🌹اللّٰہ الرحمٰن عرش پر بلند ہے: [1]🌹
ترتیب:ابومحمدعبدالاحدسلفی
نوٹ:یہ مضمون مکتبہ شاملہ اُردو سےکاپی کیا گیا ہے:
متعدد آیات اور احادیث میں اللّٰہ تعالیٰ کے بلند ہونے کا تذکرہ ہوا ہے۔
🍀 کتاب: نجات یافتہ کون،صفحہ:53
(۱) … اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ إِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ ﴾ [فاطر:۱۰]
’’ اسی کی طرف اچھے کلمات چڑھتے ہیں ، نیک اعمال کو وہ بلند کرتا ہے۔‘‘
اس آیت میں اللہ کی طرف کلمات کے چڑھنے سے ثابت ہوا کہ اللہ بلند ہے۔
(۲) … اللہ کا فرمان ہے:
﴿ مِنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ o تَعْرُجُ الْمَلَائِکَۃُ وَالرُّوحُ إِلَیْہِ ﴾ [المعارج:۳،۴]
’’ بلندیوں والے، اللہ کی طرف سے، فرشتے اور جبریل اسی کی طرف چڑھتے ہیں ۔ ‘‘
(چڑھا اُسی کی طرف جاتا ہے جو بلند ہو۔) ذی المعارج کا مطلب بلندیوں والا ہے
_______________________________________________
[1] مسلمان فرقوں میں یہ بات خواہ مخواہ اختلافی بن گئی ہے کہ ان کا رب کہاں ہے؟ بعض کہتے ہیں وہ عرش پر بلند ہے۔ جیسا کہ مؤلف نے اسی صحیح عقیدے کے دلائل جمع کیے ہیں ، اور یہی سلف صالحین کا عقیدہ ہے۔ جب کہ بعض کا کہنا ہے کہ اللہ ہرجائی ہے۔ بعض کے نزدیک وہ لامکاں ہے۔ اور بعض کا رب اُن کے دلوں میں رہتا ہے۔ اور بعض صوفیوں کے نزدیک اللہ ہر چیز میں ہے۔ یہی ہندوؤں کا بھی نظریہ ہے۔

🍀 کتاب: نجات یافتہ کون،صفحہ:54
(۳) … اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی o﴾ [الاعلی:۱]
’’ اپنے بلند رب کے نام کی تسبیح بیان کرو۔ ‘‘
محلِّ شاہد ہے۔ الاعلیٰ۔
(۴) … امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب التوحید میں امام ابوالعالیہ اور مجاہد رحمہما اللہ سے ﴿ ثُمَّ اسْتَوَیٰ إِلَی السَّمَآئِ﴾ … ’’ پھر وہ آسمان کی طرف مستوی ہوا ‘‘ کی تفسیر میں لکھا ہے: بلند ہوا، اُونچا ہوا۔
(۵) … اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی o﴾ [طہ:۵]
’’ یعنی رحمن عرش پر بلند ہوا۔ ‘‘
یہ آیت اہمیت کی وجہ سیقرآن میں سات بار آئی ہے۔
(۶) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب فرماتے ہوئے کہا:
(( أَ لَا ہَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ۔ یَرْفَعُ اصْبَعَہُ اِلَی السَّمَآئِ وَیَنْکُتُہَا إِلَیْہِمْ وَیَقُوْلُ: أَللّٰہُمَ اشْہَدْ۔)) [1]
’’ خبردار! کیا میں نے تمھیں رب کا پیغام پہنچادیا؟ انھوں نے کہا: ہاں ! آپ اپنی انگلی آسمان کی طرف اُٹھا کر عوام کی طرف مائل کر رہے تھے اور کہتے تھے: اے اللہ! گواہ ہوجا۔ ‘‘
اللہ کو گواہ بنانے کے لیے آپ آسمان کی طرف اشارہ کر رہے تھے تو ثابت ہوا کہ اللہ اوپر ہے۔ (یعنی اُس کی ایک جہت ہے۔)
(۷) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ اللَّہَ کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ الْخَلْقَ إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ
_______________________________________________
[1] صحیح مسلم: ۸/ ۵۴، کتاب الحج، باب حجۃ النبی، حدیث: ۲۹۵۰۔

🍀 کتاب: نجات یافتہ کون،صفحہ:55
غَضَبِي۔ فَہْوَ مَکْتُوبٌ عِنْدَہُ فَوْقَ الْعَرْشِ۔)) [1]
’’ اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کرنے سے پہلے ایک تختی لکھی کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی اور وہ اب اس کے پاس عرش پر لکھا ہوا ہے۔ ‘‘
ثابت ہوا کہ اللہ عرش پر ہے۔
(۸) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَ لَا تَاْمَنُونِي وَاَنَا اَمِینُ مَنْ فِي السَّمَائِ ، یَاْتِینِي خَبَرُ السَّمَآئِ صَبَاحًا وَمَسَائً۔)) [2]
’’ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں تو اس ذات کا امین ہوں جو آسمان پر ہے، میرے پاس آسمانی خبریں صبح و شام آتی ہیں ۔ ‘‘
(۹) … امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ ابھی تابعین کی کثیر تعداد موجود تھی تب ہم کہا کرتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ جس کا ذکر بہت بلند ہے، وہ عرش پر ہے اور جو صفاتِ باری تعالیٰ سنت میں موجود ہیں ہم ان پر ایمان لاتے ہیں ۔ ‘‘[3]
(۱۰)… امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ اپنے آسمان پر عرش کے اوپر ہے اور جیسے چاہتا ہے، اپنی مخلوق کے بھی قریب ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر بھی نزول فرماتا ہے، جیسے چاہتا ہے۔ [4]
(۱۱)… امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس نے کہا : میں نہیں جانتا کہ اللہ زمین پر ہے یاآسمان پر، تو اس نے کفر کیا۔ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿أَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ
_______________________________________________
[1] صحیح البخاري: ۲۴/ ۴۴۱، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ تعالیٰ: ﴿بَلْ ہُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ﴾، حدیث: ۷۵۵۴۔ [2] صحیح البخاري: ۱۴/ ۲۶۹، کتاب المغازي، باب بعث علی علیہ السلام ، حدیث: ۴۳۵۱۔ [3] رواہ البیہقي باسناد صحیح فتح الباري۔ [4] أخرجہ الہکاوی فی عقیدۃ الشافعی۔

