْ .
”بہت بڑی مصیبت تب واقع ہوئی جب صحابہ کا باہمی اختلاف اور شور ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔”
(صحیح البخاري : ٧٣٦٦، صحیح مسلم : ١٦٣٧)
یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اجتہادی خطا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ صحابہ کے اختلاف کی وجہ سے نہیں بل کہ خود ہی ترک کر دیاتھا، اس سے چند دن پہلے بھی ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا تھا آپ نے سیدہ عائشہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ابوبکر اورعبد الرحمن بن ابی بکر کو بلائیں میں خلافت کا لکھ دیتا ہوں پھرارادہ ترک کر دیا فرمایا :
وَیَأْبَی اللّٰہُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ .
”خلافت کے لئے ابوبکر کے علاوہ کسی کا نام آئے گا تواللہ تعالیٰ اور مومن انکار کر دیں گے۔”
(مسند الإمام أحمد : ٦/١٤٤، صحیح مسلم : ٢٣٨٧)
یہاں تو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، لکھنے سے روکنے والا کوئی نہیں مگر آپ ارادہ ترک کر رہے ہیں، کیوں؟ جس بنا پر یہاں ارادہ ترک کیا اسی بنا پر اس موقعہ پر بھی ترک کر دیا، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَرَکَ کِتَابَۃَ الْکِتَابِ بِاخْتِیَارِہٖ، فَلَمْ یَکُنْ فِي ذٰلِکَ نِزَاعٌ، وَلَوِ اسْتَمَرَّ عَلٰی إِرَادَۃِ الْکِتَابِ مَا قَدِرَ أَحَدٌ أَنْ یَّمْنَعَہ، .
”اس میں کوئی اختلاف ہی نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ اپنے اختیار سے ترک کیا، اگر آپ لکھنا چاہتے تو کس کی مجال تھی کہ آپ کو روکے۔”
(منہاج السنۃ النبویۃ في نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ : ٦/٣١٧ )
نیز فرماتے ہیں:
وَلَا فِي شَيْءٍ مِّنَ الْحَدِیثِ الْمَعْرُوفِ عِنْدَ أَہْلِ النَّقْلِ أَنَّہ، جَعَلَ عَلِیًّا خَلِیفَۃً . کَمَا فِي الْـأَحَادِیثِ الصَّحِیحَۃِ مَا یَدُلُّ عَلٰی خِلَافَۃِ أَبِي بَکْرٍ . ثُمَّ یَدَّعُونَ مَعَ ہٰذَا أَنَّہ، کَانَ قَدْ نَصَّ عَلٰی خِلَافَۃِ عَلِيٍّ نَصًّا جَلِیًّا قَاطِعًا لِّلْعُذْرِ، فَإِنْ کَانَ قَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَقَدْ أَغْنٰی عَنِ الْکِتَابِ، وَإِنْ کَانَ الَّذِینَ سَمِعُوا ذٰلِکَ لَا یُطِیعُونَہ، فَہُمْ أَیْضًا لَّا یُطِیعُونَ الْکِتَابَ .
”کسی صحیح حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل پر نص موجود نہیں، جب کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر صحیح ثابت نصوص موجود ہیں، شیعہ کا دعوی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل پر قطعی نص قائم کر چکے تھے، اگر ایسا ہی تھا تو لکھنے کی ضرورت کیا تھی؟ شیعہ جو سن کر نہیں مان رہے ، لکھا ہوا مان لیتے؟
(منہاج السنۃ النبویۃ في نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ : ٦/٣١٨)
سیدنا عبد اللہ بن عباس مصیبت کسے کہتے ہیں؟
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں شک و انکار کو بڑی مصیبت قرار دے رہے ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تحریر فرما دیتے تو گمراہ اور ظالم لوگوں کے لئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہتی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یَقْتَضِي أَنَّ ہٰذَا الْحَائِلَ کَانَ رَزِیَّۃً، وَہُوَ رَزِیَّۃٌ فِي حَقِّ مَنْ شَکَّ فِي خِلَافَۃِ الصِّدِّیقِ، أَوِ اشْتَبَہَ عَلَیْہِ الْـأَمْرُ؛ فَإِنَّہ، لَوْ کَانَ ہُنَاکَ کِتَابٌ لَّزَالَ ہٰذَا الشَّکُّ، فَأَمَّا مَنْ عَلِمَ أَنَّ خِلَافَتَہ، حَقٌّ فَلَا رَزِیَّۃَ فِي حَقِّہٖ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ .
”سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا کلام ظاہر ہے کہ وہ خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں شک و انکار کو بڑی مصیبت اور ہلاکت قرار دے رہے ہیں، کیوں کہ اگر خلافت لکھی ہوئی ہوتی، تو شک دور ہو جاتا۔ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو حق سمجھتا ہے، اس کے لئے کوئی مصیبت نہیں، والحمد للہ۔”
(منہاج السنۃ النبویۃ في نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ : ٦/٢٥ )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یہ بات اس وقت فرمایا کرتے تھے، جب شیعہ جیسے گمراہ جنم لے چکے تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ خلافت صدیق کے انکار کو امت کی بربادی قرار دے رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلافت ِعلی رضی اللہ عنہ نہیں لکھنا چاہتے تھے۔
بعض کہتے ہیں کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت و امامت کے اوّل حقدار تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت و امامت لکھ کر دینا چاہتے تھے، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وغیرہ نے لکھنے نہیں دی۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ اس حدیث کا بغور مطالعہ کریں، اس میںکہیں ذکر نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت و امامت لکھنا چاہتے تھے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وَہٰذَا الْحَدِیثُ مِمَّا قَدْ تَوَہَّمَ بِہٖ بَعْضُ الْـأَغْبِیَاءِ مِنْ أَہْلِ الْبِدَعِ مِنَ الشِّیعَۃِ وَغَیْرِہِمْ کُلِّ مُدَّعٍ أَنَّہ، کَانَ یُرِیدُ أَنْ یَّکْتُبَ فِي ذٰلِکَ الْکِتَابِ مَا یَرْمُونَ إِلَیْہِ مِنْ مَّقَالَاتِہِمْ، وَہٰذَا ہُوَ التَّمَسُّکُ بِالْمُتَشَابِہِ وَتَرْکُ الْمُحْکَمِ، وَأَہْلُ السُّنَّۃِ یَأْخُذُونَ بِالْمُحْکَمِ وَیَرُدُّونَ مَا تَشَابَہَ إِلَیْہِ، وَہٰذِہِ طَرِیقَۃُ الرَّاسِخِینَ فِي الْعِلْمِ کَمَا وَصَفَہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِي کِتَابِہٖ، وَہٰذَا الْمَوْضِعُ مِمَّا زَلَّ فِیہِ أَقْدَامُ کَثِیرٍ مِّنْ أَہْلِ الضَّلَالَاتِ، وَأَمَّا أَہْلُ السُّنَّۃِ فَلَیْسَ لَہُمْ مَذْہَبٌ إِلَّا اتِّبَاعُ الْحَقِّ یَدُورُونَ مَعَہ، کَیْفَمَا دَارَ، وَہٰذَا الَّذِي کَانَ یُرِیدُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ أَنْ یَّکْتُبَہ، قَدْ جَاءَ فِي الْـأَحَادِیثِ الصَّحِیحَۃِ التَّصْرِیحُ بِکَشْفِ الْمُرَادِ مِنْہُ… .
”اس حدیث سے اہل ِبدعت، شیعہ وغیرہ کے بعض کند ذہن لوگوں نے وہم کھایا ہے۔ ان میں سے ہر شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا مدعا لکھنا چاہتے تھے۔ یہ لوگ متشابہ کو لیتے ہیں اور محکم کو چھوڑ تے ہیں، جبکہ اہل ِسنت محکم کو لیتے اور متشابہ کو چھوڑتے ہیں۔ راسخ علما کا یہی طریقہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، یہاں اکثر لوگ گمراہ ہو گئے ہیں۔ اہل سنت کا تو مذہب ہی حق کی پیروی ہے، حق ہی ان کا دائرہ کار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو لکھنے کا ارادہ فرما رہے تھے، صحیح احادیث میں اس کی وضاحت آگئی ہے… ۔”
(البدایۃ والنہایۃ : ٥/٢٢٧، ٢٢٨)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا کیا چاہتے تھے؟
سوال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا لکھنا چاہ رہے تھے؟ یقینا وہ خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھی۔ صحیح احادیث حقیقت آشکارا کرتی ہیں :
حدیث نمبر1:
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
‘لَمَّا کَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِیہِ، قَالَ : ادْعُوا لِي أَبَا بَکْرٍ وَّابْنَہ،، فَلْیَکْتُبْ لِکَیْلَا یَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَکْرٍ طَامِعٌ، وَلَا یَتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ، ثُمَّ قَالَ : یَأْبَی اللّٰہُ ذٰلِکَ وَالْمُسْلِمُونَ مَرَّتَیْنِ….،قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَأَبَی اللّٰہُ وَالْمُسْلِمُونَ .
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں تھے توفرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے فرزند عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو بلائیں، وہ لکھ لیں تا کہ خلافت ابوبکر پر کوئی حریص نہ رہے، پھر دو مرتبہ فرمایا : اللہ تعالیٰ اور مسلمان کسی دوسرے کی خلافت تسلیم نہیں کریں گے …. سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : چنانچہ اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں نے میرے باپ کے علاوہ کسی کو تسلیم نہیں کیا۔”
(مسند الإمام أحمد : ٦/١٠٦، وسندہ، حسنٌ)
حدیث نمبر2:
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مرض الموت میں فرمایا تھا :
أُدْعِي لِي أَبَا بَکْرٍ، أَبَاکِ، وَأَخَاکِ، حَتّٰی أَکْتُبَ کِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ یَّتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ وَّیَقُولُ قَائِلٌ : أَنَا أَوْلٰی، وَیَأْبَی اللّٰہُ وَالْمُوْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ .
”اپنے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو بلائیں تاکہ میں تحریر کر دوں۔ میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ کوئی خلافت کا متمنی کہے کہ میں زیادہ حق دار ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور مومن ابوبکر کے علاوہ انکار کردیں گے۔”
(مسند الإمام أحمد : ٦/١٤٤، صحیح مسلم : ٢٣٨٧)
حدیث نمبر3:
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں فرمایا:
لَقَدْ ہَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُّ أَنْ أُرْسِلَ إِلٰی أَبِي بَکْرٍ وَّابْنِہٖ فَأَعْہَدَ، أَنْ یَّقُولَ : الْقَائِلُونَ أَوْ یَتَمَنَّی الْمُتَمَنُّونَ .
