ذیشان خان

Administrator
محدثین کرام کی حیات کے بعض مخفی گوشے
✍ رفیق احمد رئیس سلفی

سنہ اور تاریخ ٹھیک سے یاد نہیں،علی گڑھ سے جامعہ سلفیہ بنارس کا ایک علمی سفر کیا تھا۔علی گڑھ میں ’’علوم الحدیث:مطالعہ وتعارف‘‘کے مرکزی عنوان کے تحت سیمینار ۱۸-۱۹؍اکتوبر ۱۹۹۸ء کو منعقد ہوا تھا۔بعض اساتذہ کرام اور صاحب علم دوستوں کی خواہش تھی کہ علی گڑھ میں حدیث کے موضوع پر سیمینار ہوتے رہنا چاہیے ۔خیال آیا کہ کیوں نہ محدثین کرام کی حیات وخدمات پر کوئی سیمینار منعقد کیا جائے ،اس سے جماعت اہل حدیث کے پلیٹ فارم سے ایک علمی کام بھی ہوجائے گا اور کسی طرح اس موضوع پر جس خلا کا احساس ہورہا ہے ،اس کو بھی پر کیا جاسکے گا۔مولانا عبدالسلام مبارک پوری رحمہ اللہ کی’’سیرۃ البخاری‘‘اردو زبان میں شاید پہلی اور آخری کتاب بن کر رہ گئی ہے۔
اس خیال کو کاغذ پر منتقل کرکے ایک خاکہ بنایا ۔مجھے یاد آتا ہے کہ جن محدثین کو بہ طور خاص منصوبے میں شامل کیا تھا،ان کی تعداد چودہ تھی اور ہر محدث پر چار چار علمی مقالات اس طرح ترتیب دینے تھے کہ محدث رحمہ اللہ کی حیات اور شخصیت سامنے آجائے، جس خاص کتاب حدیث نے ان کو شہرت دوام عطا کی ہے ،اس کی ترتیب وتدوین کی ترجیحات اور امتیازات زیر تحریر آجائیں ،اس کی شرحوں ، حواشی وتراجم پر ایک مستقل مقالہ مرتب ہوجائے اور چوتھا مقالہ زیر مطالعہ محدث رحمہ اللہ کی دیگر علمی خدمات کے تفصیلی جائزے پر مشتمل ہو۔میرے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ مجموعۂ مقالات کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اگر کوئی ادارہ چاہے گا تو ہر محدث پر مستقل کتاب بھی شائع کردے گا۔
خاکہ مرتب شکل میں فائل میں موجود تھا اور میں جامعہ سلفیہ بنارس میں استاذ محترم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کے آفس میں ان کے سامنے بیٹھ کر علی گڑھ سے متعلق ان کے کچھ سوالوں کا جواب دے رہا تھا۔جب انھوں نے آنے کا مقصد پوچھا تو فائل ان کے سامنے رکھ دیا اور درخواست کی کہ جس مقصد کے لیے حاضر ہوا ہوں ،اس فائل میں موجود ہے،ملاحظہ فرمالیں۔تھوڑی دیر تک انھوں نے خاکے کو غور سے پڑھا اور پھر اپنے مخصوص انداز میں فرمایا:میاں!خاکہ تو بہت اچھا ہے لیکن تمھارے منصوبے کے مطابق علمی مقالات لکھے گا کون ؟میں نے عرض کیا کہ بعض اساتذہ اور دوستوں سے اس سلسلے میں بات کرچکا ہوں،ان شاء اللہ ان کا تعاون ملے گا اور سیمینار اگر منعقد نہ بھی کرسکا تو مقالات کا مجموعہ تو مرتب کر ہی دوں گا اور پھر اس کی اشاعت کا بھی انتظام ہوجائے گا۔
