🌹"امر و حکام کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے"🌹
🌺 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
"اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو(رسول اللہ علیہ و سلم)کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔(١) پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ،اللّٰہ تعالیٰ کی طرف اور رسول(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف،اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔"(٢)
{سورۃ النسآء۔آیت نمبر: 59}
تفسیر:
💐٥٩۔ ١ مطلب یہ ہے کہ اصل اطاعت تو اللّٰہ تعالیٰ کی ہے کیونکہ حکم صرف اللّٰہ ہی کا ہے ' لیکن چونکہ رسول(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) خالص منشاء الٰہی ہی کا مظہر ہے اور اس کی مرضیات کا نمائندہ ہے۔ اس لئے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ رسول(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کو بھی مستقل طور پر واجب الاطاعت قرار دیا اور فرمایا کہ رسول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت دراصل اللّٰہ کی اطاعت ہے۔ (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ) 004:080 "جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللّٰہ کی اطاعت کی "جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث بھی اسی طرح دین کا مأخذ ہے جس طرح قرآن کریم۔ تاہم امر و احکام کی اطاعت بھی ضروری ہے کیونکہ وہ یا تو اللّٰہ اور اس کے رسول(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کا نفاذ کرتے ہیں۔ یا امت کے اجتماعی مصالح کا انتظام اور نگہداشت کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ امر و حکام کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے اللّٰہ و رسول(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے ساتھ۔ اسی لیے اطیعوا اللّٰہ کے بعد اطیعوا الرسول تو کہا کیونکہ یہ دونوں اطاعتیں مستقل اور واجب ہیں لیکن اطیعوا اولی الامر نہیں کہا کیونکہ اولی الامر کی اطاعت مستقل نہیں اور حدیث میں بھی کہا گیا ہے۔
🌼(لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق)(وقال الالبانی حدیث صحیح۔ مشکٰوۃ نمبر ٦٩٦ فی لفظ لمسلم لا طاعۃ فیی معصیۃ اللّٰہ کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فر غیر معصیۃ حدیث نمبر ١٨٤٠اور(انما الطاعۃ فی المعروف)(صحیح بخاری کتاب الاحکام باب نمبر ٤)
(السمع والطاعۃ للامام مالم رکن معصیۃ)"معصیت میں اطاعت نہیں،اطاعت صرف معروف میں ہے۔"
یہی حال علما و فقہا کا بھی ہے۔
(اگر اولوا لامر میں ان کو بھی شامل کیا جائے) یعنی ان کی اطاعت اس لیے کرنی ہوگی کہ وہ اللّٰہ اور اس کے رسول کے احکام و فرمودات بیان کرتے ہیں اور اس کے دین کی طرف ارشاد و ہدایت اور راہمنائی کا کام کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ علماء و فقہا بھی دینی امور و معاملات میں حکام کی طرح یقینا مرجع عوام ہیں لیکن ان کی اطاعت بھی صرف اس وقت تک کی جائے گی جب تک کہ عوام کو صرف اللّٰہ اور اس کے رسول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات بتلائیں لیکن اگر وہ اس سے انحراف کریں تو عوام کے لیے ان کی اطاعت بھی ضروری نہیں بلکہ انحراف کی صورت میں جانتے بوجھتے ان کی اطاعت کرنا سخت معصیت اور گناہ ہے۔
٥٩۔ ٢ اللّٰہ کی طرف لوٹانے سے مُراد قرآنِ کریم اور رسول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) سے مُراد اب حدیثِ رسول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) ہے یہ تنازعات کے ختم کرنے کے لیے ایک بہترین اصول بتلا دیا گیا ہے اس اصول سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی تیسری شخصیت کی اطاعت واجب نہیں جس طرح تقلید شخصی یا تقلید معین کے قائلین نے ایک تیسری اطاعت کو واجب قرار دے رکھا ہے اور اسی تیسری اطاعت نے جو قرآن کی اس آیت کے صریح مخالف ہے مسلمانوں کو اُمت متحدہ کی بجائے اُمت منتشرہ بنا رکھا ہے اور ان کے اتحاد کو تقریبا ناممکن بنا دیا ہے۔


