یقینا سب سے اچھی بات اللہ کی کتاب میں ہے، اور سب سے بہترین راستہ محمد ﷺ کا ہے،اور سب سے برا کام اس کے اندر نئی چیزیں ایجاد کرنا ہے، اور دین کے اندر ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے،
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ( ” الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم “الانعام : ٨٢) تو صحابہء کرام پر بہت دشوار ہوئی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر شخص اپنی جان پر کچھ نہ کچھ ظلم کرتا ہے( ہر کسی سے صغیرہ کبیرہ گناہ ہوہی جاتے ہیں)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظلم کا یہ معنی مراد نہیں ہے۔ کیا تم نے لقمان کا اپنے بیٹے کے متعلق یہ قول نہیں سنا کہ شرک ظلم عظیم ہے۔
(صحیح البخاری رقم ٣٢‘)
تو آیت کریمہ میں ظلم سے مراد شرک ہے، اور شرک سب سے بڑا ظلم ہے، اور اس کے ساتھ گمراہی اور خوف دونوں ہیں، اور ان کے رہتے کبھی امن اور ہدایت جمع نہیں ہو سکتے۔
ہم اسلامی ملک میں ہے، ہدایت اور سلامتی کے معیار پر غور کیجئے، اور پھر دیکھئے اس ایک آیت کریمہ میں اللہ رب العالمین نے، کس طرح ہمارے حالات کو بیان کیا، اور اسباب و علاج کو بتلایا ہے۔
گمراہی اور خوف سے نکلنے کا ایک ہی حل ہے وہ توحید ہے، جس کی صدا ہمارے نبی ﷺ نے بعثت کے بعد سب سے پہلے لگائی۔
آپ نگاہ اٹھا کر دیکھئے دنیا میں بہت ساری مسجد ملیں گی جن میں بزرگوں کی قبروں کی تعظیم اور ان پہ سجدے وغیرہ کئے جاتے ہیں۔
حالانکہ جب ہم ایک لمحے کے لئے نبی اکرم ﷺ کی وفات سے پہلے کے اوقات کو دیکھتے ہیں، بلکہ تقریبا سکرات الموت کا عالم ہے، آپ اپنی چادر کبھی منہ سے اٹھاتے کبھی ڈھانک لیتے، عین اس وقت آپ نے فرمایا: لعنۃ اللّٰہ علی الیھود والنصاریٰ اتخذوا قبور انبیائھم مساجد یحذّر مَا صنعوا

’’یھود اور نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا،
میں تمہیں سختی سے اس سے روک رہا ہوں۔

سوچیئے اگر یہ لعنت آپ ﷺ نے انبیاء کی قبروں پر سجدہ کرنے کے تعلق سے فرمایا ہے، تو بزرگوں کی قبروں پر سجدہ یا شرک و بدعت کے دوسرے اعمال(جیسے ان سے خوف یا کسی سے حاجت کی برآوری کے لئے ان سے امید، ان پر مرغا بکرا ذبح کرنا، نذر و نیاز چڑھانا، اور گریہ و زاری کے ساتھ ان سے کسی چیز کی طلب کے لئے دعا کرنا، ان سے مدد طلب کرنا ) کیسے جائز ہوسکتا ہے۔
جائز تو دور کی بات ہے اللہ کے نبی ﷺ نے ایسے لوگوں کو سب سے بری مخلوق قرار دیا ہے ۔
صحیحین میں عائشہ رضي الله عنها سے مروی ہے کہ : ام حبیبہ اور ام سلمہ رضي الله عنهما نے نبی ﷺ سے ملک حبشہ کے ایک کنیسہ اور اس میں موجود مجسموں کا ذکر کیا، تو
نبي کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تھا، تو وہ لوگ اس کی قبر پر ایک سجدگاہ بنا دیتے تھے، اور اس میں اس کے مجسمے نصب کرديتے تھے، بلاشبہ وہ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔

اور اس واقعہ کو غور سے سنیئے۔
جب مکہ فتح ہوا تو عکرمہ بن ابی جہل ڈر کر بھاگ نکلے، اور کشتی پر اس خیال سے سوا ر ہوئے کہ ملک حبشہ چلے جائیں لیکن باد تند و( تیز ہواوں) نے کشتی کو گھیر لیا تو کشتی والوں نے ایک دوسرے سے کہا:
"اخلصوا لربکم الدعاء فانہ لا ینجی ھھنا الا ھو"
"اپنے رب کو خالص پکارو اس کے علاوہ کوئی نجات نہیں دے سکتا"
یہ بات سن کر عکرمہ نے کہا:
"واللہ لئن کان لا ینجی فی البحر غیرہ فانہ لا ینجی فی البر ایضا غیرہ"
"اللہ کی قسم اگر سمندر میں ایک اللہ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات دہندہ نہیں ہے۔
اے اللہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں، کہ اگر یہاں سے صحیح سلامت نکل گیا تو میں محمد ﷺ کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ دوں گا، اور میں آپ ﷺ کو ضرور رؤف و رحیم پاؤں گا۔

تو اے لوگو نجات چاہئے تو نجات صرف توحید میں ہے، اور شرک تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے، شرک خسارے اور گھاٹے کا سودا ہے، اور مشرک پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دیا، اور اس کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیش کے لئے جہنم ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَلَقَدْ اُوْحِىَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُـوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (65)
اور بے شک آپ کی طرف اور ان کی طرف وحی کیا جا چکا ہے، جو آپ سے پہلے گزرے ہیں، کہ اگر تم نے شرک کیا تو ضرور تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے۔

اسی طرح سے ابراہیم علیہ السلام نے بھی شرک سے ڈرتے ہوئے اللہ سے دعا کیا۔ وَاِذْ قَالَ اِبْـرَاهِيْـمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَـدَ اٰمِنًا وَّاجْنُـبْنِىْ وَبَنِىَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ (35)
اور جس وقت ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا کر دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔
رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضۡلَلۡنَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُۥ مِنِّيۖ وَمَنۡ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راه سے بھٹکا دیا ہے۔ پس میری تابعداری کرنے واﻻ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بہت ہی معاف اور کرم کرنے واﻻ ہے.
معلوم ہوا ہے کہ جو توحید پر قائم ہے، اور شرک سے دور ہے اس کو چاہئے کہ اللہ کا شکر ادا کرے، اور استقامت کے ساتھ اسی پر جما رہے۔ اور انفرادی طور پر، اجتماعی طور پر لوگوں کو توحید کی طرف بلاتا رہے اور شرک سے روکتا رہے ۔
اسی میں دین کی، سیدھے راستے کی، امن کی اور اپنے وطن کی حفاظت ہے ۔

اللہ تعالی مسلمانوں کی اصلاح فرمائے اور دین اسلام کی حفاظت فرمائے۔
اور ہمیں اپنا تقوی اور خشیت عطا فرمائے ۔ آمین
 
Top