جزء ترک رفع الیدین کا علمی جائزہ
تحریر: فضیلۃ الشیخ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللّٰہ
الحمد للہ رب العالمین والصلوة و السلام على رسولہ الأمين۔ أما بعد!
قسط اوّل:
"جزء ترک رفع الیدین" نامی کتاب مارکیٹ میں آئی تو بہت سے احباب نے فون کے ذریعے سے بتایا اور تاکید کی کہ اس کی حقیقت واضح کی جائے۔ کل ہی یہ کتاب بذریعہ عبداللّٰہ بھائی وصول ہوئی ہے۔ جزاہ اللّٰہ خیراً
اب وقتاً فوقتاً اس کا ترتیب وار جائزہ آپ احباب کی خدمت میں پیش ہوتا رہے گا۔ ان شاء الله
مولف کتاب عبدالغفار صاحب لکھتے ہیں:
"صحیحین بخاری و مسلم کے رواة پر بعض الناس کا عمل جراحی ملاحظہ ہو۔"
(جزء ۔۔۔۔۔۔ ص6)
علمائے اہل حدیث پر اعتراض کی غرض سے اس عنوان کے تحت انھوں نے تقریباً پندرہ راویان حدیث کا ذکر کیا ہے۔ جن میں سے یزید بن ابی زیاد اور ابو بکر بن عیاش کے علاوہ باقی تیرہ راویوں کا شمار مدلسین میں ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ بات علم حدیث کے ابتدائی طلباء بھی جانتے ہیں کہ ثقہ راوی بھی مدلس ہو سکتے ہیں اور صحیحین کے علاوہ اگر کسی روایت میں مدلس راوی سماع کی تصریح نہیں کرے گا تو وہ روایت محض تدلیس کی وجہ سے ضعیف قرار پائے گی۔
چنانچہ آل دیوبند کے "امام" سرفراز خاں صفدر صاحب فرماتے ہیں:
"مدلس راوی عن سے روایت کرے تو وہ حجت نہیں الا یہ کہ وہ تحدیث کرے یا اس کا کوئی ثقہ متابع ہو مگر یہ یاد رہے کہ صحیحین میں تدلیس مضر نہیں۔ وہ دوسرے طرق سے سماع پر محمول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔"
(خزائن السنن ص1)
اگر تدلیس کی علت واضح کرنا یا اس کی وجہ سے روایت کو ضعیف قرار دینا عمل جراحی ہے تو صاحب کتاب کا اپنے استاد کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ماسٹر امین اوکاڑوی صاحب نے لکھا:
"تیسرا راوی ابو الزبیر ہے جو پرلے درجے کا مدلس ہے اور یہاں وہ عن سے روایت کرتا ہے، اس لیے حدیث صحیح نہیں۔"
(تجلیات صفدر 2/ 28)
گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
عبدالغفار صاحب! کیا یہاں آپ کو یاد نہیں رہا کہ ابو الزبیر صحیحین کا راوی ہے اور میرے استاد عمل جراحی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
آپ کے اکابر نے تو یہ عمل جراحی صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم پر بھی چلا دیا ہے، جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ عنہ سے متعلق جناب حسین احمد مدنی صاحب فرماتے ہیں:
"کیونکہ بعض کے راوی عبادہ ہیں جو مدلس ہیں"۔
(توضیح الترمذی ص 436-437)
باقی رہا یزید بن ابی زیاد تو یہ جمہور اہل علم کے نزدیک ضعیف ہی ہے۔ جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب نے فرمایا:
"قلت: و فی إسناده يزيد بن أبي زياد، و فيه لين ولذا لم يخرج عنه البخاري"۔
(فيض الباري ٣/٢٢٧) نیز ملاحظہ کریں شرح ابی داؤد للعینی وغیرہ۔
ابو بکر بن عیاش علمائے اہل حدیث کے نزدیک صدوق حسن الحدیث راوی ہیں تاہم اوہام کا شکار ہیں اور جس روایت میں محدثین کسی وہم کی صراحت کر دیں وہ غیر مقبول ہے۔
محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ نے اپنی کتاب نور العینین (ص32) میں آل دیوبند کی چند وہ مثالیں پیش کی تھیں جن میں یہ حضرات صحیحین کی احادیث ورواة پر اعتراض کرتے ہیں اور عمل جراحی چلاتے ہیں۔
اب یہ صاحب ان کا تو جواب دے نہیں سکے الٹا بعض خود ساختہ اعتراض علمائے اہل حدیث پر جڑ دیے جن کی حقیقت واضح کر دی گئی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اہل حدیث ہی تو صحیحین کا دفاع کرنے والے ہیں اس پر ہماری تحریریں شاہد ہیں۔ والحمد للہ
---------------
قسط دوم:
عبدالغفار دیوبندی صاحب نے بنام "مغالطوں کا ذکر" عنوان قائم کیا، بعد ازاں بھر پور مغالطہ بازی کی، جس کا جائزہ حسب ذیل ہے:
موصوف نے لکھا:
"مغالطہ نمبر (1) خود ساختہ محقق نے لکھا کہ مؤمل بن اسماعیل ثقہ یا حسن الحدیث ہے۔۔۔۔۔۔۔"
پھر بزعم خود تحقیقی جائزہ نمبر (1) کچھ اس طرح لکھتے ہیں:
"مؤمل بن اسماعیل کو امام ابنِ سعد، امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام نسائی، امام محمد المروزی، امام محمد الجارودی، امام ابو عمر سمر قندی، امام دارقطنی، امام ساجی، امام ابو زرعہ، امام ابن ابی حاتم، امام ابن الھمام وغیرھم نے كثير الغلط سيئ الحفظ و منكر الحديث، كثير الخطأ فيخطئ الكثير، وله اوهام في حديثه، خطاء كثير فكثر خطوءه قرار دیا ہے کما فی کتب اسماء الرجال "
(جزء ۔۔۔۔ ص9)
جائزہ:
اب ملاحظہ کیجئے گا کہ محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ پر مغالطے کا الزام لگانے والا خود کس قدر مغالطے باز واقع ہوا ہے۔
اس سے بڑھ کر خیانت و مغالطہ کیا ہو گا کہ شیخ محترم کی تصریحات و حوالہ جات کو چھپا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مؤمل بن اسماعیل کو بغیر دلیل ہی کے ثقہ یا حسن الحدیث قرار دے دیا گیا ہے۔ اللّٰہ المستعان
1- امام ابنِ سعد رحمہ اللّٰہ نے فرمایا: "ثقة كثير الغلط" (الطبقات ٥/ ٥٠١)
عبدالغفار دیوبندی نے مطلب برآری کے لیے کثیر الغلط تو لکھ دیا لیکن "ثقہ" کو حذف کر دیا جو نہ صرف مغالطہ ہے بلکہ پرلے درجے کی بد دیانتی ہے۔
2- امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ نے اگرچہ یہ فرمایا ہے کہ "مؤمل کان یخطئ" (سوالات المروذی:٥٣) لیکن "روی عنه" بھی ہیں اور دیوبندی "محدث" ظفر احمد تھانوی صاحب نے لکھا:
"وکذا شیوخ احمد کلھم ثقات"
یعنی امام احمد کے تمام استاد ثقہ ہیں۔
(اعلاء السنن١٩/ ٢١٨)
نیز آپ کے "محدث" نے نہ صرف مؤمل کو ثقہ قرار دیا بلکہ اس کی روایت کو "فالسند حسن" بھی قرار دیا۔ دیکھئے اعلاء السنن (٣/ ١٣٣؛ ٣/ ١١٨) وغيرہ۔
اب تھانوی صاحب پر کیا فتویٰ لگائیں گے یہ فتویٰ مشین والے؟یہ بھی واضح رہے کہ محض "یخطئ" کی وجہ سے راوی ساقط العدالت نہیں ہو جاتا۔ سر فراز خاں صفدر دیوبندی صاحب نے امام احمد ہی سے نقل کیا:
"متن اور سند میں خطا سے کون محفوظ رہ سکتا ہے؟"
(علوم الحدیث-اصول و مبادی ص56؛ 57)