💐[٩١] اسلامی حکومت کے چار اصول :۔ اس آیت میں ایک اسلامی حکومت کی چار مستقل بنیادوں کا ذکر کیا گیا ہے :
١۔ اسلامی نظام میں اصل مطاع صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی کائنات کا خالق و مالک ہے لہٰذا ہر طرح کے قانونی اور سیاسی اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ آج کی زبان میں یوں کہیے کہ قانونی اور سیاسی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ قانون سازی اور حلت و حرمت اور اوامر و نواہی کے اختیارات اسی کے لیے ہیں۔
اس وقت دنیا میں جس قدر نظام ہائے سیاست رائج ہیں ان سب میں مقتدر اعلیٰ یا کوئی انسان ہوتا ہے یا ادارہ۔ جبکہ اسلامی نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ کوئی انسان یا ادارہ نہیں ہوسکتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور یہی اصل اس نظام سیاست کو دوسرے تمام نظام ہائے سیاست سے ممتاز کرتی ہے۔
جمہوریت خلافت کی ضد ہے :۔ آج کل بیشتر ممالک میں خواہ وہ مسلم ملک ہوں یا غیر مسلم۔ جمہوری نظام سیاست ہی رائج ہے۔ جمہوری نظام سیاست میں سیاسی مقتدر اعلیٰ تو عوام ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں اور قانونی مقتدر اعلیٰ پارلیمنٹ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی کے جملہ اور وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں جنہیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور عدالتوں کا کام محض یہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے کریں۔ اس لحاظ سے یہ نظام مردود اور نظام خلافت کی عین ضد ہے۔
٢۔ رسول کی اطاعت اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس اللہ کے احکام کی اس کی منشاء کے مطابق بجاآوری کا رسول کی اطاعت کے بغیر کوئی ذریعہ نہیں۔ لہٰذا رسول کی اطاعت بھی حقیقتاً اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے اللہ کی اور رسول کی اطاعت ایک ہی اطاعت قرار پاتی ہے۔ علاوہ ازیں رسول کی اطاعت کی ایک مستقل حیثیت بھی ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ جہاں کتاب اللہ خاموش ہو اور رسول ہمیں کوئی حکم دے۔ خواہ یہ حکم قانون سے تعلق رکھتا ہو یعنی حلت و حرمت سے متعلق ہو یا اوامر و نواہی سے تو ایسا حکم ماننا بھی ہم پر ایسے ہی فرض ہے جیسے اللہ کی اطاعت اور چونکہ ایسی اطاعت کا بھی اللہ نے خود ہمیں حکم دیا ہے تو اس لحاظ سے یہ بھی اللہ کی اطاعت کے تحت آ جاتی ہے۔
٣۔ تیسری اطاعت ان حکام کی ہے جو مسلمان ہوں۔ حکام (اولی الامر) سے مراد وہ ہر قسم کے حکام ہیں جو کسی ذمہ دارانہ منصب پر فائز ہوں۔ یہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا عدلیہ سے یا علماء مجتہدین سے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تو غیر مشروط ہوتی ہے لیکن اولی الامر کی اطاعت صرف اس صورت میں ہوگی جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے خلاف نہ ہو۔ اگر خلاف ہو تو اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
٤۔ اور چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اگر کسی حاکم کے اور رعایا کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہوجائے، تو ایسا معاملہ (آپ کی زندگی میں) آپ کی طرف اور (آپ کی زندگی کے بعد) کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اور حَکَم کی حیثیت کتاب و سنت کی ہوگی۔
اور آخر میں یہ بتا دیا گیا کہ اگر تم نے ان چار اصولوں میں سے کسی بھی اصول میں کوتاہی کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ اور اگر تمہارا اللہ اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ سچا ہے تو تمہیں بہرحال ان چار اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا اور جب تک تم نے ان چاروں امور کا خیال رکھا اس وقت تک تمہارے اخلاق و کردار درست اور تمہاری حکومت مستحکم رہے گی۔
امیر یا حاکم کی اطاعت کس قدر ضروری ہے اور کن حالات میں ضروری ہے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
١۔ اطاعت امیر کی اہمیت اور حدود :۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء۔۔ بخاری، کتاب الاحکام۔ باب قولہ اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول۔۔)
٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر شخص پر امیر کا حکم سننا اور اسے ماننا فرض ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے اور اگر اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر نہ ایسے حکم کو سننا لازم ہے اور نہ اس کی اطاعت‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام، باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ)
٣۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص امیر کی اطاعت اور جماعت سے الگ ہوا، پھر اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جو شخص کسی اندھے (جھنڈے) کے تحت لڑائی کرے اور تعصب کے لیے جوش دلائے یا تعصب کی طرف بلائے اور تعصب کے لیے مدد کرے پھر مارا جائے تو وہ بھی جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب ملازمۃ المسلمین)
٤۔ سیدنا حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔ (امیر کا حکم) سننا اور اطاعت کرنا، جہاد کرنا، ہجرت کرنا اور جماعت (سے چمٹے رہنا) کیونکہ جو شخص بالشت بھر بھی جماعت سے الگ ہوا اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔ الا یہ کہ وہ واپس لوٹ آئے۔‘‘ (ترمذی ابو اب الامثال)
٥۔ امیر سے تنازعہ :۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روا نہ کیا اور اس کا امیر ایک انصاری (عبداللہ بن حذافہ) کو مقرر کیا اور لشکر کو ان کی اطاعت کا حکم دیا۔ وہ امیر ان سے کسی بات پر خفا ہوگیا اور ان سے پوچھا ’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا تھا۔‘‘ وہ کہنے لگے ’’کیوں نہیں؟‘‘ امیر نے کہا ’’اچھا تو ایندھن جمع کرو اور آگ جلاؤ اور اس میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی اور جب داخل ہونے کا ارادہ کیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ کسی نے کہا ’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہی اس لیے کی ہے کہ آگ سے بچ جائیں، تو کیا ہم آگ میں داخل ہوں؟‘‘ اتنے میں آگ بجھ گئی اور امیر کا غصہ بھی ٹھنڈا ہوگیا۔ اس بات کا ذکر آپ سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے۔ اطاعت تو صرف معروف کاموں میں ہے۔‘‘ اور مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔ اطاعت صرف معروف کاموں میں ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب الاحکام۔ باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔۔ مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ)
٦۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عنقریب فتنے فساد ہوں گے تو جو اس امت کے معاملہ میں تفرقہ ڈالے جبکہ وہ متحدہ ہو۔۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جماعت کا کسی ایک شخص پر اتحاد و اتفاق ہو اور وہ شخص تمہاری جمعیت میں پھوٹ ڈالنا چاہے تو اس کی گردن اڑا دو۔ خواہ وہ کوئی ہو۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب من فرق امر المومنین و ہو مجتمع)
یہ تو اطاعت امیر سے متعلقہ احکام تھے۔ اب امیر سے تنازعہ کا مسئلہ یوں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مکان اس میں رکاوٹ تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا بلکہ انہیں مجبور کیا کہ وہ جائز قیمت لے کر مکان دے دیں لیکن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کو فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ تنازعہ بڑھ گیا تو فریقین نے جن میں مدعی حکومت وقت یا امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے اور مدعا علیہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اپنا ثالث (یا عدالت) بنانا منظور کرلیا۔ تنقیح طلب معاملہ یہ تھا کہ اسلام انفرادی ملکیت کو کس قدر تحفظ دیتا ہے اور آیا اجتماعی مفاد کی خاطر انفرادی مفادات کو قربان کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ کتاب و سنت کی رو سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس مقدمہ کا فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف دے دیا۔ جب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مقدمہ جیت لیا تو انہوں نے یہ مکان بلاقیمت ہی مسجد کی توسیع کے لیے دے دیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنازعہ دراصل مکان کی فروخت کا نہیں بلکہ ضد بازی اور امیر اور اس کی رعیت کے درمیان اپنے اپنے حقوق کی تحقیق سے تعلق رکھتا تھا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مکان فروخت کردینے پر مجبور کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جو اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ کسی چیز کا مالک اسے بیچنے یا نہ بیچنے کے مکمل اختیارات رکھتا ہے، تو وہ بھی احقاق حق کے لیے ڈٹ گئے اور ثالث نے فیصلہ بھی انہی کے حق میں دیا۔
سیاسی تنازعات اور ان کا حل :۔ تنازعات کی دوسری قسم وہ ہے جو دو گروہوں یا دو قوموں یا دو ملکوں کے درمیان ہوتے ہیں، جسے ہم سیاسی تنازعات کہہ سکتے ہیں اور ایسے تنازعات نے امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ آپ نے جو امت تشکیل فرمائی تھی اس میں حبشی، رومی، فارسی، عربی، گورے اور کالے مہاجر اور انصار سب بنیادی طور پر ہم مرتبہ تھے۔ اگر کسی کو تفوق اور فضیلت تھی تو محض تقویٰ کی بنا پر تھی اور یہی قرآن کی تعلیم تھی۔ لیکن آج اس وحدت پر سب سے زیادہ کاری ضرب قوم و وطن کے موجودہ نظریہ نے لگائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے معروف خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا تھا کہ ’’لوگو! بے شک تمہارا پروردگار ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں۔ برتری صرف تقویٰ کی بنا پر ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔‘‘
وطن اور علاقہ یا زبان کے اختلاف کی بنیاد پر قوموں کی جداگانہ تشکیل یورپ کی پیدا کردہ لعنت ہے۔ وطن پرستی، علاقہ پرستی۔ زبان پرستی اور رنگ پرستی ہی آج کے سب سے بڑے معبود ہیں جن کی خاطر لوگ آپس میں الجھتے اور کٹتے مرتے ہیں۔ انہی باتوں نے امت مسلمہ کو بیسیوں ممالک میں اور پھر ذیلی تقسیم میں تقسیم در تقسیم کے ذریعہ ذلیل و خوار کیا اور تباہی اور بربادی کے جہنم میں دھکیل دیا ہے اور اس جہنم سے نجات صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ کتاب و سنت کو حکم تسلیم کیا جائے اور اپنے آپ کو کتاب و سنت کی تعلیم کے سانچہ میں ڈھالا جائے۔
مذہبی تنازعات اور ان کا حل :۔ تنازعات اور اختلافات کی تیسری بڑی نوع فقہی اور مذہبی اختلافات ہیں۔ اور ہمارے علماء اور فقہاء بھی اولی الامرمنکم کے زمرہ میں آتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج کل چار فقہیں یا چار مذاہب رائج ہیں جو اپنی اپنی فقہ کو سینہ سے چمٹائے ہوئے ہیں اور ان میں اس قدر تعصب پیدا ہوچکا ہے کہ ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر اور دوسروں کو غلط سمجھتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سب کا ایک ہے اور سنت بھی ایک ہے لیکن فقہ چار ہیں اور اگر شیعہ حضرات کی فقہ جعفریہ کو بھی شامل کرلیں تو پانچ ہیں۔
فقہ یا قیاس دین کی بنیاد نہیں ہے :۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی فقہ دین کی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایک مخصوص فقہ پر اصرار کرنا واجب ہے نیز اس سے دوسرا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اگر پہلے سے پانچ فقہ موجود ہیں تو موجودہ زمانہ کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اجتہاد کر کے اگر چھٹی فقہ بھی مرتب کرلی جائے تو اس میں کچھ ہرج نہیں ہے مگر برا ہو تعصب اور اندھی عقیدت کا جس نے تقلید شخصی جیسی قابل مذمت روایت کو جنم دیا۔ پھر صرف جنم ہی نہیں دیا بلکہ اسے واجب قرار دے دیا اور آئندہ کے لیے اجتہاد کے دروازہ کو بند کردیا گیا ایسے تنازعات کو ختم کرنے کا بھی واحد حل یہی ہے کہ ہر فقہ کے مسئلہ کو کتاب و سنت پر پیش کیا جائے اور تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جو اجتہادی مسئلہ کتاب و سنت کے مطابق یا زیادہ اقرب ہو اسے قبول کرلیا جائے باقی کو چھوڑ دیا جائے۔
ہر قسم کے نظاموں اور فرقوں کی بنیاد کوئی بدعی عقیدہ یا عمل ہوتا ہے :۔ واضح رہے کہ جتنے بھی مذہبی فرقے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی بدعی عقیدہ ضرور شامل ہوتا ہے اور جب تک کوئی بدعی عقیدہ شامل نہ ہو یا شامل نہ کیا جائے کوئی نیا فرقہ وجود میں آ ہی نہیں سکتا۔ مثلاً چار مذاہب میں بدعی عقیدہ صرف اپنے اپنے امام کی تقلید، تقلید شخصی کا وجوب اور آئندہ کے لیے اجتہاد کے دروازہ کو تاقیامت بند رکھنا ہے۔ شیعہ حضرات کا سب سے بڑا بدعی عقیدہ بارہ اماموں کی تعیین اور انہیں معصوم عن الخطاء سمجھنا صرف انہی کے اقوال کو قبول کرنا ہے۔ نیچریوں کا بدعی عقیدہ خوارق عادات امور اور معجزات سے انکار ہے وغیرہ وغیرہ، یہی حال سیاسی نظاموں کا ہے۔ جمہوریت کا بدعی عقیدہ اللہ تعالیٰ کے بجائے عوام کی بالادستی سمجھنا اور انہیں ہی طاقت کا سرچشمہ قرار دینا ہے۔ اشتراکیت کا بدعی عقیدہ انفرادی ملکیتوں کا غصب اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے انکار ہے۔ غرضیکہ جتنے بھی فرقے ہیں، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، ان کا کوئی نہ کوئی عقیدہ یا عمل ضرور کتاب و سنت کے خلاف ہوگا۔
عام تنازعات :۔ تنازعات کی چوتھی قسم ذاتی اور انفرادی معاملات کے جھگڑے ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی تنازعات کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں۔ خواہ ان کا تعلق اولی الامر سے ہو یا نہ ہو، جیسے بھی تنازعات ہوں ان سب کا واحد حل یہی ہے کہ انہیں کتاب و سنت پر پیش کیا جائے اور اپنے اعتقادات اور تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں بسر و چشم قبول کر کے ان کی تعمیل کی جائے۔