🍀 کتاب: نجات یافتہ کون،صفحہ:56
اسْتَوٰی﴾ [طٰہٰ:۵] ’’ رحمن عرش پر بلند ہوا۔ ‘‘ اور اس کا عرش سات آسمانوں کے اوپر ہے۔ ‘‘ اور جو یہ کہے کہ وہ عرش پر تو ہے لیکن نہ جانے عرش زمین پر ہے یا آسمان پر وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ اس نے اللہ کے آسمان پر ہونے کا انکار کردیا اور جس نے اللہ کے آسمان پر ہونے کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ علیین مقام کے اوپر ہے۔ اور اُس سے اوپر کی طرف دُعا کی جاتی ہے نہ کہ نیچے کی طرف۔ [1]
(۱۲)… امام مالک رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت کے بارے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
’’ اللہ کا عرش پر ہونا معروف ہے، اس کی کیفیت نامعلوم ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ اور اس کی کیفیت کے بارے سوال کرنا بدعت ہے۔ پھر کہا: اس (سائل) بدعتی کو مجلس سے نکال دو۔ ‘‘
(۱۳) … استویٰ کا معنی استولی یعنی ’’والی ہوا‘‘ غلط معنی ہے، کیونکہ یہ معنی سلف صالحین نے نہیں کیا اور ان کا طریقہ زیادہ سلامت، زیادہ علم و حکمت والا ہے۔
حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : اللہ نے یہودیوں کو کہا کہ حطۃ کہو، مگر انھوں نے تحریف کرتے ہوئیحنطۃ بول دیا ۔ اور اللہ نے ہمیں فرمادیا کہ وہ عرش پر مستوی ہے تو ہم میں سے تاویل کرنے والوں سے استولیٰ بولا دیا۔ دیکھو ان کا اضافہ کردہ لام یہودیوں کے اضافہ کردہ ن سے کتنا مشابہ ہے۔
یہ بات محمد امین شنقیطی نے حافظ ابن قیم رحمہما اللہ سے نقل کی ہے۔
_______________________________________________
[1] شرح عقیدہ طحاویۃ: ۳۲۲۔
=====================================

*اللہ تعالیٰ کے عرش پر استوا سے متعلق اہلِ علم کے اقوال*
🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 137
پہلا قول:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنی وصیت میں فرمایا ہے:
’’ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے بغیر اس کے کہ اس کو حاجت اور قرار ہو۔‘‘[1] اس قول سے حنفیہ پر حجت تمام ہے۔
دوسرا قول:
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ استوا معلوم ہے، اس کی کیفیت نامعلوم ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کی کیفیت کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔[2] اس قول سے مالکیہ پر حجت تمام ہے۔
تیسرا قول:
امام طبری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ استوا کے قائل ہیں۔[3] اس قول سے شافعیہ پر حجت تمام ہے۔
چوتھا قول:
امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان کے مطابق عرش پر
________________________________________________
[1] الوصیۃ لأبي حنیفۃ ضمن مجموعۃ الرسائل العشرۃ لأبي حنیفۃ (ص: ۷) کتاب العلو للذھبي (۱/۱۳۶) نیز دیکھیں: شرح الفقہ الأکبر (ص: ۶۱) [2] کتاب العلو (۱/۱۳۹) [3] کتاب العلو (۱/۱۶۵)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 138
مستوی ہے۔[1] اس قول سے حنابلہ پر حجت تمام ہے۔
نیز استقرا سے بھی معلوم ہے کہ اصحابِ مذاہب اربعہ میں بالاتفاق سب کا یہی مذہب ہے، وللّٰہ الحمد۔کسی سے بھی صفتِ استوا کا انکار ہر گز منقول نہیں۔ اس کی کیفیت سب کے نزدیک مجہول ہے اور اس سے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔
پانچواں قول:
امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ نے کتاب ’’اختلاف المصلین‘‘ میں لکھا ہے:
اگر کوئی پوچھے کہ تم استوا سے متعلق کیا کہتے ہو تو ہم یہ کہیں گے کہ بے شک اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے، جیسے اس کا فرمان ہے کہ رحمٰن نے تخت پر قرار پکڑا۔[2] انتھیٰ۔
چھٹا قول:
امام علی بن مہدی طبری رحمہ اللہ نے کتاب ’’مشکل الآیات‘‘[3] میں فرمایا ہے:
’’جان لو! اللہ تعالیٰ آسمان پر ہے اور وہ ہر چیز پر قائم اور اپنے تخت پر ہے۔ استوا کے معنی ’’اعتلا‘‘ ہیں، جس طرح عرب نے کہا ہے کہ میں جانور کی پشت پر مستوی ہوا یا مکان کی چھت پر یا آفتاب میرے سر پر مستوی ہوا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے عرش پر عالی ہے اور اپنی مخلوقات سے جدا ہے۔ مندرجہ ذیل آیات اس پر دلیل ہیں: ﴿ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ﴾[الملک: ۱۶] [کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے] ﴿ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ﴾[آل عمران: ۵۵] [اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں] اور ﴿ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ﴾[السجدۃ: ۵] [پھر وہ (معاملہ) اس کی طرف اوپر جاتا ہے]۔‘‘ انتھیٰ۔
اس قول سے جس طرح استوا ثابت ہوا، اسی طرح جہتِ فوق بھی ثابت ہوتی ہے۔
ساتواں قول:
