ذیشان خان

Administrator
تعظیمِ سنت: مفہوم اور تقاضے

تحریر: جمیل احمد ضمیر

تعظیم کے معنى ہیں کسى چیز کى عظمت وبرترى کا ظاہر وباطن ہر طرح سے اعتراف کرنا ۔ [مستفاد از: مدارج السالكين (2/ 464)]۔
لہذا تعظیمِ سنت کا مطلب ہوا کہ دل میں سنت کى عظمت وبرترى کا اعتقاد رکھتے ہوئے ظاہر میں انقیادواذعان اور قبول و تسلیم کے جذبہ سے اس کے سامنے سر جھکا دیا جائے اور اس کے مقابلے میں عقل وقیاس، رائے واجتہاد، ذوق ومزاج، رسم ورواج اور ہر طرح کى سیاست وپالیسى کو ذرا بھى در خور اعتناء نہ سمجھا جائے۔
چنانچہ جب نبى کریم صلى اللہ علیہ وسلم سے کوئى بات یا حکم ثابت ہو جائے اور ہمارى محدود عقل بظاہر اس کے خلاف ہو تو اپنی کوتاہ عقل سے اس پر اعتراض نہ کیا جائے، جیسا کہ ہر دور میں اعتزال اور علم کلام کى آلائشوں سے ملوث ذہن ودماغ اور فکر ومنہج کے حاملین کا شیوہ اور وطیرہ رہا ہے۔
چنانچہ اسى عقلانیت زدہ ماحول کے پروردہ کتنے ایسےبزعمِ خویش روشن فکر
وخیال والے ہیں جنہوں نے صحیح بخارى -جس کى صحت اور قبولیت پر امت کا اتفاق ہے- تک کى احادیث کو اپنے خود ساختہ عقلى معیار پر پورا نہ اترنے کى وجہ سے مشکوک اور مسترد قرار دینے کی سعی نا مسعود کی، والعیاذ باللہ۔
الغرض یہى وہ عقلانیت ہے جس کى کوکھ سے فتنہ انکارِ سنت کا جنم ہوا، اعتزال وجہمیت جیسے باطل اور گمراہ کن افکار ونظریات کى تخم ریزى ہوئى اور اسى کو بنیاد بنا کر اسلام وسنت کے قلعوں میں نقب لگائے گئے، انبیاء کے معجزات کا انکار کیا گیا اور ایمان بالغیب کے تقاضوں کو سبوتاز کرنے کى مذموم کوشش کى گئى۔
یہ سب نتیجہ ہے وحى کى عظمت کے عدم ادراک اور عقل کو اس کى حدود سے ما وراء استعمال کرنے کا، لہذا تعظیمِ ِسنت کا تقاضہ ہے کہ عقل کو نقل؛ یعنى نص پر کبھى بھى مقدم نہ کیا جائے اور نہ ہى اسے احادیث کى قبولیت اور رد کا معیار بنایا جائے۔
عقل وقیاس کو نص پر مقدم کرنا ابلیسى روش ہے، کیونکہ ابلیس ہى نے سب سے پہلے اپنے عقلى مفروضے کى بنیاد پر اللہ تعالى کی حکم عدولی کا مرتکب ہوا اور نص پر عقل کو مقدم کیا، جس کى پاداش میں وہ ذلیل وخوار اور غضب الہى کا شکار ہوا۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: "دنیا کى بربادى اور بگاڑ کا اصل سبب رائے کو وحى پر اور خواہشِ نفس کو عقل پر مقدم کرنا ہے، اور جس بھى دل میں یہ دونوں فاسد بنیادیں مستحکم ہوجائیں تو اس کى ہلاکت یقینى ہے اور جس امت میں یہ دونوں باتیں جڑ پکڑ لیں تو اس کى بربادى مقدر ہے- اللہ کى قسم نہ جانے ان آراء کے ذریعہ کتنى حق باتوں کا انکار کیا گیا اور کتنى باطل باتوں کو حق باور کرایا گیا اور نہ جانے:ہدایت کے کتنے نقوش مٹا دئیے گئے اور کتنى گمراہیوں کو زندہ کیا گیا اور ایمان کے کتنے قلعوں کو منہدم کیا گیا اور شیطان کے دین کو آباد وشاداب کیا گیا"۔ [اعلام الموقعين( 2/127)]
اسى طرح اگر احادیث نبویہ اور رائے واجتہاد پر مبنى آراء ونظريات کے درمیان اختلاف نظر آئے تو بیجا تاویلات کےذریعہ احادیث کو رائے وقیاس اور اجتہاد کے تابع بنانے کى ذرا بھى کوشش نہ کى جائے، جیسا کہ متعصبانہ فقہى ذہنیت کے حاملین کا طریقہ ہے، بلکہ نص کو اجتہاد وقیاس پر ہر حال میں مقدم رکھا جائے کہ یہى تعظیم سنت کا تقاضہ ہے۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "بعینہ کسى شخص کے اقوال کو نصوصِ ِشریعت کا درجہ دینا اور اس کے علاوہ کسى اور کے قول پر کوئى توجہ نہ دینا، بلکہ نصوصِ شرع کو بھى صرف اسى وقت لائق التفات سمجھنا جب وہ اس شخص کے قول کے موافق ہوں، یہ اللہ کے دین میں باجماعِ امت حرام ہے اور امت کے اندر یہ نظریہ قرون مفضلہ کے ختم ہونے کے بعد پیدا ہوا "۔ [اعلام الموقعین( 3/532)]۔