💐مشروط اطاعت امیر
صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹے سے لشکر میں عبداللہ بن حذافہ بن قیس کو بھیجا تھا ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ، ۱؎ (صحیح بخاری:4584) بخاری و مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا جس کی سرداری ایک انصاری رضی اللہ عنہ کو دی ایک مرتبہ وہ لوگوں پر سخت غصہ ہو گئے اور فرمانے لگے کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری فرمانبرداری کا حکم نہیں دیا ؟ سب نے کہا ہاں بیشک دیا ہے ، فرمانے لگے اچھا لکڑیاں جمع کرو پھر آگ منگوا کر لکڑیاں جلائیں پھر حکم دیا کہ تم اس آگ میں کود پڑو ۔ ایک نوجوان نے کہا لوگو سنو آگ سے بچنے کے لیے ہی تو ہم نے دامن رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پناہ لی ہے تم جلدی نہ کرو جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہ ہو جائے پھر اگر آپ بھی یہی فرمائیں تو بے جھجھک اس آگ میں کود پڑھنا چنانچہ یہ لوگ واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے فرمایا : ” اگر تم اس آگ میں کود پڑھتے تو ہمیشہ آگ ہی میں جلتے رہتے ۔ سنو فرمانبرداری صرف معروف میں ہے “ }۔ ۱؎ (صحیح بخاری:4340) ابوداؤد میں ہے کہ { مسلمان پر سننا اور ماننا فرض ہے جی چاہے یا طبیعت رو کے لیکن اس وقت تک کہ [ اللہ تعالیٰ اور رسول کی ] نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے ، جب نافرمانی کا حکم ملے تو نہ سنے نہ مانے } ۔ ۱؎ (صحیح بخاری:2955)

بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی کہ کام کے اہل سے اس کام کو نہ چھینیں ۔ لیکن جب تم ان کا کھلا کفر دیکھو جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی واضح الٰہی دلیل بھی ہو } ۔ ۱؎ (صحیح بخاری:7056) بخاری شریف میں ہے { سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام امیر بنایا گیا ہو چاہے کہ اس کا سر کشمکش ہے ۔ } ۱؎ (صحیح بخاری:693)

مسلم شریف میں ہے{ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے کی وصیت کی اگرچہ ناقص ہاتھ پاؤں والا حبشی غلام ہی ہو } ۔ ۱؎ (صحیح مسلم:1837)مسلم کی ہی اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا : ” چاہے تم پر غلام عامل بنایا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق تمہارا ساتھ چاہے تو تم اس کی سنو اور مانو “ ۔ایک روایت میں { غلام حبشی اعضاء کٹا کے الفاظ ہیں } ۔ ۱؎ (صحیح مسلم:1838)ابن جریر میں ہے کہ { میرے بعد والے تم سے ملیں گے نیکوں سے نیک اور بدوں سے بد تم ہر ایک اس امر میں جو مطابق ہو ان کی سنو اور مانو کہ میرے بعد نیک سے نیک اور بد سے بد تم کو ملیں گے تم پر ایک میں نے جو حق پر ہو اس کا سننا اور ماننا تم سے اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہو اگر وہ نیکی کریں گے۔ تو ان کے لیے نفع ہے اور تمہارے لیے بھی اور اگر وہ بدی کریں گے تو تمہارے لیے اچھائی ہے اور ان پر گناہوں کا بوجھ ہے ۔}۱؎(تفسیر ابن جریر الطبری:9881:ضعیف)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنو اسرائیل میں مسلسل لگاتار رسول آیا کرتے تھے ایک کے بعد ایک اور میرے بعد کوئی نبی نہیں مگر خلفاء بکثرت ہوں گے “ ، لوگوں نے پوچھا : پھر اے اللہ کے رسول ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : ” پہلے کی بیعت پوری کرو پھر اس کے بعد آنے والے کی ان کے حق انہیں دے دو اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعیت کے بارے میں سوال کرنے والا ہے “ } ۔ ۱؎(صحیح بخاری:3455){ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ”جو شخص اپنے امیر کا کوئی ناپسندیدہ کام دیکھے اسے صبر کرنا چاہیئے جو شخص جماعت کے بالشت بھر جدا ہو گیا پھر وہ جاہلیت کی موت مرے گا “ } ۔ ۱؎ (صحیح بخاری:7143) ارشاد ہے { جو شخص اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے حجت و دلیل بغیر ملاقات کرے گا اور جو اس حالت میں مرے کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا } ۔ ۱؎ (صحیح مسلم:1851)

عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں بیت اللہ شریف میں گیا دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کعبہ کے سایہ میں تشریف فرما ہیں اور لوگوں کا ایک مجمع جمع ہے میں بھی اس مجلس میں ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی فرمایا ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک منزل میں اُترے کوئی اپنا خیمہ ٹھیک کرنے لگا کوئی اپنے نیز سنبھالنے لگا کوئی کسی اور کام میں مشغول ہو گیا ، اچانک ہم نے سنا کہ منادی والا ندا دے رہا ہے۔ ہم ہمہ تن گوش ہو گئے ۔ اور سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں : ” ہر نبی پر اللہ کی طرف سے فرض ہوتا ہے کہ اپنی امت کو تمام نیکیاں جو وہ جانتا ہے سکھادے اور تمام برائیوں سے جو اس کی نگاہ میں ہیں انہیں آگاہ کر دے ۔ سنو میری امت کی عافیت کا زمانہ اول کا زمانہ ہے آخر زمانے میں بڑی بڑی بلائیں آئیں گی اور ایسے ایسے امور نازل ہوں گے جنہیں مسلمان ناپسند کریں گے اور ایک پر ایک فتنہ برپا ہو گا ایک ایسا وقت آئے گا کہ مومن سمجھ لے گا اسی میں میری ہلاکت ہے پھر وہ ہٹے گا ۔ تو دوسرا اس سے بھی بڑا آئے گا جس میں اسے اپنی ہلاکت کا کامل یقین ہو گا بس یونہی لگاتار فتنے اور زبردست آزمائشیں اور کامل تکلیفیں آتی رہیں گے پس جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ جہنم سے بچ جاٸے اور جنت کا مستحق ہو اسے چاہیئے کہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جو خود اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ سنو جس نے امام سے بیعت کر لی اس نے اپنا ہاتھ اس کے قبضہ میں اور دل کی تمنائیں اسے دے دیں ۔ اور اپنے دل کا پھل دے دیا اب اسے چاہیئے کہ اس کی اطاعت کرے اگر کوئی دوسرا اس سے خلافت چھیننا چاہے تو اس کی گردن اڑا دو “ ۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں یہ سن کر قریب گیا اور کہا آپ کو میں اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کیا خود آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے ؟ تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کان اور دل کی طرف بڑھا کر فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ان دو کانوں سے سنا اور میں نے اسے اپنے اس دل میں محفوظ رکھا ہے ۔ مگر آپ کے چچا زاد بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں اپنے مال باطل سے کھانے اور آپس میں ایک دوسرے سے جنگ کرنے کا حکم دیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کاموں سے ممانعت فرمائی ہے ، ارشاد ہے «یَا أَیٰہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُم بَیْنَکُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَکُمْ إِنَّ اللہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا» ۱؎ (4-النساء:29) اسے سن کر عبداللہ ذرا سی دیر خاموش رہے پھر فرمایا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اگر اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو اسے نہ مانو ۔ ۱؎
(صحیح مسلم:1844)

