ذیشان خان

Administrator
امام ابن تیمیہ کا مقام علمائے احناف کے نزدیک

🖊️
ابو تقی الدین ضیاء الحق سیف الدین

شیخ الاسلام ابن تیمیہ اہل سنت وجماعت کے کبارِ علما میں سے جلیل القدر امام تھے ، اس بات کی گواہی کبارِ علمائے احناف نے ہر دور میں دی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی برصغیر کے بہت سارے علمائے احناف اور بدعتی لوگ شيخ الإسلام کو "ضال ومضل" لکھتے ہیں، اور ان کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں .
اولاً : حضرت ابن تیمیہ کی شان میں کچھ علمائے احناف کی گستاخیاں ولن ترانیاں :
1 - ابوبکر غازیپوری دیوبندی نے اپنے رسالے "کیا ابن تیمیہ علمائے اہل سنت والجماعت میں سے ہیں ؟ ابن تیمیہ کے بعض معتقدات پر ایک طائرانہ نظر" میں کذب وافترا اور دجل وفریب سے تحریف کرتے ہوئے پروپیگنڈہ کیا ہے جس کا حساب اسے اللہ کے دربار میں دینا پڑے گا، ان شاء اللہ.
2 - شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - کے بارے میں "قافلۂ حق" نامی دیوبندی رسالے میں محمد محمود عالم صفدر اوکاڑوی دیوبندی نے بہت زبان درازی کی ہے.
3 - مولانا حبیب الرحمن مہتمم دارالعلوم دیوبند نے "تفسیر جلالین" کے حاشیہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کو "ضال مضل" لکھ مارا ہے.
4 - علامہ ارشاد الحق اثری - حفظہ اللہ - نے اپنے مقالات میں ایک جگہ لکھا ہے کہ : "مولانا محمد حسن سنبھلی حنفی نے "شرح عقائد نسفی" کے حاشیہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ، حافظ ابن قیم ، علامہ شوکانی ، حافظ ابن حزم اور امام داؤد ظاہری کے بارے میں میں جو لب کشائی کی ہے اسے نقل کرتے ہوئے شرم آتی ہے".
5 - ماضی قریب میں محمد زاہد چرکسی کوثری حنفی (جہمی) نے امام ابن تیمیہ کو "گمراہ" اور "وارث علوم صابتۂ حران" قرار دیا ہے، بلکہ اس ظالم نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے بارے میں توہین کرتے ہوئے لکھا ہے : "ومع هذا كله إن كان هو لايزال يعد شيخ الإسلام فعلى الإسلام السلام" - "اور اگر اس سب کچھ کے ساتھ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہا جاتا ہے تو ہم اسلام پر سلام بھیجتے ہیں".
حافظ زبیر علی زئی مرحوم لکھتے ہیں :
دیکھئے کوثری چرکسی نے کس طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ پر جرح کی ہے حالانکہ حافظ ذہبی ، حافظ برزالی ،حافظ ابن عبد الہادی ،حافظ ابن سید الناس ،حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن قیم وغیرہم نے حافظ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام قرار دیا تھا، کوثری کی گمراہیوں کے لئے دیکھئے مولانا ارشاد الحق اثری کی کتاب : مقالات (1/53،162،179)".
6 - ہندوستان کا مشہور حنفی عالم مولانا فضل رسول بدایونی[ت:1872ء] نے امام ابن تیمیہ کو "شقی ابن تیمیہ" لکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ ایک نیا دین نکالا ہے، مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم لکھتے ہیں :
"مولوی فضل رسول بدایونی مرحوم "سوط الرحمن" میں لکھتے ہیں: داؤد ظاہری شیطان کا متبع تھا، اس کے بعد ابن حزم ظاہری پیدا ہوا جو "خبیث" تھا، پھر ابن حزم کا شاگرد ابن قیم ہوا، اور ابن قیم کا شاگرد "شقی" ابن تیمیہ، ابن تیمیہ نے ایک نیا دین نکالا، بعض اشرار، بد اطوار، جہلا، فسقہ درحلقۂ انقیادش آمدہ دربلاد اسلامیہ طرفہ ہنگامہ برپا نمودند".
ثانیاً : شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مدح سرائی میں علمائے احناف کے اقوال :
یہاں حنفیت کی طرف منسوب ان مبتدعین کی خدمت میں حنفیوں کے حوالے پیش کرتا ہوں جو اپنی تحریروں میں حافظ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہتے یا ان کی تعریف میں رطب اللسان تھے یا ہیں.
1 - شمس الدین ابن حریری الحنفی، قاضی القُضاة [ت:728ھ]:
وہ فرماتے تھے : "إن لم يكن ابن تيمية شيخ الإسلام فمن؟.