احاديث صحيحہ کے مقابلے میں شخصى آراء واجتہادات کی نصرت وتائید کی غرض سے قبولیتِ حدیث کے بعض ایسے قواعد وضوابط وضع کئے گئے جس کے نتیجے میں بعض جلیل القدر اور پلند پایہ صحابہ کرام کے وقار کو مجروح کیا گیا اور ان کى فقاہت پر سوالیہ نشان لگانے کى سعى مذموم کى گئى۔ نیز تاویل وتحریف کی ایسا گرم بازاری ہوئی کہ سنت کى اصل شبیہ بگڑ کر رہ گئى اور بہت سارے فقہى مسائل میں بشرى اجتہادات اور اقوالِ رجال کو اصل مان لیا گیا، جس کے نتیجے میں تقلید وجمود کى بنیادیں اس طرح استوار ہوئیں کہ مولانا شبلى نعمانی رحمہ اللہ کو یہ کہنا پڑا : "معلوم نہیں مسلمانوں میں کون سى مبارک ساعت میں تقلید کى بنیاد پڑى تھى کہ زمانہ کے سینکڑوں ہزاروں انقلابات کے ساتھ بھى اس کى بندشیں اب تک کمزور نہیں ہوئیں"۔ [مقالات شبلى (ص: 135)]۔
اس جمود کے نتیجے میں گروہى ومسلکى عصبیت نے ایسا زور پکڑا کہ اس کے شرِّ مستطیر سے پورى امت صدیوں سے جونجھتی چلی آرہى ہے، مسلمانوں کى صفوں میں دراڑ اسى مذموم عصبیت ہى کى "رہین منت" ہے، حق کو رجال واشخاص سے جوڑنے کا "سہرا" اسى عصبیت کے سر جاتا ہے، اسى عصبیت کے نتیجے میں نہ جانے کتنى حدیثوں کو ٹھکرایا گیا اور کتنى حدیثوں کو بلا وجہ منسوخ باور کرایا گیا اورصرف اتنا ہى نہیں بلکہ بعض سنتوں کا مذاق تک اڑایا گیا اور ان سنتوں پر عمل کرنے والوں پر طنز وتعریض اور سب وشتم کے تیر چلائے گئے۔
مزید برآں تعظیمِ سنت کے منجملہ تقاضوں کے ایک یہ ہے کہ اگر کسى مسئلے میں ہمارے ذوق ومزاج یا معاشرہ میں رائج رسومات وعادات کے خلاف نبى کریم صلى اللہ علیہ وسلم کى کوئى بات آ جائے تو ہم اپنے ذوق ومزاج اور رسم ورواج کے تقاضوں کو ترک کرکے سنت کو فورا گلے لگالیں نہ کہ اپنى پرانى روش پر قائم رہتے ہوئے سنت کو بالائے طاق رکھ دیں۔
اسى ذوق ومزاج اور رسم ورواج کى پابندیوں نے معاشرے میں بہت سارى بدعات وخرافات کو جنم دیا جس کے نتیجے میں نہ جانے کتنى سنتیں گردشِ ایام کى دبیز تہوں میں دب کر نسیا منسیا ہو گئیں یا پھرقصہء پارینہ بن کر رہ گئیں۔
اسى طرح سنت کا ایک تقاضہ یہ بھى ہے کہ اگر کسى معاملے میں ہمارى پالیساں اور ہمارے وضع کردہ نظام وضابطے، خواہ وہ کسى بھى نوعیت کے ہوں، سنت سے ٹکرا رہے ہوں تو ہم ان پالیسیوں کو ترک کرکے سنتِ رسول کا دامن مضبوطى سے تھام لیں۔
تعظیمِ سنت کے ان تقاضوں کو مندرجہ ذیل آیات کى روشنى میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:
اللہ تعالى کا ارشاد ہے: {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}. [سورۃ النساء :65]
"تیرے پروردگار کى قسم یہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو اپنا حاکم نہ مان لیں، پھر دل میں ذرا بھى تنگى اور ناخوشى محسوس کئے بغیر آپ کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم نہ کردیں"۔
یہ آیت کریمہ اس بات کى واضح دلیل ہے کہ سنت کى تعظیم کرنا ہر مسلمان پر فرض اور لازم ہے کیونکہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم کى وفات کے بعد آپ کى سنت ہى ہمارے لئے فیصل اور حاکم ہے ۔ [ملاحظہ فرمائیں: اعلام الموقعین (2/401)]۔
