اعتکاف کے متعلق بعض آثارِ صحیحہ
تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
1- عروہ بن الزبیر نے فرمایا:
’’لَا اعْتِکَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ‘‘
روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہوتا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ 3/ 87 ح 9626 وسندہ صحیح)
2- سعید بن جبیر نے کہا:
(اعتکاف کرنے والا) جمعہ میں حاضر ہو، مریض کی عیادت کرے اور حاکمِ وقت کی اطاعت کرے۔
(ابن ابی شیبہ 3/ 88 ح 9632 وسندہ صحیح)
اور فرمایا:
جمعہ میں حاضر ہو، مریض کی عیادت کرے، جنازے میں حاضر ہو اور حاکم وقت کی اطاعت کرے۔
(ابن ابی شیبہ 3/ 88 ح 9634 وسند ہ صحیح)
3- عامر الشعبی نے فرمایا:
قضائے حاجت کے لئے باہر جائے، مریض کی عیادت کرے، جمعہ پڑھنے کے لئے جائے اور دروازے پر کھڑا ہو۔
(ابن ابی شیبہ 3/ 88 ح 9636 وسندہ صحیح)
4- حسن بصری نے فرمایا:
قضائے حاجت کے لئے جائے، جنازہ پڑھے اور مریض کی بیمار پرسی کرے۔
(ابن ابی شیبہ 3/ 88 ح 9639 وسندہ صحیح)
5- ابن شہاب الزہری نے کہا:
نہ تو جنازہ پڑھے، نہ مریض کی عیادت کرے اور نہ کسی کی دعوت قبول کرے۔
(ابن ابی شیبہ 3/ 89 ح 9644 وسندہ صحیح)
6- عروہ بن الزبیر نے کہا:
نہ تو دعوت قبول کرے، نہ مریض کی بیمار پرسی کرے اور نہ جنازے میں حاضر ہو۔
(ابن ابی شیبہ3/ 89 ح 9646 وسندہ صحیح)
ان آثار کو دیکھ کر راجح اور قوی پر عمل کریں۔
زہری فرماتے ہیں کہ:
اعتکاف اسی مسجد میں کرنا چاہئے جہاں نماز باجماعت ہوتی ہے۔
(ابن ابی شیبہ 3/ 91 ح 9673 وسندہ صحیح)
یہی تحقیق حکم بن عتیبہ، حماد بن ابی سلیمان، ابو جعفر اور عروہ بن الزبیر کی ہے۔ (ابن ابی شیبہ 3/ 92 ح 9674۔9676 وأسانیدھا صحیحۃ)
جبکہ عمومِ قرآن: سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسجد میں اعتکاف جائز ہے چاہے وہ مسجد جامع ہو یا غیر جامع۔ واللّٰہ أعلم
ابو قلابہ نے اپنی قوم کی مسجد میں اعتکاف کیاتھا۔ (ابن ابی شیبہ 3/ 90 ح 9660 وسندہ صحیح)
یہی تحقیق سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی کی ہے۔ (ابن ابی شیبہ 3/ 90 ح 9663 وسندہ قوی، 3/ 91 ح 9665 وسندہ قوی)
سابقہ آثار جن میں نماز جمعہ کے لئے جانے کے لئے معتکف کو اجازت دی گئی ہے، سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ غیر جامع مسجد میں اعتکاف جائز ہے۔
……………… اصل مضمون ………………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 2 صفحہ 156 تا 158) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ
 
Top