استاذ محترم کو زمینی حقائق کا مجھ سے زیادہ علم تھا،انھیں جمعیۃ اور جماعت اور اپنے اہل علم کا بھی طویل تجربہ تھا ،انھوں نے یہی فرمایا:ٹھیک ہے تم بھی کوشش کرکے دیکھ لو۔ میرے ذاتی تعاون کے لیے بے فکر رہو،مجھ سے جو کچھ ہوسکے گا،کروں گا لیکن تمھارے خاکے میں ایک پہلو نظر انداز ہوگیا ہے،اگر اس کا اضافہ ہوجائے تو محدثین کی زندگی کے وہ گوشے سامنے آجائیں گے جن کی دنیا کو ضرورت ہے اور اس سے سلفی منہج کی ایک عملی تصویر بھی سامنے آجائے گی جس کی تعبیر وتشریح میں ہم شب وروز مصروف ہیں۔ہر محدث کی معاشرتی زندگی پر بھی ایک مفصل مقالہ تحریر کراؤ جس سے یہ پتا چلے کہ خادم حدیث وسنت نے اپنی عملی زندگی میں ان احادیث پاک کو کس طرح برتا ہے جن کی جمع وتدوین میں اس نے اپنی زندگی صرف کی ہے۔
استاذ گرامی ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کا مطالعہ بڑا وسیع تھا ،عصری موضوعات کے کئی ایک گوشوں پر ان کی نظر ہوتی تھی،جہاں عالمی تناظر میں وہ اسلام کے مختلف موضوعات پر غور وفکر کیا کرتے تھے،وہاں ملکی سطح پر ملی اور جماعتی مسائل پر بھی وہ سوچا کرتے تھے۔سلفی فکر اور اس کے منہج کو علمی سطح پر کس طرح پیش کیا جائے اور کن موضوعات کے حوالے سے پیش کیا جائے،اس سلسلے میں ان کے خیالات وافکار بڑی معنویت رکھتے تھے۔ اداروں اور جماعتوں کی داخلی سیاست نے کتنے اعلی دماغوں کواپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع نہیں دیے اور ایک ایک کرکے وہ ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے اور جماعت اور جماعت سے وابستہ اہل علم ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھاسکے۔
ہمارا ایمان ہے کہ یہ دین اللہ کا ہے،اس کی خدمت کے لیے نئے پودے اگانا اس کا کام ہے اور یہ کام وہ اپنے مخلص بندوں سے قیامت تک لیتا رہے گا ۔ اس لیے کسی کے جانے اور آنے سے کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا ہے لیکن انسان کی طبعی کمزوری کبھی کبھی اس قسم کی باتیں کہنے کے لیے اسے مجبور کردیتی ہے۔
استاذ محترم کی یہ بات اور ان کی یہ تجویز دل میں بیٹھ گئی ۔خاکے میں ایک عنوان کا اضافہ بھی کردیا لیکن علی گڑھ میں دیکھا ہوا یہ خواب آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہوااور ایک اہم موضوع پر ہم نہ سیمینار کرسکے اور نہ اہل علم سے مقالات ہی لکھواسکے۔دعوت نامے بہت سے لوگوں کو ارسال کیے گئے لیکن ہمارے نقشے میں رنگ بھرنے کی حامی کم لوگوں نے بھری ۔جن حضرات نے ہماری دعوت پر لبیک کہا، ان میں نمایاں شخصیت ہمارے عزیز دوست مولانا اسعد اعظمی(استاذ جامعہ سلفیہ بنارس ومدیر ماہنامہ صوت الجامعہ) کے والد گرامی مولانا محمد اعظمی حفظہ اللہ کی تھی۔آپ نے اپنے موضوع پر مفصل مقالہ بھی تحریر فرمایا اور پھر انتظارکرتے رہے کہ میری طرف سے کوئی طلب ہو تو اپنا مقالہ بھیجیں لیکن اس درمیان علی گڑھ میں ایسے حالات پیش آئے کہ سارا منصوبہ بکھر گیا اور ہم ایک اہم موضوع پر سیمینار نہ کرسکے۔