🌼اس بارے میں حدیثیں اور بھی بہت سی ہیں ۔
اسی آیت کی ممانعت کی تفسیر میں سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ{ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا جس کا امیر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنایا اس لشکر میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ لشکر جس قوم کی طرف جانا چاہتا تھا چلا ، رات کے وقت اس کی بستی کے پاس پہنچ کر پڑاؤ کیا ان لوگوں کو اپنے جاسوسوں سے پتہ چل گیا اور چھپ چھپ کر سب راتوں رات بھاگ کھڑے ہوئے ۔ صرف ایک شخص رہ گیا اس نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا انہوں نے اس کا سب اسباب جلا دیا یہ شخص رات کے اندھیرے میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے لشکر میں آیا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اے ابوالیقظان میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور گواہی دے طکا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں میری ساری قوم تمہارا آنا سن کر بھاگ گئی ہے صرف میں باقی رہ گیا ہوں تو کیا کل میرا یہ اسلام مجھے نفع دے گا ؟ اگر نفع نہ دے تو میں بھی بھاگ جاؤں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا یقیناً یہ اسلام تمہیں نفع دے گا تم نہ بھاگو بلکہ ٹھہرے رہو ۔ صبح کے وقت جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے لشکر کشی کی تو سوائے اس شخص کے وہاں کسی کو نہ پایا اسے اس کے مال سمیت گرفتار کر لیا گیا جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا اسے چھوڑ دیجئیے یہ اسلام لا چکا ہے اور میری پناہ میں ہے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کون ہو جو کسی کو پناہ دے سکو ؟ اس پر دونوں بزرگوں میں کچھ تیز کلامی ہو گئی اور قصہ بڑھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی پناہ کو جائز قرار دیا اور فرمایا آئندہ امیر کی طرف سے پناہ نہ دینا پھر دونوں میں کچھ تیز کلامی ہونے لگی اس پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حضور سے کہا اس ناک کٹے غلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کہتے ؟ دیکھئے تو یہ مجھے برا بھلا کہہ رہا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خالد ، عمار کو برا نہ کہو ، عمار کو گالیاں دینے والے کو اللہ گالیاں دے گا ، عمار سے دشمنی کرنے والے سے اللہ دشمنی رکھے گا ، عمار پر جو لعنت بھیجے گا اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو گی “ ۔ اب تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو لینے کے دینے پڑھ گئے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ غصہ میں چل دیئے ، آپ دوڑ کر ان کے پاس گئے ، دامن تھام لیا معذرت کی اور اپنی تقصیر معاف کرائی تب تک پیچھا نہ چھوڑا جب تک کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ راضی نہ ہو گئے ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۱؎
(تفسیر ابن جریر الطبری:9866:صحیح)

[ امر امارت و خلافت کے متعلق شرائط وغیرہ کا بیان «وَإِذْ قَالَ رَبٰکَ لِلْمَلَائِکَۃِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَۃً » ۱؎ (2-البقرۃ:30) کی تفسیر میں گزر چکا ہے وہاں ملاحظہ ہو ۔ مترجم ] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ رویات مروی ہے [ ابن جریر اور ابن مردویہ ] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں اولیٰ الامر سے مراد سمجھ بوجھ اور دین والے ہیں یعنی علماء ظاہر بات تو یہ معلوم ہوتی ہے آگے حقیقی علم اللہ کو ہے کہ یہ لفظ عام ہیں امراء علماء دونوں اس سے مراد ہیں جیسے کہ پہلے گزرا قرآن فرماتا ہے«لَوْلَا یَنْہَاہُمُ الرَّبَّانِیٰونَ وَالْأَحْبَارُ عَن قَوْلِہِمُ الْإِثْمَ وَأَکْلِہِمُ السٰحْتَ» ۱؎ (5-المائدۃ:63) یعنی ’ ان کے علماء نے انہیں جھوٹ بولنے اور حرام کھانے سے کیوں نہ روکا ؟ ‘ اور جگہ ہے «فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ » ۱؎ (16-النحل:43) ’ حدیث کے جاننے والوں سے پوچھ لیا کرو کہ اگر تمہیں علم نہ ہو ۔‘

صحیح حدیث میں ہے { «مَنْ أَطَاعَنِی فَقَدْ أَطَاعَ اللہَ وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ عَصَی اللہَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِیرِی فَقَدْ أَطَاعَنِی وَمَنْ عَصَی أَمِیرِی فَقَدْ عَصَانِی» میری اطاعت کرنے والا اللہ کی اطاعت کرنے والا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری فرمانبرداری کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی } ۱؎ (صحیح بخاری:7137) پس یہ ہیں احکام علماء امراء کی اطاعت کے اس آیت میں ارشاد ہوتا کے کہ اللہ کی اطاعت کرو یعنی اس کی کتاب کی اتباع کرو اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اے اللہ کے رسول ! یعنی اس کی سنتوں پر عمل کرو اور حکم والوں کی اطاعت کرو یعنی اس چیز میں جو اللہ کی اطاعت ہو ، اللہ کے فرمان کے خلاف اگر ان کا کوئی حکم ہو تو اطاعت نہ کرنی چاہیئے ایسے وقت علماء یا امراء کی ماننا حرام ہے جیسے کہ پہلی حدیث گزر چکی کہ { اطاعت صرف معروف میں ہے یعنی فرمان اللہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرے میں } ۔ مسند احمد میں ہے اس سے بھی زیادہ صاف حدیث ہے جس میں ہے { کسی کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے فرمان کے خلاف جائز نہیں } ۔ ۱؎
(مسند احمد:426/4:،قال الشیخ الألبانی:صحیح)
آگے چل کر فرمایا کہ اگر تم میں کسی بارے میں جھگڑ پڑے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف جیسے کہ مجاہد رحمہ اللہ کی تفسیر ہے ۱؎
(تفسیر ابن جریر الطبری:504/8)
پس یہاں صریح اور صاف لفظوں میں اللہ عزوجل کا حکم ہو رہا ہے کہ لوگ جس مسئلہ میں اختلاف کریں خواہ وہ مسئلہ اصول دین سے متعلق ہو خواہ فروغ دین سے متعلق اس کے تصفیہ کی صرف یہی صورت ہے کہ کتاب و سنت کو حاکم مان لیا جائے جو اس میں ہو وہ قبول کیا جائے ، جیسے اور آیت قرآنی میں ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ مِن شَیْءٍ فَحُکْمُہُ إِلَی اللہِ » ۱؎
(42-الشوری:10)
یعنی ’ اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہو جائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے ‘ پس کتاب و سنت جو حکم دے اور جس مسئلہ کی صحت کی شہادت دے وہی حق ہے باقی سب باطل ہے ، قرآن فرماتا ہے کہ حق کے بعد جو ہے ضلالت و گمراہی ہے ، اسی لیے یہاں بھی اس حکم کے ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو ، یعنی اگر تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو تو جس مسئلہ کا تمہیں علم نہ ہو یعنی جس مسئلہ میں اختلاف ہو ، جس امر میں جدا جدا آراء ہوں ان سب کا فیصلہ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرو جو ان دونوں میں ہو مان لیا کرو ۔

