سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل اور ان سے محبت
تحریر: حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللّٰہ
تحقیق و تخریج: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہما نے نبی ﷺ سے پوچھا: آپ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ کے ابا (ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ) سے۔
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہما نے پوچھا: ان کے بعد کس سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: عمر رضی اللّٰہ عنہ سے۔
(صحیح بخاری: 3662 و صحیح مسلم: 2384)
محمد بن علی بن ابی طالب عرف محمد بن الحنفیہ رحمہ اللّٰہ نے اپنے ابا (سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ) سے پوچھا: نبی ﷺ کے بعد کون سا آدمی سب سے بہتر (افضل) ہے؟
سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: ابو بکر ( رضی اللّٰہ عنہ)
پوچھا: پھر ان کے بعد کون ہے؟
سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: عمر (رضی اللّٰہ عنہ)
(صحیح بخاری: 3671)
سیدنا ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اِلَّا تَنْصُرُوْ ہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اﷲُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَحْزَنْ اِنَّ اﷲَ مَعَنَا﴾
اگر تم اللّٰہ کے رسول کی مدد نہ کرو گے تو (کچھ پروا نہیں، اللّٰہ اس کا مدد گار ہے) اس نے اپنے رسول کی مدد اس وقت کی تھی جب کافروں نے اسے (اس حال میں گھر سے) نکالا تھا۔ جب کہ دو (آدمیوں) میں دوسرا وہ تھا (اور) دونوں غار (ثور) میں تھے (اور) وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا: غمگین نہ ہو، یقینا اللّٰہ ہمارے ساتھ ہے۔
(التوبہ: 40، الکتاب ص 117)
سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
صحبت اور مال کے لحاظ سے، ابوبکر کا مجھ پر سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو اپنا خلیل بناتا لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور محبت کافی ہے۔ دیکھو! مسجد (نبوی) کی طرف تمام دروازے کھڑکیاں بند کر دو سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔
(صحیح بخاری: 3654 و صحیح مسلم: 2382)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے:
رسول اللّٰہ ﷺ نے (صحابہ سے) پوچھا: آج کس نے روزہ رکھا ہے؟
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: میں نے۔
آپ ﷺ نے پوچھا: آج کون جنازے کے ساتھ گیا تھا؟
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: میں گیا تھا۔
آپ ﷺ نے پوچھا کہ آج کس نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: میں نے۔
آپ ﷺ نے پوچھا: آج کس نے کسی مریض کی بیمار پرسی کی ہے؟
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: میں نے۔
تو رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
((ما اجتمعن في امرئ إلادخل الجنۃ))
یہ چیزیں جس انسان میں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔
(صحیح مسلم: 1028 و بعد ح 2387)
سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:
نبی ﷺ ایک باغ میں موجود تھے۔
ایک آدمی آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
((افتح لہ وبشرہ بالجنۃ))
ترجمہ: اس کے لئے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔
یہ ابوبکر (الصدیق رضی اللّٰہ عنہ) تھے جو باغ میں داخل ہوئے تھے۔
(صحیح بخاری: 3693 وصحیح مسلم: 2403)
ایک مشہور حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
((أبو بکر فی الجنۃ))
ابوبکر جنتی ہیں۔
(سنن الترمذی: 747 3، وإسنادہ صحیح، و صححہ ابن حبان، الاحسان: 6963)
سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے:
ایک دفعہ نبی ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان (رضی اللّٰہ عنہم) احد پہاڑ پر چڑھے تو (زلزلے کی وجہ سے) پہاڑ ہلنے لگا۔