معلوم ہوا کہ امام احمد رحمہ اللّٰہ کو جارحین میں شامل کر کے عبدالغفار دیوبندی نے مغالطہ دہی سے کام لیا ہے۔
3- امام بخاری رحمہ اللّٰہ کا مؤمل بن اسماعیل کو "منکر الحدیث" کہنا قطعاً ثابت نہیں، بلکہ صحیح البخاری (٢٧٠٠؛٧٠٨٣) میں ان کی روایتیں موجود ہیں۔ امام مزی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا: "استشهد به البخاري" (تهذيب الكمال ١٨/ ٥٢٧)
یہ بھی موصوف کا صریح مغالطہ ہے۔ ان میں اگر اخلاقی جرات ہے تو امام بخاری رحمہ اللّٰہ سے مذکورہ جرح باسند صحیح یا امام بخاری کی کسی کتاب سے ثابت کر دیں، لیکن
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
4- امام نسائی رحمہ اللّٰہ نے کثیر الخطا قرار دیا لیکن ان سے روایت بھی لی ہے اور ایسا راوی محدثِ دیوبند کے نزدیک ثقہ ہوتا ہے۔ دیکھئے قواعد علوم الحدیث (ص٢٢٢) نیز جمہور کی توثیق کے مقابلے میں ایسی معمولی جرح قابل التفات کیونکر ہو سکتی ہے؟
5- امام محمد بن نصر المروزی رحمہ اللّٰہ کی جرح منفرد کی صورت میں ہے مطلق طور پر انھیں ضعیف نہیں کہا۔ جمہور کی توثیق کے مقابلے میں یہ بالکل ادنیٰ جرح ہے۔
6- امام دارقطنی رحمہ اللّٰہ نے نہ صرف مؤمل کو صدوق قرار دیا بلکہ اس سے مروی سند کو "اسنادہ صحیح" بھی کہا۔ (سنن الدارقطنی ٢/ ١٨٦ح٢٢٦١)
لیکن عبدالغفار دیوبندی نے مذکورہ زبردست تعدیل و توثیق کو چھپا کر یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ امام دارقطنی کے نزدیک مؤمل بن اسماعیل مطلق ضعیف ہے۔ ایسی حرکتیں کرنے والے کس منہ سے خود کو "ذہبی" کہلا پاتے ہیں؟ سمجھ سے بالاتر ہے۔
7- امام ساجی رحمہ اللّٰہ کی جرح سرے سے باسند صحیح ثابت ہی نہیں، لیکن موصوف نے نمبر بڑھانے کے لیے غیر ثابت شدہ اقوال کا بھی سہارا لیا ہے۔
8- امام ابو زرعہ رحمہ اللّٰہ سے بھی کوئی جرح ثابت نہیں۔
9- امام ابو حاتم رحمہ اللّٰہ نے اگر انھیں کثیر الخطا قرار دیا ہے تو ساتھ صدوق بھی قرار دیا ہے جسے موصوف بطور مغالطہ ہضم کر گئے باوجودیکہ جن پر یہ شخص حملہ آور ہے انھوں نے ابو حاتم رازی رحمہ اللّٰہ کو جارحین میں بھی شمار کیا ہے۔ دیکھئے محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ کی تصنیف لطیف: "نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام" (ص 30)
تنبیہ: ابن الہمام وغیرہ کے اقوال اس لیے غیر اہم ہیں کہ وہ فن اسماء الرجال سے متعلق شخصیت نہیں۔
قارئین کرام! آپ عبدالغفار دیوبندی کے پہلے مغالطے ہی سے اس کے بقیہ مغالطوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس "حضرت" نے محض الزام تراشی، مغالطہ دہی اور بد دیانتی سے کام لے کر محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ پر خود ساختہ اعتراضات کی بوچھاڑ کردی تاکہ اپنے عوام کو مطمئن کر سکے، لیکن اب حق واضح ہو چکا ہے جس کے سامنے ان کے اعتراضات تار عنکبوت سے بھی کمزور ثابت ہوں گے۔ ان شاء الله تعالیٰ
[یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان شاءاللّٰہ تعالیٰ]

 
Top