پس ثابت ہوا کہ جو شخص اختلافی مسائل کا تصفیہ کتاب و سنت کی طرف سے نہ لے جائے وہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جھگڑوں میں اور اختلافات میں کتاب اللہ و سنت رسول کی طرف فیصلہ لانا اور ان کی طرف رجوع کرنا ہی بہتر ہے ، اور یہی نیک انجام خوش آئند ہے اور یہی اچھے بدلے دلانے والا کام ہے ، بہت اچھی جزا اسی کا ثمر ہے ۔


💐پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے مشروع کردہ واجبات و مستحبات پر عمل اور ان کی منہیات سے اجتناب ہی کے ذریعے سے ہوسکتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اولوالامر سے مراد لوگوں پر مقرر کردہ حکام، امراء اور اصحاب فتویٰ ہیں کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اولوالامر کی اطاعت نہیں کرتے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اولوالامر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری ہرگز جائز نہیں۔ شاید یہی سرنہاں ہے کہ اولوالامر کی اطاعت کے حکم کے وقت فعل کو حذف کردیا گیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں لہٰذا جو کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ رہے اولوالامر تو ان کی اطاعت کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کا حکم معصیت نہ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے تمام تنازعات کو، خواہ یہ اصول دین میں ہوں یا فروع دین میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں، یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف کیونکہ تمام اختلافی مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے یا تو ان اختلافات کا حل صراحت کے ساتھ قرآن اور سنت میں موجود ہوتا ہے یا ان کے عموم، ایماء، تنبیہ، مفہوم مخالف اور عموم معنی میں ان اختلافات کا حل موجود ہوتا ہے اور عموم معنی میں اس کے مشابہہ مسائل میں قیام کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر دین کی بنیاد قائم ہے ان دونوں کو حجت تسلیم کئے بغیر ایمان درست نہیں۔ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانا شرط ایمان ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ﴾ ” اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔“ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نزاعی مسائل کو قرآن و سنت پر پیش نہیں کرتا وہ حقیقی مومن نہیں بلکہ وہ طاغوت پر ایمان رکھتا ہے، جیسا کہ بعد والی آیت میں ذکر فرمایا ہے۔
﴿ذَٰلِكَ ﴾” یہ“ یعنی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ﴿خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴾ ” یہ بہت بہتر ہے اور با اعتبار انجام کے بہت اچھا ہے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ سب سے اچھا فیصلہ ہے۔


💐ف 6 مو ضح کا ترجمہ اوفائدہ یہ ہے اولی الا مر اختیار والے باشاہ اور قاضی اور جو کسی کام پر مقرر ہو اس کے حکم پر چلنا ضروری ہے جبتک وہ خلاف خدا اور سول ﷺ حکم نہ کرے اگر صریح خلاف کرے تو وہ حکم نہ مانے ایک امیر کی اطاعت کے سلسلہ میں آپ ﷺ نے فرمایا انما الطاعتہ فی المعروف کہ امیر کی اطاعت صرف معروف یعنی نیکی میں ہے (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) ف 7 اس آیت میں ایک نہایت اہم حکم دیا ہے یعنی باہمی نزاع کی صورت میں اللہ و رسول ﷺ کی طرف رجوع ہونا شرط ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو قرآن کی اتباع ہے اور رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ آپﷺ کی زندگی کے بعد آپ ﷺ کی سنت کی اطاعت ہے اور یہ اطاعتیں مستقل ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی طرح رسول اللہ ﷺ کی حدیث بھی اسلامی قانون کا مستقل ماخذ ہے۔ حضرت نواب صاحب لکھتے ہیں۔ اس آیت سے مقلدین دلیل لیتے ہیں تقلید کے واجب ہونے پر لیکن یہ دلیل نہیں ہو سکتی اولی الا مر سے بادشاہ اور حکام مُراد ہیں (دیکھئے فوائد موضح) لیکن اگر سلف (رحمہم اللّٰہ) سے یہ منقول ہے کہ علمائے دین مُراد ہیں تو اس میں اول تو کسی عالم کی تخصیص نہیں ہے دوسرے ہر فرض تسلیم عالم کی تقلید کا حق اسی وقت تک ہے کہ اس کا حکم قرآن و حدیث کے موافق ہو پھر خود ائمہ اربعہ نے اپنی تقلید سے منع فرمایا ہے اور قرآن نے حکم دیا ہے کہ ائمہ (رحمہم اللّٰہ) کی اتباع میں جھگڑ اہو تو اللہ و رسول ﷺ کی طرف رجوع ہونا چاہیے (ترجمان)
ف 1 اگر دو مسلمان جھگڑتے ہیں ایک نے کہا چل شرع کی طرف رجوع کریں دوسرے نے کہا میں شرع کو (کچھ) نہیں سمجھتا یا مجھے شرع سے کام نہیں وہ بے شک کافرہوا (موضح)




💐66۔ گذشتہ آیت میں حکام اور رعایا سبھی کو عدل و انصاف کا حکم دینے کے بعد، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رعایا کو چاہے وہ فوج کے افراد ہوں یا عام لوگ، انہیں اپنی، اپنے رسول اور حکام کی اطاعت کا حکم دیا ہے، الایہ کہ حکام اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں، تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی؟ اس لیے کہ جہاں خالق کی نافرمانی ہو رہی ہو، وہاں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ بخاری کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔
بخاری نے ابن عباس (رضی اللّٰہ عنہ) سے روایت کی ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ امام احمد نے علی بن ابی طالب (رضی اللّٰہ عنہ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک انصاری کی قیادت میں ایک فوجی دستہ بھیجا، دستہ کے امیر کسی بات پر لوگوں سے ناراض ہوگئے تو انہوں نے ایک آگ جلوائی اور لوگوں کو اس میں کودنے کے لیے کہا، دستہ کے ایک نوجوان نے لوگوں سے کہا کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان اس لیے لائے ہیں تاکہ آگ سے بچیں، اس لیے ہم لوگ جلدی نہ کریں یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ لیں جب انہوں نے واپس آنے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ نے کہا کہ اگر تم لوگ اس میں کود جاتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے، امیر یا قائد کی اطاعت بھلائی کے کام میں ہوتی ہے
طیبی نے لکھا ہے کہ واطیعوا الرسول میں فعل کا اعادہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ رسول کی اطاعت مستقل ہے اور واولی الامر میں فعل کا عدم اعادہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کی اطعت مشروط ہے۔ اگر ان کا حکم قرآن و سنت کے مطابق ہوگا تو اطاعت کی جائے گی، ورنہ نہیں۔ ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کے نزدیک اولی الامر سے مُراد اہل فقہ و دین ہیں۔ اور مجاہد، عطا اور حسن بصری و غیرہم کے نزدیک اس سے مراد علماء ہیں، لیکن بظاہر حق یہ ہے کہ تمام اہل حل و عقد امراء اور علماء مراد ہیں
67۔ مجاہد اور دوسرے علمائے سلف نے کہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو سے مقصود قرآن و سنت ہے۔ آیت کے اس حصہ میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی بھی مسئلہ میں ان کے درمیان اختلاف ہو تو اس کا فیصلہ قرآن و سنت کے مطابق ہونا چاہیے، اللہ اور آخرت پر ایمان کا تقاضا یہی ہے۔ معلوم ہوا کہ جو شخص بھی کسی اختلافی مسئلہ میں قرآن و سنت کا حکم نہیں مانے گا، وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا نہیں مانا جائے گا، اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ قرآن و سنت کی طرف رجوع میں ہی ہر خیر ہے، اور انجام کے اعتبار سے بھی یہی عمل بہتر ہے