آپ ﷺ نے اس پر اپنا پاؤں مار کر فرمایا:
((اثبت أحد، فإنما علیک نبي و صدیق و شھیدان))
اے اُحد! رک جانا تیرے اوپر (اس وقت) صرف نبی، صدیق اور دو شہید موجودہیں۔
(صحیح بخاری: 3686)
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:
’’لو وزن إیمان أبي بکر بإیمان أھل الأرض لرجح بہ‘‘
اگر ابوبکر (صدیق) کا ایمان اور زمین والوں کے ایمان کو باہم تولا جائے تو ابوبکر (رضی اللّٰہ عنہ) کا ایمان بھاری ہوگا۔
(کتاب السنۃ لعبداللّٰہ بن احمد: 821 وسندہ حسن، شعب الایمان للبیہقی: 36 عقیدۃ السلف أصحاب الحدیث للصابونی ص 70، 71ح 110/ وفضائل ابی بکر لخیثمہ الا طرابلسی ص 133)
سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ کے فضائل بہت زیادہ ہیں جن کی تفصیل کا یہ مختصر مضمون متحمل نہیں۔
امام اہل سنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو ابوبکر و عمر و عائشہ (رضی اللّٰہ عنہم اجمعین) کو گالیاں دیتا ہے؟
تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ نے فرمایا: میں اسے اسلام پر (مسلمان) نہیں سمجھتا۔
(السنۃ للخلال ص 493 ح 779 وسندہ صحیح)
امام عبداللّٰہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ) سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو کسی صحابی کو گالی دیتا ہے؟
تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ نے فرمایا: میں ایسے شخص کو اسلام پر نہیں سمجھتا ہوں۔
(السنۃ للخلال ح 782 وسندہ صحیح)
ثقہ فقیہ عابد تابعی امام مسروق بن الاجدع رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’حب أبي بکر وعمر ومعرفۃ فضلھا من السنۃ‘‘
ابوبکر و عمر (رضی اللّٰہ عنہما) سے محبت اور ان کی فضیلت ماننا سنت ہے۔
(کتاب العلل ومعرفۃ الرجال 1/ 177 ح 945 وسندہ حسن، شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ لللالکائی 2322)
امام ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین الباقر رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:
’’من جھل فضل أبي بکر و عمر رضي اللّٰہ عنہما فقد جھل السنۃ‘‘
جس شخص کو ابوبکر اور عمر رضی اللّٰہ عنہما کے فضائل معلوم نہیں ہیں وہ شخص سنت سے جاہل ہے۔
(کتاب الشریعۃ للآجری ص 851ح 1803 وسندہ حسن)
امام جعفر بن محمد الصادق رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’برئ اللّٰہ ممن تبرأ من أبي بکر و عمر‘‘
اللّٰہ اس شخص سے بری ہے جو شخص ابوبکر اور عمر (رضی اللّٰہ عنہما) سے بری ہے۔
(فضائل الصحابۃ للامام احمد 1/ 160 ح 143 وإسنادہ صحیح)
امام ابو جعفر محمد بن علی الباقر رحمہ اللّٰہ بیماری کی حالت میں فرماتے تھے:
’’اللھم إني أتولیٰ أبا بکر و عمر وأحبھما، اللھم إن کان في نفسي غیر ھٰذا فلا نا لتني شفاعۃ محمد ﷺ یوم القیامۃ‘‘
اے اللّٰہ میں ابوبکر و عمر کو اپنا ولی مانتا ہوں اور ان دونوں سے محبت کرتا ہوں۔
اے اللّٰہ! اگر میرے دل میں اس کے خلاف کوئی بات ہو تو قیامت کے دن مجھے محمد ﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر 57/ 223 وسندہ حسن)
امام ابو اسحاق (السبیعی) رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:
’’بغض أبي بکر وعمر من الکبائر‘‘
ابوبکر اور عمر (رضی اللّٰہ عنہما) سے بغض کرنا کبیرہ گناہ (کفر) ہے۔
(فضائل الصحابۃ لعبداللّٰہ بن احمد 1/ 294 ح 385 وسندہ حسن)
اے اللّٰہ! ہمارے دلوں کو سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ اور تمام صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم اجمعین کی محبت سے بھر دے اور اس محبت کو اور زیادہ کر دے۔ آمین
………… اصل مضمون …………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ اشاعۃ الحدیث حضرو (شمارہ 14 صفحہ 60 تا 64) نیز دیکھئے کتاب ’’فضائل صحابہ‘‘ للشیخ حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللّٰہ (صفحہ 37 تا 40)

 
Top