سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور ان سے محبت
تحریر: حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللّٰہ
تحقیق و تخریج: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے فضائل بے شمار ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے (ایک دفعہ) سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے فرمایا:
((أریتکِ فی المنام مرتین، أری أنکِ في سرقۃ من حریر ویقول: ھٰذہ امرأتکَ، فأکشف فإذا ھي أنتِ فأقول: إن یک ھٰذا من عنداللّٰہ یمضہ))
تم مجھے خواب میں دو دفعہ دکھائی گئی ہو، میں نے دیکھا کہ تم ایک سفید ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی تھیں اور (فرشتہ) کہہ رہا تھا: یہ آپ کی بیوی ہیں۔ میں وہ کپڑا ہٹاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ تم ہو۔ میں کہتا تھا: اگر یہ اللّٰہ کی طرف سے ہے تو وہ اُسے ضرور پورا کرے گا۔
(صحیح البخاری: 3895 وصحیح مسلم: 2438 [6283])
سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کے پاس جبریل علیہ السلام مجھے (میری تصویر کو) ریشم کے لباس میں لائے تو فرمایا:
’’ھٰذہ زوجتکَ فی الدنیا والآخرۃ‘‘
یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی زوجہ ہیں۔
(صحیح ابن حبان، الاحسان: 7052 [7094] وسندہ حسن)
ایک روایت میں ہے کہ:
’’جاء الملک بصورتي إلٰی رسول اللّٰہ ﷺ فتزوجني رسول اللّٰہﷺ وأنا ابنۃ سبع سنین وأھدیت إلیہ وأنا ابنۃ تسع سنین‘‘
(سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا:) رسول اللّٰہ ﷺ کے پاس فرشتہ میری تصویر لے کر آیا تو رسول اللّٰہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی اور (اس وقت) میری عمر سات سال تھی اور نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔
(المستدرک للحاکم 4/ 10 ح 6730 وسندہ حسن و صححہ الحاکم ووافقہ الذہبی)
سیدنا رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنی زوجۂ مبارکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے مخاطب ہو کر فرمایا:
((فأنتِ زوجتي فی الدنیا والآخرۃ))
پس تُو دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہے۔
(صحیح ابن حبان: 7053 [7095] وسندہ صحیح، وصححہ الحاکم 4/ 10 ح 6729 ووافقہ الذہبی)
رسول اللّٰہ ﷺ کے بستر مبارک پر آنے والی آپ کی سب ازواج یقینا جنت میں بھی آپ کی ازواج ہوں گی لیکن آپ نے خاص طور پر اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے فرمایا:
((أما إنک منھن))
تم تو انھی میں سے ہو۔
(صحیح ابن حبان: 7054 [7096] وسندہ صحیح، وصححہ الحاکم 4/ 13 ح 6743 ووافقہ الذہبی)
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ کے خاص ساتھی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے (علانیہ) فرمایا:
’’إني لأعلم أنھا زوجتہ فی الدنیا والآخرۃ ……‘‘
بے شک میں جانتا ہوں کہ وہ (عائشہ رضی اللّٰہ عنہا) آپ ( ﷺ) کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔
(صحیح بخاری: 3772)
سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
((فضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علٰی سائر الطعام))
عائشہ کی فضیلت عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح تمام کھانوں سے ثرید افضل ہے۔
(صحیح بخاری: 3770، صحیح مسلم: 2446 [6299])
ثرید اس لذیذ کھانے کو کہتے ہیں جسے روٹی کو چُوری کر کے گوشت کے شوربے میں بھگوکر بنایا جاتا ہے۔
نبی ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا سے فرمایا:
((أي بنیۃ! ألستِ تحبین ما أحب؟))
اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟
انھوں نے فرمایا: جی ہاں۔
آپ (ﷺ) نے فرمایا:
((فأحبي ھٰذہ))
پس تم اس (عائشہ رضی اللّٰہ عنہا) سے محبت کرو۔
(صحیح مسلم: 83/ 2442 [6290])
