ذیشان خان

Administrator
خاموشی سے اللہ کی طرف دعوت دینے والے بنو

✍⁩ شاھد سنابلی

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک نیک آدمی تھا۔ وہ اپنی دوکان میں کام کرنے والے والوں کو ہمیشہ نصیحت کیا کرتا تھا کہ اگر سامان میں کوئی خرابی ہو تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کر دیا کریں۔
ایک دن ایک یہودی دکان پر آیا۔ اس نے ایک عیب دار کپڑا خرید لیا۔ اس وقت دکان مالک موجود نہیں تھا۔ عامل نے سوچا یہ تو یہودی ہے اور اسے عیب سے آگاہ کرنا کوئی ضروری نہیں ہے۔
کچھ دیر بعد دکان مالک آیا اور اس نے دکان میں رکھے ہوئے عیب دار کپڑے کے بارے میں دریافت کیا: تو عامل نے کہا کہ میں نے اسے ایک یہودی سے تین ہزار درہم کے بدلے بیچ دیا ہے اور میں نے اس یہودی سے اس کپڑے کے عیب کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
دکان مالک نے پوچھا وہ یہودی کہاں ہے؟ عامل نے کہا کہ وہ اپنے قافلے کے ساتھ جا چکا ہے۔ دکان مالک نے فورا وہ تین ہزار کی رقم لی اور اس قافلے کے تعاقب میں نکل پڑا یہاں تک کہ تین دن کے بعد اس قافلے سے جا ملا۔
دکان مالک نے یہودی سے کہا: آپ نے ایک کپڑا خریدا ہے اس میں ایک عیب ہے۔ اس لیے آپ اپنا درہم واپس لے لیں اور وہ کپڑا مجھے لوٹا دیں۔
وہ یہودی پوچھنے لگا: آخر آپ کو اس حُسنِ اخلاق اور طرز تعامل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟
دکان مالک نے کہا: میرا دین اسلام۔ اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو ہم میں سے کسی کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
یہودی نے کہا': سنو! وہ درہم جو میں نے دیئے ہیں سب نقلی ہیں۔ اب میں اس کے بدلے تمہیں تین ہزار اصلی درہم دیتا ہوں۔ اور اس سے بھی بڑی چیز میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

عمر بن عبدالعزیز نے سچ کہا تھا: خاموشی سے اللہ کی طرف دعوت دینے والے بنو۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیسے: کہا اپنے اخلاق کے ذریعے۔

سوال یہ ہے کہ آپ نے اسلام کے لیے کیا کیا؟

( كتاب موسوعة الأخلاق و الزهد والرقائق 1/146)
 
Top