”میں نے ارادہ کیا ہے کہ ابوبکر اور آپ کے فرزند عبد الرحمن کی طرف پیغام بھیجوں اور (خلافت کی) وصیت کردوں تاکہ کوئی خلافت کا دعوی کر ے، نہ تمنا کرے۔”
(صحیح البخاري : ٧٢١٧)
یہ احادیث واضح پتا دے رہی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت لکھنے کا ارادہ فرمایا تھا۔ پھر ترک کردیا، اس لیے کہ جب خلافت کے لیے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کا نام آئے گا، تو اللہ تعالیٰ اور مومن انکار کر دیں گے اور ایسا ہی ہوا۔
دین کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خلافت وامامت اللہ کی طرف سے منصوص ہو، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے اوّل حقدار ہوں، پوری کی پوری امت اس کے خلاف متفق ہوجائے، عقل کیا کہتی ہے؟ اس پر سہاگہ یہ کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی اس بات کا کبھی اظہار نہیں کیا کہ میں خلیفہ بلافصل ہوں، لیکن مجھے میرے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ کوئی دلیل ہے جو پیش کی جاسکے؟ مان لیا جائے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے حق کے لیے اعلانِ جنگ نہیں کیا۔ امت کو ایک نئی آزمائش میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن اپنے دور ِ خلافت میں اس بات کے اظہار میں کیا رکاوٹ تھی؟ راوی قصہ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جنہوں نے پریشانی کا اظہار بھی کیا ہے، ان سے بھی یہ کہنا ثابت نہیں کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادتی ہوئی ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خلافت لکھنا چاہتے تھے، لیکن لکھ نہ سکے وغیرہ۔ لکھ نہیں سکے، توفرما ہی دیتے کہ میرے بعد علی خلیفہ بلا فصل ہیں کچھ مانع تھا؟ بلکہ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے معترف تھے اور آپ کی خلافت کو برحق تسلیم کرتے تھے :
دَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ حِینَ طُعِنَ فَقُلْتُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ یَا أَمِیرَ الْمُوْمِنِینَ، أَسْلَمْتَ حِینَ کَفَرَ النَّاسُ، وَجَاہَدْتَّ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ خَذَلَہُ النَّاسُ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْکَ رَاضٍ، وَلَمْ یَخْتَلِفْ فِي خِلَافِتِکَ اثْنَانِ، وَقُتِلْتَ شَہِیدًا… .
” سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، تو میں ان کے پاس آیا۔ میں نے کہا : امیر المومنین! جنت مبارک ہو! جب لوگوں نے اسلام کا انکار کیا، تو آپ نے قبول کیا۔ آپ نے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا جب لوگوں نے آپ کو بے یار و مدد گا رچھوڑ دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوتے وقت آپ سے راضی تھے۔ آپ کی خلافت میں دو انسانوں نے بھی اختلاف نہیں کیا اور اب آپ منصب شہادت پر فائز ہونے والے ہیں۔”
(المستدرک للحاکم : ٣/٩٢، وصحّحہ ابن حبّان : ٦٨٩١، وسندہ، صحیحٌ)
نیز دیکھیں : (صحیح البخاري : ٣٦٩٢)
کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ وصی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟
اس بات کا اشارہ تک نہیں ملتا کہ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ خود کو خلافت کا زیادہ حقدارسمجھتے ہوں یا آپ نے فرمایا ہو کہ میں وصی رسول ہوں، بلکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے۔
1.سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَّضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِہِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِیہِ، فَقَالَ النَّاسُ : یَا أَبَا حَسَنٍ، کَیْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ : أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللّٰہِ بَارِئًا، فَأَخَذَ بِیَدِہٖ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ لَہ، : أَنْتَ وَاللّٰہِ بَعْدَ ثَلاَثٍ عَبْدُ العَصَا، وَإِنِّي وَاللّٰہِ لَـأَرٰی رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَوْفَ یُتَوَفّٰی مِنْ وَّجَعِہِ ہٰذَا، إِنِّی لََـأَعْرِفُ وُجُوہَ بَنِي عَبْدِ المُطَّلِبِ عِنْدَ المَوْتِ، اذْہَبْ بِنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْہُ فِیمَنْ ہٰذَا الْـأَمْرُ، إِنْ کَانَ فِینَا عَلِمْنَا ذٰلِکَ، وَإِنْ کَانَ فِي غَیْرِنَا عَلِمْنَاہُ، فَأَوْصٰی بِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّا وَاللّٰہِ لَئِنْ سَأَلْنَاہَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاہَا لاَ یُعْطِینَاہَا النَّاسُ بَعْدَہ،، وَإِنِّي وَاللّٰہِ لاَ أَسْأَلُہَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
”سیّدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس آئے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض موت کا واقعہ ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا : ابو الحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کیسی ہے؟ کہا : الحمد اللہ! کافی بہتر ہے، پھر سیّدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر فرمایا : اللہ کی قسم! تین دن بعد آپ محکوم ہو جائیں گے۔ اللہ کی قسم! مجھے آثار نظر آرہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے جانبر نہیں ہو سکیں گے۔ بوقت وفات بنو عبدالمطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے۔ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلنا چاہیے اور پوچھنا چاہئے کہ خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم اس کے مستحق ہیں، تو ہمیں معلوم ہو جائے، اگر کوئی دوسرا ہے تو بھی پتہ چل جائے اور اس کے بارے میں ہمیں وصیت فرما دیں۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! اگر ہم نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، تو لوگ ہمیں کبھی خلافت نہیں دیں گے۔ میں تو ہرگز مطالبہ نہیں کروں گا۔ ”
(صحیح البخاري : ٤٤٤٧)
2.سیّدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا:
ہَلْ عِنْدَکُمْ کِتَابٌ؟ قَالَ : لَا، إِلَّا کِتَابُ اللّٰہِ، أَوْ فَہْمٌ أُعْطِیَہ، رَجُلٌ مُّسْلِمٌ، أَوْ مَا فِي ہٰذِہِ الصَّحِیفَۃِ . قَالَ : قُلْتُ : فَمَا فِي ہٰذِہِ الصَّحِیفَۃِ؟ قَال : العَقْلُ، وَفَکَاکُ الْـأَسِیرِ، وَلاَ یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِّکَافِرٍ .
”کیا آپ کے پاس کو ئی خاص تحریر ہے؟ فرمایا : نہیں، صرف کتاب اللہ کا فہم اور یہ صحیفہ ہے۔ میں نے پوچھا : اس صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا : دیت، قیدی آزاد کرنا اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے (کے مسائل ہیں)۔”
(صحیح البخاري : ١١١)
ثابت ہوا کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ وصی رسول نہیں تھے، نہ ہی خود کو خلیفہ بلا فصل سمجھتے تھے، بلکہ آپ نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت و امامت کی بیعت کررکھی تھی ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م:٧٢٨ھ) لکھتے ہیں :
وَمَنْ تَوَہَّمَ أَنَّ ہٰذَا الْکِتَابَ کَانَ بِخِلَافَۃِ عَلِيٍّ فَہُوَ ضَالٌّ بِّاتِّفَاقِ عَامَّۃِ النَّاسِ عُلَمَاءِ السُّنَّۃِ وَالشِّیعَۃِ، أَمَّا أَہْلُ السُّنَّۃِ فَمُتَّفِقُونَ عَلٰی تَفْضِیلِ أَبِي بَکْرٍ وَّتَقْدِیمِہٖ . وَأَمَّا الشِّیعَۃُ الْقَائِلُونَ بِأَنَّ عَلِیًّا کَانَ ہُوَ الْمُسْتَحِقَّ لِلْإِمَامَۃِ، فَیَقُولُونَ : إِنَّہ، قَدْ نَصَّ عَلٰی إِمَامَتِہٖ قَبْلَ ذٰلِکَ نَصًّا جَلِیًّا ظَاہِرًا مَّعْرُوفًا، وَّحِینَئِذٍ فَلَمْ یَکُنْ یَحْتَاجُ إِلٰی کِتَابٍ.
”جو یہ سمجھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلافت علی رضی اللہ عنہ لکھنا چاہتے تھے، سنی و شیعہ علما کے ہاں بالاتفاق گمراہ ہے۔ اہل سنت سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تفضیل و تقدیم پر متفق ہیں، جبکہ شیعہ کا نظریہ ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ ہی امامت کے مستحق تھے، وہ کہتے ہیں کہ ان کی امامت پر نص جلی ہے، چنانچہ کسی تحریر کی ضرورت ہی نہ تھی۔”
(منہاج السنۃ النبویۃ في نقض کلام الشیعۃ والقدریۃ : ٣/١٣٥)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کا ارادہ اپنے اختیار سے ترک کیا تھا نہ کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وغیرہ کی وجہ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے روکنے سے تبلیغِ دین سے نہ رکے ، تو صحابہ کے روکنے سے کیسے رُک سکتے تھے؟ بھلا صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغِ دین سے کیوں روکتے؟ وہ توآپ کے معاون و مددگار تھے ۔
ع دل صاحب ادراک سے انصاف طلب ہے۔
حسبنا کتاب اللہ :
قولِ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ”حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ” میں کتاب اللہ سے مراد حکم اللہ ہے۔ وہ احکام الٰہی، جو قرآن و حدیث کی صورت میں لکھے جا چکے ہیں، قرآن کے ذکر سے حدیث پر التزامی دلالت ہو ہی جاتی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت پر ترس آیا، تب یہ بات کہہ دی چوں کہ آپ کا مرض موت شدت اختیا ر کر چکا تھا، آپ کے مد نظریہ بات تھی کہ دین کی تکمیل ہو گئی ہے ”الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ ” ”آج ہم نے تمہارا دین مکمل کر دیا۔” نازل ہو چکی ہے۔ قرآن کریم میں ”مَا فَرَّطْنَا فِي الْکِتَابِ مِنْ شَيْئٍ” ”ہم نے کتاب میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔” اور ”تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَيئٍ” ”قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے۔” جیسے فرامین الہٰیہ موجود ہیں۔ قرآن کا بیان حدیث کی صورت میں موجود ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنے کی تکلیف دینا مناسب نہیں، بس اتنی سی بات تھی، جسے یار لوگوں نے افسانہ بنا دیا۔ ویسے جو قرآن و حدیث کو محرف و مبدل سمجھتے ہیں، انہیں فرمان عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ”حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ”کیسے ہضم ہو سکتا ہے؟
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (٦٧٣۔٧٤٨ھ) لکھتے ہیں:
وَإِنَّمَا أَرَادَ عُمَرُ التَّخْفِیفَ عَنِ النَّبِيِِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، حِینَ رَآہُ شَدِیدَ الْوَجَعِ، لِعِلْمِہٖ أَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَکْمَلَ دِینَنَا، وَلَوْ کَانَ ذٰلِکَ الْکِتَابُ وَاجِبًا لَّکَتَبَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَہُمْ، وَلَمَا أَخَلَّ بِہٖ .
”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکلیف میں دیکھ کر صرف اس لیے تخفیف کا ارادہ فرمایا تھا کہ جانتے تھے دین الٰہی مکمل ہو گیا ہے، یہ تحریر واجب ہوتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ضرور لکھ دیتے، کبھی ترک نہ کرتے۔”
(تاریخ الإسلام : ١/٨١٣، ت بشار، سیر أعلام النّبلاء : ٢/٣٣٨)
تنبیہ :
اگر کوئی بد باطن یہ کہے کہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلافت علی لکھنا چاہتے تھے، جو صحابہ کی وجہ سے نہ لکھ سکے، تو یہ واضح باطل ہے۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ خلافت علی بلا فصل کے بارے میں لکھ نہیں سکے تھے، تو بیان کر دیتے۔ پھر یہ واقعہ جمعرات کا ہے، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سوموار کو ہوئی، یعنی اس واقعہ کے تین دن بعد تک زندہ رہے۔ خلافت علی کیوں نہ لکھ دی یا کم از کم وصیت ہی فرما دیتے۔
الحاصل :
سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے چوتھے بر حق خلیفہ ہیں۔ اس پر صرف امت محمدیہ کا اجماع ہی نہیں، تورات و انجیل کی پشین گوئی بھی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں جب یہودی عالم اسقف سے خلفاء راشدین کے متعلق سوال کئے کہ کیا ان کا ذکر تورات میں موجود ہے، تو اس نے جہاں دوسرے خلفاء کی ترتیب و صفات بیان کیں وہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ شمار کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی صفات بیان کیں (سنن ابی دواد : ٤٦٥٦، وسندہ حسن) اس پرسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کی موافقت کی۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ خلفائے راشدین کی ترتیب اس دور میں زبان زد عام تھی، کسی کو انکار تھا، نہ اشتباہ، بل کہ خوئے تسلم و رضا تھی۔ جب شیعہ جیسے گمراہ اور اہل ہوا جنم لیتے ہیں، تو اپنے ساتھ خلافت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما پر سوالات اٹھانے کی بدعت لاتے ہیں، اس گمراہ کن نظریے پر دلائل تراشے جاتے ہیں، قرآن و حدیث میں معنوی تحریف کا فتنہ سر اٹھاتا ہے۔ آل یہود کا اخاذ ذہن اس حقیقت سے واقف تھا کہ اسلام اور مسلمان کے درمیان سے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ گرا دیا جائے تو اسلام کی عمارت دھڑام سے زمین پر آ گرے گی، اسی لئے اس ذہن کو عام کیا گیا کہ نعوذ با للہ صحابہ کرامyنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد گمراہ ہو گئے تھے۔ صحابہ کے خلاف بد چلن لوگوں کی بد زبانی اسی ذہنیت کا شاخسانہ ہے۔ اس کے لئے کیا کیا بہانے تراشے جاتے ہیں، آپ حدیث قرطاس سے اندازہ لگا لیجئے۔ جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عظمت و جلالت پردال ہے، مگر اسے افسانہ بنا دیا گیا۔ اس کی بنیاد پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف زبان درازی کی مشق جاری رہتی ہے اور کوشش رہتی ہے کہ اسلام سے اہل اسلام کو دورکر دیا جائے، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، خدا غارت کرے کس درجہ ظالم ہیں یہ لوگ!
