ذیشان خان

Administrator
FB_IMG_1614010818364.jpg

لفظ "عالم" کا صحیح معنوں میں مصداق کون ؟

تحریر۔۔۔۔۔جمیل احمد ضمیر سنابلی
ترجمہ۔۔۔۔آفاق احمد شبیراحمد سنابلی

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين، ومن تبعهم بإحسانٍ إلى يوم الدين, أما بعد:
کسی لفظ کا بے محل استعمال اور کسی اسم کا غیر مسمی پر اطلاق ایک قسم کا ظلم ہے جس میں کوئی بھی صاحبِ عقل شک وشبہ نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ یہ ایک طرح سے حقیقت میں الٹ پھیر، امانت میں خیانت اور لوگوں کی آ نکھوں میں دھول جھونکنا نیز انہیں لفظ کے صحیح معنی ومفہوم کے تئیں گمراہ کرناہے۔
اسی ضمن میں ایک لفظ "عالم " بھی ہے جو ہر کس وناکس کے حق میں بے جا استعمال کئےجانے کے ناطے اس قدر مظلومیت کاشکار ہوچکا ہے کہ عوام تو کجا بہت سارے طلبہ علم کی نگاہوں سے بھی اس کا حقیقی معنی اوجھل ہوکررہ گیا ہے۔ آج کل تو اس کا استعمال اس قدر غیر موزوں ہو چکا ہے کہ اسے دیکھ کرعلم و حقیقت خود پانی پانی ہوجائے۔
چنانچہ اس کا اطلاق ہر اس شخص پر کیاجانے لگا ہےجوکسی دینی مدرسہ کافارغ التحصیل ہویا اسےشرعی علوم میں شد بد ہو یا اس کے پاس شرعی علوم کی کوئی سند(ڈگری) ہویا اس نےگنے چنے چند مسائل کا دراسہ کیا ہو،یا دینی موضوعات پر اس کی کچھ تقریریں ہوں یا اس نے اپنی مادری زبان میں عامۃالناس کے لئےعلماء کے چند فتوےنقل کر دیےہوں گرچہ وہ ان فتووں کی حقیقت تک پہنچنےسے قاصر ہویا وہ کسی مدرسہ میں دینیات کا استاذ ہو یادعوت وتبلیغ کے میدان سے منسلک ہو ، گرچہ اس کا پورا انحصار علماء کے افکار واستنباطات پر ہو ، ہر چھوٹے بڑے مسئلہ میں ان کی تحقیقا ت کا محتاج ہو اور ہنوز اس کےاندر اتنی صلاحیت پیدا ہی نہ ہوئی ہوکہ اسے اس اعلی وارفع مقام کااہل قراردیا جاسکے ۔
بلکہ بسااوقات کسی مشہورو مقبول عالم کی لکھی ہوئی کسی تحریر کی تلخیص کرکے یا کسی موضوع پرمتفرق علمی مواد کو یکجاکرکے بعض حضرات اس خوش فہمی کا شکار ہوجاتےہیں کہ اب وہ علم کے اس مقام تک پہنچ گئے ہیں کہ انہیں طبقہ علماء میں شمار کیاجائے۔
واقعتا یہ افسوس ناک اور تکلیف دہ صورت حال ہے جس سےبڑی حکمت عملی اور سوجھ بوجھ کے ساتھ نمٹنےکی ضرورت ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کےشرور وفتن غالب آ جائیں پھر اس کی اصلاح دشوار ہوجائے۔
انہیں امور کومدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی علمی بے بضاعتی کے باوجود مناسب سمجھا کہ اس اہم مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کیا جائےاور ان امور کی وضاحت کی جائے جواس عظیم منصب کےحصول کےلئے لازمی طور پر مطلوب ہیں ۔ اس سے مقصود اپنے آپ کو اور طلب علم میں مصروف بھائیوں کو اس امر پر ابھارنا ہےکہ ہم اس مقام کو پانے کے لئے خودکو جہد مسلسل کا عنوان بنا لیں۔
سب سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ کسی بھی فن کا عالم اسے کہیں گے جس کے اندر درج ذیل چار شرطیں موجود ہوں ۔
١- اسےاس فن کے اصول کا مکمل علم ہو۔
٢-اس فن کی تعبیروتشریح پر قادر ہو۔
٣- اس فن کے لوازمات سے وہ واقف ہو ۔
٤-اس فن پر کئے جانے والے اعتراضات اوراشکالات کو دور كرنے پراسے قدرت ہو۔ الإفادات والإنشادات للشاطبي (ص: 107).
