نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے
تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
رنگ گورا سرخ و سفید، چمکدار اور انتہائی خوبصورت (شمائل ترمذی: ۱)
چاند جیسا چہرہ (شمائل: ۱۱)
ہلکی گولائی والا خوبصورت چہرہ (شمائل : ۴۱۲)
کشادہ اور کھلا چہرہ (شمائل : ۹)
سرمگیں آنکھیں (شمائل: ۴۱۲)
سیاہ اور بڑی آنکھیں جن کی سفیدی میں لمبے لمبے سرخ ڈورے تھے۔ (شمائل: ۹)
سر اور داڑھی کے کالے سیاہ اور گھنے بال، نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے اکڑے ہوئے۔ (شمائل: ۱)
آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ (شمائل: ۱)
سر کے بال (عام طور پر) بہت زیادہ اور کانوں کی لو تک لمبے تھے۔ (شمائل: ۳)
چوڑے اور مضبوط کندھے (شمائل: ۵۔۶)
مضبوط اور پُرگوشت ریشم جیسی نرم ہتھیلیاں (شمائل: ۵۔۶)
سینے اور ناف کے درمیان بالوں کی لمبی اور باریک لکیر (شمائل : ۵۔۶)
چلنے میں تیز رفتار (شمائل : ۵۔۶)
آپ کی کمرایسی تھی گویا ڈھلی ہوئی چاندی کا ٹکڑا۔ (مسند الحمیدی: ۸۶۵ بتحقیقی وسندہ حسن)
خوبصورت (ترشی ہوئی) ایڑیاں جن پر گوشت بہت کم تھا۔ (شمائل: ۹)
آپ نے سرخ خضاب یعنی مہندی لگائی۔ (صحیح بخاری: ۵۸۹۷۔ ۵۸۹۸)
آپ اپنی مونچھوں کے بال پست رکھتے تھے۔ (طبقات ابن سعد ۴۴۹/۱ وسندہ صحیح)
آپ کے نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان تھوڑے سے بال سفید ہو گئے تھے۔(صحیح بخاری: ۳۵۴۵۔ ۳۵۴۶)
آپ کا پسینہ کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔ (دیکھئے صحیح بخاری: ۳۵۶۱، صحیح مسلم: ۲۳۲۹۔ ۲۳۳۰)
آپ ﷺ کی پشت پر دونوں کندھوں کے درمیان کبوتر کے انڈے جتنی ختمِ نبوت کی مہر تھی۔ (شمائل: ۱۶)
اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 15 کا تفقہ صفحہ نمبر 59
تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ

 
Top