ذیشان خان

Administrator
حدیثِ رسول پر عدمِ قناعت

🖊️
ابو تقی الدین ضیاء الحق سیف الدین

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کسی روایت کو خواہ کتنے ہی اہم محدثین نے نقل کی ہو اگر وہ ان کے افکار ونظریات سے مطابقت نہیں رکھتی تو اسے درخور اعتنا نہیں سمجھتے بلکہ بلاجھجھک رد کر دیتے ہیں، چند مثالیں ملاحظہ کیجئے :
1 - سورہ انبیا میں حضرت ابراہیم - علیہ السلام - کی بت شکنی کے واقعے اور ان سے متعلق تین جھوٹ والی روایت کو باوجود صحیح ہونے کے مولانا نے مزعومہ عقلی وجوہ کی بنا پر رد کر دیا ہے.
مودودی صاحب نے لکھا ہے :
"بدقسمتی سے حدیث کی ایک روایت میں یہ بات آگئی ہے کہ حضرت ابراہیم اپنی زندگی میں تین مرتبہ جھوٹ بولے ہیں،....ایک گروہ روایت پرستی میں غلو کر کے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اسے بخاری ومسلم کے چند راویوں کی صداقت زیادہ عزیز ہے اور اس بات کی پروا نہیں کہ اس سے ایک نبی پر جھوٹ کا الزام عائد ہوتا ہے.... اور نہ فن حدیث کے نقطۂ نظر سے کسی روایت کی سند کا مضبوط ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کا متن خواہ کتنا ہی قابل اعتراض ہو مگر اسے ضرور آنکھیں بند کر کے صحیح مان لیا جائے، سند کے قوی اور قابل اعتماد ہونے کے بہت سے اسباب ایسے ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے ایک متن غلط صورت میں نقل ہو جاتا ہے اور ایسے مضامین پر مشتمل ہوتا ہے جن کی قباحت خود پکار رہی ہوتی ہے کہ یہ باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی نہیں ہو سکتیں، اس لئے سند کے ساتھ ساتھ متن کو دیکھنا بھی ضروری ہے، اور اگر متن میں واقعی کوئی قباحت ہو تو پھر خواہ مخواہ اس کی صحت پر اصرار کرنا صحیح نہیں ہے ".
تین جھوٹ والی روایت کا سب سے بہتر اور مختصر مگر جامع جواب ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے دیا ہے لکھتے ہیں:”سچ اور جھوٹ کی تشخیص میں نفس الامر اور متکلم کے قصد و ارادہ کو بھی دخل ہے،اس لحاظ سے اس کی تین صورتیں ہوں گی.
أ - متکلم صحیح اور واقعہ کے مطابق کہے اور مخاطب کو وہی سمجھانا چاہے جو فی الحقیقت ہے۔ یہ دونوں لحاظ (واقعہ اور ارادہ) سے سچ ہے.
ب - اور اگر متکلم خلاف واقعہ کہے اور مخاطب کو اپنے مقصد سے آگاہ نہ کرنا چاہے بلکہ ایک تیسری صورت پیدا کر دے جو نہ صحیح ہو اور نہ ہی متکلم کی مراد ہو۔ یہ دونوں لحاظ سے جھوٹ ہوگا.
ج - لیکن اگر متکلم صحیح اور نفس الامر کے مطابق گفتگو کرے لیکن مخاطب کو اندھیرے میں رکھنا چاہے اور اپنے مقصد کو اس پر ظاہر نہ ہونے دے۔ اسے ”تعریض“ اور ”توریہ“ کہا جاتا یے۔ یہ متکلم کے لحاظ سے صدق ہے اور تفہیم کے لحاظ سے کذب ہے۔ اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے کذب سے تعبیر کیا۔حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا وہ درحقیقت صحیح تھا۔[مفتاح دار السعادة:2/39] (شیخ م. ع. اسعد کے شکریہ کے ساتھ) .