مگر ان کی تما م کوششیں بے سود ہیں۔ اصحاب ِمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار اہل سنت ابھی زندہ ہیں۔
عہد ِ ثلاثہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دعوی خلافت وامامت:
کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان y کے دور ِ خلافت میں دعوی امامت و خلافت کیا ہو، بلکہ ان سے تینوں خلفاء کے ہاتھ پر خلافت و امامت کی بیعت کرنا ثابت ہے۔ اس کے باوجود بعض نا اندیش مصر ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلفائے ثلاثہ کے دور میں دعوی خلافت و امامت کیا تھا۔ ان کے مزعومہ دلائل پر مختصر اورجامع تبصرہ پیش ِخدمت ہے :
دلیل نمبر 1:
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بیعت کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کیجیے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
أَنَا أَحَقُّ بِھٰذَا الْـأَمْرِ مِنْکُمْ، لَا أُبَایِعُکُمْ، وَأَنْتُمْ أَوْلٰی بِالْبَیْعَۃِ لِي، أَخَذْتُمْ ھٰذَا الْـأَمْرَ مِنَ الْـأَنْصَارِ .
‘میں آپ سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں، میں آپ کی بیعت نہیں کرتا، بلکہ آپ کو میری بیعت کرنا چاہیے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کا احتجاج کرکے انصار سے خلافت لے لی۔ ‘
اب آپ ہم اہل ِبیت سے غصب کرنا چاہتے ہو۔ کیا آپ نے انصار کے مقابلہ میں اس خیال کا اظہار نہیں کیا کہ آپ اس امر میں ان سے زیادہ لائق ہو؟ اے گروہِ مہاجرین! اللہ تعالیٰ سے ڈرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سلطنت و خلافت ان کے گھر سے نکال کر اپنے گھر نہ لے جاؤ۔”
(کتاب الإمامۃ والسیاسۃ لابن قتیبۃ، ص : ١٢، مطبوعہ مصر)
تبصرہ:
یہ روایت جھوٹ کا پلندا ہے، جسے ابلیس لعین اور اس کے حواریوں نے جمع کیا ہے۔ اس کی کوئی سند نہیں، تب بھی جھوٹوں نے اسے ماتھے کا جھومر بنا لیا ہے۔ یہ لوگ یوم ِ حساب سے غافل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوف و خطر ہو کر اس قسم کی ابلیسی روایات دین کے نام پر عام کررہے ہیں۔ اہل ِدانش و بینش اس طرح کی واہی تباہی پر مبنی بے سروپا، بے ثبوت روایات پر کان نہیں دھرتے۔ ”الامامہ والسیاسۃ” نامی کتاب بے سند اوربے ثبوت ہے، جو ابن ِقتیبہ کی طرف منسوب کر دی گئی ہے۔ ایسی بے سند روایات پیش کرنے سے پہلے یو م حساب کو ذہن میں رکھنا چاہئے، یہ نہ ہو کہ خدا کی بے آواز لاٹھی حرکت میں آئے اور آپ کو پانی مانگنے کی مہلت بھی نہ ملے۔
دلیل نمبر 2:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
کُنَّا نَرٰی أَنَّ لَنَا فِي ہٰذَا الْـأَمْرِ حَقًّا، فَاسْتَبَدَدْتُّمْ بِّہٖ عَلَیْنَا . ثُمَّ ذَکَرَ قَرَابَتَہ، مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَحَقَّہُمْ فَلَمْ یَزَلْ عَلِيٌّ یَّقُولُ ذٰلِکَ حَتّٰی بَکٰی أَبُو بَکْرٍ .