حافظ ابو بکر محمد بن حسین آجری رحمہ اللہ نے کتاب ’’الشریعۃ‘‘ کے ’’باب التحذیرمن
________________________________________________
[1] کتاب العلو (۱/ ۱۷۷) [2] مقالات الإسلامیین واختلاف المصلین (۱/۲۱۱، ۲۹۰) [3] اس سے امام ابو الحسن علی بن محمد بن مہدی الطبری کی کتاب ’’تأویل الآیات المشکلۃ الموضحۃ بالحجج والبراھین‘‘ مراد ہے۔

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 139
مذاھب الحلولیۃ‘‘ میں لکھا ہے: ’’اہلِ علم اس طرف گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے، اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے اور اعمال اسی کی طرف بلند ہوتے ہیں۔‘‘[1]
اس قول سے بھی استوا اور جہتِ فوق دونوں ثابت ہوتے ہیں۔
آٹھواں قول:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حجاز ہو یا عراق، شام ہو یا یمن؛ تمام ملکوں کے علما کو ہم نے جس مذہب پر پایا، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے جدا، کیفیت معلوم ہوئے بغیر عرش کے اوپر ہے، جس طرح اس کا فرمان ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو علم کے ساتھ گھیرا ہوا ہے۔‘‘[2]
نواں قول:
حافظ ابو القاسم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ اپنی مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سنتا اور دیکھتا ہے۔[3] انتھیٰ۔
دسواں قول:
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ’’جو کوئی اس بات کا اقرار نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے جدا ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے تو وہ کافر ہے، اس سے توبہ کروائیں، اگر وہ توبہ کر لے تو بہت اچھا، ورنہ اس کی گردن مار دیں۔‘‘[4] انتھیٰ۔
گیارھواں قول:
امام محمد بن موصلی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خوب کھول کر بیان کیا ہے کہ وہ آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے۔[5]
بارھواں قول:
امام بغوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اہلِ سنت کہتے ہیں کہ بلا کیف عرش پر قائم ہونا اللہ تعالیٰ کی
________________________________________________
[1] الشریعۃ للآجري (۱/۲۷۴) [2] کتاب العلو للذھبي (۱/۱۸۸) [3] شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ للالکائي (۱/۳۲۱) [4] کتاب العلو للإمام الذھبي (۱/۲۰۷) [5] مختصر الصواعق المرسلۃ لابن الموصلي (ص: ۴۷۷)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 140
صفت ہے۔ آدمی پر اس کے ساتھ ایمان لانا اور اس کا حتمی علم اللہ کے سپرد کرنا واجب ہے۔[1]
تیرھواں قول:
’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے حدیں ثابت کرنا جائز نہیں ہے، مگر وہ جو ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ عرش پر مستوی ہے۔[2] یعنی یہ تحدید جائز ہے۔
چودھواں قول:
’’کتاب البہجۃ‘‘ میں ہے کہ ہمارا رب عرش پر مستوی ہے اور ملک پر محتوی ہے۔ اس کی دلیل قرآن مجید میں موجود سات آیات ہیں۔ اس مقدمے میں جاہل کی جہالت اور اس کی رعونت و سرکشی کے سبب میں ان کا ذکر نہیں کروں گا۔[3] انتھیٰ۔
یہ دونوں کتابیں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی تصانیف ہیں۔
پندرھواں قول:
امام رازی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کے ثبوت میں یہ آیتیں پڑھتا ہوں: ﴿ اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾[طٰہٰ: ۵] [وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا] ﴿اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ﴾[الفاطر: ۱۰] [اسی کی طرف ہر پا کیزہ بات چڑھتی ہے] اور اس کی کیفیت کی نفی میں یہ آیتیں تلاوت کرتا ہوں: ﴿ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ﴾[الشوریٰ: ۱۱] [اس کی مثل کوئی چیز نہیں] اور ﴿ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِہٖ﴾[طٰہٰ: ۱۱۰] [اور وہ اس کا احاطہ نہیں کرسکتے] اور جو شخص ان آیتوں کو میرے سمجھنے کی طرح سمجھے گا تو وہ میرے پہنچاننے کی طرح پہچان لے گا۔[4]
اس قول میں صفتِ استوا اور جہتِ فوق دونوں کا اثبات ہے۔
سولھواں قول:
امام غزالی رحمہ اللہ نے ’’احیاء العلوم‘‘، ’’کیمیاے سعادت‘‘ اور ’’اربعین فی اصول الدین‘'
________________________________________________
[1] العلو للإمام الذھبي (۱/۲۶۱) [2] الغنیۃ لطالبي طریق الحق للجیلاني (۱/۱۱۸) [3] العلو للذھبي (۱/۲۶۵) [4] دیکھیں: کتاب العلو للإمام الذھبي (۱/۱۸۷۔۱۸۹)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 141
میں لکھا ہے کہ اللہ عرش پر مستوی ہے اور وہ عرش کے اوپر بلکہ ہر چیز کے اوپر ہے، جس طرح اس نے بیان کیا ہے۔[1]
سترھواں قول:
امام محمد بن محسن عطاس رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’تنزیہ الذات و الصفات‘‘ میں کہا ہے کہ مسلمانوں پر اس آیت کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے: ﴿اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾[طٰہٰ: ۵] [وہ (ہے اللہ) رحمن جو عرش (بریں) پر متمکن ہے] [2]
