ذیشان خان

Administrator
اللہ عز وجل کی صفات کی دو قسمیں ہیں:​

✍⁩عبیداللہ الباقی اسلم

1- صفات ذاتیہ؛ جیسے: چہرہ، اور دو ہاتھ وغیرہ.
2- صفات فعلیہ؛ جیسے: عرش پر مستوی ہونا، نازل ہونا وغیرہ.
پھر ان میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں:
1- خبریہ.
2- عقلیہ.
صفات خبریہ ذاتیہ؛ جیسے: چہرہ، اور دو ہاتھ وغیرہ.
صفات خبریہ فعلیہ؛ جیسے: عرش پر مستوی ہونا، نازل ہونا وغیرہ.

صفات ذاتیہ عقلیہ؛ جیسے: علم، حیات، قدرت وغیرہ.
صفات فعلیہ عقلیہ؛ جیسے: خلق، إعطاء وغیرہ.

صفات خبریہ ذاتیہ اور صفات خبریہ فعلیہ کے درمیان بنیادی فرق:
صفات ذاتیہ خبریہ؛ جنہیں خبر یا وحی کے بغیر ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے، جیسے: چہرہ، دو ہاتھ، دو آنکھ، انگلیاں، وغیرہ.
ہاں البتہ ان میں چند ایسی صفات بھی ہیں جن پر تبدبر کرنے سے عقل بھی ان کی تائید کرتی ہے؛ جیسے: علم، حیات، قدرت وغیرہ.
جبکہ صفات خبریہ فعلیہ؛ جنہیں عقل کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے، جیسے: عرش پر مستوی ہونا، اور آسمان دنیا کی طرف نازل ہونا وغیرہ.
صفات خبریہ فعلیہ میں سے بہت سی ایسی صفات ہیں جن پر شرعی دلائل کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل بھی دلالت کرتے ہیں، جیسے: خلق، ملک، اور تبدبیر وغیرہ.

خبریہ و عقلیہ کی تقسیم کی بنیادی وجہ؟
در اصل کلابیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ نے بعض صفات کو محض اس بناء ثابت کیا ہے کہ ان پر عقل دلالت کرتی ہے؛ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان ہی کے عقلی دلائل سے ان کی تردید اس طرح سے کی ہے کہ:
جن صفات(حیات، علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر، کلام) کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے اثبات کی بنیادی وجہ عقل کا ان پر دلالت کرنا ہے، اور اس بناء پر انہیں "صفات عقلیہ" کا نام دیا ہے؛ حالانکہ ان سات صفتوں کے علاوہ بہت ساری ایسی صفتیں ہیں جن پر عقل دلالت کرتی ہے، مثلاً: صفت "خلق" اور اس جیسی صفات؛ تو ان صفتوں کو صفات عقلیہ" کیوں نہیں کہا جا سکتا ہے؟!
یہی وجہ ہے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان سے قبل ائمہ اہل السنہ والجماعہ نے اس اصل کے ذریعہ اہل کلام کی تردید کی ہے:
"القول في بعض الصفات كالقول في البعض الآخر".

تفصیل کے لئے رجوع کریں:
1- بیان تلبیس الجهمية(3/ 131 و 555، و 6/ 241 ).
2- در تعارض العقل والنقل (1/ 11).
3- التدمرية(ص: 31).
 
Top