”ہم اس امر (خلافت کے مسئلہ) کو اپنا حق سمجھتے تھے، لیکن آپ لوگوں نے خود ہی خلافت پر قبضہ کرلیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت اور حقوق کا ذکر شروع کیا۔ یہ کہہ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابھی کہہ ہی رہے تھے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔”
(تاریخ الطّبري : ٣/٢٠٢، طبع مصر)
تبصرہ:
سند ”ضعیف” ہے، کیونکہ
1۔اس میں امام عبدالرزاق بن ہمام ”مدلس” ہیں۔
2۔امام زہری بھی ”مدلس” ہیں۔
یہ مسلَّم اصول ہے کہ ثقہ مدلس جب سماع کی صراحت نہ کرے، تو بخاری ومسلم کے علاوہ اس کی روایت ”ضعیف” ہوتی ہے ۔
3۔یہ ان صحیح روایات کے بھی خلاف ہے، جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پربیعت ثابت ہے۔
دلیل نمبر 3:
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وَذَکَرَ عُمَرُ بْنُ شَبَّۃَ عَنِ الْمَدَائِنِيِّ، عَنْ أَبِي مِخْنَفٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ طَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ کَتَبَتْ أَمُّ الْفَضْلِ بِنْتُ الْحَارِثِ إِلٰی عَلِيٍّ بِّخُرُوجِہِمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ : الْعَجَبُ لِطَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا قَبَضَ رَسُولَہ، صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْنَا : نَحْنُ أَہْلُہ، وَأَوْلِیَاوُہ، لا یُنَازِعُنَا سُلْطَانَہ، أَحَدٌ، فَأَبٰی عَلَیْنَا قَوْمُنَا فَوَلَّوْا غَیْرَنَا . وَایْمُ اللّٰہِ لَوْلَا مَخَافَۃُ الْفُرْقَۃِ وَأَنْ یَّعُودَ الْکُفْرُ وَیَبُوءَ الدِّینُ لِغَیْرِنَا، فَصَبَرْنَا عَلٰی بَعْضِ الْـأَلَمِ .
”عامر شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا تو، امِ فضل بنت ِ حارث نے سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تعجب ہے طلحہ وزبیر پر وہ کس طرح میرے مخالف ہوگئے؟ جب اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس بلا لیا، تو ہم نے کہا تھا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل ِبیت اور ولی ہیں۔ آپ کی خلافت کے سلسلہ میں کوئی شخص ہمارے ساتھ نزاع اور اختلاف نہیں کرے گا۔ ہماری قوم نے انکار کیا اور ہمارے غیر (ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کو خلیفہ بنا لیا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے اس چیز کا خوف نہ ہوتا کہ مسلمانوں میں تفرقہ پڑ جائے گا، کفر لوٹ آئے گا اوردین اسلام خراب و برباد ہوجائے گا، توہم اس امر (خلافت ِ ابوبکر) کو بدل کر رکھ دیتے۔ (ہم نے مصلحت کے پیش ِنظر) بعض مصائب وآلام پرصبر کیا۔”
(الاستیعاب لابن عبد البرّ، مطبوعہ برحاشیۃ الإصابۃ : ١/٥٠٢)
تبصرہ:
یہ ”موضوع” (من گھڑت) روایت، جو اسلام اور اہل اسلام کی بربادی کی غرض سے گھڑی گئی ہے، بغیر سند کے یہ روایت امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے عمر بن شبہ سے ذکر کی ہے۔
1۔اس کا راوی لوط بن یحییٰ ابومخنف کوفی رافضی شیعہ ہے، جو کہ بالاجماع ”ضعیف” ہے۔ اس کے بارے میں ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں ہے۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں :
لَیْسَ بِشَيْءٍ .
”یہ کچھ بھی نہیں ۔”
(تاریخ یحییٰ بن معین بروایۃ الدُّوري : ١٣٥٨)
نیز کہتے ہیں :
لَیْسَ بِثِقَۃٍ .
”یہ معتبر نہیں ہے۔”
(تاریخ یحییٰ بن معین بروایۃ الدُّوري : ١٧٨٠)
امام ابن ِعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
وَھٰذَا الَّذِي قَالَہُ ابْنُ مَعِیْنٍ یُّوَافِقُہ، عَلَیْہِ الْـأَئِمَّۃُّ .
”یہ جو امام ابن ِمعین رحمہ اللہ نے کہا ہے، اس پر ائمہ کرام نے ان کی موافقت کی ہے ۔”
(الکامل في ضعفاء الرّجال لابن عدي : ٦/٩٣)
خود امام ابن ِعدی رحمہ اللہ اس کے بارے میں کہتے ہیں :
شِیْعِيٌّ مُّحْتَرَقٌ، صَاحِبُ أَخْبَارِھِمْ .
”کٹر شیعہ تھا اور ان کی خبروں کا راوی تھا۔”
(الکامل في ضعفاء الرجال : ٦/٩٣)
امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ ”متروک الحدیث” ہے ۔
(الجرح والتعدیل : ٧/١٨٢)
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إِخْبَارِيٌّ ، ضَعِیفٌ .
”یہ اخباری ہے اور ضعیف ہے ۔”
(الضعفاء والمتروکون : ٦٦٩)
حافظ ابن ِکثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں :
وَکَانَ شِیعِیًّا، وَھُوَ ضَعِیفٌ عِنْدَ الْـأَئِمَّۃِ .
”یہ شیعہ تھا اور ائمہ محدثین کے نزدیک ‘ضعیف’ ہے۔”
(البدایۃ والنّھایۃ : ٨/٢٢٠)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
کَذَّابٌ .
”یہ جھوٹا ہے ۔”
(تاریخ الإسلام : ٢/١٨٨)
نیز لکھتے ہیں :
إِخْبَارِيٌّ، تَالِفٌ، لاَ یُوثَقُ بِہٖ .
”یہ جھوٹی روایات بیان کرنے والا اور سخت ضعیف راوی ہے، اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔”
(میزان الاعتدال : ٣/٤١٩)
3۔اس کا دوسرا راوی جابر جعفی، کذاب، متروک، رافضی اور شیعہ ہے۔
اس روایت کو اہل سنت کے اجماعی موقف کے خلاف پیش کرنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے ۔
دلیل نمبر 4:
سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
کُنْتُ عَلَی الْبَابِ یَوْمَ الشُّورٰی فَارْتَفَعَتِ الْـأَصْوَاتُ بَیْنَہُمْ فَسَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ : بَایَعَ النَّاسُ لِـأَبِي بَکْرٍ، وَإِنَّا وَاللّٰہِ أَوْلٰی بِالْـأَمْرِ مِنْہُ وَأَحَقُّ مِنْہُ، فَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ مَخَافَۃَ أَنْ یَّرْجِعَ النَّاسُ کُفَّارًا یَّضْرِبُ بَعْضُہُمْ رِقَابَ بَعْضٍ بِّالسَّیْفِ .
