ذیشان خان

Administrator
مقاصد توحید کو کیسے بروئے کار لایا جا سکتا ہے؟

✍ عبيد الله الباقي أسلم

قسط: ١

توحید کے عظیم مقاصد کو بروئے کار لانے کے لئے درج ذیل امور سے اجتناب کرنا ضروری ہے:
1- شرک.
2- بدعت.
3- معاصی.
شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فإن تحقيق التوحيد: تهذيبه وتصنييفه من الشرك الأكبر والأصفر، ومن البدع القولية والاعتقادية، والبدع الفعلية العملية، ومن المعاصي..."[القول السديد(ص: 13 - 14)] شرک اکبر و اصغر، اور قولی و اعتقادی بدعتوں، اور (ساتھ ہی) فعلی علمی بدعتوں، اور معاصی سے سے مکمل دوری اختیار کر کے ہی توحید کا اصل مقصد بروئے کار لایا جا سکتا ہے.
واضح رہے کہ باعتبار حقیقت توحید کی دو قسمیں ہیں :
1- اصل توحید یا مطلق توحید.
2- کمال توحید یا توحید مطلق.
كمال توحید کی دو قسمیں ہیں:
أ- کمال توحید واجب.
ب- کمال توحید مستحب.
¤ اصل توحید کا مقصد دو چیزوں کے اجتناب سے متحقق ہوتا ہے.
أ- شرک اکبر
ب- بدعت شرکیہ

¤ کمال توحید کی دو قسمیں ہیں :
1- کمال توحید واجب ؛ اس کا مقصد تین چیزوں کے اجتناب سے متحقق ہوتا ہے:
أ- شرک اصغر
ب- بدعت غیر شرکیہ
ج- معاصی
2- کمال توحید مستحب ؛ اس کا مقصد بھی تینوں چیزوں کے اجتناب سے متحقق ہوتا ہے:
أ- المشتبهات.
ب- المكروهات.
ج- فضول المباحات

¤ اصل توحید کے نواقض :
▪ شرک اکبر : اصل توحید کے لئے ناقض ہے، کیونکہ :
1- یہی سب سے بڑا ظلم ہے: {إن الشرك لظلم عظيم}[سورة لقمان:13] "بے شک شرک بڑا ظلم ہے".
2-اس سے اللہ تعالی کا واجبی حق پامال ہوتا ہے: "حق الله على العباد أن يعبدوه، ولا يشركوا به شيئًا"[صحيح البخاري (ح: 128)، وصحيح مسلم (ح: 30)] "بندوں پر اللہ کا حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں، اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کریں".
3- اس سے تخلیق انسان کے مقصد کی مخالفت لازم آتی ہے:{وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون}[سورة الذاريات:56] "اور میں نے جن و انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے".
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ: "وأعظم الذنوب عند الله الشرك به، وهو سبحانه لا يغفر أن يشرك به، ويغفر ما دون لمن يشاء" [جامع الرسائل(2/ 254)] "اور اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اور اللہ سبحانہ اس کے ساتھ کئے جانے والے شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں فرماتا ہے، اور اس سے چھوٹے گناہوں کو جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے".
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الشرك أظلم الظلم، والتوحيد أعدل العدل، فما كان أشد منافاة لهذا المقصود فهو أكبر الكبائر.. " [الجواب الكافي(ص: 128)] "شرک سب سے بڑا ظلم ہے، اور توحید سب سے بڑی انصاف ہے؛ چنانچہ جو اس مقصود کے لئے سب سے بڑا منافی (امر) ہے، وہی سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے".
ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں:" لا إثم أعظم من الشرك" [دیکھیں: فتح الباري (12/ 265)] "شرک سے بڑا کوئی بھی گناہ نہیں ہے".
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الشرك أبغض إلى الله من جميع المعاصي"[فتح الباري (12/ 210)] "اللہ کے نزدیک تمام معاصی میں شرک مبغوض ترین گناہ ہے".

▪ بدعت شرکیہ یا مکفّرہ اصل توحید کا ناقض ہے؛ جس کے اسباب وہی ہیں جو شرک اکبر کے ضمن میں بیان کئے گئے.
چنانچہ جو لوگ بدعت مکفرہ کے مرتکب ہیں؛ جیسے: جہمیہ، رافضہ، اور باطنیہ وغیرہم؛ ان کی بدعتوں پر علماء سلف نے کفر کا حکم لگایا ہے؛ جیسا کہ عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ليست الجهمية من أمة محمد صلى الله عليه وسلم" [دیکھیں: الفتاوى الكبرى لابن تيمية(4/ 194)] "جہمیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے نہیں ہیں (بلکہ وہ کافر ہیں)".
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "من قال: لا أعرف ربي في السماء أو في الأرض فقد كفر..."[الفقة الأكبر، ص:135)] "جس نے کہا: مجھے پتہ نہیں ہے کہ میرا رب آسمان میں ہے یا زمین ہے؛ تو اس نے کفر کیا".
امام دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ما الجهمية عندنا من أهل القبلة..." [الرد على الجهمية(ص:173)] "ہمارے نزدیک جہمیہ اہل قبلہ میں سے نہیں ہیں (بلکہ وہ کافر ہیں)".
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ما أبالي صليت خلف الجهمي والرافضي، أم صليت خلف اليهود والنصارى..."[خلق أفعال العباد(ص: 13)] "میرے نزدیک جہمی و رافضی، اور یہود ونصاری کے پیچھے نماز پڑھنا برابر ہے".

جاری ہے..........
 
Top