علامہ شاطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں "من شروطهم في العالم بأيِّ علمٍ اتفق: أن يكون عارفًا بأصوله، وما ينبني عليه ذلك العلم، قادرًا على التعبير عن مقصوده فيه، عارفًا بما يلزم عنه، قائمًا على دفع الشبه الواردة عليه فيه".
" کوئی شخص کسی فن کا عالم اسی وقت کہاجائے گا جب اس کے یہاں یہ شرائط پائی جائیں ۔وہ شخص اس علم کے اصول سے واقف ہو۔ اس فن میں اپنےمقصودکو بحسن و خوبی بیا ن کرنے کا ملکہ رکھتا ہو ۔اس کے لوازمات کو بھی جانتا ہو اور اس فن پروارد ہونے والےشبہات و اعتراضات کے ازالہ پر بھی قادر ہو۔ الموافقات (1/140).
اس اعتبار سےشرعی عالم وہ ہے جسےشرعی احکام کی معرفت اور ان کےبنیادی اصول سے واقفیت ہو اور وہ درج ذیل ہیں:
١- اس کے پاس ہو قرآن کا اتنا علم ہوجس کےذریعہ وہ اس کےاندر موجودشرعی احکامات محکم متشابه،عموم خصوص ،مجمل مفسر، اورناسخ منسوخ کوصحیح طور پر سمجھ سکتا ہو ۔
٢-سنت رسول یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اقوال وافعال کی معرفت اسے حاصل ہو، اسنادحدیث کے متعلق یہ جانکاری ہو کہ کون سی حدیث آحاد کے قبیل سے ہےاور کون سی متواتر ہے اور کون صحیح ہے اور کون ضعیف، اسی طرح ان احادیث میں کون سی احادیث علی الاطلاق وارد ہوئی ہیں اور کون سی احادیث کسی سبب کی بنیادپر سبب وارد ہوئ ہیں۔
٣- سلف کے اجماع واختلاف سے متعلق ان کے اقوال سے واقف ہوتاکہ اجماع میں ان کی پیروی کرسکے اور اختلاف کے وقت اجتہاد کرسکے ۔
٤-قیاس کی جانکاری ہوتاکہ جن فروعی مسائل کے بارے میں نص صریح وارد نہیں ہے انہیں منصوص ومجمع علیہ ا صول کی طرف لوٹاسکے۔
اورایک انسان ان اصول کو جاننے کا کماحقہ اہل اسی وقت ہوسکتا ہےجب وہ عربی علوم [نحو، صرف، بلاغہ] ،اصول فقہ اور مصطلح الحدیث کامطلوبہ علم حاصل کرلے۔ الفقيه والمتفقه للخطيب البغدادي (2/330-331).
علوم عربیہ کو حاصل کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ قرآن وحدیث عربی زبان ہی میں ہیں لہذا عربی زبان وقواعد میں مطلوبہ مہارت حاصل کئے بغیرقرآن وحدیث کوکماحقہ سمجھنا اور ان کے احکام ومقاصدسے واقف ہونا ممکن نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتےہیں: "لا يَعلم مِن إيضاح جُمَل علم الكتاب أحدٌ جهل سعةَ لسان العرب، وكثرةَ وجوهه، وجِماعَ معانيه، وتفرُّقَها". الرسالة (ص: 50).