2 - اسی طرح سورہ قصص کی آیت {لرادك إلى معاد} آیت :85] میں وارد لفظ "معاد" سے بعض مفسرین "شہرِ مکہ" اور بعض نے "جنت" لی ہے، دونوں اقوال اپنی اپنی جگہ درست ہیں.
جنہوں نے کہا اس سے مراد "مکہ" ہے، ان کی دلیل حضرت ابن عباس - رضی اللہ عنہما - کی حدیث ہے، جو صحیح بخاری میں ہے ، دیکھئے حدیث نمبر :4773].
مولانا مودودی نے یہاں لکھا ہے :
"یہ روایت اگرچہ بخاری، نسائی، ابن جرير اور دوسرے محدثین نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کی ہے، لیکن یہ ہے حضرت عبد اللہ بن عباس کی اپنی ہی رائے، کوئی حدیثِ مرفوع نہیں ہے کہ اسے ماننا لازم ہو".
جماعت اسلامی کے لوگ مولانا کی کسی رائے کو اتنی آسانی سے رد کرنے کی جرات کر سکتے ہیں!
3 - سورہ ق کی آیت:{يوم نقول لجهنم هل امتلأت وتقول هل من مزيد} کی تفسیر میں لکھا ہے :
"اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ "میرے اندر اب مزید آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے"، دوسرے یہ کہ "اور جتنے مجرم بھی ہیں انہیں لے آئیے". پہلا مطلب لیا جائے تو اس ارشاد سے تصور یہ سامنے آتا ہے کہ مجرموں کو جہنم میں اس طرح ٹھونس ٹھونس کر بھر دیا گیا ہے اس میں ایک سوئی کی بھی گنجائش نہیں رہی، حتی کہ جب اس سے پوچھا گیا کی کیا تو بھر گئی تو وہ گھبرا کر چیخ اٹھی کہ کیا ابھی اور آدمی بھی آنے باقی ہیں؟. دوسرا مطلب لیا جائے تو یہ تصور ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جہنم کا غیظ اس وقت مجرموں پر کچھ اس بری طرح بھڑکا ہوا ہے کہ وہ ہل من مزید کا مطالبہ کئے جاتی ہے اور چاہتی ہے کہ آج کوئی مجرم اس سے چھوٹنے نہ پائے ".
مولانا مودودی کی مذکورہ باتیں بڑی پیاری ہیں، لیکن انہوں نے یہاں ان احادیث کو گول کر دیا ہے جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہیں، چونکہ اس سے ان کے عقیدہ پر چوٹ پڑ سکتی تھی، واضح رہے کہ مولانا کٹر جہمی، حنفی، اور ماتریدی ہیں!
معلوم ہونا چاہئے کہ مذکورہ آیت کی سب سے صحیح تفسیر وہ ہے جو حضرت انس - رضی اللہ عنہ - نے رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - سے نقل کی ہے ، آپ - صلی اللہ علیہ وسلم - نے فرمایا : " يلقى في النار وتقول :هل من مزيد، حتى يضع قدمه فتقول :قط قط".
بخاری ہی میں دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : "يقال لجهنم هل امتلأت، وتقول : هل من مزيد؟ فيضع الرب تبارك وتعالى قدمه عليها".
مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کا مفہوم یہ ہے " یعنی جہنمی ،دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ یہی کہتی رہے گی: کچھ اور بھی ہے، یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم مبارک اس پر رکھ دے گا، اس وقت وہ کہے گی :بس بس (میں بھر گئی)". [صحيح بخاری ،حدیث نمبر :4848، وحديث:4849]
بخاری ہی میں ایک اور حدیث آئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں :" قال الله تعالى للجنة : أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي، وقال للنار : إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي، ولكل واحدة منهما ملؤها، فأما النار: فلا تمتلئ حتى يضع رجله فتقول : قط قط، فهنالك تمتلئ ويزوى بعضها إلى بعض".
