ذیشان خان

Administrator
کچھ مفید معلومات "ما" کے بارے میں

✍⁩ ہدایت اللہ فارس
----------------------------------------------------------
ما دو طرح کا ہوتا ہے
(١) اسمیہ (٢) حرفیہ
آئیے آج ہم ما اسمیہ کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔⁦
🔹ما اسمیہ: موصولہ ہوتا ہے اور یہ الذی کے معنی میں ہوتا ہے جیسے: مَا عِندَكُمۡ یَنفَدُ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقࣲۗ...
ما (من) کی طرح مفرد، مثنی وجمع سب پر واقع ہوتا ہے(أعجبني ما صنعته، ما صنعتهما، وما صنعتهن )
ما موصولہ، مذکر و مؤنث، مفرد مثنی اور جمع سب میں یکساں مشترک ہوتا ہے۔
عام طور سے اس کا استعمال غیر معلوم اشیاء میں ہوتا ہے مثلا: وَٱلسَّمَاۤءِ وَمَا بَنَىٰهَا.
لیکن کبھی معلوم شیء کے لیے بھی اس کا استعمال ہوجاتا ہے جیسے: وَلَاۤ أَنتُمۡ عَـٰبِدُونَ مَاۤ أَعۡبُدُ.
اور اس کی ضمیر میں لفظ ومعنی دونوں کی رعایت جائز ہے۔ یعنی دونوں میں سے کسی کی بھی رعایت کی جاسکتی ہے۔ لیکن کبھی دونوں ایک ساتھ جمع ہوجاتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول " وَیَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا یَمۡلِكُ لَهُمۡ رِزۡقࣰا مِّنَ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضِ شَیۡـࣰٔا وَلَا یَسۡتَطِیعُونَ" میں۔ لفظ ومعنی دونوں کی رعایت ایک ساتھ کی گئی ہے۔
اور یہ "ما موصولہ" معرفہ ہوتا ہے برخلاف اپنے دوسرے اقسام کے۔

🔹ما اسمیہ: استفہامیہ بھی ہوتا ہے اور ایسی صورت میں وہ " أی شیء" کے معنی میں ہوتا ہے۔
غیر ذوی العقول کے اعیان واجناس اور ان کی صفات کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔مثلا:
قَالُوا۟ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّن لَّنَا مَا لَوۡنُهَاۚ...، وَمَا تِلۡكَ بِیَمِینِكَ یَـٰمُوسَىٰ.
یاد رہے! ما استفہامیہ کے ذریعے ذوی العقول کے اعیان سے سوال نہیں کیا جاتا برخلاف اس شخص کے جس نے جواز کا خیال ظاہر کیا ہے۔ رہی بات فرعون کا یہ کہنا: وَمَا رَبُّ ٱلۡعَـٰلَمِینَ۔۔ تو یہ سوال الہ کی حقیقت کے بارے میں تھا۔یعنی اس رب کی حقیقت کیا ہے جس کے بارے میں تم کہہ رہے ہو کہ میں اس کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں۔ اور اسی لیے موسی علیہ السلام نے سوال کے مطابق جواب بھی دیا: قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا۔ (رب وہی ہے جو آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اس کا خالق ہے مدبر ہے اور متصرف فیہ ہے۔)
ما موصولہ غیر ذوی العقول کی مثال:
وَأَلۡقِ مَا فِی یَمِینِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۤا۟ۖ... (موسی علیہ السلام کے ہاتھ میں لاٹھی تھی اور جو کچھ ان کے پاس تھے وہ خیالی سانپ تھے۔ جوکہ غیر عاقل ہیں)
اور جب ذوی العقول کو "ما" کے ساتھ تعبیر کیا جائے گا تو اس وقت اجناسِ انواع اور معنی صفت کو ملحوظ رکھا جائے گا نہ کہ معنی عین اور شخص کو جیسے اللہ کا فرمان: فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَاۤءِ....
اس جگہ "ما" لایا گیا ہے "من" نہیں اس لیے مراد اس سے عورت کا وجود نہیں بلکہ اس کی صفت ہے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے: مَا مَنَعَكَ أَن تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّۖ...
یہاں اللہ تعالی نے"لمن خلقت" نہیں فرمایا، کیوں کہ اس جگہ مراد آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کے اس صفت کے اعتبار سے ہے جس میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالی نے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا، نہ کہ ان کے وجود کے اعتبار سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کی توہین کرتے ہوئے ان کی قدر و منزلت کو گھٹانا چاہا تو وہ کہنے لگا: ءَأَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِینࣰا...( کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تونے مٹی سے پیدا کیا) یہاں دیکھیں ابلیس نے "لما" کی بجائے "لمن" کہا۔