جو شخص عربی زبان کی وسعت، اس کی کثیر تعبیرات، اور ان کے معانی کے اتفاق واختلاف کو نہیں جانے گا وہ قران مجید کے چند جملوں کی وضاحت و تفسیر کو نہیں جان سکتا۔
امام الحرمین امام جوینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إنّ شريعة المصطفى صلى الله عليه وسلم، مُتلقّاها ومُستقاها الكتابُ والسننُ، وآثارُ الصحابة ووقائعُهم، وأقضيتُهم في الأحكام؛ وكُلُّها بأفصح اللغات، وأشرف العبارات، ولا بد من الارتواء من العربية؛ فهي الذريعةُ إلى مدارك الشريعة". غياث الأمم في الْتياث الظلم (ص: 400).
"شریعت محمدیہ کےمآخذوسرچشمےکتاب وسنت ،صحابہ کرام کےآثار وواقعات اور احکام میں ان کےفیصلے ہیں۔اور یہ سب فصیح ترین زبان اور عمد ہ ترین پیرائہ بیان میں ہیں ۔بنابریں عربی زبان میں درک حاصل کرناضروری ہے۔ کیونکہ شریعت کےاحکام ومقاصدکی معرفت کایہی ذریعہ ووسیلہ ہے۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إنّ نفس اللغة العربية من الدين، ومعرفتها فرض واجب؛ فإنّ فهم الكتاب والسنة فرض، ولا يفهم إلا بفهم اللغة العربية، وما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب. ثم منها ما هو واجبٌ على الأعيان، ومنها ما هو واجبٌ على الكفاية". اقتضاء الصراط المستقيم (1/527)
" عربی زبان بذات خود دین کاحصہ ہے،لہذا عربی زبان کو جاننا واجب ہے۔کیونکہ کتاب وسنت کا سمجھنا فرض ہے، اور کتاب وسنت کو عربی زبان کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا ہے ۔لہذاجس کے بغیر واجب کی ا دائیگی نہ ہو تو وہ بھی واجب ہوجاتا ہے۔ اورعربی زبان میں کچھ کا سیکھنا واجب عینی یعنی ہر شخص پر واجب ہے اور کچھ فرض کفایہ ہے ۔
واجب عینی کی وضاحت کرتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فعلى كلٍّ مسلمٍ أن يتعلّم من لسان العرب ما بلغه جهده، حتى يشهد به أن لا إله إلا الله، وأن محمّدًا عبده ورسوله، ويتلو به كتاب الله، وينطق بالذكر فيما افترض عليه من التكبير، وأمر به من التسبيح، والتشهد، وغير ذلك. وما ازداد من العلم باللسان، الذي جعله الله لسانَ مَن ختم به نبوته، وأنزل به آخرَ كتبه؛ كان خيرًا له".
"ہر مسلمان پر کم از کم اتنی عربی زبان سیکھنا واجب ہے کہ وہ شہادتین کا اقرار اور کتاب اللہ کی تلاوت کرسکے نیزتسبیح وتکبیراورتشہد وغیرہ جیسے واجبی ذکر و اذکا ر کی ادائیگی بھی وہ عربی میں کرسکے اورجو شخص اس زبان کوجسے اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی کی زبان قرار دیا اور جس میں اپنی آخری کتاب نازل فرمائی جتنا زیادہ سیکھ لے تو اس کے لئے اتنا ہی بہتر ہے۔ الرسالة (ص: 47).
واجب عینی کے بعد فرض کفایہ کی طرف آتے ہیں جس کا یہاں بیان کرنا اصل مقصود ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کوعربی زبان میں اتنا درک حاصل ہو کہ وہ کلام عرب اور ان کے طریقہ استعمال کوباآسانی سمجھ سکتا ہو۔تاکہ وہ ان کے کلام میں صریح و ظاہر ، حقیقت و مجاز ،عام وخاص اورمنطوق و مفہوم کے مابین تمیز کرسکے۔الغرض یہ کہ اس کےاندرعربی زبان میں اتناملکہ پیداہوجائے کہ کتاب اللہ ، سنت رسول اور ائمہ کے کلا م کوسمجھنے میں اس کى فہم پر اعتماد کیاجاسکے اور اس بات کا غالب گمان ہوجائے کہ اس کی فہم درست ہے گرچہ اسے کتابوں کی طرف رجوع ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ [المستصفى للغزالي (ص: 344) وتحقيق الكلام في المسائل الثلاث للمعلمي (ص: 45)].
