سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
تحریر: حافظ شیر محمد الاثری حفظہ اللّٰہ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللّٰہ عنہ کے فضائل میں سے دس (۱۰) فضائل درج ذیل ہیں:
نمبر 1:
آپ اس سمندری جہاد میں بذات ِ خود شامل تھے، جس کے بارے میں رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: میری اُمت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان (مجاہدین) کے لئے (جنت) واجب ہے۔ (دیکھئے صحیح بخاری:۲۷۹۹۔۲۸۰۰، ۲۹۲۴)
نمبر 2:
آپ وحی لکھتے تھے، یعنی آپ کاتبینِ وحی میں سے ہیں۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ۲۴۳/۲)
نمبر 3:
آپ رسول اللّٰہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللّٰہ عنہا کے بھائی یعنی خال المومنین (مومنوں کے ماموں) ہیں۔
نمبر 4:
رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: اے اللّٰہ! انھیں (معاویہ کو) ہادی مہدی بنا دے اور ان کے ذریعے سے لوگوں کو ہدایت دے۔ (سنن ترمذی:۳۸۴۴ وقال:حسن غریب)
نمبر 5:
رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: اے اللّٰہ! معاویہ کو کتاب و حکمت سکھا اور انھیں عذاب سے بچا۔ (مسند احمد ۴/ ۱۲۷ح۱۷۱۵۲، صحیح ابن خزیمہ:۱۹۳۸، وسندہ حسن)
نمبر 6:
سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: میں نے (خلفائے راشدین کے بعد) معاویہ سے زیادہ، حکومت کے لئے مناسب کوئی نہیں دیکھا۔ (تاریخ دمشق ۱۲۱/۶۲، وسندہ صحیح)
نمبر 7:
سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: معاویہ نے صحیح کیا ہے، وہ فقیہ ہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۷۶۵)
نمبر 8:
سیدنا مسوربن مخرمہ رضی اللّٰہ عنہ معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کے لئے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ (تاریخ بغداد ۲۰۸/۱۔۲۰۹ وسندہ صحیح)
نمبر 9:
ایک شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کو بُرا کہا تو عمر بن عبد العزیز رحمہ اللّٰہ نے اسے کوڑے لگوائے تھے۔ (تاریخ دمشق ۱۴۵/۶۲، وسندہ صحیح)
نمبر 10:
امام معافیٰ بن عمران الموصلی رحمہ اللّٰہ (م ۱۸۵ھ)نے امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کی بڑی تعریف فرمائی۔
تفصیل کے لئے دیکھئے فضائلِ صحابہ صحیح روایات کی روشنی میں ص۱۲۵۔۱۳۰، سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ سے محبت
اصل مضمون کے لئے دیکھیں ماہنامہ الحدیث شمارہ 102 لاسٹ اِن ٹائٹل یعنی صفحہ 49

 
Top