"اللہ تعالیٰ جنت سے فرمایا :تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا، اور دوزخ سے کہا کہ تو میرا عذاب ہے، میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا سزا دوں گا، بہر حال ان دونوں کو بھرنا ضروری ہے، دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا قدم اس پر نہیں رکھے گا، جب وہ قدم رکھے گا تو اس وقت دوزخ بولے گی کہ بس، بس اور بس، پھر اس وقت یہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے سے لپیٹ جائے گا". [بخاری، حدیث نمبر :4850، کتاب التفسیر ].
4 - مولانا مودودی پکے جہمی ہیں، انہوں نے اپنی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کی فوقیت کا انکار کیا ہے، پھر حدیث جاریہ کی تاویل کی ہے.
مودودی صاحب نے آیت :﴿أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّماءِ﴾کی تفسیر میں لکھا ہے:
"اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالی آسمان میں رہتا ہے، بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسانی فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے، دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے، کسی آفت کے موقع پر سب سہاروں سے مایوس ہوتا ہے تو آسمان کا رخ کرکے خدا سے فریاد کرتا ہے، کوئی ناگہانی بلا آپڑتی ہے تو کہتا ہے یہ اوپر سے نازل ہوئی ہے، غیر معمولی طور پر حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتا ہے یہ عالم بالا سے آئی ہے، اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی یا کتب آسمانی کہا جاتا ہے".
آگے لکھا ہے :"ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص ایک کالی لونڈی کو لے کر رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھ پر ایک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہو گیا ہے، کیا میں اس لونڈی کو آزاد کر سکتا ہوں؟ حضور نے اس لونڈی سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا، حضور نے پوچھا اور میں کون ہوں؟اس نے پہلے آپ کی طرف پھر آسمان کی طرف اشارہ کیا، جس سے اس کا مقصد واضح ہورہا تھا کہ آپ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا:اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے۔(اسی سے ملتا جلتا قصہ موطا،مسلم اور نسائی میں بھی روایت ہوا ہے)حضرت خولہ کے متعلق حضرت عمر نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا:یہ وہ خاتون ہیں جن کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی....".
حدیث جاریہ میں یہ ہے کہ" لونڈی نے کہا اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے اور انہوں نے اپنی انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ بھی کیا".
اس کی تاویل کرتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا ہے :
"ان کا مقصد واضح ہو رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں".
مولانا نے آگے لکھا ہے :
"ان ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے یہ بات کچھ انسانی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتا ہے تو اس کا ذہن نیچے زمین کی طرف نہیں بلکہ اوپر آسمان کی طرف جاتا ہے۔اسی بات کو ملحوظ رکھ کر یہاں اللہ تعالی کے متعلق "من في السماء"وہ جو آسمان میں ہے"کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں، اس میں اس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن اللہ تعالی کو آسمان میں مقیم قرار دیتا ہے".
پھر مولانا نے اللہ تعالیٰ کی فوقیت وعلو کا انکار کرتے ہوئے یہ شبہ ظاہر کیا ہے :
"یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہو سکتا ہے جبکہ اسی سورۂ ملک کے آغاز میں فرمایا جاچکا ہے کہ﴿الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا﴾[الملك: 3]- "جس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنائے" ،اور سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾[البقرة: 115]- " پس تم جدھر بھی رخ کرو اس طرف اللہ کا رخ ہے".
اخیر میں یہ لکھ کر اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
{وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ‏} [النحل:44].
اس آیت میں {الذكر} یعنی وحی الہی کو رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - پر نازل کرنے کی ایک حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ لوگوں کو اس کا مطلب سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آنے پر آپ ان کے لئے اس کی وضاحت فرما دیں.
معلوم ہوا قرآن مجید کی سب سے بہترین تفسیر وہ ہے جو خود قرآن اور حدیث کی روشنی میں کی جائے.
 
Top