تاہم خلیل ومبرد جیسے ماہرین زبان کے رتبہ کو پہنچنا یا پوری عربی زبان کا احاطہ ،اسی طرح علم نحو کی باریکیوں اور گہرائیوں سے واقفیت شرط نہیں بلکہ مقاصد کلام کے حقائق کا ادراک کافی ہے۔ انظر: المستصفى (ص: 344).
امام الحرمین رحمہ اللہ کہتے ہیں: "لا يُشترط التعمّقُ والتبحُّر فيها حتى يصير الرجل علّامة العرب، ولا يقع الاكتفاءُ بالاستطراف، وتحصيل المبادئ والأطراف، بل القولُ الضابطُ في ذلك أن يُحصّل من اللغة والعربية، ما يترقّى به عن رتبة المقلّدين في معرفة الكتاب والسنة، وهذا يستدعي منصبًا وسطًا في علم اللغة والعربية". غياث الأمم في الْتياث الظلم (ص: 403).
"عربی زبان میں اتنی بھی باریک بینی اور تبحر شرط نہیں کہ وہ علامہ عرب بن جائے ،تاہم صرف مبادیات اور سرسری معلومات کافی نہیں ۔ اس تعلق سےسیدھا سادھا ضابطہ یہ ہے کہ وہ عربی زبان و قواعد اس قدر سیکھ لےجس سےکتاب وسنت کوسمجھنے میں مقلدین کے مرتبہ سے اوپر اٹھ جائے اور یہ اس بات کامتقاضی کہ عربی زبان و قواعد کی معرفت میں وہ کم ازکم متوسط درجہ کی صلاحیت کا حامل ہو۔
اس کے بعد اصول فقہ کاعلم اس لئے ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعہ دلائل کی روشنی میں بالکل ٹھیک ٹھیک شرعی احکامات کے استنباط کا ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ الأصول من علم الأصول لابن عثيمين (ص: 9).
علامہ سمعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "أصول الفقه عند الفقهاء هي طريقُ الفقه التي يُؤدِّي الاستدلالُ بها إلى معرفة الأحكام الشرعية". قواطع الأدلة في الأصول (1/21) بتصرف يسير.
"اصول فقہ سے مراد فقہاء کے نزدیک ، فقہ کاوہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ شرعی احکامات کا استنباط کیا جاتا ہے"۔
صحیح اورضعیف احادیث کو جاننے کے لئے "مصطلح الحدیث" کا جاننا ضروری ہےکیونکہ شرعی احکام میں ضعیف احادیث پر عمل جائز نہیں ہےلہذا اگر کسی کوصحیح اورضعیف ،مقبول ا ورمعلول احادیث کی جانکاری نہیں ہوگی تو کوئی بعید نہیں کہ وہ ضعیف احادیث سے استدلال کربیٹھے پھر شریعت کی جانب ایسی چیز کی نسبت کربیٹھے جو شریعت کا حصہ نہیں ہے۔لہذا ایک عالم دین کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سی احادیث قابل حجت ہیں اور کون سی احادیث قابل حجت نہیں ہیں۔
امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ کہتے ہیں: "إنّ العالم إذا لم يعرف الصحيح والسقيم، والناسخ والمنسوخ من الحديث؛ لا يُسمَّى عالِمًا". معرفة علوم الحديث للحاكم (ص: 60).