💐اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت میں واضح کیا ہے کہ اہل ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور اوالامر کی اطاعت اس لیے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور اگر پھر بھی کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تو معاملہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دیں۔ اصل اطاعت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ﴾ (الاعراف: ۵۴) ’’خبردار مخلوق بھی اُسی کی ہے اور حکم بھی اُسی کا ہے۔‘‘
حکم صرف اللہ کا ہے لیکن چونکہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم خالص منشائے الٰہی کا مظہر ہیں اور اللہ کی مرضی کا نمائندہ ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو بھی مستقل طور پر واجب الاطاعت قراردیا اور فرمایا
’’رسول اللہ کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔ ارشاد باری ہے: ﴿مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ﴾ (النساء: ۸۰) ’’جس نے رسول کی اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی ۔‘‘
اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث بھی دین کا ماخذ ہے جس طرح قرآن کریم ہے اولوالامر کی اطاعت بھی ضروری ہے لیکن وہ مشروط ہے اللہ اور رسول کی اطاعت کے ساتھ اسی لیے اطیعواللہ کے بعد اطیعواُلرسول تو کہا کیونکہ یہ دونوں اطاعتیں مستقل اور واجب ہیں اور اطیعوالامر نہیں کہا کیونکہ یہ اطاعت مستقل نہیں ہے۔
ارشادِ نبوی ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں، معروف کام میں اطاعت ہے۔(بخاری: ۷۲۵۷)
یہی حال علماء فقہاء کا بھی ہے ان کی اطاعت اس لیے کرنی ہوگی کہ وہ اللہ اور رسول کے احکام و فرمودات بیان کرتے اور دین کی طرف ہدایت اور راہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کی اطاعت صرف اس وقت ہوگی جب وہ عوام کواللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتلائیں گے۔ لیکن اگر وہ اس سے انحراف کریں تو ان کی اطاعت ضروری نہیں بلکہ یہ جانتے بوجھتے ہوئے ان کی اطاعت کرنا سخت گناہ کا کام ہے۔
جماعتی زندگی ضروری ہے: جو فرد جس کام پر مقرر کیا گیا ہے اگر تین افراد ہیں تو ایک ان کا امیر ہوگا اور دو ماتحت ہونگے، چھوٹی بڑی اجتماعیت میں جو بھی سربراہ ہوگا اس کی اطاعت ضروری ہے۔ انسان کو اختیار کے ساتھ فطری نظام قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے بندھے ہوئے نظام میں رہ کر اطاعت کررہا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ انسان بھی معاہدے اور مرکز کے ساتھ جڑ کر اپنی زندگی گزارے۔
رسول اللہ نے فرمایا ’’سنو اور اطاعت کرو۔ اگرچہ تم پر کسی حبشی غلام کو بھی امیر بنایا جائے چاہے اس کا سر منقی کی طرح چھوٹا ہو۔‘‘
(ابو داؤد: ۴۶۰۹، ابن ماجہ: ۴۲)
اللہ اور رسول کی طرف لوٹانے سے مراد:
اللہ کی طرف لوٹانے سے مراد قرآن کریم اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد اب حدیث رسول ہے تنازعات کو دور کرنے کے لیے یہ بہترین اصول بتادیا گیا ہے اس اصول سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کسی تیسری شخصیت کی اطاعت واجب نہیں۔ جو لوگ تقلید شخصی یا تقلید معین کے قائل ہیں اور جو قرآن کی اس آیت کی صریح مخالفت ہے، مسلمانوں کو امت متحدہ کی بجائے منتشر اُمت بنا رکھا ہے۔ اور ان کے اتحاد کو تقریباً نا ممکن بنا دیا ہے۔ مثلاً فرقہ واریت ہے۔


💐41:أُولِی الْأَمْرِ: سے مُراد اکثر مفسرین کے مطابق مسلمان حکمران ہیں، جائز امور میں ان کے احکام کی اطاعت بھی مسلمانوں کا فرض ہے، البتہ یہ اطاعت اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ کسی ایسی بات کا حکم نہ دیں جو شرعاً جائز ہو، اس بات کو قرآن کریم نے دو طرح واضح فرمایا ہے، ایک تو اس طرح کے اصحاب اختیار کی اطاعت کا ذکر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد فرمایا ہے، جس میں یہ اشارہ ہوگیا کہ حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع ہے، دوسرے اگلے جملے میں مزید صراحت کے ساتھ بتادیا کہ اگر کسی معاملہ میں یہ اختلاف پیدا ہوجائے کہ آیا حکمرانوں کا دیا ہوا حکم صحیح اور قابل طاعت ہے یا نہیں، تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کردو، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھو، اگر وہ قرآن وسنت کے خلاف ہو تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہے اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا حکم واپس لیں اور اگر وہ حکم قرآن وسنت کے کسی صریح یا اجماعی طور پر مسلم حکم کے خلاف نہیں ہے تو عام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں۔