”میں شوریٰ کے دن دروازہ کے پاس کھڑاتھا، اہل شوریٰ کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کی، حالانکہ اللہ کی قسم! ہم اس سے زیادہ حقدار ِ خلافت تھے، لیکن میں نے محض اس اندیشہ کے پیش ِنظر سکوت اختیار کر لیا کہ (اس خانہ جنگی کی وجہ سے) لوگ کفر کی طرف پلٹ کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ اڑانا شروع کر دیں۔”
(الضعفاء الکبیر للعُقَیلي : ٢/٢١١)
تبصرہ:
اس کی سند سخت ترین ”ضعیف” ہے۔ امام عقیلی رحمہ اللہ یہ روایت ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
وَہٰذَا الْحَدِیثُ لَا أصْلَ لَہ، عَنْ عَلِيٍّ .
”اس حدیث کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی ثبوت نہیں ۔”
(الضعفاء للعقیلي : ٢/٢١٢)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وَھُوَ خَبَرٌ مُّنْکَرٌ .
”یہ خبر منکر ہے ۔”
(میزان الاعتدال : ١/٤٤١)
نیز لکھتے ہیں :
فَھٰذَا غَیْرُ صَحِیْحٍ وَّحَاشَا أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ قَوْلِ ھٰذَا .
”یہ صحیح نہیں ہے، امیرالمومنین ایسی بات ہرگز نہیں کر سکتے۔”
(میزان الاعتدال : ١/٤٤٢)
یہ روایت دو وجوہ کی بنا پر ”ضعیف” ہے :
1اس کا راوی حارث بن محمدہے، جس کو امام ابن عدی (الکامل:١/١٩٤) اور امام عقیلی (الضعفائ:١/٢١٢) رحمہ اللہ نے ”مجہول” کہا ہے، لہٰذا امام ابن حبان رحمہ اللہ کا اسے الثقات ( ٤ / ٦ ٣ ١ ) میں ذکر کرنا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔
2۔اس میں رجل مبہم بھی ہے ۔
فائدہ:
جس سند میں رجل مبہم کا ذکر نہیں، وہ سند محمد بن حمید رازی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ نیز اس میںحارث بن محمدنے سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے سماع کی تصریح نہیں کی، لہٰذا رجل مبہم کا اضافہ اس میں بھی موجود ہے۔ یہ المزید فی متصل الاسانید کی صورت بنتی ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سخت ضعیف ہے ۔
دلیل نمبر5:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے :
فَتَشَہَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا یَا أَبَا بَکْرٍ فَضِیلَتَکَ، وَمَا أَعْطَاکَ اللّٰہُ، وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَیْکَ خَیْرًا سَاقَہُ اللّٰہُ إِلَیْکَ، وَلٰکِنَّکَ اسْتَبْدَدْتَّ عَلَیْنَا بِالْـأَمْرِ، وَکُنَّا نَحْنُ نَرٰی لَنَا حَقًّا لِّقَرَابَتِنَا مِنْ رَّسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یَزَلْ یُکَلِّمُ أَبَا بَکْرٍ حَتّٰی فَاضَتْ عَیْنَا أَبِي بَکْرٍ .
”سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا : ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت پہچانتے ہیں اور اللہ نے جو آپ کو مرتبہ عطا کیا ہے، اس سے واقف ہیں اور جو خیر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے رکھی ہے، اس سے حسد نہیں کرتے، لیکن آپ نے خود ہی یہ حکومت حاصل کرلی (یعنی ہم سے مشورہ نہیں کیا) حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی بنا پر اس (مشورہ) میں اپنا حق سمجھتے تھے، پھر وہ اس مسئلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مسلسل گفتگو کرتے رہے، حتی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔”
(صحیح البخاري : ٤٢٤٠، ٤٢٤١، صحیح مسلم : ١٧٥٩)
تبصرہ:
اس حدیث سے بعض الناس کا دعویٰ قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا، بلکہ ان کے دعویٰ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کلمہ پڑھ کر اس حقیقت کا اعتراف کررہے ہیں کہ یہ خلافت آپ کو اللہ نے عطا کی ہے، ہم اس کو چھیننے میں کوئی رغبت نہیں رکھتے، بات اتنی ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں۔ ہم سے مشورہ کیوں نہیں کیاگیا ؟
قارئین کرام! بعض لوگوں کی یہ کل کائنات تھی، جس کا حشر آپ نے دیکھ لیا ہے۔ مسلمانوں کے اتفاق کے خلاف اور صحیح احادیث کے خلاف ان بے ثبوت روایات کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟ ان ضعیف اورموضوع (من گھڑت) روایات کی بنا پر مسلمانوں کے مقابلہ میں علیحدہ امت کھڑی کر لینا افسوس ناک ہے اور ان کی بنا پر صحابہ کرام کو ہدف ِ طعن بنانا اہل ایمان کا شیوہ نہیں ہوسکتا ۔
نہج البلاغہ اور الامامت والسیاست جیسی بے سند اور بے ثبوت کتابوں کے حوالے مسلمانوں کے خلاف پیش کرنا عدل و انصاف کا خون کرنا ہے۔ ہمارے نزدیک سند دین ہے ۔ بے سند باتوںکا کوئی اعتبار نہیں ۔