اٹھارواں قول:
امام شوکانی رحمہ اللہ نے تفسیر ’’فتح القدیر‘‘ میں لکھا ہے کہ اس مسئلے میں چودہ قول ہیں، ان میں سے سلف کا مذہب حق اور درست ہے کہ اللہ تعالیٰ بلا کیف جس طرح اس کے لائق ہے، عرش پر مستوی ہے۔[3]
انیسواں قول:
امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’رسالہ صفات‘‘ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی قرآن مجید کی کئی جگہوں میں صراحت ہوئی ہے۔[4]
بیسواں قول:
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ محدث دہلوی نے رسالہ ’’حسن العقیدہ‘‘ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے جس طرح اس نے اپنی ذات کو اس کے ساتھ متصف کیا ہے، لیکن تحیزوجہت کے معنی میں نہیں، بلکہ اس تفوق اور استوا کی کنہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یا وہ پختہ علم والے لوگ جانتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے علم عطا کیا ہے۔[5] انتھیٰ۔
________________________________________________
[1] إحیا علوم الدین للغزالي (۱/۹۰) [2] تنزیہ الذات والصفات من درن الإلحاد والشبھات للعطاس (ص: ۵۷) امام محمد بن محسن عطاس رحمہ اللہ نے یہ قول امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کی کتاب ’’الإبانۃ‘‘ (ص: ۱۰۵) سے نقل کیا ہے۔ [3] فتح القدیر (۳/۸۸) [4] التحف في مذاہب السلف (ص: ۱۷) [5] دیکھیں: الانتقاد الرجیح في شرح الاعتقاد الصحیح للمؤلف رحمہ اللّٰه (ص: ۶۰)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 142
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے اثباتِ جہت میں مفصل قول کا بیان آگے آئے گا، یہاں صرف استوا و فوق کا ثابت کرنا مقصود ہے۔
اکیسواں قول:
سید محمد یوسف بلگرامی رحمہ اللہ نے ’’الفرع النابت من الأصل الثابت‘‘ میں لکھا ہے:
’’حق تعالیٰ بذات خود فوق عرش است، چنانچہ مذہب جمہور محدثین ہمیں ست‘‘ انتھیٰ۔
[اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ عرش پر ہے، یہی جمہور محدثین کا مذہب ہے]
مذکورہ بالا اقوال کی عربی عبارتیں رسالہ ’’انتقاد فی شرح الاعتقاد‘‘ میں موجود ہیں۔ اس باب میں بہت سے اقوال ہیں، مگر جمہور صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، مذاہب اربعہ کے جمیع مقلدین اور سارے محدثین و مفسرین کا یہی مذہب ہے۔ کیا مجال ہے کہ کوئی ان سے اس کے خلاف ایک حرف بھی نقل کر سکے۔ہاں کچھ دیگر فرقے جہمیہ اور معتزلہ اس صفت کے منکر ہیں، لہٰذا وہ اہلِ سنت و جماعت میں داخل نہیں ہیں۔ وباللّٰہ التوفیق۔
________________________________________________

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 143
*ان آیتوں کا بیان جن سے جہتِ فوق اور اللہ تعالیٰ کا مخلوق پر علو ثابت ہوتا ہے*

پہلی آیت:
﴿ قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ﴾[البقرۃ: ۱۴۴]
[یقینا ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں]
’’جلالین‘‘ وغیرہ میں ﴿فِی السَّمَآئِ﴾کی تفسیر یوں کی گئی ہے: ’’في جھۃ السمائ‘‘۔ ’’فتح الرحمٰن‘‘ میں ہے کہ ’’درجانب آسمان‘‘ [آسمان کی طرف میں]۔ ’’موضح القرآن‘‘ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں آسمان کی طرف نگاہ کرتے کہ شاید فرشتہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم لاتا ہو۔ انتھیٰ۔ طرف، جانب اور جہت کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں۔
دوسری آیت:
﴿ اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ﴾[آل عمران: ۵۵]
[جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ! بے شک میں تجھے قبض کرنے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں]
’’فتح الرحمٰن‘‘ میں ہے: ’’بر دارندۂ توام بسوئے خود‘‘ [تمھیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں] اس تفسیر میں آنے والے لفظ ’’سوئے‘‘ اور لفظ جہت کے ایک معنی ہیں، فرق صرف عربی اور فارسی کا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کو دوسرے آسمان پر پایا۔[1] یہ حدیث اس آیت کی تصدیق کرتی ہے جس سے جہتِ فوق ثابت ہوتی ہے، کیونکہ باتفاق
________________________________________________
[1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۶۷۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۳)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 144
عقل و نقل و حس آسمان زمین کے اوپر ہے، نیچے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا﴾[النبأ: ۱۲]
[اور ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے]
تیسری آیت:
﴿ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ﴾[النساء: ۱۵۸] [بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا ]