اور دوسرى جگہ اللہ تعالى فرماتا ہے ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} [سورۃ الحجرات : 1]۔
"اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقینا اللہ تعالى سننے والا، جاننے والا ہے"۔
اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کى جو ممانعت آئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم یا فتوى یا فیصلہ سے پہلے اپنے طور پر کوئى فیصلہ نہ کرو اور جب اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ آجائے تو اس کے مطابق چلو اوراس پر اپنى سمجھ اور اپنى رائےکو مقدم نہ کرو۔ [دیکھیں: تفسیر احسن البیان]۔
قاضى ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ اپنى تفسیر میں لکھتے ہیں : "اللہ تعالى کا یہ فرمان (لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ) نبى صلى اللہ علیہ وسلم کے اقوال سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنے اورآپ کى اتباع اور اقتداء کے واجب ہونے کى بنیادى دلیل ہے"۔ [احکام القرآن (4/145)]
یعنى جب نبى صلى اللہ علیہ وسلم سے کوئى بات ثابت ہوجائے تو تاویل وتحریف اور اعتراض کرکے یا کسى اور انداز میں اس سے ہرگزطچھیڑ چھاڑ نہ کیا جائے، بلکہ انشراح صدر کے ساتھ اسے قبول کر لیا جائے۔
اس کے بعد دوسرى آیت میں اللہ تعالى فرماتے ہیں: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} [سورۃ الحجرات: 2]۔
"اے ایمان والو! اپنى آوازیں نبى کى آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچى آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں اور تمہیں خبر بھى نہ ہو"۔
اس آیت میں نبى صلى اللہ علیہ وسلم کى آواز پر اپنى آواز کو اونچى کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سےاعمال کے اکارت ہو جانے کا خدشہ ہے ۔
علامہ ابن القیِّم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : "جب نبى کى آواز پر لوگوں کا محض اپنى آواز کو بلند کرنا ان کے اعمال کے اکارت ہوجانے کا سبب ہے، تو بھلا بتائیے اگر لوگ اپنى آراء، اپنى عقل، اپنے ذوق ومزاج، اپنى پالیسیاں اور اپنےعلوم ومعارف کو آپ کى سنت پر مقدم اور بلند کرنے لگیں تو کیا یہ اس سے بڑھ کر ان کے اعمال کے ضائع وبرباد ہونے کا سبب نہیں ؟" [اعلام الموقعین (2/94)]
معلوم ہوا کہ تعظیم ِسنت کا یہ تقاضہ ہے کہ کسى بھى قسم کے رائے واجتہاد، عقل وقیاس، ذوق ومزاج اور سیاست وپالیسى کو اس پر مقدم نہ کیا جائے۔
اور صحیح معنوں میں یہى حقیقى اہل سنت کى شان وپہچان ہے کہ سنت کے آجانے کے بعد وہ اس پر کسى چیز کو مقدم نہیں کرتے۔
اس ضمن میں ابن القیم رحمہ اللہ نے کیا خوبصورت اور پیارى بات کہى ہے ،فرماتے ہیں: "جب اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم سےکوئى حدیث ثابت ہوجائے تو وہ (اہلِ سنت) اسےکسى بھى فرد بشر کے قول کى وجہ سے ہرگز نہیں چھوڑتے، ان کے دلوں میں سنت کى عظمت اس طرح سمائى ہوئى ہے کہ وہ اس پر کسى فقہى رائے، یا مناظرانہ بحث، یا صوفیانہ خیال، یا اہل کلام کے تناقضات، یا فلسفیانہ قیاس، یا سیاسى حکم کو مقدم نہیں کر تے۔ اگر کسى نے سنت پر مذکورہ چیزوں میں کسى بھى چیز کو مقدم کیا تو اس کے سامنے درستگى کا راستہ بند ہے اور وہ ہدایت کى راہ سے ہٹا ہوا ہے۔ [حادى الارواح الى بلاد الافراح (ص: 13)]۔
دعاء ہے کہ اللہ تعالى ہمیں تعظیمِ سنت کے تقاضوں کو سمجھنے اور اس کے منافى رویوں سے بچنے کى توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 
Top