ذیشان خان

Administrator
حقيقتِ توحید
.............................
✍ عبيد الله الباقي أسلم
.............................
حقیقتِ توحید :
اللہ عز وجل کو اس کی ذات، اسماء و صفات، افعال، اور تمام عبادتوں میں ایک ماننا ضروری ہے.
توحيد کے دو جوانب ہیں :
1- جانب علمی :
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا} [سورة الطلاق (12)] اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے.
توحید کی جانب علمی کے تحت دو امور مندرج ہیں:
أ- اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی معرفت :
توحید ربوبیت ؛ اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک، رازق اور مدبر کائنات ہے.
توحید ربوبیت کے اصول:
1- خلق.
2- ملک.
3- تدبیر.
ان اصولوں کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : {وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}[سورة المائدة:17] اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے میں ہے درمیان میں ہے سب پر اللہ ہی کی ملکیت ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے.
ب- اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کی معرفت :
توحید اسماء وصفات ؛ اللہ تعالیٰ کے لئے اس کے پیارے ناموں، اور بلند صفتوں کو بغیر تحریف و تعطیل، اور بغیر تکییف و تمثیل کے ثابت کرنا ہے.
توحید اسماء و صفات کے اصول:
1- اللہ تعالیٰ کے ان تمام اسماء و صفات کو ثابت کرنا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عز وجل کے ثابت فرمایا ہے.
2- اللہ تعالیٰ کو ان تمام نقائص و عیوب سے منزہ قرار دینا جن کی نفی کتاب وسنت میں وراد ہوئی ہے یا جن کی وجہ سے اللہ تعالی کی ذات و صفات کے کمال میں خلل واقع ہو.
3- صفات الہی کی کیفیت کے حصول معرفت کی حرص نہ رکھنا.
*توحید اسماء و صفات کے اصولوں کے دلائل* :
1- اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:{لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}[سورة الشورى:11] اس جیسی کوئی چیز نہیں، ور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے.
2- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ}[سورة الأنعام:103] نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں، اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے، اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے.
3- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا}[سورة الإسراء:36] اور جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑو، بے شک کان اور آنکھ اور دل، ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی.
2 - جانب عملی :
اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} [سورة الذاريات (56)]
توحید کی جانب عملی توحید الوہیت کا تقاضا کرتی ہے.
توحید الوہیت ؛ اللہ تعالیٰ کے لئے اس کی ساری عبادتوں کو خاص کر دینا ہے.
توحید الوہیت کے اصول :
1- اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے.
2- وہی کامل الصفات ہے.
3- وہی منعم حقیقی ہے.
ان اصولوں کے دلائل :
1- اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: {ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ}[سورة الأنعام:102] وہی اللہ تمہارا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے والا (ہے)؛ تو اسی کی عبادت کرو، اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے.
2- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الحكيم}[سورة النحل:60] اور اللہ ہی کے لئے بلند صفات ہیں، اور وہی غالب اور حکمت والا ہے.
3- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ}[سورة النحل:53] اور تمہیں جو کچھ نعمتیں ملی ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہیں.
خلاصہ یہ ہے کہ توحید کی جانب علمی جانب عملی کا تقاضا کرتی ہے؛ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے اندر سب سے پہلے اسی کا حکم دیا گیا ہے: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [سورة البقرة: 21]
اور چونکہ توحید کی جانب علمی ہر شخص کے دل میں جاں گزیں ہوتی ہے؛ اسی لئے انبیاء کرام علیہم السلام نے اسے توحید الوہیت کے لئے بطور حجت پیش کیا: {قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى} [سورة إبراهيم (10)]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "في قلوب بني آدم محبة وإرادة لما يتألهونه ويعبدونه، و ذلك قوام قلوبهم وصلاح نفوسهم...
وجاجتهم إلى التأله أعظم من حاجتهم إلى الغذاء، فإن الغذاء إذا فقد يفسد الجسم، وبفقد التأله تفسد النفس، ولن يصلحهم إلا تأله الله وعبادته وحده لا شريك له، وهي الفطرة التي فطروا عليها"[قاعدة في المحبة (ص:44)] بنی آدم کے دلوں میں اس (معبود) کی محبت اور ارداہ ہوتا ہے جس کی طرف ( محبت و تعظیم اور عاجزی کے ساتھ) قصد کرتا ہے، اور اس کی عبادت کرتا ہے، اور (یقیناً) یہی ان کے دلوں کے نظام اور نفوس کی بہتری (کا سبب) ہے...
اور (حقیقت تو یہ ہے کہ) غذا کی ضرورت سے زیادہ وہ تألہ کی ضرورت مند ہیں؛ کیونکہ غذا کے مفقود ہونے جسم برباد ہوتا ہے مگر (کسی کے اندر) تألہ (کا اعتقاد) مفقود ہو تو اس اس سے (اس کی) روح فاسد قرار پاتی ہے، اور (ان کی زندگی میں) اللہ کی طرف محبت و تعظیم کے ساتھ قصد و توجہ اور صرف اسی کی عبادت بہتری لا سکتی ہے؛ جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور (حق یہ ہے کہ) یہی وہ فطرت ہے جس پر وہ پیدا کئے گئے ہیں.
اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فالقلوب مفطورة على محبة إلهها وفاطرها وتألهه، فصرف ذلك التأله والمحبة إلى غيره تغيير للفطرة" [إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان(ص:889)] پس دل ان کے معبود، اور خالق کی محبت و تألہ (تعظیم و انکساری کے ساتھ قصد کرنے) پر پیدا کئے گئے ہیں، چنانچہ اس تألہ و محبت کو اس کے سوا کسی دوسرے کے لئے پھیرنا تغییر فطرت ہے.
 
Top