وقال لبعض أصحابه أتحب الشيخ تقي الدين؟ قال؛ نعم، قال والله لقد أحببت شيئا مليحا".
"شیخ الاسلام اگر ابن تیمیہ نہیں تو پھر کون؟!.
اور انہوں نے اپنے کسی ساتھی سے استفسار کیا، تمہیں شیخ تقی الدین سے محبت ہے کیا؟ ، بتلایا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہیں شاندار چیز یعنی ابن تیمیہ سے محبت ہے.
ایسے سوالیہ انداز سے ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام قرار دینا ،عظمت و مرتبت کو فزوں تر کرتا ہے.
2 - قاضی عینی حنفی شارحِ بخاری[ت:855ھ]:
"الرد الوافر" پر مصر وشام کے مشاہیر علما وائمۂ عصر نے تقریظیں لکھی ہیں، ان میں قاضی عینی حنفی شارحِ بخاری بھی ہیں ،قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ : "جو شخص ابن تیمیہ کے مراتب عالیۂ علم وعمل واجتہاد وامامت سے انکار کرتا ہے وہ یا تو مجنون لایعقل ہے، یا کمال سفیہ وبلید، یا سخت شریر ومفسد".
قاضی عینی جب اپنی بعض کتابوں میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا نام لیتے ہیں تو بڑے ادب سے لیتے ہیں، مثلاً ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے :"أن أهل حران خرجوا منها وقدموا الشام، وكان فيهم الشيخ الإمام العلامة تقي الدين ابن تيمية....".
ابن تیمیہ کے بارے انہوں نے یہ بھی لکھا کہ :
"ومن الشائع المستفيض أن الشيخ الإمام العالم العلامة تقي الدين ابن تيمية من شُم عرانين الأفاضل، ومن جم براهين الأماثل،... وهو الذاب عن الدين طعن الزنادقة والملحدين، والناقد للمرويات عن النبي سيد المرسلين، وللمأثورات من الصحابة والتابعين... وقد سارت تصانيفه في الآفاق، وليس فيها شيء مما يدل على الزيغ والشقاق".
علامہ عینی مرحوم نے یہ بھی لکھا کہ جو ابن تیمیہ کو کافر یا زندیق کہے وہ خود ہی پکا کافر اور زندیق ہے، لکھا ہے : "فمن قال : هو كافر! فهو كافر حقيق!! ومن نسبه إلى الزندقة! فهو زندیق!! ".
قاضی عینی صاحب نے امام ابن تیمیہ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے یہ فیصلہ بھی سنایا ہے: "فإذا كان هذا الإمام بهذا الوصف بشهادة هذا العلامة، وبشهادة غيره من العلماء الكبار، فماذا يترتب على من يطلق عليه :الزندقة أو ينبذه بالكفر؟ ولايصدر هذا إلا عن غبي جاهل، أو مجنون كامل.
فالأول: يعزر بغاية التعزير،ويشهر في المجالس بغاية التشهير، بل يؤبد في الحبس إلى أن يحدث التوبة، أو يرجع عن ذلك بأحسن الأوبة.
والثاني : يداوى بالسلاسل والأصفاد ،والضرب الشديد بلا أعداد".
3 - ملا علی قاری حنفی[ت:1014ھ] :
ابن حجر مکی ہیثمی شافعی نے جب شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کو برا بھلا کہا تو ان ہی کے شاگرد علامہ ملا علی قاری حنفی نے پرزور الفاظ میں اس کی تردید کرتے ہوئے لکھا :
"... إنهما كانا من أكابر أهل السنة والجماعة ومن أولياء هذه الأمة"-"یعنی شیخ اور تلمیذ دونوں نہ صرف اکابر اہل سنت والجماعت میں سے تھے بلکہ امت محمدیہ کے اولیا میں سے تھے".
شیخ زبیر علی زئی مرحوم لکھتے ہیں : ملا علی قاری کی اس عبارت کو اختصار کے ساتھ سرفراز خان صفدر گکھڑوی کڑمنگی نے اپنی کتاب "المنهاج الواضح یعنی راہ راست" میں نقل کیا اور کوئی جرح نہیں کی.
4 - سرفراز خان صفدر دیوبندی کڑمنگی نے لکھا :
"شيخ الإسلام ابن تيمية...".
5 - مرتضی زبیدی حنفی :
مشہور عربی لغت کے جانکار علامہ مرتضی زبیدی حنفی [ت:1205ھ] نے لکھا ہے :"العلامة أبوالعباس أحمد بن عبد الحليم الحنبلي المعروف بابن تيمية وذووه، محدثون مشهورون".