تفسیر ’’فتح الرحمٰن‘‘ میں ہے کہ ’’بلکہ برداشت او را خدا بسوئے خود‘‘ [بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا] انتھیٰ۔ حدیث مذکور سے ثابت ہوا کہ یہ اٹھانا فوق کی طرف تھا، جو تحت کے مقابلے میں ہے نہ کہ کسی اور طرف۔ ’’رفع‘‘ لغتِ عرب میں ’’خفص‘‘ کے بالمقابل اوپر کی طرف اٹھانے کو کہتے ہیں۔
چوتھی آیت:
﴿ وَ ھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ﴾[الأنعام: ۶۱]
[اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے]
تفسیر ’’فتح الرحمٰن‘‘ میں اس آیت کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے: ’’اوست غالب بالائے بندگان میفرستد برشما ملائکہ نگاہبان‘‘ [وہ اپنے بندوں پر غالب ہے تم پر نگران فرشتے بھیجتا ہے] انتھیٰ۔ اس آیت میں ’’فوق‘‘ جہت کے معنی میں ہے نہ کہ ’’علیٰ‘‘ کے معنی میں، اس لیے کہ اگر یہ ’’علیٰ‘‘ کے معنی میں ہوتا تو اس کا ترجمہ ’’بَر‘‘ ہوتا نہ کہ ’’بالا‘‘۔ دوسرے یہ کہ فرشتوں کا بھیجنا بھی اسی مدعا پر دلالت کرتا ہے۔ یہ آیت اس سورت میں دو بار آئی ہے۔
پانچویں آیت:
﴿ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْم بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِھِمْ﴾
[الأعراف: ۱۷]
[پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے آؤں گا]
یعنی جہتِ فوق کے سوا میں ہر جہت سے ان کے پاس آؤں گا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شیطان نے بندوں کو بہکانے کے لیے چار جہتوں کو ذکر کیا، یہ نہیں کہا کہ میں ان کے اوپر
________________________________________________

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 145
سے آؤں گا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اوپر ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: شیطان ہر طرف سے تمھارے پاس آتا ہے، مگر اوپر کی طرف سے نہیں آتا، اس کو یہ قدرت حاصل نہیں ہے کہ تمھارے اور اللہ کی رحمت کے درمیان حائل ہو سکے۔[1] انتھیٰ۔
چھٹی آیت:
﴿ یَخَافُوْنَ رَبَّھُمْ مِّنْ فَوْقِھِمْ﴾[النحل: ۵۰]
[وہ اپنے رب سے، جو ان کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں]
تفسیر ’’موضح القرآن‘‘ میں ہے کہ ہر بندے کے دل میں ہے کہ میرے اوپر اللہ ہے اور یہ کہ بندہ اپنے آپ کو نیچے سمجھتا ہے۔ انتھیٰ۔
ساتویں آیت:
﴿ وَ رَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا﴾[مریم: ۵۷] [اور ہم نے اسے بہت اونچے مقام پر بلند کیا]
تفسیر ’’فتح الرحمن‘‘ میں ہے: ’’یعنی بر آسمان‘‘ [یعنی آسمان پر] انتھی۔ تفسیر ’’موضح القرآن‘‘ میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات آسمان پر ملے تھے۔ انتھیٰ۔ تفسیر ’’جلالین‘‘ میں ہے کہ وہ چوتھے یا چھٹے یا ساتویں آسمان پر یا جنت میں زندہ ہیں۔ انتھیٰ۔ جنت بھی سدرۃ المنتہیٰ کے قریب آسمان پر ہے۔
آٹھویں آیت:
﴿ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ﴾[السجدۃ: ۵]
[وہ آسمان سے زمین تک (ہر) معاملے کی تدبیر کرتا ہے، پھر وہ (معاملہ) اس کی طرف ایسے دن میں اوپر جاتا ہے جس کی مقدار ہزار سال ہے، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو]
تفسیر ’’موضح القرآن‘‘ میں ہے کہ عرش سے بڑے بڑے کام مقرر ہو کر ان کا حکم نیچے اترتا ہے، اس کے سب اسباب آسمان سے جمع ہو کر بن جاتے ہیں، پھر ایک مدت تک وہ حکم جاری رہتا
________________________________________________
[1] تفسیر ابن کثیر (۲/۲۷۳)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 146
ہے، پھر وہ اللہ کی طرف اٹھ جاتا ہے۔ پھر دوسرا رنگ اترتا ہے۔ انتھیٰ۔
نویں آیت:
﴿ حَتّٰی ۔ٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِھِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ﴾[سبأ: ۲۳]
[یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں تمھارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں حق (فرمایا) اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے]
تفسیر ’’موضح القرآن‘‘ میں ہے کہ جب اوپر سے اللہ کا حکم اترتا ہے تو یوں آواز آتی ہے جیسے پتھر پر زنجیر لگنے کی آواز تو فرشتے مارے ڈر کے تھر تھرانے لگتے ہیں، انتھیٰ۔ اصل میں یہ ایک حدیث کا مضمون ہے۔[1]
دسویں آیت:
﴿ اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ﴾[الفاطر: ۱۰]
[اسی کی طرف ہر پا کیزہ بات چڑھتی ہے اور نیک عمل اسے بلند کرتا ہے]
تفسیر ’’فتح الرحمن‘‘ میں ہے: ’’بسوئے او بالا میرود سخن پاک و عمل صالح بلند میگرداندش خدا‘‘ [پاک کلمہ اسی کی طرف بلند ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمل صالح کو بلند کرتا ہے] انتھیٰ۔
’’صعود‘‘ اور ’’رفع‘‘ اوپر کی طرف کو جسے جہت فوق اور علو کہتے ہیں، ہوتا ہے نہ کہ کسی اور طرف۔
گیارھویں آیت:
﴿ یٰھَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ * اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِِلٰٓی اِِلٰہِ مُوْسٰی وَاِِنِّیْ لَاَظُنُّہُ کَاذِبًا﴾[الغافر: ۳۶۔۳۷]
