ذیشان خان

Administrator
أسماء حسنی: حقیقت اور تقاضے
.............................
قسط: ١
............................
✍ عبيد الله الباقي أسلم
............................
▪ اسم کی لغوی تعریف :
اسم "سمو" سے مشتق ہے؛ جس کا معنی: رفعت و بلندی ہے[دیکھیں: معاني القرآن وإعرابه(1/ 40)، و تهذيب اللغة (13/ 79)].
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فالاسم يظهر به المسمى ويعلو" [مجموع الفتاوى (6/ 208)] اسم کے ذریعہ مسمی ظاہر و بلند ہوتا ہے.
پس اسم وہ لفظ ہے جو مسمی (ذات) پر دلالت کرے [دیکھیں: موسوعة العقيدة (1/ 240)]
▪ اسماء حسنی کی تعریف :
اللہ تعالٰی کے وہ پیارے نام جن کے ذریعہ اسے پکارا جاتا ہے، جو کتاب وسنت میں وارد ہوئے ہیں، اور جو حمد وثناء کا تقاضا کرتے ہیں[دیکھیں: شرح العقيدة الأصهفانية(ص: 19)].
▪ اللہ عز وجل کے أسماء حسنی کے چند دلائل :
1- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا} [سورة الأعراف(180)] اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لئے ہیں؛ سو ان ناموں سے اللہ ہی کو پکارا کرو.
2- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ} [سورة طه (8] وہی اللہ جس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، بہترین نام اسی کے ہیں.
3- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" [صحيح البخاري (ح:7392)، وصحيح مسلم (ح:2677)] بے شک اللہ کے ایسے ننانوے ہیں؛ جو بھی انہیں سمجھ کر یاد کرے گا، اور ان کے مطابق عمل کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا.
▪ أسماء حسنی کے بارے میں اہل علم کے چند اقوال :
1- ابو بکر اسماعیلی فرماتے ہیں: "ويعتقدون أن الله تعالى مدعو بأسمائه الحسنى وموصوف بصفاته التي سمى ووصف بها نفسه، ووصفه بها نبيه صلى الله عليه وسلم" [ذم التأويل(ص:17)] اور وہ [اہل السنہ والجماعہ] اس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے ان پیارے ناموں سے پکارا جائے، اور اس کی ان صفات سے موصوف کیا جائے جن کے ذریعہ خود کو موسوم و موصوف فرمایا ہے، اور جن کے ذریعہ اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موصوف فرمایا ہے.
2- ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ومذهب السلف: الإيمان بصفات الله تعالى وأسمائه التي وصف بها نفسه في آياته وتنزيه، وعلى لسان رسوله من غير زيادة عليها ولا نقص منها"[ذم التأويل(ص:11)] اور سلف کا مذہب یہ ہے کہ: بغیر کمی بیشی کے اللہ تعالیٰ کی صفات، اور اس کے ناموں پر ایمان رکھا جائے؛ جن کے ذریعہ اپنی آیات اور نازل کردہ (کتابوں) میں، اور اپنے رسول کی زبانی خود کو موصوف فرمایا ہے.
3- امام ابن مندہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ذكر معرفة أسماء الله عز وجل الحسنة التي تسمى بها، وأظهر لعباده للمعرفة، والدعاء، والذكر"[كتاب التوحيد ومعرفة أسماء الله عز وجل وصفاته على الاتفاق والفرد (2/ 14)] اللہ عز وجل کے ان بہترین ناموں کا بیان جن کے ذریعہ خود کو موسوم فرمایا ہے، اور [جنہیں] اپنے بندوں کے لئے بیان کیا ہے تاکہ وہ ان کے ذریعہ اپنے رب کی معرفت حاصل کریں، اسے پکاریں، اور اسے یاد کریں.
حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے بے شمار پیارے نام اور بلند صفتوں کو ثابت فرمایا ہے.
▪ اللہ تعالٰی کے اسماء حسنی کی تعداد :
اللہ عز وجل کے بے شمار پیارے پیارے نام ہیں؛ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ؛ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ" [مسند احمد (ح:3712)، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے: سلسلة الأحاديث الصحيحة (ح:199)] میں تمہیں تیرے ہر اس نام سے پکارتا ہوں؛ جس سے تو نے خود کو موسوم فرمایا ہے، یا اپنے بندوں میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا اپنے پاس علم غیب میں خود کے لئے خاص کر رکھا ہے...
