سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل اور ان سے محبت
تحریر: حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللّٰہ
تحقیق و تخریج: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ اللّٰہ سے دعا کر رہے تھے:
((اَللّٰھُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ إلَیْکَ: بِأَبِيْ جَھْلٍ أَوْ بِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ))
اے اللّٰہ! ان دو آدمیوں: ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تیرے نزدیک محبوب ہے، اس کے ساتھ اسلام کو عزت دے یعنی اسے مسلمان کر دے۔
سیدنا عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا: کہ عمر (رضی اللّٰہ عنہ) اللّٰہ کے نزدیک محبوب ترین تھے۔
(سنن الترمذی: 3681 وسندہ حسن، وقال الترمذی: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب‘‘)
اس نبوی دعا کے نتیجے میں مرادِ رسول امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔
سیدنا عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عمر (رضی اللّٰہ عنہ) نے اسلام قبول کر لیا تو ہم اس وقت سے برابر عزت میں (غالب) رہے۔ (صحیح بخاری: 3684)
عوام الناس میں یہ مشہور ہے کہ سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کے ارادے سے نکلے تو کسی نے بتایا کہ تمھاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو گئے ہیں۔ (سیدنا) عمر ﷺ نے) جا کر انھیں خوب مارا، بعد میں مسلمان ہو گئے۔ یہ روایت طبقات ابن سعد (3/ 267۔269) سنن دارقطنی (1/ 123 ح 435) ودلائل النبوۃ للبیہقی (2/ 219، 220) وغیرہ میں موجود ہے۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کا راوی قاسم بن عثمان البصری جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔
امام دارقطنی نے کہا: ’’لیس بالقوي‘‘ اس سلسلے کی تمام روایات ضعیف ومردود ہیں۔ دیکھئے سیرۃ ابن ہشام (1/ 367۔371 بلا سند) والسیرۃ النبویۃ للذہبی (ص 172۔181)
بعض روایتوں میں آیا ہے کہ نبی ﷺ بیت اللّٰہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ (سیدنا) عمر رضی اللّٰہ عنہ نے قرآن کی تلاوت سنی تو دل پر اثر ہوا اور مسلمان ہوگئے۔ (مسند احمد 1/17ح 107، اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
((إِنَّہٗ قَدْکَانَ فِیْمَا مَضٰی قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُوْنَ، وَإِنَّہٗ إِنْ کَانَ فِيْ أُمَّتِيْ ھٰذِہٖ مِنْھُمْ أَحَدٌ فَإِنَّہٗ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ))
بے شک اگلی امتوں میں محدثون (جنھیں الہام و کشف حاصل تھا) ہوتے تھے اور اگر اس اُمت میں اُن میں سے کوئی (محدث) ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔
(صحیح بخاری: 3469)
اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوئے:
1— سیدنا عمر الفاروق رضی اللّٰہ عنہ بڑی فضیلت اور شان والے ہیں۔
2— اُمتِ مسلمہ میں کسی کو بھی کشف یا الہام نہیں ہوتا۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا:
اے عمر! بے شک شیطان تجھ سے ڈرتا ہے۔
(سنن الترمذی: 3690 وقال: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب‘‘ اس کی سند حسن ہے)
دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
میں دیکھ رہا ہوں کہ جنات کے شیطان اور انسانوں کے شیطان سب (سیدنا) عمر (رضی اللّٰہ عنہ) سے بھاگ گئے ہیں۔
(الترمذی: 3691، وقال: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب‘‘ وسندہ حسن)
آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا:
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اے (عمر) ابن الخطاب! تُو جس راستے پر چل رہا ہو تو شیطان اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر بھاگ جاتا ہے۔
(صحیح البخاری: 3683 وصحیح مسلم: 22/2396 وأضواء المصابیح: 6027)
ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
((إِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ))