6 - مشہور فقیہ ابن عابدین حنفی[ت:1252ھ] :
بریلویوں اور دیوبندیوں کے ممدوح ملا ابن عابدین حنفی[ت:1252ھ] اپنی کتاب "رد المحتار على الدر المختار" کے اندر متعدد جگہوں میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا ذکر کیا ہے، ایک جگہ لکھا ہے :"ورأيت في كتاب الصارم المسلول لشيخ الإسلام ابن تيمية الحنبلي ما نصه.... ".
7 - محمد منظور نعمانی دیوبندی نے کہا :
"ساتویں اور آٹھویں صدی کے مجدد شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی تصنیفات اور فتاوی میں جابجا شیعیت کا رد فرمایا ہے".
8 - مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی [ت:1943ء]:
مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندی نے کہا :
"ابن تیمیہ بزرگ ہیں، عالم ہیں ،متقی ہیں، اللہ ورسول پر فدا ہیں، دین پر جان نثار ہیں، دین کی بڑی خدمت کی ہے، مگر ان میں بوجہ فطرۃ تیز مزاج ہونے کے تشدد ہو گیا".
حافظ زبیر علی زئی مرحوم لکھتے ہیں :
"تشدد والی بات تو مردود ہے نیز تھانوی نے حافظ ابن تیمیہ اور امام ابن قیم دونوں کے بارے میں کہا :" یہ سب نیک تھے اور نیت سب کی حفاظت دین کی تھی".
9 - محمد تقی عثمانی دیوبندی نے لکھا :
" اور علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں". [حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق ص/117].
10 - عتیق الرحمن سنبھلی نے لکھا :
"امام ابن تیمیہ کا ارشاد ".
11 - بشیر احمد قادری دیوبندی مدرس قاسم العلوم فقیر والی نے لکھا :" شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا فتویٰ".
12 - ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی نے لکھا :
"نیلوی صاحب شیخ الاسلام ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم ،علامہ سیوطی اور نواب صديق حسن خاں سے نقل کرتے ہیں..".
13 - محمد محمود عالم صفدر اوکاڑوی دیوبندی جس نے شیخ الاسلام ابن کے بارے میں بہت زبان درازی کی ہے ، دیکھئے قافلۂ باطل جلد 1شمارہ 20 تا 32].
اسی محمود عالم نے "اصول حدیث" والے مضمون میں خود لکھا ہے : "شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں...".
محدث عصر علامہ زبیر علی زئی مرحوم لکھتے ہیں : "ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں مثلاً دیکھئے منحة الخالق على بحر الرائق 5/246،برات عثمان بن عفان تصنیف ظفر احمد عثمانی تھانوی دیوبندی ص/17، خاتمة الکلام في ترك خلف الإمام تصنیف فقير الله دیوبندی ص/43،اور صبر وتحمل کی روشن مثالیں تالیف محمد صاحب بن مفتی ابراهيم دیوبندی ص/53،54].
جب مرضی کا معاملہ ہو مثلاً فاتحہ خلف الامام کا مسئلہ وغیرہ تو دیوبندی حضرات حافظ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام ،امام اور علامہ وغیرہ لکھتے ہیں اور اگر مرضی کے خلاف بات ہو تو یہی لوگ شیخ الاسلام پر جرح، تنقید اور تنقیص کا بلا دریغ استعمال کرتے ہیں، کیا انہیں اللہ کا خوف نہیں ہے؟
آخر میں دوبارہ عرض ہے کہ شیخ الاسلام ابن ابن تیمیہ اہل سنت وجماعت کے کبار علما میں سے جلیل القدر امام تھے، رحمہ اللہ".
14 - علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی[ت:1934ء] :
علامہ انور شاہ کشمیری مرحوم اپنی کتابوں میں امام ابن تیمیہ کو اکثر "حافظ ابن تیمیہ" کے نام سے یاد کرتے ہیں، انہوں نے ابن رشد، ابن سینا اور ابن تیمیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :"میں کہتا ہوں کہ ابن رشد ، ابن سینا سے زیادہ حاذق ہے اور وہ ارسطو کے کلام کو ابن سینا کے مقابلہ میں زیادہ سمجھتا ہے، ابن تیمیہ فلاسفہ کے مذاہب کو خوب جانتے ہیں، اور منطق اور فلسفہ میں ابن سینا اور ابن رشد سے فائق ہے".
