محدّث العَصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ پر ایک اعتراض اور اس کا ازالہ
تحریر: فضیلۃ الشیخ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللّٰہ
بعض لوگ اپنے مخالفین کے لیے اعتراضات محض اس لیے گھڑتے ہیں تاکہ اس دعوت حق پر اثر انداز ہوا جا سکے جو مخالف سمت سے پھیل رہی ہوتی ہے۔
معترضین کے پاس جب کچھ نہیں ہوتا تو وہ اپنی ہی جہالت کو دوسرے کے سر تھوپنے کی ناکام سعی کرتے ہیں جس کی ایک مثال پیش خدمت ہے:
محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ نے اپنی تصنیف لطیف "نور العینین" میں لکھا:
(6) حافظ ابن حبان(متوفی 354ھ) نے (کتاب) الصلوٰۃ میں کہا:
’’ھوفی الحقیقۃ أضعف شئ یعول علیہ لأنّ لہ عللاً تبطلہ‘‘
یہ روایت حقیقت میں سب سے زیادہ ضعیف ہے، کیونکہ اس کی علتیں ہیں جو اسے باطل قرار دیتی ہیں۔
[التلخیص الحبیر 1/ 222 ح 328، البدر المنیر 3/ 494]
دیکھئے نور العینین فی اثبات رفع الیدین طبع جدید: ص 131
اب مخالفین نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ بس یہ شور مچا دیا کہ امام ابنِ حبان کی کوئی کتاب الصلوۃ نہیں، پھر اپنے ظرف کے مطابق شیخ محترم رحمہ اللّٰہ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ شیخ محترم نے تو کتاب الصلاۃ سے متعلق امام ابنِ حجر اور امام ابنِ ملقن رحمہمااللّٰہ کے اقوال باحوالہ نقل کیے ہیں، انھوں نے اپنی بات تو کی ہی نہیں !!!
اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان تبصرہ نگاروں کے تبصرے کی زد میں کیسے کیسے عظیم لوگ آ گئے ہیں:
امام ابنِ ملقن رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:
’’وقال ابو حاتم بن حبان فی کتابه «وصف الصلاة بالسنة»‘‘
اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:
’’وقال ابن حبان فی الصلاۃ‘‘
قارئین کرام! ہماری مذکورہ وضاحت سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ شیخ رحمہ اللّٰہ نے کتاب کا دعویٰ کیا ہے نہ اس کی تحقیق کا، انھوں نے محض دو اماموں سے باحوالہ عبارت نقل کی ہے جس سے یہ بات تو بہرحال اظہر من الشمس ہے کہ امام ابنِ حبان رحمہ اللّٰہ کی کتاب الصلاۃ ہے جو امام ابن حجر عسقلانی اور امام ابنِ ملقن رحمہمااللّٰہ کے اَدوار میں معروف بھی تھی۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ محدّث العَصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ الله اپنی کتاب تحقیقی و علمی مقالات (جلد 3 صفحہ 137) میں بذاتِ خود ایک اعتراض کے جواب میں لکھ چکے تھے، جو درج ذیل ہے:
(اعتراض نمبر) سوم: حافظ ابن حبان سے کتاب الصلوٰۃ منقول نہیں ہے۔
عرض ہے کہ حافظ ابن حبان کی کتاب الصلوٰۃ (صفۃ الصلٰوۃ، وصف الصلٰوۃ بالسنۃ) کا ذکر درج ذیل کتابوں میں موجود ہے:
- البدر المنیر لابن الملقن (1/ 283، 2/ 472، 3/ 494 وغیرہ)
- طرح التثریب في شرح التقریب لأبي زرعۃ ابن العراقي (1/ 102)
- تہذیب السنن لابن القیم (1/ 368 ح 719)
- اتحاف المہرۃ لابن حجر العسقلاني (1/ 235 ح 83، وغیرہ)
- التلخیص الحبیر (1/ 216، 217 ح 323، 324)
- معجم البلدان لیاقوت الحموي (1/ 418)
- مغنی المحتاج إلٰی معرفۃ معاني ألفاظ المنھاج للخطیب الشربیني (1/ 261، بحوالہ المکتبۃ الشاملۃ) وغیرہ
بلکہ حافظ ابن حبان نے اپنی صحیح ابن حبان میں اپنی کتاب: صفۃ الصلٰوۃ کا علیحدہ ذکر کیا ہے۔ دیکھئے الاحسان (ج 5 ص 184 ح 1867، دوسرا نسخہ ح 1864)
ان حوالوں کے باوجود کسی لاعلم شخص کا یہ قول: ’’میری تحقیق میں حافظ ابن حبان رحمہ اللّٰہ سے کتاب صلوٰۃ منقول نہیں ہے۔‘‘ کیا حیثیت رکھتا ہے؟!
محدّث العَصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ کا یہ قول (یعنی معترضین کو جواب) درج ذیل کتابوں میں منقول ہے:
- تحقیقی و علمی مقالات جلد 3 صفحہ 137
- نور العینین فی اثبات رفع الیدین صفحہ 416
- ماہنامہ الحدیث حضرو شمارہ 69 صفحہ 30

 
Top