تہتر فرقوں والی حدیث — اور گمراہ فرقوں کو کس طرح نصیحت کریں؟

تقریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: حافظ معاذ علی زئی

سوال کیا گیا کہ ’’تہتر فرقوں والی حدیث کی موجودگی میں دوسروں کو کس حد تک دعوت دینی چاہئے؟‘‘

……… الجواب ………

تہتر فرقوں والی حدیث تو صحیح ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ صحیح حدیث ہے۔

بہتر (72) دوزخی ہیں اور ایک جنتی ہے۔

اب جو بہتر دوزخی ہیں۔ اگر آپ نے ان کو دعوت دینی ہے تو نرمی سے بہت اچھے طریقے سے دعوت دیں۔

((ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ)) [النحل: 125]

یہی طریقہ ہمارے اسلاف سے ثابت ہے۔

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سخت گمراہ کافر ہے۔ اگر نرمی سے اور دلائل سے بیان کیا جائے تو اللہ تبارک و تعالیٰ بڑی فتح دیتا ہے اور بہت سے لوگ صحیح راستے کی طرف لوٹ آتے ہیں۔

قاضی ابوبکر الباقلانی — ایک عالم گزرے ہیں — خطیب بغدادی کے استاد تھے۔

بغداد میں غالباً معتصم باللہ کا دَور تھا۔

عیسائیوں کا بادشاہ قسطنطنیہ میں ہوتا تھا۔

یہ علاقہ اب ترکی میں ہے۔ یہ اُس دَور میں عیسائیوں کا دارالخلافہ تھا۔ یہ علاقہ اُس وقت فتح نہیں ہوا تھا۔

اس بادشاہ نے ایلچی بھیجے کہ مسلمانوں کا کوئی عالم ہمارے پاس آکر ہم سے بات کرے۔

یعنی وہ بات کرنا چاہتا تھا۔

تو خلیفہ نے قاضی ابوبکر الباقلانی کو بھیجا۔

قاضی صاحب بہت ہی حاضر جواب انسان تھے۔

اس بادشاہ نے ایسا انتظام کیا تھا کہ دربار میں جو آدمی بھی آتا تھا وہ جھک کر داخل ہوتا تھا۔ یعنی سجدے کی حالت میں داخل ہوتا تھا۔

قاضی ابوبکر جب وہاں پہنچے تو انھوں نے پہلے ٹانگیں اندر داخل کیں اور پھر پیٹھ پر چلتے ہوئے دربار میں داخل ہوگئے۔

یعنی وہ بادشاہ (اپنے مذموم مقصد میں) ناکام رہا۔

اس بادشاہ نے مذاق اڑاتے ہوئے طنز و مزاح کے الفاظ میں کہا کہ سنا ہے تمھارے نبی کی بیوی پر زنا کی تہمت لگی تھی۔

اُس نے امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذِکر کیا۔

وہ بادشاہ مسلمانوں کی توہین کرنا چاہتا تھا۔

قاضی ابوبکر نے جواب دیا کہ ہاں! دو عورتوں پر زنا کی تہمت لگی تھی۔

ایک شادی شدہ عورت تھی جس کا کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔

کیونکہ زنا سے بچہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔

اور ایک کنواری تھی وہ بچہ لے کر آگئی۔ کنواری بچہ لے کر آگئی ہے۔

اور دونوں بے گناہ تھیں۔

وہ بادشاہ ہکا بکا رہ گیا۔

ان کا ایک پوپ تھا۔ آج کل پوپ اٹلی میں ہوتا ہے۔ اس پوپ نے کوئی بات کی تو اسے بھی خاموش کیا۔

پھر قاضی ابوبکر نے اس پوپ سے کہا کہ تیرے بیوی بچوں کا کیا حال ہے؟ تیرے بیوی بچے ٹھیک ہیں؟

درباری (غصے میں) بولے کہ نہیں، نہیں، نہیں۔ یہ پوپ کی شان کے لائق نہیں ہے۔

ان کا بڑا پادری شادی نہیں کرتا۔

یہ بڑی توہین ہے۔ یہ آپ کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں؟

قاضی ابوبکر نے کہا کہ تمھیں شرم نہیں آتی۔ بیوی بچے تمھارے پوپ کی شان کے لائق نہیں ہیں اور تم اللہ کے بارے میں کہتے ہو کہ اللہ کا بیٹا ہے۔ عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے ہو۔ شرم نہیں آتی۔

تو بھائیو! اچھے طریقے سے دعوت دیں۔ دلائل کے ساتھ دعوت دیں۔ کسی کو کافر و مشرک نہ قرار دیں۔

موسیٰ علیہ السلام والا قول یاد رکھیں:

((فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰ)) [طہ: 51]

فرعون نے کہا تھا کہ پہلی قوموں کا کیا ہوگا۔

موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ:

((عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّىْ فِىْ كِتَابٍ ۖ لَّا يَضِلُّ رَبِّىْ وَلَا يَنْسَى)) [طہ: 52]

……… اصل ویڈیو ………

اصل ویڈیو اسی عنوان سے اشاعۃ الحدیث موبائل ایپلیکیشن میں ویڈیوز والے سیکشن میں موجود ہے۔

……… حوالے ………

تنبیہ: قاضی ابوبکر محمد بن الطیب الباقلانی اپنی تمام خوبیوں اور بہترین مناظروں کے باوجود اشعری العقیدہ تھے۔ (دیکھئے تحقیقی و علمی مقالات: جلد 3 صفحہ نمبر 573)

تہتر فرقوں والی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

((إِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ، إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ))

ترجمہ: ’’میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے، ایک کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے اور وہی جماعت ہیں‘‘۔

(سنن ابن ماجہ: 3992 وسندہ حسن عند الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ)
 
Top