💐1۔ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رعایا کو، چاہے فوج کے افراد ہوں یا عام لوگ، انھیں اپنی، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حکام و امراء کی اطاعت کا حکم دیا ہے، الا یہ کہ حکام اللہ کی نا فرمانی کا حکم دیں تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’اختیار والے بادشاہ، قاضی اور جو کسی کام پر مقرر ہو اس کے حکم پر چلنا ضروری ہے، جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف حکم نہ کرے، اگر صریح خلاف کرے تو وہ حکم نہ مانیے۔‘‘ (موضح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوْفِ )) ’’اطاعت صرف نیکی کے امور میں ہے۔‘‘
[ بخاری، الأحکام، باب السمع والطاعۃ للإمام....: ۷۱۴۵، عن علی رضی اللّٰہ عنہ ]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ہر مسلمان کو لازم ہے کہ وہ ہر کام میں، خواہ اسے پسند ہو یا نا پسند، سمع و طاعت بجا لائے، بشرطیکہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا گیا ہو اور اگر اسے کسی معصیت کے کام کا حکم دیا گیا ہو تو اس میں سمع و طاعت نہیں۔ ‘‘
[ بخاری، الفتن، باب السمع والطاعۃ للإمام : ۷۱۴۴ ]
2۔ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ: اس آیت میں ایک نہایت اہم حکم دیا ہے کہ باہمی نزاع اور جھگڑے کی صورت میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع شرط ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو قرآن کی اطاعت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد آپ کی سنت کی اطاعت ہے اور یہ اطاعتیں اصل اور مستقل ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی اسلامی قانون کا مستقل ماخذ ہے۔ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’اس آیت سے مقلدین تقلید کے واجب ہونے پر دلیل لیتے ہیں لیکن یہ دلیل نہیں ہو سکتی، کیونکہ ’’اولی الامر ‘‘ سے بادشاہ اور حکام مراد ہیں۔ (دیکھیے فوائد موضح) اگر بعض اہل علم کے مطابق اس سے علمائے دین مراد ہیں تو اس میں اول تو کسی عالم کی تخصیص نہیں ہے، دوسرے بہ فرض تسلیم عالم کی تقلید کا حکم ہے تو وہ اسی وقت تک ہے کہ اس کا حکم قرآن و حدیث کے موافق ہو(اگرچہ یہ تقلید نہیں بلکہ قرآن و حدیث پر عمل ہے) پھر خود چاروں اماموں نے اپنی تقلید سے منع فرمایا ہے اور قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ ائمہ کے اتباع میں جھگڑا ہو تو اللہ اور رسول کی طرف رجوع ہونا چاہیے۔‘‘ (ترجمان) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ، تابعین یا ائمہ میں اگر کسی مسئلے پر نزاع ہو تو کسی کا قول بھی حجت نہیں، بلکہ وہاں صرف قرآن و حدیث پر عمل ہو گا۔
3۔ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا: اگر دو مسلمان جھگڑتے ہیں اور ایک نے کہا، چل شرع کی طرف رجوع کریں، دوسرے نے کہا، میں شرع کو (کچھ) نہیں سمجھتا یا مجھے شرع سے کام نہیں وہ بے شک کافر ہوا۔ (موضح)


💐فہم القرآن
ربط کلام : اپنے میں سے کسی کو حاکم بنانے کا یہ مقصد نہیں کہ حکمران حاکم مطلق بن جائے بلکہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع ہیں۔
امانتوں کی ادائیگی اور اختیارات کا صحیح استعمال کرنے کا حکم دینے کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا اس لیے فوری ذکر کیا ہے تاکہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ کوئی اپنے اختیارات میں آزاد ہے۔ اس بات کو مزید واضح کرنے کی خاطر ” اُولِی الْاَمْرِ“ کے لیے لفظِ ” اطاعت“ استعمال کرنے کے بجائے فقط واؤ کے عطف سے اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ راعی اور رعیت، امیر اور مامور اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنے آپ کو صرف اللہ اور اس کے رسول کے تابع فرمان سمجھیں۔ اسی سورۃ کی آیت ٦٤ اور ٨٠ میں واضح کیا کہ رسول کی اطاعت فی ذاتہٖ نہیں بلکہ در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا حقیقی منشاء سمجھنا اور اس کے مطابق سو فیصد عمل کرکے دکھلانا رسول کا کام ہوتا ہے۔ اگر رسول سے بتقاضاۓ بشریت کوئی چوک ہوجائے تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کی درستگی فرما دیتا ہے۔ اس لیے رسول امت کے ہر شخص کے لیے اسوۂ حسنہ اور واجب الاتباع ہوتا ہے۔ رسول کے علاوہ کوئی شخص غیر مشروط اطاعت کے لائق نہیں۔ اگر امیرالمومنین یا بڑے سے بڑا عالم اور امام غلطی کرے یا اس کے ساتھ کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے تو اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں وہ معاملہ قرآن و سنت کے سامنے رکھا جائے۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے سامنے ہر کسی کو سر تسلیم خم کرنا لازم ہے۔ یہی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کا تقاضا ہے۔ اس طرز عمل میں دنیا کی بہتری اور آخرت کی خیرمضمر ہے اور اسی طریقے سے امت متحد رہ سکتی ہے۔ اگر کسی مسئلہ میں دلائل برابر ہوں تو اہل علم کی اکثریت کی پیروی کرنا ہوگی۔
امیر کا انتخاب اور اس کی اطاعت
اس فرمان میں امیر کے لیے ” مِنْکُمْ“ آیا ہے اور ” کُمْ“ ضمیر استعمال کی ہے کہ وہ تم میں سے ہو۔ جس سے دوٹوک انداز میں واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا امیر مسلمان اور انہی کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ کیونکہ امارت اور خلافت کی بنیاداُوپر سے نہیں نیچے سے قائم کی گئی ہے۔ تاکہ فکری اور عملی طور پر اس کی جڑیں گھر اور عوام میں ہوں اور ہر فرد اس ذمہ داری میں اپنے آپ کو برابر کا شریک سمجھے۔ جہاں تک امت میں سیاسی، گروہی اور مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے۔ اس کا شریعت میں صرف جواز کے سوا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ لہٰذا ان جماعتوں کے امراء اور سربراہوں کی حیثیت سفری امیر سے زیادہ نہیں۔ جس طرح اس کے وقتی اور محدود اختیارات ہوتے ہیں اسی طرح جماعتوں کے امراء کو اپنے حقوق و فرائض کا تعین کرنا چاہیے۔
مسائل
١۔ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول اور نیک حکمرانوں کی اطاعت کرنی چاہیے۔
٢۔ تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
٣۔ قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرنا اور کروانا ایمان داروں کے لیے فرض ہے اسی میں دنیا اور آخرت کی بہتری ہے۔
تفسیر بالقرآن
اختلافات کا حل :
١۔ معاملہ اللہ کی طرف لوٹایا جائے۔ (الشوریٰ: ١٠)
٢۔ کتاب اللہ میں مسائل کا حل ڈھونڈا جائے۔ (المائدۃ: ٤٧)
٣۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فیصل تسلیم کیا جائے۔ (النساء : ٥٩)
٤۔ جو اللہ کے رسول کو فیصل تسلیم نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں۔ (النساء : ٦٥)
٥۔ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد مومن کو کوئی اختیار نہیں باقی رہتا۔ (الاحزاب : ٣٦)
٦۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا ظالم، کافر اور فاسق ہے۔ (المائدہ : ٤٤، ٤٥، ٤٧)


🌺"ترتیب:ابومحمدعبدالاحدسلفی"🌺
 
Top