[میرے لیے ایک بلند عمارت بنا، تاکہ میں راستوں پر پہنچ جاؤں ۔آسمانوں کے راستوں پر، پس موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں اور بے شک میں اسے یقینا جھوٹا گمان کرتا ہوں]
کتاب ’’تنزیہ الذات والصفات‘‘، ’’فرع نابت‘‘ اور ’’اعلام الموقعین‘‘ میں لکھا ہے کہ فرعون نے یہ اس وقت کہا تھا جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میرا رب آسمان پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ
________________________________________________
[1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۴۲۴) نیز دیکھیں: تفسیر ابن جریر (۱۰/۳۷۲)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 147
پہلے پیغمبر بھی یہی کہتے تھے کہ اللہ آسمان پر ہے نہ کہ زمین پر اور نہ زمین کے نیچے، اور پہلی شریعتوں میں یہی بات مقرر تھی، لہٰذا جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوپر ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا، وہ فرعون کا بھائی ہے۔[1]
بارھویں آیت:
﴿ ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الاَرْضَ﴾[الملک: ۱۶]
[کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمھیں زمین میں دھنسا دے؟]
تفسیر ’’فتح الرحمن‘‘ میں ہے: ’’آیا ایمن شدہ اید از کسی کہ در آسمان ست از آنکہ فرو برد شمارا بزمین‘‘ [کیا تم آسمان والے (اللہ) سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمھیں زمین میں دھنسا دے] انتھیٰ۔
یہ آیت سورت ملک میں ان الفاظ سے مکرر ہے:
﴿ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا﴾[الملک: ۱۷]
[یا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھراؤ والی آندھی بھیج دے؟]
لہٰذا کسی چیز کا اوپر کی طرف سے ڈالنا نیچے کی طرف کو ہوتا ہے۔
تیرھویں آیت:
﴿ تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِینَ اَلْفَ سَنَۃٍ﴾
[المعارج: ۴]
[فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، (وہ عذاب ) ایک ایسے دن میں(ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے]
قاضی عیاض رحمہ اللہ کی کتاب ’’الشفائ‘‘ کی شرح ’’نسیم الریاض‘‘ میں ہے کہ عروج کا معنی جہتِ علو میں چڑھنا ہے۔ انتھیٰ۔ علاوہ ازیں خود اس سورت کا نام ’’المعارج‘‘ جہتِ فوق پر دلالت کرتا ہے۔
مذکورہ بالا تیرہ آیات سے اللہ تعالیٰ کے لیے جہتِ فوق اور علو پوری صراحت کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ متکلمہ، فرعونیہ، جہمیہ اور معتزلہ فرقوں کے لوگ صفتِ استوا اور جہتِ فوق کے منکر ہیں اور ان آیات کی تاویل کرتے ہیں، مگر ان کا اللہ تعالیٰ کی صفتِ استوا اور جہتِ فوق سے انکار کرنا بے جہت ہے۔
________________________________________________
[1] تنزیہ الذات والصفات لابن العطاس (ص: ۵۷) إعلام الموقعین لابن القیم (۲/۳۰۲)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 148
*ان حدیثوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ کے لیے جہتِ فوق اور علو ثابت ہوتا ہے*

پہلی حدیث:
(( فَعَلَا بِہِ إِلَی الْجَبَّارِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی، فَقَالَ وَہُوَ مَکَانَہُ )) (رواہ البخاري) [1]
[پس وہ(جبریل) آپ کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی اور وہ اپنی جگہ پر تھا]
اس حدیث میں جگہ سے مراد عرش ہے، لہٰذا اس حدیث سے علو اور استوا دونوں ثابت ہوئے۔
دوسری حدیث:
(( اِرْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ )) (رواہ البخاري) [2] [تم اپنے رب کی طرف لوٹو]
اس حدیث میں لوٹنا عرش کی جانب جہتِ فوق میں تھا۔
تیسری حدیث:
(( أَنَا أَمِیْنُ مَنْ فِيْ السَّمَائِ )) (متفق علیہ)[3] [میں آسمان والے کا امین ہوں]
اس حدیث میں بہ طریقِ مجاز آسمان سے مراد عرش ہے۔
چوتھی حدیث:
چوتھی حدیث لونڈی والی ہے:
________________________________________________
[1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۷۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۷۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۲) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۰۹۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۴)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 149
(( فَقَالَ لَہَا: أَیْنَ اللّٰہُ؟ قَالَتْ: فِيْ السَّمَائِ۔ قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہٗ، قَالَ: أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ )) (رواہ مسلم)[1]
[آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس لونڈی نے کہا: آسمان میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس لونڈی نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کے مالک سے فرمایا: اسے آزاد کر دے، کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے]
