نفس کی پاکیزگی
صفی الرحمن ابن مسلم فضی بندوی

لوگوں کو اللہ کا تقوی اختیار کرو اس کی فرمابرداری کرو۔
اللہ تعالی نے فرمایا: وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْـهَا شَفَاعَةٌ وَّّلَا يُؤْخَذُ مِنْـهَا عَدْلٌ وَّلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ (البقرة۔ 48)
اوراس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کے لئے کوئی شفارش قبول ہو گی اور نہ اس کی طرف سے بدلہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

اسلامی بھائیو! انسان کے دو پہلوؤں کے درمیان میں ایک نفس ہے، جو بہت ہی عظیم اور اس کی شان بہت بڑی ہے، اللہ عزوجل نے اس کی قسم کھائی ہے۔
رب نے فرمایا: وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاهَا (7)
اور قسم ہے نفس کی اور اس کی جس نے اس کو درست کیا۔

فَاَلْهَـمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوَاهَا (8)
پھر اس کو اس کی برائی اور نیکی سمجھائی۔

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9)
بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو پاک کر لیا۔

وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (الشمس۔ 10)
اور بے شک وہ غارت ہوا جس نے اس کو آلودہ کر لیا۔
اللہ رب العالمین نے ان آیات میں پاکیزہ نفس کا حال بیان کیا، جو کثرت سے اللہ کی عبادت و بندگی کرتا ہے، اس کے احکام کو بجا لاتا ہے، برے کاموں اور گناہوں سے بچتے ہوئے، اچھے اور بھلے کام کرتا ہے، تو اھل تقوی اور کامیاب لوگوں میں سے ہوگا۔

اور جو گناہوں میں ملوث رہا، اور اپنے نفس کی خواہش کے مطابق برے کام کرتا رہا، تو وہ خسارے اور گھاٹے کا مستحق ہو گا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔ (سورۃ ابراھیم۔ 22)
اور جب ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان (اپنے ماننے والوں سے) کہے گا: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو اس کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے تم پر اس سے زیادہ کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ میں نے تمہیں (اللہ کی نافرمانی کی) دعوت دی تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا اب مجھے ملامت نہ کرو۔ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ تمہاری فریاد پر میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں، اور نہ میری فریاد پر تم میری مدد کرسکتے ہو۔ تم نے اس سے پہلے مجھے اللہ کا جو شریک مان لیا تھا، ( آج) میں نے اس کا انکار کردیا ہے۔ جن لوگوں نے یہ ظلم کیا تھا، ان کے حصے میں تو اب دردناک عذاب ہے۔

🌹اللہ کے بندو! تزکیہ نفس کی بڑی اہمیت ہے، اور ہر مسلمان پر واجب ہے، لہذا اس کی تحقیق اور اچھے مقاصد میں پوری کوشش کرنی چاہیئے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
و ان لنفسك عليك حقا،( بخاری) تمہارے نفس بھی کا بھی تم پر حق ہے۔
اس لئے وہ لوگ غلطی پر ہیں، جو اپنے نفس کو سختی میں ڈالتے ہیں، یا اللہ کی نعمتوں سے محروم رکھتے ہیں، اور شادی وغیر کو ترک کردیتے ہیں، وہ لوگ اعتدال کو چھوڑ کر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسلئے راہِ ہدایت اور صحیح منھنج کو لازم پکڑنا چاہیئے۔

اس کے لئے کچھ قائدے اور طریقے ہیں جو ہمیں نفس کو پاکیزہ بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

🌹 اس میں سب سے پہلی چیز اللہ کی وحدانیت ہے جو نفس کو پاکیزہ رکھنے کی بنیاد اور اصل ہے، کیونکہ انسان اور جنات کی پیدائش کا مقصد ہی صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کی وحدانیت کا اقرار ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذاریات۔ 56)
اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لئے۔

نفس کی پاکیزگی کے لئے توحید اصل ہے، اور شرک نفس کے لئے ایسی گندگی ہے، جس سے سارے اچھے اعمال بھی برباد ہو جاتے ہیں۔
اسی لئے
اللہ تعالی نے اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے ساری کائنات تک اپنا یہ فرمان پہنچا دیا ۔

وَلَقَدْ اُوْحِىَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُـوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (الزمر۔ 65)
اور بے شک آپ کی طرف اور ان کی طرف وحی کیا جا چکا ہے جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں، کہ اگر تم نے شرک کیا تو ضرور تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے۔

🌹نفس کی پاکیزگی کے لئے دوسری چیز دعا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ليسَ شيءٌ أكرمَ علَى اللهِ من الدُّعاءِ .
(روی أبو هريرة ۔ الألباني صحيح الترغيب،أخرجه الترمذي (3370)
اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ مکرم اور عزت یافتہ کوئی چیز نہیں۔
اور دعا یہ سب سے افضل عبادت ہے، کیونکہ اس کے اندر عاجزی اور اللہ کے سامنے اپنے آپ کو انسان فقیر بنا کر پیش کرتا ہے، اور دعا ہی سے تمام خیر کے دروازے کھلتے ہیں ۔
اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی ہے ۔
اللهم آت نفوسنا تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها
یا اللہ تو ہمارے نفوس کو تقوی اورانکی پاکی عطاء فرما، تو ہی انہیں سب سے بہتر پاک کرسکتا ہے تو ان کا مالک اور آقاہے۔
اللہ تعالی تو ہمارے نفوس کو تقوی اورانکی پاکی عطاء فرمائے۔ آمین

🌹قرآن کریم کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہنا، تلاوت کے ذریعہ، اس کے معانی کا علم، اس میں غور و فکر، اور عبادت کے ذریعہ۔
اور یہ نفس کو پاکیزہ بنانے کا سرچشمہ ہے۔
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور ان کی پیروی کرنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے ضمانت ہے، کہ نہ وہ دنیا میں گمراہ اور بدبخت ہوگا، نہ ہی آخرت میں گمراہ اور بدبخت لوگوں میں سے ہوگا، اور اس کے بعد یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشْقَى۔ یعنی جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ کسی تکلیف میں پڑے گا ۔

🌹 ایسے ہی نفس کی پاکیزگی کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اپنے آپ کو مہذب بنائے ،اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے ۔
فرمان الہی ہے : لَّـقَدْ كَانَ لَكُمْ فِىْ رَسُوْلِ اللّـٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّـٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَـرَ اللّـٰهَ كَثِيْـرًا (احزاب۔ 21)
البتہ تمہارے لئے رسول اللہ کی (زندگی) میں اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور قیامت کے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔

🌹 موت کی یاد بھی نفس کو پاکیزہ بناتی ہے، دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا :
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّـٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ خَبِيْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (18)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرو، کیونکہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لذتوں کو مار دینے والے چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ (رواہ ابن حبان فی صحیحہ)
تو موت کو یاد کیا کیجئے، اس سے غفلت میں پڑے ہوئے دل بیدار ہوتے ہیں، مردہ دلوں کو زندگی ملتی ہے۔

🌹اچھے لوگوں، اور اچھے دوستوں کی مجلس کا انتخاب، اس کے ذریعہ بھی دلوں کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
ابو ہریرہ رضی الل عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(الرجل علی دین خلیلہ فلینظر أحدکم من یخالل)[ابوداؤد،ترمذی]
’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے،پس چاہئیے کہ تم میں سے ہر شخص اپنے دوست کو دیکھے۔‘
 
Top