💐سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور ان سے محبت
حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللہ💐


🌺تحقیق و تخریج: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ


’’سیدۃ نساء العالمین في زمانھا، البضعۃ النبویۃ والجھۃ المصطفویۃ …… بنت سیدالخلق رسول اللہ ﷺ …… وأم الحسنین‘‘


اپنے زمانے میں دنیا کی ساری عورتوں کی سردار، نبی ﷺ کا جگر گوشہ اور نسبتِ مصطفائی …… سیدالخلق رسول اللہ ﷺ کی بیٹی …… اور حسنین کی والدہ‘‘


(سیر اعلام النبلاء 2/ 118، 119)


سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب ابو جہل کی بیٹی سے شادی کا پیغام بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


((فاطمۃ بضعۃ مني، فمن أغضبھا أغضبني))


فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے، جس نے اُسے ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔


(صحیح بخاری: 3714 واللفظ لہ، صحیح مسلم: 2449)


ایک روایت میں ہے:


((یؤ ذیني ما آذاھا))


وہ چیز مجھے تکلیف دیتی ہے جس سے اُسے تکلیف پہنچتی ہے۔


(صحیح بخاری: 5230 وصحیح مسلم: 2449، دارالسلام:6307)


ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:


((أما ترضین أن تکوني سیدۃ نساء أھل الجنۃ أونساء المؤمنین؟))


کیا تم اہلِ جنت یا مومنوں کی عورتوں کی سردار ہونے پر راضی نہیں؟


تو وہ (خوشی سے) ہنس پڑیں۔


(صحیح بخاری: 3624، صحیح مسلم: 2450)


سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:


فاطمہ (رضی اللہ عنہا) اس طرح چلتی ہوئی آئیں گویا کہ نبی ﷺ چل رہے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا:


((مرحبًا یا ابنتي))


خوش آمدید اے میری بچی!


پھر آپ ﷺ نے انھیں اپنی دائیں یا بائیں طرف بٹھالیا۔


(صحیح بخاری: 3623 وصحیح مسلم: 2450)


عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:


میں نے نبی ﷺ کی عادات و اطوار، آپ کے اُٹھنے بیٹھنے کی پروقارکیفیت اور سیرت میں فاطمہ(رضی اللہ عنہا) سے زیادہ کوئی نہیں دیکھا، جب وہ نبی ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آپ اُن کے لئے کھڑے ہو جاتے پھر اُن کا بوسہ لے کر اپنی جگہ بٹھاتے تھے اور جب نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر آپ کا بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ بٹھاتی تھیں۔


(سنن الترمذی: 3872 وسندہ حسن، وقال الترمذی: ھٰذا حدیث حسن غریب)


رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات کے وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خوش خبری دی تھی کہ وہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں سوائے مریم بنت عمران کے۔ (الترمذی: 3873 وسندہ حسن)


سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:


میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، پھر آپ عشاء تک (نفل) نماز پڑھتے رہے، پھرجب فارغ ہو کر چلے تو میں (بھی) آپ کے پیچھے چلا۔


آپ ﷺ نے میری آواز سن کر فرمایا: یہ کون ہے؟ حذیفہ ہے؟


میں نے کہا: جی ہاں۔


آپ ﷺ نے فرمایا:


((ما حاجتک غفراللہ لک ولأمک))


تجھے کیا ضرورت ہے؟ اللہ تجھے اور تیری ماں کو بخش دے۔


(پھر) آپ ﷺ نے فرمایا:


((إن ھٰذا ملک لم ینزل الأرض قط قبل ھٰذہ اللیلۃ استأذن ربہ أن یسلّم عليّ و یبشرني بأن فاطمۃ سیدۃ نساء أھل الجنۃ وأن الحسن والحسین سیداشباب أھل الجنۃ))


یہ فرشتہ اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اُترا۔ اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کہنے کی اجازت مانگی اوریہ (فرشتہ) مجھے خوش خبری دیتا ہے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔


(سنن الترمذی: 3781 وسندہ حسن، وقال الترمذی: حسن غریب، وصححہ ابن خزیمہ: 1194 وابن حبان: 2229 والذہبی فی تلخیص المستدرک 3/ 381)


تنبیہ: اس فرشتے کا نام معلوم نہیں ہے۔ ماہنامہ الحدیث: (26 ص 63) میں بریکٹوں کے درمیان ’’(جبریل علیہ السلام)‘‘ چھپ گیا ہے جو کہ غلط ہے۔


نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور (اپنی چادر کے نیچے داخل کر کے) فرمایا: اے اللہ یہ میرے اہل (اہل بیت) ہیں۔ (صحیح مسلم: 34/ 2404 وماہنامہ الحدیث: 26 ص 62)


سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


((والذي نفسي بیدہ! لا یبغضنا أھل البیت رجل إلا أدخلہ اللہ النار))


اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ہم اہلِ بیت سے جو آدمی بھی بغض رکھے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے (جہنم کی) آگ میں داخل کرے گا۔


(صحیح ابن حبان، الاحسان: 6939 دوسرا نسخہ: 6978، الموارد: 2246 وسندہ حسن، وصححہ الحاکم علیٰ شرط مسلم 3/ 150 ح 4717، وانظر سیر اعلام النبلاء 2/ 123)


نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:


جنتی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد(ﷺ)، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اور مریم بنت عمران ہیں۔


(مسند احمد 1/ 293 وسندہ صحیح، ماہنامہ الحدیث: 30 ص 63)


نبی ﷺ نے مرض الموت میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر راز کی ایک بات بتائی تو وہ رونے لگیں پھر دوسری بات بتائی تو وہ ہنسنے لگیں۔


فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے بتایا: ’’میں اس بیماری میں فوت ہو جاؤں گا‘‘ تو میں رونے لگی پھر آپ نے مجھے بتایا کہ اہلِ بیت میں سب سے پہلے (وفات پاکر) میں آپ سے جا ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔


(صحیح بخاری: 3715، 3716 وصحیح مسلم: 2450)


سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد تقریباً بیس سال کی عمر (11ہجری) میں فوت ہوئیں۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: 8650)


تنبیہ (1): جس روایت میں آیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وفات سے پہلے غسلِ وفات کیا تھا، ضعیف و منکر روایت ہے۔ دیکھئے ماہنامہ الحدیث: 28 ص 14، 15


تنبیہ (2): بعض گمراہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا سبب یہ ہے کہ (سیدنا) عمر (رضی اللہ عنہ) نے انھیں دھکا دیا تھا۔‘‘ یہ بالکل بے اصل، من گھڑت اور موضوع قصہ ہے۔


آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دل آلِ بیت، تمام صحابۂ کرام، خلفائے راشدین، سیدنا حسن، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم اجمعین اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی محبت سے بھر دے۔ آمین


………… اصل مضمون …………


اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ اشاعۃ الحدیث حضرو (شمارہ 31 صفحہ 52 تا 54) نیز دیکھئے کتاب ’’فضائل صحابہ‘‘ للشیخ حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللہ (صفحہ 91 تا 94)
 
Top