دوسری روایت میں یوں آیا ہے کہ اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔[2] یہ حدیث کئی سندوں سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان الفاظ میں اس لونڈی سے سوال کرنا کہ ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ اور اس کا جواب دینا کہ ’’اللہ آسمان میں ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے لیے جہتِ فوق و علو کی تعیین پر صریح دلالت کرتا ہے۔
پانچویں حدیث:
(( رَبُّنَا اللّٰہُ الَّذِيْ فِيْ السَّمَآئِ )) (رواہ أبوداؤد) [3]
[ہمارا رب وہ ہے جو آسمانوں میں ہے]
اس حدیث میں بھی جہتِ فوق کی کمال صراحت ہے اور مفہوم مخالف کے پیش نظر جہتِ تحت کی نفی ہے۔
چھٹی حدیث:
(( اِرْحَمُوْا مَنْ فِيْ الْأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَّنْ فِيْ السَّمَآئِ )) (رواہ الترمذي) [4]
[رحم کرو اُس شخص پر جو زمین میں ہے، رحم کر ے گا تم پر وہ جو آسمان میں ہے]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
________________________________________________
[1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۵۳۷) [2] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۳۲۸۴) اس کی سند میں ’’عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی‘‘ راوی مختلط ہے، لہٰذا یہ اشارے والی سند ضعیف ہے۔ [3] سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۳۸۹۲) [4] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۹۲۴)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 150
ساتویں حدیث:
اہلِ جنت کے دیدارِ الٰہی کے متعلق بیان ہے:
(( فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَیْھِمْ مِّنْ فَوْ قِھِمْ )) (رواہ ابن ماجہ) [1]
[یکا یک ان کے رب نے ان کے اوپر سے ان پر جھانکا]
کیونکہ جنت عرشِ الٰہی کے نیچے ہو گی اور جنت کی چھت اللہ تعالیٰ کا عرش ہو گا۔ اس حدیث کے لفظ ’’فَوق‘‘ کو ’’فُوْق‘‘ فا کے ضمے سے بھی پڑھا گیا ہے، جس کا معنی سقف یعنی چھت ہے۔ مطلب دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے۔ و اللّٰہ اعلم
آٹھویں حدیث:
(( یَنْزِلُ رَبُّنَا کُلَّ لَیْلَۃٍ إِلَی السَّمَآئِ الدُّنْیَا )) (متفق علیہ) [2]
[ہمارا رب ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف اترتا ہے]
اس حدیث سے جس طرح جہتِ علو ثابت ہوتی ہے، اسی طرح نزول کی صفت بھی ثابت ہوتی ہے، اس کی کیفیت نا معلوم ہے، مگر اس پر ایمان لانا واجب ہے۔
نویں حدیث:
(( ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِیْنَ بَاتُوْا فِیْکُمْ )) (رواہ البخاري و مسلم) [3]
[پھر وہ فرشتے چڑھتے ہیں جنھوں نے تم میں رات گزاری ہوتی ہے]
عروج اوپر کی طرف چڑھنے کو کہتے ہیں، جیسے پہلے بھی یہ بات گزری ہے۔
دسویں حدیث:
(( إِلَّا کَانَ الَّذِيْ فِيْ السَّمَآئِ سَاخِطاً عَلَیْھَا )) (أخرجہ مسلم) [4]
[مگر وہ (اللہ) جو آسمان میں ہے اس (عورت) پر خفا ہو گا]
یعنی جو خاوند کے بلانے پر اس کے پاس نہ جائے گی۔
________________________________________________
[1] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۸۴) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۰۹۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۷۵۸) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۴۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۶۳۲) [4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۴۳۶)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 151
گیارھویں حدیث:
(( اَللّٰھُمَّ إِنَّکَ وَاحِدٌ فِيْ السَّمَآئِ وَأَناَ وَاحِدٌ فِيْ الْأَرْضِ )) (وسندہ حسن) [1]
[اے اللہ! تو ایک ہے آسمان میں اور میں ایک ہوں زمین میں]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ملت ابراہیمی میں بھی یہی بات مقرر تھی کہ اللہ آسمان پر ہے اور ہماری ملت وہی ملت حنیفی ہے، إلا ماشاء اللّٰہ تعالیٰ۔
بارھویں حدیث:
(( ثُمَّ یَعْرُجُ بِھَآ إِلَی السَّمَآئِ فَیُفْتَحُ لَھَا حَتّٰی یَنْتَھِيَ بِھَآ إِلَی السَّمَآئِ الَّتِيْ فِیْھَا اللّٰہُ )) (رواہ ابن ماجہ) [2]
[پھر فرشتے اس (نماز) کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں تو اس کے لیے دروازہ کھولا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے لے کر اس آسمان تک جا پہنچتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ ہے]
اس حدیث میں اس طرح فوق و علو کی تعیین کی صراحت ہے کہ اس سے زیادہ صراحت کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔
تیرھویں حدیث:
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے متعلق مروی ہے:
(( فَإِذَا تَفَرَّقُوْا عَرَجُوْا وَصَعِدُوا إِلَی السَّمَائِ قَالَ: فَیَسْأَلُہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِمْ مِنْ أَیْنَ جِئْتُمْ؟ فَیَقُولُوْنَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَکَ فِيْ الْأَرْضِ یُسَبِّحُوْنَکَ )) (رواہ مسلم) [3]