ان حالات کی وضاحت اور تشریح اب غیر ضروری ہے،جماعت کے بہت سے احباب کو اس کا علم ہے ۔کافی انتظار کے بعد مولانا اعظمی نے اپنا مقالہ جو امام بخاری رحمہ اللہ کی شخصیت پر تھا،کتابی شکل میں مکتبہ فہیم مئو سے شائع کرادیا ۔ازراہ عنایت کتاب کے مقدمے میں مولانا نے علی گڑھ میں مجوزہ سیمینار کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ کئی ایک دوستوں نے بعد میں مالی وسائل فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی لی لیکن اپنے بعض ذاتی حالات کی وجہ سے میں اس کی دوبارہ ہمت نہیں جٹا سکا۔
ادھر گزشتہ کئی مہینوں سے حدیث اور علوم حدیث سے متعلق اپنے بعض سلفی اسکالرس کے مضامین اور مقالات دی فری لانسراور دبستان میں پڑھ رہا ہوں ۔محنت سے قلم بند کی گئی یہ تحریریں بیش قیمت ہیں اور قارئین کی معلومات میں اضافہ کررہی ہیں۔ان مضامین اور مقالات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے یہ سلفی اہل قلم حدیث اور علوم حدیث کے متخصص ہیں اور بڑے اعتماد کے ساتھ اپنی باتیں لکھتے ہیں۔ان کو پڑھتے ہوئے آج یہ خیال آیا کہ کیوں نہ برسوں پہلے دیکھا ہوا وہ خواب ان کے سامنے نہ بیان کردوں جو ہنوز تشنۂ تعبیر ہے،ممکن ہے کہ کوئی ہمارا نوجوان اسکالر اس خلا کو پُر کردے جو ہم برسوں سے محسوس کررہے ہیں اور اس میں استاذ محترم کا وہ مشورہ بھی اس میں شامل کردے جسے عملی جامہ ہم نہ پہناسکے ۔برصغیر کی جماعت اہل حدیث کا طرۂ امتیاز حدیث وسنت ہے اور اسلام کے اس دوسرے ماخذ کے تعلق سے جو خدمت وہ انجام دے سکتی ہے،کوئی دوسری جماعت نہیں کرسکتی کیوں کہ حدیث کے سلسلے میں ان کے افکار ونظریات ذہنی تشتت اور فکری پراگندگی کے شکار ہیں۔
استاذ محترم نے جو مشورہ دیا تھا،اس کے مطابق کام ابھی تک نہیں ہوا ہے۔امام مزی سے لے کر حافظ ابن حجر عسقلانی تک کی مشہور اور معروف کتابوں میں ہم ائمہ حدیث اور رجال حدیث کے بارے میں صرف یہ پڑھتے آرہے ہیں کہ ان کے محترم اساتذہ کون تھے،کن کن حضرات کو ان سے شرف تلمذ حاصل ہے اور ان کے سلسلے میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال وفرمودات کیا ہیں۔کہیں کہیں یہ اضافہ بھی ملتا ہے کہ ان کی سند سے کوئی حدیث بہ طور مثال ذکر کردی جاتی ہے۔خود امام حدیث اور محدث گرامی کی زندگی کیسی تھی،ان کا ذریعۂ معاش کیا تھا،کس پیشے سے وہ وابستہ تھے،اس کی تفصیلات کیا ہیں، ان کی خانگی زندگی کیسی تھی،ان کی اولاد واحفادکی تفصیل کیا ہے،کس طرح انھوں نے اپنے بچوں کی تربیت کی،اندرون خانہ اہلیہ محترمہ سے ان کے حسن سلوک کی نوعیت کیا تھی۔