یہ زمیں بے سبب نہیں ہلتی
غافلو آنکھ کیوں نہیں کھلتی

بھر گیا گر گھڑا گناہوں کا
پھر تو مہلت ذرا نہیں ملتی

وقت رہتے روش بدل اپنی
آگئی گر اجل نہیں ٹلتی

دیکھ قوموں کا حشر پڑھ تاریخ
صبح دم لاش تک نہیں ملتی

جب پکڑ رب کی آکے دے دستک
کوئی تدبیر ہو نہیں چلتی

مٹ گئے عاد اور ثمود سبھی
ظلم سے زندگی نہیں پلتی

اے صفی رب کو خوش رکھو ورنہ
رحمتِ رب یونھیں نہیں ملتی

صفی ابن مسلم فیضی بندوی
13/2/2020
 
Top