بے شک اللّٰہ نے عمر (رضی اللّٰہ عنہ) کے دل و زبان پر حق جاری کر رکھا ہے۔
(صحیح ابن حبان، موارد: 2184 وسندہ صحیح)
بعض اوقات سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کی موافقت میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں جنھیں موافقاتِ عمر کہتے ہیں۔ دیکھئے صحیح البخاری (402، 4483) وصحیح مسلم (24/3391)
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
((لَوْکَانَ بَعْدِيْ نَبِيٌّ لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ))
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔
(سنن الترمذی: 3686 وقال: ’’ھٰذا حدیث حسن غریب‘‘ اس کی سند حسن ہے)
رسول اللّٰہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے خواب دیکھا۔ میرے سامنے لوگ پیش ہو رہے تھے۔ کسی کی قمیص سینے تک تھی اور کسی کی اس سے نیچے۔ جب میرے سامنے عمر بن خطاب پیش کئے گئے تو وہ اپنی (لمبی) قمیص کو گھسیٹ رہے تھے۔
لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللّٰہ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: دین، یعنی سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ دین میں (سیدنا ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کے بعد) سب لوگوں سے زیادہ مقام رکھتے ہیں۔
(دیکھئے صحیح البخاری: 3691 وصحیح مسلم: 15/3390)
نبی کریم ﷺ نے جنت میں سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کا محل دیکھا تھا۔ (صحیح البخاری: 5226، 7024 وصحیح مسلم: 20/2394)
آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کو جنتی کہا۔ (الترمذی: 3747 وسندہ صحیح)
سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کے فضائل بہت زیادہ ہیں، ان فضائل کو جمع کر کے قارئین کے سامنے پیش کرنا ایک مستقل کتاب کا متقاضی ہے۔ تفصیل کے لئے امام احمد بن حنبل کی کتاب ’’فضائل الصحابۃ‘‘ اور ابن جوزی کی ’’فضائل عمر بن الخطاب‘‘ وغیرہ کتابیں پڑھیں۔
آخر میں امیر المومنین عمر الفاروق رضی اللّٰہ عنہ کی شہادت کا آخری منظر پیشِ خدمت ہے۔
سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ پر ایک کافر مجوسی ابو لؤلؤفیروز نے حملہ کر کے سخت زخمی کر دیا تھا۔ اسلام کے سنہری دَور اور فتنوں کے درمیان دروازہ ٹوٹ گیا تھا۔ آپ کو دودھ پلایا گیا تو وہ انتڑیوں کے راستے سے باہر آگیا۔ اس حالت میں ایک نوجوان آیا، سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے دیکھا کہ اس کا ازار ٹخنوں سے نیچے ہے تو آپ نے فرمایا:
’’اِبْنَ أَخِيْ! اِرْفَعْ ثَوْبَکَ فَإِنَّہٗ أَنْقَی لِثَوْبِکَ وَأَتْقَی لِرَبِّکَ‘‘
بھتیجے اپنا کپڑا (ٹخنوں سے) اوپر کر، اس سے تیرا کپڑا بھی صاف رہے گا اور تیرے رب کے نزدیک یہ سب سے زیادہ تقوے والی بات ہے۔
(صحیح البخاری: 3700)
سبحان اللّٰہ!
اپنے زخموں کی فکر نہیں بلکہ آخری وقت بھی نبی کریم ﷺ کی سنت کو سربلند کرنے کی ہی فکر اورجذبہ ہے۔
رضی اللّٰہ عنہ
اے اللّٰہ! ہمارے دلوں کو سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کی محبت سے بھر دے۔
یا اللّٰہ! جو بدنصیب و بے ایمان لوگ امیر المومنین شہید رضی اللّٰہ عنہ کو ناپسند کرتے ہیں، ان لوگوں کی بد نصیبیاں و بے ایمانیاں ختم کر کے ان کے دلوں کو سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کی محبت سے بھر دے۔
جو پھر بھی سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ بُغض پر اَڑا رہے ایسے شخص کو دنیا و آخرت کے عذاب سے ذلیل و رسوا کر دے۔
سیدنا امیر المومنین علی رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کا نام عمر رکھا تھا۔ دیکھئے تقریب التہذیب (4951)
معلوم ہوا کہ سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ سے محبت کرتے تھے۔
………… اصل مضمون …………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ اشاعۃ الحدیث حضرو (شمارہ 15 صفحہ 46 تا 48) نیز دیکھئے کتاب ’’فضائل صحابہ‘‘ للشیخ حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللّٰہ (صفحہ 41 تا 44)

 
Top