ان کے دوست واحباب کون تھے،ان سے ان کے روابط کیسے تھے،جس دور میں انھوں نے زندگی گزاری ،اس دور کے عام سیاسی وسماجی حالات کیا تھے،ان کے سلسلے میں ان کا نقطۂ نظر کیا تھا،کسی منکر کے ازالے کے لیے کون ساطریقۂ کار وہ پسند کرتے تھے اور معروف کی تبلیغ واشاعت میں ان کا مابہ الامتیاز کیا تھا۔ مختصر یہ کہ ہمارے یہ ممتاز محدثین کی سماجی زندگی کیسی تھی ،اس کی تصویر پورے طور پر ہمارے سامنے آجائے۔
کیا اسلامی تراث کی کتابوں میں اس موضوع پر مواد موجود ہے؟اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا رہی؟اگر ہے لیکن منتشر حالت میں ہے تو کیوں نہ اس کی جمع وتدوین کی کوشش کی جائے ۔میرا مطالعہ اس موضوع پر نہیں ہے۔مجھے امید ہے کہ ہمارے یہ سلفی نوجوان اسکالرس اس سلسلے میں کچھ رہنمائی کریں گے بلکہ وہ اس موضوع پر قلم بھی اٹھائیں گے تاکہ اردو کے اسلامی ادب میں ایک اضافہ ہوجائے اور قارئین ذی اکرام ان محدثین کی سماجی زندگی بھی دیکھ لیں جن کی ترتیب فرمودہ کتب احادیث میں موجود حدیثوں کی طرف ہم عام مسلمانوں کو دعوت دینے کا اہم دینی فریضہ انجام دیتے ہیں۔
کتب احادیث کے متون کا علمی اور تقابلی مطالعہ اس طرح کیا جائے کہ محدث گرامی کی ترجیحات سامنے آجائیں۔تراجم ابواب کی معنویت اور اس کی حکمت بھی واضح ہوجائے۔تبویب میں معاصر حالات کے اثرات کا بھی تجزیہ کیا جائے۔بعض ضعیف رجال حدیث کو قبول کرنے اور ان کی مرویات کو اپنی کتاب میں جگہ دینے کے پیچھے کیا حکمت کارفرمارہی ہے؟کیا رجال حدیث پر جرح وتعدیل کے سلسلے میں ان کے پیمانے دوسروں سے مختلف رہے ہیں؟اگر جواب اثبات میں ہو تو اقرب الی الصواب کی تعیین کے ضوابط کیا ہیں؟امام ترمذی اپنی سنن میں عام طور پر ہر حدیث کے بعد صحابہ،تابعین اور دیگر اہل علم کے حدیث زیر بحث پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا ذکر کرتے ہیں،اس سلسلے میں امام ترمذی کے مصادر ومراجع کیا ہیں؟اگر مصنف ابن شیبہ،مصنف عبدالرزاق،سنن دارمی اور آثار صحابہ ذکر کرنے والی دیگر کتب احادیث ان کے مصادر ہیں تو کیا یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وہ آثار امام ترمذی کی نظر میں صحیح السند ہیں؟
متون کتب حدیث کے مطالعے کی ضرورت یوں بھی محسوس ہوتی ہے کہ عام طور پر ہم سوانحی کتابوں میں کسی محدث یا حدیث کی کتاب کے بارے میں دوسرے اہل علم کے اقوال پڑھتے ہیں کہ فلاں صاحب نے یہ کہا ہے اور یہ لکھا ہے۔حدیث اور علوم حدیث کے ایک متخصص سے ہم بجا طور پر یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ متون کتب احادیث کا خود مطالعہ کرے گا اور اس کی خوبیوں اور امتیازات کو اپنے مطالعے کی روشنی میں بیان کرے گا۔ممکن ہے کہ اس کا مطالعہ اسے کتاب کے ایسے گوشوں تک پہنچادے جن پر ابھی تک کسی کی نظر نہ گئی ہو۔تراجم وتبویب پر غور وفکر کرنے سے اسلامی فلسفہ وحکمت کے کئی مخفی پہلو بھی سامنے آسکتے ہیں۔