اگر کسی عالم کے پاس صحیح اور ضعیف ناسخ اور منسوخ احادیث کا علم نہیں ہے تو اسے عالم نہیں کہاجائےگا۔
اب جسے مذ کورہ علوم کے متعلق معتد بہ علم حاصل ہوجائے یہاں تک کہ اس کے استنباط پر اعتماد کیاجاسکے اور ظن غالب یہ ہو کہ اس کے یہاں غلطی کاامکان کم ہوگا گرچہ کتابوں کامراجعہ ہی کرنا پڑے تو وہ کتاب اللہ وسنت رسول سےبراہ راست استفادہ کا اہل ہوگیا ہے۔چنانچہ اب اسے چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کا کثرت سے تلاوت کرے اور اس میں تدبرو تفکر کا خوب خوب اہتمام کرے، کتب احادیث کا مطالعہ کرے ا، احادیث کے معانی پر غور کرے نیزان کتابوں میں موجود علمی مسائل پر اس کی نظر ہو یہاں تک کہ اسے اپنی بابت اس بات کاغالب گمان ہوجائے کہ جب کبھی وہ کسی مسئلہ میں غور کرے اور اس سے متعلق قرآن و حدیث کے نصوص اپنے ذہن میں لائے تو اس مسئلہ کے ظاہری دلائل اس کے ذہن میں حاضر ہوجائیں اور اسے یہ اشتباہ نہ ہوکہ کون سی دلیل لائق حجت ہے اور کون سی دلیل لائق حجت نہیں ہےاسی طرح ناسخ و منسوخ ، راجح ومرجوح اورصحیح و ضعیف احادیث کے درمیان بھی اسے اشتباہ نہ ہو۔ انظر: تحقيق الكلام في المسائل الثلاث (ص:64).
چنانچہ جسے کتاب وسنت کا علم اتنا حاصل ہوجائے توحقیقی معنوں میں وہی عالم کہلانے کا حقدار ہے اس لئےکہ اب وہ کتاب و سنت سے شرعی احکام کوجاننےاوراخذ کرنے کا اہل ہوچکا ہے۔ انظر: المصدر السابق (ص:50).
مزید برآں حقیقی عالم کی کچھ علامتیں بھی ہیں جن میں سب سے اہم دوعلامات ہیں۔
ایک علامت یہ ہےکہ عالم باعمل ہو تاکہ اس کا قول اس کے فعل کے مطابق ہو لیکن اگر اس کے قول و فعل میں تضاد ہے تو وہ اس لائق نہیں ہے کہ اس سے علم حاصل کیا جائے یا کسی بھی علم میں اس کی اقتداء کی جائے۔
دوسری علامت یہ ہے کہ اس نے وہ علم علماء کے زیر تربیت حاصل کی ہو اور ان کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیا ہو اور ایک لمبی مدت گزاری ہوجیسا کہ سلف صالحین کا شیوہ رہا ہے۔ انظر: الموافقات (1/141-142).
لہذا طالبان علوم نبوت کو چاہئےکہ حصول علم کی راہ میں جاں فشانی وعرق ریزی کا مظاہرہ کریں۔ چشمہ علم وعرفاں سے خوب خوب سیرابی حاصل کریں۔ یہاں تک کہ انہیں علم میں پختگی اور رسوخ حاصل ہوجائے۔نیز وقت سے پہلے اپنے آپ کو نمایاں کرنے میں جلدبازی نہ کریں تاکہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جنہیں پرجمنے سے پہلے پرواز کی فکر دامن گیر ہونے لگتی ہے اور علم میں پختگی پیدا ہونے سے پہلے بلندباگ دعوے کرنے لگتے ہیں۔
چنانچہ افسوس کامقام ہے کہ موجوہ وقت میں کتنے ایسے نوخیز طلبہ ہیں جو اس عظیم لقب کے دعویدار ہیں حالانکہ یہ ابھی سطحِ آب پر تیر رہے ہیں اور علم میں دستگاہ حاصل نہیں ہوئی ہے نیز علماء کی تربیت بھی نا کے برابرملی ہے۔فالله المستعان
 
Top