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إن الذي عليه جماهير المسلمين: أن أسماء الله أكثر من تسعة و تسعين" [مجموع الفتاوى (6/ 381)] جس پر مسلمانوں کی اکثریت کا اتفاق ہے وہ یہ کہ اللہ کے نام ننانوے (99) سے زائد ہیں.
اور علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إن الأسماء الحسنى لا تدخل تحت حصر ولا تحد بعدد، فإن لله تعالى أسماء وصفات استأثر بها في علم الغيب عنده؛ لا يعلمها ملك ومقرب ولا نبي مرسل" [بدائع الفوائد (1/ 1/ 65)] بے شک (اللہ عز وجل کے) أسماء حسنی کو کسی عدد میں محصور نہیں کیا جا سکتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے چند ایسے نام وصفات ہیں جنہیں اپنے پاس علم عیب میں خود کے لئے خاص کر رکھا ہے؛ جنہیں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے اور نہ کوئی (اس کی طرف سے) بھیجے ہوئے پیغمبر (ان کا علم رکھتا ہے).
جہاں تک اس حدیث کی بات ہے: "إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" [صحيح البخاري (ح:7392)، وصحيح مسلم (ح:2677)].
تو دوسرا جملہ [مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ] پہلے جملے کی صفت ہے؛ یعنی: اللہ تعالی کے متعدد نام ہیں؛ مگر ان ننانوے (99) ناموں کی شان یہ ہے کہ جو انہیں سمجھ کر یاد کرے گا، اور ان کے مطابق عمل کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا[دیکھیں: بدائع الفوائد (1/ 163)].
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار نام ہیں؛ ان میں سے بعض کو اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمایا ہے، بعض کو اپنی کتابوں میں نازل کیا ہے، اور بعض کو اپنے لئے خاص کر رکھا ہے[دیکھیں: بدائع الفوائد (1/ 165)].
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ" [صحيح مسلم (ح:486)] میں تیری حمد و ثناء اس طرح نہیں کر سکتا، جس طرح تو نے خود کی تعریف فرمائی ہے.
▪ اسماء حسنی کا حکم :
اللہ تعالٰی کے سارے نام بڑے ہی پیارے ہیں؛ اور اللہ عز وجل کے لئے صرف ان ہی ناموں کو ثابت کیا جائے گا جو کتاب وسنت میں وارد ہوئے ہیں.
اس سلسلے میں اہل علم کے چند اقوال درج ذیل ہیں :
1- امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لا نسميه ولا نصفه، ولا نطلق عليه إلا ما سمى به نفسه" [التمهيد (7/ 137)] ہم اللہ تعالیٰ کو صرف ان ہی ناموں سے موسوم کرتے، اور ان ہی صفتوں سے متصف قرار دیتے ہیں، اور اس پر ان ہی ناموں کا اطلاق کرتے ہیں جن سے خود کو اس نے موسوم فرمایا ہے.
2- امام سمعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الأصل في أسامي الرب تعالى هو: التوقيف" [قواطع الأدلة في أصول الفقه(1/ 29)] رب تعالیٰ کے ناموں میں اصل توقیف ہے[لہذا اللہ تعالیٰ کے لئے ہم صرف ان ہی ناموں کو ثابت کرتے ہیں جو کتاب وسنت میں وارد ہوئے ہیں].
3- ابو الحسن قابسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "أسماء الله وصفاته لا تعلم إلا بالتوقيف من الكتاب والسنة أو الإجماع، ولا يدخل فيها القياس" [دیکھیں: فتح الباری(11/ 217)] اللہ کے نام و صفات کی معرفت کتاب و سنت کی نصوص یا اجماع سلف سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے؛ اور ان میں قیاس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے.
ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے جو نام کتاب وسنت میں وارد ہوئے ہیں صرف ان ہی ناموں کو اس کے لئے ثابت کیا جائے گا.

جاری ہے....
 
Top