اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے
تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
سیدنا عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:
ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔
زمین سے آسمان تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔
ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔
کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔
عرش پانی پر ہے اور اللّٰہ عرش ہے، وہ تمھارے اعمال جانتا ہے۔
(کتاب التوحید لابن خزیمہ ص 105، دوسرا نسخہ 1/ 242۔243ح 149، تیسرا نسخہ 1/ 222 ح 178، وسندہ حسن لذاتہ، الاسماء والصفات للبیہقی 2/ 186۔187 ح 751 وقال الذہبی فی کتاب العرش ص 129ح 105: ’’بإسناد صحیح عنہ‘‘)
یہ اثر (قولِ ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ) بہت سی کتابوں مثلاً المعجم الکبیر للطبرانی (9/ 228) اور الرد علی الجہمیہ لعثمان بن سعید الدارمی (81) وغیرہما میں بھی موجود ہے۔
دیگر آثارِ صحابہ، نیز آثارِ تابعین و من بعد ہم کے لئے کتاب العرش اور کتاب العلو للعلی الغفار للذہبی وغیرہ کتابوں کی طرح رجوع کریں۔
ثابت ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔
امام مالک نے فرمایا:
’’اللّٰہ فی السماء و علمہ في کل مکان، لا یخلو من علمہ لکان‘‘
اللّٰہ آسمان پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ کو محیط ہے، اس کے علم سے کوئی جگہ بھی خالی (باہر) نہیں۔
(مسائل ابی داود ص 263 وسندہ حسن لذاتہ، کتاب الشریعۃ للآجری: 652۔653)
یہ اثر بھی بہت سی کتابوں میں ہے اور حافظ ذہبی نے اسے ’’ثابت عن مالک رحمہ اللّٰہ‘‘ قرار دیا ہے۔ (کتاب العرش ص 180 ح 155)
امام عبد اللّٰہ بن المبارک المروزی نے فرمایا:
’’نعرف ربنا فوق سبع سمٰوات علی العرش استوی، بائن من خلقہ و لانقول کما قالت الجھمیۃ: إنہ ھاھنا - وأشار إلی الأرض‘‘
ہم اپنے رب کو جانتے ہیں وہ سات آسمانوں پر عرش پر مستوی ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے اور ہم جہمیہ کی طرح یہ نہیں کہتے کہ وہ یہاں ہے، اور آپ نے زمین کی طرف اشارہ کیا۔
(الاسماء والصفات للبیہقی ص 427 دوسرا نسخہ ص 538 وسندہ صحیح و صححہ الذہبی فی العلو للعلی الغفار 2/ 986 قبل ح 361 و ابن تیمیہ فی الحمویہ ص 269 وغیرہما)
یہ اثر بھی بہت سی کتابوں مثلاً کتاب التوحید لابن مندہ (ح 899) وغیرہ میں موجود ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے تحقیقی وعلمی مقالات (ج 6 ص 12۔13)

 
Top