ذیشان خان

Administrator
اہل میت کے گھرچالیس روز تک کھانا دینا
================
سوال : آج کل ایسا ہوتا ہے کہ لوگ میت کے گھر چالیس دن تک کھانا بھجواتے ہیں اس عمل کی کیا حیثیت ہے ؟ اسی طرح اہل میت دوسروں کے لئے اپنے گھر کھانا پکاتے ہیں وفات کے دن بھی اورتیرہویں ، چالیسویں پہ بھی شریعت میں اس عمل کا کیا حکم ہے ؟
جواب :
کسی کے گھر میت ہوجائے تو اس کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو چاہئے کہ اہل میت کے لئے کھانا تیار کرکے ان کے گھر بھیجے ، یہ عمل مسنون ہے ۔ جب جنگ موتہ کے دن حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کى شہادت کی خبر پہنچی تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
اصنَعوا لآلِ جعفرٍ طعامًا ، فإنَّهُ قد أتاهُم أمرٌ شغلَهُم(صحيح أبي داود:3132)
ترجمہ: جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تيار کرو کیونکہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔
اسی طرح صحیحین میں یہ روایت موجود ہے ۔
عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ المَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ المَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الحُزْنِ۔(صحيح البخاري:5417)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کیوجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں ۔ صرف گھروالے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں ۔ وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا ۔ پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے ۔
تلبینہ :یہ ایک غذا ہے جو سوپ کی طرح ہوتا ہے، جو آٹے اور چھان سے بنایا جاتا ہے، بسا اوقات اس میں شہد ملایا جاتا ہے، اسے تلبینہ اس لئے کہتے ہیں کہ اسکا رنگ دودھ جیسا سفید اور دودھ ہی کی طرح پتلا ہوتا ہے۔بعض لوگ اسے جو کی کھیر بھی کہہ سکتے ہیں۔
ان دونوں احادیث سے اہل میت کے لئے کھانا پکانا ثابت ہوتا ہے مگر اہل میت کو کھانا کھلانے کے لئے چالیس دن متعین کرنا رسم ورواج میں سے ہےاور اگرچالیس دن کو ثواب سمجھ لیا جائے تو پھر بدعت ٹھہرے گی۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من عملَ عملا ليسَ عليهِ أمرُنا فهو ردٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ:جس نے ہمارے دین میں کسی چیز کو ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ چیز مردود ہے۔
اسی طرح اہل میت کے یہاں جمع ہونا اور پھر ان لوگوں کے لئے اہل میت کا کھانا پکانا نہ صرف زمانہ جاہلیت کے عمل میں سے ہے بلکہ یہ نوحہ میں شمار ہے ۔
كنَّا نرى الاجتماعَ إلى أَهلِ الميِّتِ وصنعةَ الطَّعامِ منَ النِّياحة(صحيح ابن ماجه:1318)
ترجمہ: ہم گروہِ صحابہ اہل میّت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرانے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اہل میت کا کھانا بنانا، دوسروں کا ان کے یہاں جمع ہونا اس سلسلے میں کوئی چیز منقول نہیں ہے اس لئے یہ کام بدعت اور غیرمستحب ہے ۔ (روضة الطالبين:2/145).
اس لئے اہل میت کاوفات کے دن، تیرہواں ، چالیسواں یا کوئی اوراس طرح کا دن منانا بدعت ہے البتہ گھر آئے مہمان کی ضیافت کرنا اس سے مستثنی ہے ۔
اہل میت کو چاہئے کہ میت کی طرف سے فقراء ومساکین میں بغیر دن کی تعیین کے صدقہ کرے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top