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہ نے رسول اللّٰہ ﷺ سے پوچھا:
آپ لوگوں میں سے کس سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ((عائشۃ)) میں سب سے زیادہ عائشہ سے محبت کرتا ہوں۔
(صحیح بخاری: 3662، صحیح مسلم: 2384 [6177])
نبی کریم ﷺ نے (ایک دفعہ) سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے فرمایا:
((یا عائش! ھٰذا جبریل یقرئکِ السلام))
اے عائش (عائشہ)! یہ جبریل تجھے سلام کہتے ہیں۔
عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا:
’’وعلیہ السلام ورحمۃ اللّٰہ‘‘
اور ان پر (بھی) اللّٰہ کی رحمت اور سلام ہو۔
(صحیح بخاری: 6201 وصحیح مسلم: 91/ 2447 [6304])
ایک روایت میں ’’وعلیہ السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ (صحیح بخاری: 3768)
رسول اللّٰہ ﷺ نے ایک دفعہ سیدہ ام سلمہ رضی اللّٰہ عنہا سے فرمایا:
((لاتؤذیني في عائشۃ، فإنہ واللّٰہ ما نزل عليّ الوحي وأنا في لحاف امرأۃٍ منکن غیرھا))
مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو، بے شک اللّٰہ کی قسم! مجھ پر تم میں سے صرف عائشہ کے بستر پر ہی وحی نازل ہوتی ہے۔
(صحیح بخاری: 3775)
سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:
ہم، رسول اللّٰہ ﷺ کے صحابہ پر جب بھی کسی حدیث میں اشکال ہوا تو ہم نے عائشہ (رضی اللّٰہ عنہا) سے پوچھا اور ان کے پاس اس کے بارے میں علم پایا۔
(سنن الترمذی: 3883 وقال: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب‘‘ وسندہ حسن)
سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے مرض الموت میں انھیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
آپ (امت میں) پہلی خاتون ہیں جن کا بے گناہ ہونا آسمان سے نازل ہوا۔
(فضائل الصحابۃ للامام احمد 2/ 872 ح 1636 وسندہ صحیح)
اس کے علاوہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی اور بہت سی خوبیاں بیان کیں تو سیدہ نے فرمایا:
’’دعني منک یا ابن عباس! والذي نفسي بیدہ! لوددت أني کنت نسیًا منسیًا‘‘
اے ابن عباس! مجھے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی ہوئی گمنام ہوتی۔
(مسند احمد 1/ 277 ح 2496 وسندہ حسن، طبقات ابن سعد 8/ 74 وسندہ صحیح)
نیزدیکھئے صحیح بخاری (3771)
نبی کریم سیدنا محمد رسول اللّٰہ ﷺ کا آخری زمانہ سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے گھر میں گزرا۔ (دیکھئے صحیح بخاری: 3774)
بلکہ آپ کی وفات سیدہ عائشہ کی گود میں ہوئی۔ (دیکھئے صحیح بخاری: 4449 وصحیح مسلم: 2443)
عیسیٰ بن دینار (ثقہ راوی) نے ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رحمہ اللّٰہ سے سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا:
’’استغفر اللّٰہ لھا‘‘
میں ان کے لئے اللّٰہ سے استغفار (مغفر ت کی دعا) کرتا ہوں۔
(طبقات ابن سعد 8/ 74 وسندہ صحیح)
مشہور ثقہ فقیہ عابد تابعی ابو عائشہ مسروق بن الاجدع الکوفی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:
’’حدثتني الصدیقۃ بنت الصدیق، حبیبۃ حبیب اللّٰہ، المبرّأۃ‘‘
مجھے صدیق کی بیٹی (عائشہ) صدیقہ نے حدیث بیان کی (جو) اللّٰہ کے حبیب کی حبیبہ ہیں (اور) پاک دامن ہیں۔
(مسند احمد 6/ 241 ح 26044 وسندہ صحیح)
اُم ذرہ (ثقہ راویہ) سے روایت ہے کہ:
(سیدنا) ابن زبیر (رضی اللّٰہ عنہ) نے سیدہ عائشہ (رضی اللّٰہ عنہا) کے پاس دو بوریوں میں ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا تو انھوں نے ایک ٹرے منگوا کر اسے لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔
اس دن آپ روزے سے تھیں۔
جب شام ہوئی تو آپ نے فرمایا: میری افطاری لے آؤ۔
اُم ذرہ نے کہا: اے ام المومنین! کیا آپ یہ نہیں کر سکتی تھیں کہ جو مال تقسیم کر دیا ہے، اس میں سے پانچ درہم بچا کر ان سے گوشت خرید لیتیں اور اس سے روزہ افطار کرتیں؟