ہم آخر میں حافظ احمد بن عمر بن ابراہیم ، قرطبی رحمہ اللہ کا قولِ فیصل ذکر کیے دیتے ہیں:
وَقَدْ أَکْثَرَ الشِّیْعَۃُ وَالرَّوَافِضُ مِنَ الْـأَحَادِیثِ الْبَاطِلَۃِ وَالْکَاذِبَۃِ، وَاخْتَرَعُوْا نُصُوصًا عَلٰی اسْتِخْلَافِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا ، وَادَّعُوا أَنَّھَا تَوَاتَرَتْ عِنْدَھُمْ، وَھٰذَا کُلُّہ، کِذْبٌ مُّرَکَّبٌ، وَلَوْ کَانَ شَيْءٌ مِّنْ ذٰلِکَ صَحِیحًا أَوْ مَعْرُوْفًا عِنْدَ الصَّحَابَۃِ یَوْمَ السَّقِیفَۃِ لَذَکَرُوْہُ، وَلَرَجَعُوا إِلَیْہِ ، وَلَذَکَرَہ، عَلِيٌّ مُّحْتَجًّا لِّنَفْسِہٖ، وَلَمَّا حَلَّ أَنْ یَّسْکُتَ عَنْ مِّثْلِ ذٰلِکَ بِوَجْہٍ، فَإِنَّہ، حَقُّ اللّٰہِ، وَحَقُّ نَبِیِّہِ وَحَقُّہ،، وَحَقُّ الْمُسْلِمِینَ، ثُمَّ مَا یُعْلَمُ مِنْ عَظِیمِ عِلْمِ عَلِيٍّ رَّضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَصَلاَبَتِہٖ فِي الدِّینِ، وَشُجَاعَتِہٖ یَقْتَضِي، إِلاَّ یَتَّقِي أَحَدًا فِي دِینِ اللّٰہِ، کَمَا لَمْ یَتَّقِ مُعَاوِیَۃَ، وَأَھْلَ الشَّامِ حِیْنَ خَالَفُوہ،، ثُمَّ إِنَّہ، لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ وَلَّی الْمُسْلِمُونَ بِاِجْتِھَادِھِمْ عَلِیًّا، وَلَمْ یَذْکَرْ ھُوَ وَلَا أَحَدٌ مِّنْھُمْ نَصًّا فِي ذٰلِکَ، فَعُلِمَ قَطْعًا کِذْبُ مَنِ ادَّعَاہُ، وَمَا التَّوْفِیقُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ .
”شیعہ اور رافضیوں نے بہت سی باطل اور جھوٹی احادیث بیان کی ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کرنے کے متعلق نصوص گھڑ لی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نزدیک یہ تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ یہ سب کا سب جھوٹ کا مرکب ہے۔ اگر اس بارے میں کوئی بات بھی صحیح ہوتی یا سقیفہ والے دن صحابہ کرام کے ہاں معروف ہوتی، تو وہ اس کو ذکر کرتے، اس کی طرف رجوع کرتے اور سیدناعلی رضی اللہ عنہ اسے اپنی دلیل کے طور پر پیش کرتے، نیز ان کے لیے اس طرح کی بات سے خاموش ہو جانا کسی طرح جائز نہ ہوتا، کیونکہ یہ اللہ، اس کے رسول اور خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور تمام مسلمانوں کا حق تھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عظمت ِعلم اور دین میں پختگی بھی معلوم ہے اور آپ کی شجاعت بھی اس بات کی متقاضی تھی کہ آپ اللہ کے دین کے بارے میں کسی سے نہ ڈرتے، جیسا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ڈرے تھے، نیز اہل ِشام سے بھی نہیں ڈرتے تھے، جب انہوں نے آپ کی مخالفت کی تھی۔ پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو مسلمانوں نے اپنے اجتہاد سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا لیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے خود اور نہ ہی کسی صحابی نے اس بارے میں کوئی نص ذکر کی۔ چنانچہ قطعی طور پر معلوم ہو گیا ہے کہ اس دعویٰ کا مدعی جھوٹا ہے۔ وما التّوفیق إلّا من عند اللہ۔”
(المفہم لما اشکل من تلخیص صحیح مسلم : ٤/٥٥٧)
سیدنا علی کی طرف منسوب کتاب نہج البلاغۃ (ص : ٣٦٦۔٣٦٧) میں لکھا ہے:
إِنَّہ، بَایَعَنِي الْقَومُ الَّذِینَ بَایَعُوا أَبَا بَکْرٍ وَّعُمَرَ وَعُثْمَانَ عَلٰی مَابَایَعُوہُمْ عَلَیْہِ، فَلَمْ یَکُنْ لِّلشَّاہِدِ أَنْ یَّخْتَارَ وَلاَ لِلْغَائِبِ أَنْ یَّرُدَّ، وَإِنَّمَاالشُّوْرٰی لِلْمُہَاجِرِینَ وَالْـأَنْصَارِ، فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلٰی رَجُلٍ وَّسَمَّوہُ إِمَامًا کَانَ ذٰلِکَ لِلّٰہِ رِضًی، فَإِنْ خَرَجَ مِنْ أَمْرِہِمْ خَارِجٌ بِّطَعْنٍ أَوْ بِدْعَۃٍ رُدُّوہُ إِلٰی مَا خَرَجَ مِنْہ،، فَإِنْ أَبٰی قَاتِلُوہُ عَلٰی اتِّبَاعِہٖ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَلاَّہُ اللّٰہُ مَا تَوَلّٰی .
”میری بیعت ان لوگوں نے کی ہے، جنہوںنے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عثمان کی بیعت کی تھی۔ جس کے متعلق حاضر شخص من مانی نہیں کر سکتا اور غائب رد نہیں کر سکتا۔ مجلس شوریٰ صرف مہاجرین و انصار پر مشتمل ہے۔ اگر وہ کسی کی امامت پر اتفاق کر لیں، تو اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی شامل ہے۔ اگر کوئی شخص کسی طعن اور بدعت کی بنیاد پر خروج کرنا چاہے، تو اسے واپس پلٹایا جائے گا۔ اگر نہ مانے، تو قتل کیا جائے گا، کیونکہ وہ مسلمانوں کے راستے سے انحراف کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو اسی طرف پھیر دے گا جس کی طرف وہ پھرنا چاہتا ہے۔”
 
Top