*"جو رونا چاہا تو اب آنکھ میں لہو بھی نہیں"*

عائشہ احمد آباد گجرات کی خودکشی سے دو فکر ذہن میں بار بار کچوکے لگا رہی ہے۔

ایک تو یہ کہ اگر واقعی ایسا ہی ہے جیسا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر چل رہا ہے، تو نئی نسل کے لئے بے حد خطرناک ہے اور بہر حال قوم مسلم کے لئے لمحہ فکریہ اور خطرے کی گھنٹی ہے، اور اس مرض کا علاج ملکی سطح پر گاوں گاوں، شہر شہر ضروری ہے، اور جنگی پیمانے پر با ضابطہ بلکہ حکومت کی مدد کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ، ہندو سماج کے اچھے لوگوں کو ساتھ لے کر یکجہتی کے ساتھ کامیابی تک پہونچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

دوسری فکر یہ جنم لیتی ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی اسلامی نہج پہ تربیت کرنے کی بے حد ضرورت ہے، اسلامی کی بنیادی معلومات کو نئی نسل تک پہنچانا اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے روشناس کرانا، قرآن و سنت کے مطابق اسلامی اصولوں سے، اسلامی معاشرے کو آگاہ کرنا، گھر کے ایک ذمہ دار سے لے کر، سماج اور قوم کے ذمہ داروں تک کو محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

میرے ذہن میں یہ بات بار بار آتی ہے کہ عائشہ کی بات سے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی تھی، مگر تربیت میں کہیں نہ کہیں کمی ضرور تھی، اگر اس کا تقدیر پر ایمان، اور اسلام میں خودکشی کتنا بڑا گناہ ہے اس کا علم ہوتا، اور اسلام میں طلاق کی حکمت کو جانتی، تو شاید سمندر کی لہروں کو دیکھ کر یہ نہ کہتی کہ "مجھے میرے سوالوں کا جواب مل گیا"
کاش کہ امت مسلمہ اب بھی جاگ جائے۔

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
جامع عمار بن یاسر۔ الجبیل۔ سعودی
 
Top