سیدہ عائشہ (رضی اللّٰہ عنہا) نے جواب دیا: مجھے ملامت نہ کرو، اگر تم مجھے یاد دلا دیتیں تو میں یہ کر دیتی۔
(طبقات ابن سعد 8/ 67 وسندہ صحیح)
ایک دفعہ حفصہ بنت عبدالرحمٰن رحمہا اللّٰہ باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے پاس گئیں تو انھوں نے اس دوپٹے کو پھاڑ دیا اور حفصہ کو موٹا گاڑھا دوپٹہ اوڑھا دیا۔ (الموطأ، روایۃ یحییٰ 2/ 913 ح 1758، وسندہ صحیح)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کے بھانجے عروہ بن الزبیر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
رسول اللّٰہ ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے تین سال پہلے (سیدہ) خدیجہ (رضی اللّٰہ عنہا) فوت ہو گئی تھیں۔ آپ نے تقریباً دوسال بعد عائشہ (رضی اللّٰہ عنہا ) سے نکاح کیا اور ان کی عمر چھ (6) سال تھی پھر (9) سال کی عمر میں وہ آپ کے گھر تشریف لائیں۔
(صحیح بخاری: 3896، صحیح مسلم: 1422)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچی کا نکاح ہو سکتا ہے لیکن رخصتی بلوغ کے بعد ہوگی۔
چھ یا سات سال کی عمر میں سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے نکاح اور نوسال کی عمر میں رخصتی والی حدیث متواتر ہے۔
1— عروہ بن الزبیر
2— اسود بن یزید [صحیح مسلم: 72/ 1422 وترقیم دارالسلام: 3482]
3— یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب [مسند ابی یعلیٰ: 4673 وسندہ حسن]
4— ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف [سنن النسائی 6/ 131ح 3381 وسندہ حسن]
5— عبداللّٰہ بن صفوان [المستدرک للحاکم 4/ 10 ح 6730 وسندہ صحیح وصححہ الحاکم ووافقہ الذہبی]
اسے ان سب نے سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے بیان کیا ہے۔
عروہ سے ہشام بن عروہ اور زہری (صحیح مسلم: 1422) نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ ہشام بن عروہ نے سماع کی تصریح کر دی ہے اور وہ تدلیس کے الزام سے بری ہیں۔ (دیکھئے الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین1/ 30 ص 31)
ہشام بن عروہ سے یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی الزناد المدنی رحمہ اللّٰہ (مسند احمد 6/ 118 ح 24867 وسندہ حسن، المعجم الکبیر للطبرانی 23/ 21 ح 46 وسندہ حسن) نے بیان کر رکھی ہے۔
تابعین کرام میں سے درج ذیل تابعین سے اس مفہوم کے اقوال ثابت ہیں:
1— ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف(مسند احمد 6/ 211 ح 25769 وسندہ حسن)
2— یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب (ایضاً وسندہ حسن)
3— ابن ابی ملیکہ (المعجم الکبیر 23/ 26 ح 62 وسندہ حسن)
4— عروہ بن زبیر (صحیح بخاری: 3896، طبقات ابن سعد 8 / 60 وسندہ صحیح)
5— زہری (طبقات ابن سعد 8/ 61 وھو حسن)
لہٰذا اس کا انکار کرنا باطل و مردود ہے۔
اس مسئلے پر اجماع ہے۔ (دیکھئے البدایہ والنہایہ3/ 129)
سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث مروی ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء 2/ 139)
قولِ صحیح کے مطابق آپ کی وفات ستاون ہجری (57ھ) میں ہوئی۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: 8633)
اور آپ کی نمازِ جنازہ سیدنا امیرالمومنین فی الحدیث الامام الفقیہ المجتہد المطلق ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے پڑھائی تھی۔ (دیکھئے التاریخ الصغیر للبخاری 1/ 128، 129 وسندہ صحیح، ماہنامہ الحدیث: 32 ص 11)
رضي اللّٰہ عنہا وعن سائر المؤمنین والمؤمنات۔ آمین
………… اصل مضمون …………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ اشاعۃ الحدیث حضرو (شمارہ 34 صفحہ 60 تا 64) نیز دیکھئے کتاب ’’فضائل صحابہ‘‘ للشیخ حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللّٰہ (صفحہ 86 تا 90)

 
Top