[پس جب وہ متفرق ہو جاتے ہیں تو وہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اللہ رب العزت ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ بہ خوبی جانتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہم زمین میں تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح کرتے ہیں]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے آسمان پر ہے اور اس کا علم ہر
________________________________________________
[1] حلیۃ الأولیاء لأبي نعیم (۱/۱۹) اس کی سند میں ’’ابو جعفر‘‘ اور ’’محمد بن یزید رفاعی‘‘ دونوں راوی ضعیف ہیں۔ [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۲۶۲) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۸۹)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 152
جگہ ہے۔ اگر وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر جگہ ہوتا تو فرشتے آسمان پر کس لیے جاتے اور کس کے پاس جاتے؟ یہاں آسمان بہ مقابلہ زمین واقع ہوا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس جگہ فوق و علو سے مراد جہت ہے نہ کہ فوقیتِ رتبہ۔
چودھویں حدیث:
قصہ معراج میں ہے:
(( اِنْتَہیٰ بِہٖ إِلٰی سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی وَہِيَ فِيْ السَّمَائِ السَّادِسَۃِ إِلَیْہَا یَنْتَھِيْ مَا یُعْرَجُ بِہٖ مِنَ الْأَرْضِ فَیُقْبَضُ مِنْہَا وَإِلَیْہَا یَنْتَھِيْ مَا یُہْبَطُ بِہٖ مِنْ فَوْقِہَا ))
(رواہ ابن عرفۃ و أبو نعیم في الدلائل عن ابن مسعود) [1]
[(آپ صلی اللہ علیہ وسلم) کو سدرۃ المنتہی بھی لے جایا گیا جو چھٹے آسمان میں ہے اور زمین سے اوپر چڑھنے والی چیزوں کی آخری حد یہی ہے، یہاں سے ان چیزوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور آسمان سے اترنے والی چیزیں بھی یہیں آکر رکتی ہیں]
اس حدیث میں بھی جہتِ فوق کی ایسی کمال صراحت ہے جس سے زیادہ صراحت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ واقعہ معراج پر کئی سندوں سے اور بھی احادیث مروی ہیں، ان سب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک آسمان سے دوسرے پر جانے کی صراحت پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساتویں آسمان پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہوتا، جیسے معتزلہ کہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر بلائے جانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پھر معراج مناقب نبویہ میں کیوں کر شمار ہوتا اور اس معراج کا منکر کس طرح بدعتی اور گمراہ قرار دیا جاتا؟
اسی طرح بنی آدم کی روحوں کے قبض ہونے سے متعلق بھی بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، ان میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ اوّلاً فرشتے روحوں کو اللہ کے پاس آسمان پر لے جاتے ہیں، پھر وہاںسے جو حکم ہوتا ہے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر ہے، مگر اس کا علم، قدرت اور سلطان ہر جگہ ہے۔
پندرھویں حدیث:
حجۃ الوداع کے قصے میں ہے:
________________________________________________
[1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۳)

🍀 کتاب: مجموعہ رسائل3,صفحہ نمبر: 153
(( أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟ فَقَالُوْا: نَعَمْ، فَجَعَلَ یَرْفَعُ إِصْبَعَہٗ إِلَی السَّمَآئِ وَ یَنْکُتُھَا وَ یَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ )) (أخرجہ مسلم) [1]
[کیا میں نے تم کو پہنچا دیا؟ تو انھوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان کی طرف اپنی انگلی اٹھانے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جھکاتے تھے اور ساتھ فرماتے: اے اللہ! گواہ رہنا]
اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمیوں کے روبرو انگلی اٹھائی، جن میں پڑھے لکھے، ان پڑھ، سمجھ دار، مرد، عورت، بوڑھے، لڑکے، شہری، دیہاتی، گنوار اور بدو؛ سب ہی طرح کے لوگ موجود تھے۔ یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر کا ہے جو نہایت راستی اور ایمانداری کا وقت ہوتا ہے۔ اس سے یہی مقصود تھا کہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کو ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر جان لیں۔ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں اتنے بڑے مجمع عظیم و عام میں، جبکہ غلط فہمی کا اندیشہ قوی و غالب تھا، کیوں ایسا لفظ بولتے اور ایسا کام کرتے جس کے ظاہر پر اعتقاد کرنا کفر ہوتا ہے، جس طرح جہمیہ اور معتزلہ کہتے ہیں۔
پھر تلاش بسیار کے باوجود ہمیں مذکورہ بالا اعتقاد کے معارض احادیث نہیں مل سکیں جو حجت و شہرت اور قوت میں ان جیسی ہوں اور مذکورہ احادیث میں موجود حکم کسی مساوی یا قوی نص کے بغیر رد نہیں ہو سکتا ہے، وباللّٰہ التوفیق۔
٭٭٭
________________________________________________
[1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۸۹)

🌹🌹🌹🌹🌹وما علینا الاالبلاغ🌹🌹🌹🌹🌹
 
Top