ذیشان خان

Administrator
کیا کسی صحابی نے قرآن مجید میں بعض آیتیں بڑھا دی؟

ابو احمد کلیم الدین یوسف
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

رافضی وسیم رضوی شل اللہ ارکانہ کہتا ہے کہ: ابو بکر وعمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین نے قرآن مجید میں اضافہ کردیا، تو سوال یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے ان تینوں صحابہ کرام کی شہ رگ کیوں نہیں کاٹ دی؟
کیوں اللہ رب العالمین نے فرمایا: ﴿وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ۝لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ۝ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ۝فَما مِنكُم مِن أَحَدٍ عَنهُ حاجِزينَ﴾
[الحاقة: ٤٤-٤٧]
ترجمہ: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ نے ہمارے خلاف کوئی بات اپنی جانب سے گھڑنے کی کوشش تو ہم آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی شہ رگ کاٹ دیں گے، اور آپ کو کوئی بچانے بھی نہیں آئے گا.

جب اللہ رب العالمین قرآن مجید میں اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اضافہ کو بردا شت نہیں کر سکتا، اور اضافہ کی صورت میں قتل کی وعید دے رہا ہے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اگر اضافہ کرتے تو اللہ رب انہیں کیسے چھوڑ دیتا؟
امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنی دور خلافت میں اس کی تصحیح کیوں نہیں کی؟
حسن رضی اللہ عنہ نے اس اضافہ کو اپنی خلافت میں باقی کیسے رکھا؟
آل بیت کے ایک عظیم فرزند مفسر قرآن مفتی الانام فقیہ الامۃ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تسلیم کیسے کر لیا؟
جنتیوں کے سردار حسین رضی اللہ عنہ نے مخالفت کیوں نہیں کی؟

مطلب پورے آل بیت اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی نے بھی قرآن مجید میں ایک لفظ کیا ایک حرف کا بھی اپنی جانب سے اضافہ نہیں کیا.
لیکن ان رافضیوں نے قرآن مجید میں اضافہ کیا، الگ الگ سورتیں بنائی، اور امام غائب کو دے کر بھگا دیا، جب ان کے وہ امام آئیں گے تو رافضییت کی فیکٹری میں بنا ہوا قرآن لائیں گے.
 
Top