15 - سید مناظر احسن گیلانی دیوبندی[ت:1956ء] :
مشہور عالم دین اور ادیب مولانا علی میاں ندوی نے ایک جگہ لکھا ہے :
"سید مناظر احسن گیلانی مرحوم اگرچہ شیخ اکبر (ابن عربی) کے علوم کے ہندوستان میں بہت بڑے عارف وحامل تھے، لیکن بایں ہمہ شیخ الاسلام (یعنی ابن تیمیہ) کی امامت وعظمت کے قائل، ان کے بڑے مرتبہ شناس اور ان کی تصنیفات کے بڑے شائق تھے...".
16 - شاہ ولی اللہ محدث دہلوی [ت:1762ء]:
مولانا علی میاں ندوی مرحوم نے اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے :
امام المتأخرين شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی طرف سے پر زور دفاع کیا ہے، اور صاف لکھا ہے کہ وہ نہ صرف سنی العقیدہ اور سلفی المسلک عالم تھے بلکہ شریعت کے بہت بڑے ترجمان اور وکیل اور کتاب وسنت کے مخلص خادم اور امت محمدیہ کے ایک جلیل القدر عالم تھے، ان کا وجود نوادر روزگار میں سے تھا، جو صدیوں میں پیدا ہوتا ہے.
جن لوگوں نے ان کی مخالفت اور ان کا تعقب کیا ہے، ان کو علم ونظر میں ان سے کوئی نسبت نہیں ہے، شاہ صاحب حاملین کتاب وسنت اور علمائے اسلام کی تعديل فرماتے ہوئے فرماتے ہوئے اور حدیث مشہور "يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله" - "اس علم کتاب وسنت کے حامل ہر نسل میں سے عادل لوگ ہونگے" سے استدلال کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے متعلق فرماتے ہیں : "وعلى هذا الأصل اعتقدنا في شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله تعالى فأنا قد تحققنا من حاله أنه عالم بكتاب الله ومعانيه اللغوية والشرعية وحافظ لسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وآثار السلف عارف لمعانيهما اللغوية والشرعية، أستاذ في النحو واللغة محرر لمذهب الحنابلة فروعه وأصوله، فائق في الذكاء ذو لسان وبلاغة في الذب عن عقيدة أهل السنة ،لم يؤثر عنه فسق ولابدعة اللهم إلا هذه الأمور التي ضيق عليه لأجلها وليس شيء منها إلا معه دليله من الكتاب والسنة وآثار السلف فمثل هذا الشيخ عزيز الوجود في العلم ومن يطيق أن يلحق شاؤخ في تحريره وتقريره"
شاہ صاحب آگے لکھتے ہیں :
"والذين ضيقوا عليه ما بلغوا معشار ما آتاه الله تعالى وإن كان تضئيقه ذلك ناشيئا من اجتهاد ومشاجرة العلماء في مثل ذلك ما هي إلا كمشاجرة الصحابة رضي الله عنهم فيما بينهم والواجب في ذلك كف اللسان إلا بخير".
مولانا علی میاں ندوی مرحوم نے لکھا ہے کہ :
"شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحب کے اس تزکیہ و شہادت اور ان بلند توصیفی کلمات کے بعد کسی ایسے عالم یا مصنف کی جرح جس کی ابن تیمیہ کے آفاق علم وفکر تک رسائی نہ ہو کوئی علمی وزن نہیں رکھتی، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے جو تبحر علمی، تنوع کمالات ،مجتہدانہ فکر ونظر، اختلافات میں مسلک اعتدال اور علمائے اسلام کی مرتبہ شناسی کا ملکہ عطا فرمایا تھا، اس کے بعد ان کا قول اس بارے میں قول فیصل ہے.
داستان فصل گل خوشی سراید عندلیب".
کوئی یہ نہ سمجھے کہ شاہ صاحب نے ابن تیمیہ کی کتابیں دیکھی نہیں تھیں، اس لئے مولانا آزاد نے جو لکھا ہے اسے یہاں پہش کر دینا ضروری ہے، وہ لکھتے ہیں :"ابن تیمیہ اور ابن قیم دونوں کی کتابیں شاہ صاحب کے شیخ ابوطاہر الکردی کے والد حضرت شیخ ابراہیم کورانی کی وسعتِ نظر وبلندیِ مشرب کی وجہ سے ان (شاہ صاحب) کے مطالعہ میں رہ چکی تھیں".
هذا ما وقفت عليه في هذا المقام، ومن فتّش أكثر قد يجد أكثر.
اخیر میں عربی کے مشہور شاعر ابو تمام کے کلام سے یہ مضمون ختم کرتا ہوں، وہ کہتا ہے :
‏‎ إذا أرادَ اللهُ نشرَ فضيلةٍ
طُويتْ أتاحَ لها لسانَ حَسودِ
لولا اشتعالُ النارِ فيما جاوَرَت
ما كانَ يُعرفُ طيبُ عَرفِ العودِ
 
Top