🔹ما استفہامیہ کا الف حالت جر میں حذف کردیا جاتا ہے اور اس پر فتحہ باقی رکھا جاتا ہے تاکہ وہ الف کے حذف ہونے پر دلالت کرے۔ اور ایسا ما استفہامیہ کو موصولہ سے جدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے مثلا: عم یتساءلون۔ تفصیلی مضمون یہاں ملاحظہ فرمائیں:
🔹ما اسمیہ: شرط کے لیے بھی آتا ہے جیسے اللہ کا فرمان: مَا نَنسَخۡ مِنۡ ءَایَةٍ أَوۡ نُنسِهَا...
وَمَا تَفۡعَلُوا۟ مِنۡ خَیۡرࣲ یَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ...
ما شرطیہ اپنے مابعد فعل کی وجہ سے منصوب ہوا کرتا ہے۔
کبھی کبھی موصولہ اور شرطیہ دونوں کا احتمال ہوتا ہے جیسے ہمارا کہنا: (ما أعطيتني أعطيتك)
اسی طرح کبھی معرفہ اور نکرہ دونوں کا احتمال ہوتا ہے اگر معرفہ ہو تو موصولہ ہوگا اور اگر نکرہ ہو تو "شيء" کے معنی میں ہوگا۔
(أعطيته ما سر به ) أي: شيئا سر به. أو: الذي سر به. وفي القرآن:(هَـٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیدٌ)

🔹ما اسمیہ: بطور تعجب کے بھی آتا ہے جو ما تعجبیہ کہلاتا ہے جیسے: فَمَاۤ أَصۡبَرَهُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ..، قُتِلَ ٱلۡإِنسَـٰنُ مَاۤ أَكۡفَرَهُۥ(بعض علما نے اسے استفہامیہ کہا ہے: أي: أي شيء أكفره. اور بعض نے کہا تعجبیہ ہے أي: ما اعظم كفره. دونوں کا احتمال ہے) کہا گیا ہے کہ ما تعجبیہ کی کوئی تیسری مثال قرآن میں نہیں ہے۔ لیکن سعید بن جبیر کی قرأت میں ایک مثال: (ما غرّك بربك الكريم) بھی ہے۔
ما محلا ابتدا کی وجہ مرفوع ہوتا ہے اور اس کا مابعد اس کی خبر ہوتی ہے۔ پھر وہ نکرہ تامہ اور نکرہ موصوفہ بھی ہوا کرتا ہے۔ مثلا: بعوضة فما فوقها(نكرہ تامہ) نعما يعضكم به.. أي: نعم شيئا يعظكم به (بہت اچھی چیز ہے وہ جس کے ذریعے تمہیں نصیحت کرتا ہے)
اور نکرہ غیر موصوفہ بھی ہوتا ہے جیسے: فنعما هي ... أي: نعم شيئا هي.
---------------------------------------------------------
ماخوذ از:
الإتقان في علوم القرآن
معاني النحو (الجزء الأول)
البرهان
تفسير ابن عثيمين رحمه الله
الهمع (الجزء الأول)

نوٹ: ما حرفیہ اگلے پوسٹ میں ان شاءاللہ
(HF Zeeshan page)
 
Top