ذیشان خان

Administrator
تدوین قرآن کی مختصر تاریخ

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

پورا قرآن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لکھا جا چکا تھا۔ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو بلاتے اور اسے لکھنے کا حکم دیتے۔ ان لکھنے والوں میں خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

صحابہ کرام درخت کے چھالوں، کھجور کی ٹہنیوں، پتھروں، ہڈیوں، چمڑوں وغیرہ پر ان آیات کو لکھ کر محفوظ رکھتے تھے۔ اس طرح پورا قرآن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی لکھا جا چکا تھا، یہ الگ بات ہے کہ اسے ایک جگہ جمع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی۔

لیکن کس آیت کے بعد کون سی آیت ہے یہ سب کو پتہ تھا۔ صحابہ کرام لکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے سینوں میں بھی قرآن کریم کو محفوظ کرتے تھے۔ بہت سارے صحابہ کرام کو پورا قرآن زبانی یاد تھا۔

اس لئے کسی کے ذریعہ کسی آیت کے گھٹانے یا بڑھانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب جنگ یمامہ میں ستر قراء کرام شہید ہو گئے تو صحابہ کرام نے خلیفہ وقت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرآن ایک جگہ جمع کرنے کا مشورہ دیا۔ آپ شروع شروع میں خود متردد تھے کہ یہ کام کرنا صحیح ہوگا یا نہیں۔ پھر صحابہ کرام خصوصا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مشورے واصرار پر قرآن کو ایک جگہ جمع کرنے کا کام شروع کیا، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس کی ذمہ داری دی۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لکھے گئے قرآن کے نسخوں اور صحابہ کرام سے مراجعے کے بعد اسے جمع کرنے کا کام مکمل کیا۔

اس قرآن میں کسی بھی صحابی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

اگر وسیم رضوی کے بقول خلفائے ثلاثہ نے اس میں 26 آیتیں بڑھا دی تھیں تو علی رضی اللہ عنہ نے انھیں باقی کیوں رکھا؟

اس خبیث کا اعتراض کوئی قابل توجہ نہیں ہے، لیکن یہ باتیں میں نے صرف اس لئے تحریر کیں تاکہ ایک عام مسلمان کو تدوین قرآن کریم کی مختصر تاریخ معلوم رہے۔
 
Top