ہماری اپنی جماعت میں اس کی ایک خوبصورت،عالمانہ اور فاضلانہ مثال موجود ہے لیکن بعد میں کسی صاحب علم نے اس راستے پر چلنے کی کوشش نہیں کی۔برسوں پہلے دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار سے شائع ہونے والے دینی رسالہ ’’الہدی‘‘نے بخاری نمبر شائع کیا تھا۔میں نے اپنی آنکھوں سے یہ خاص شمارہ تو ابھی تک نہیں دیکھا لیکن اس کا تذکرہ مختلف کتابوں میں پڑھا ہے۔اس میں ایک خاص مقالہ جماعت کے معتبر عالم دین مولانا اسماعیل گوجرانوالہ کا بھی ہے۔اس میں انھوں نے صحیح بخاری کے بعض تراجم ابواب کی حکمت اور معنویت واضح کی ہے ۔اس سے نہ صرف ہماری علمی اور سماجی زندگی میں حدیث کی اہمیت وضرورت کا پتا چلتا ہے بلکہ خود امام بخاری رحمہ اللہ اور ان کی ترتیب فرمودہ کتاب(جو بلاشبہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے)کی عظمت بھی سامنے آتی ہے۔ مولانا گوجرانوالہ کے مقالات جو ’’مقالات حدیث‘‘کے نام سے اب چھپ گئے ہیں ،اس میں ان کا یہ بیش بہا اور نادر مقالہ موجود ہے۔جماعت کے نوجوان اور شریف النفس صاحب علم برادر عزیز راشد حسن مبارک پوری سے یہ درخواست کروں گا کہ اگر اس مقالے کا عربی ترجمہ نہ ہوا ہو تو اسے عربی میں ضرور منتقل کردیں ،اس سے ان شاء اللہ عرب علماء کو اندازہ ہوگا کہ برصغیر کی سلفی جماعت سے وابستہ علماء کے فکر وفہم کا بلند معیار کیا رہا ہے۔
احمدیہ سلفیہ دربھنگہ کا ترجمان’’الہدی‘‘کا یہ خصوصی شمارہ کہیں موجود ہو تو اسے دوبارہ شائع کیا جائے یا انٹرنیٹ پر اپلوڈ کردیا جائے اور کیا ہی اچھا ہوتا کہ اسے کتابی صورت میں ازسر نومرتب کرکے شائع کردیا جائے۔
الحمد للہ مرکز تاریخ اہل حدیث ،ممبئی سے مولانا عبدالحکیم مدنی حفظہ اللہ کی قیادت میں بڑا اہم کام ہورہا ہے۔اس طرح کے علمی کاموں کے لیے باہمی تعاون کا جو اجتماعی جذبہ درکار ہے،اس کو جِلادینے کی ضرورت ہے۔حدیث کی عظمت،فضیلت،اہمیت اور ضرورت پر اب تک ہمارے معتبر علماء نے جو مضامین لکھے ہیں ،وہ جماعتی رسائل وجرائد میں بند ہیں،ان کو ایک ایک کرکے مرتب کیا جائے اور بہتر ہوگا کہ مولانا عبدالحکیم مدنی صاحب کے حوالے کرکے ان سے درخواست کی جائے کہ وہ اپنے سلسلے کی بنیاد موضوعات پر رکھیں ۔ایک ہی جلد میں ساری چیزیں شامل کرنا بہت زیادہ مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ یہ میری اپنی ذاتی رائے ہے،ویسے مولانا کے پیش نظر کیا مقاصد ہیں اور ان کی اس سلسلے میں کیا ترجیحات ہیں،وہی بہتر سمجھتے ہیں۔بہر حال جو ہورہا ہے وہ گراں قدر اور بیش قیمت ہے،اس سلسلے کو جاری رکھنے میں ہمیں مولانا کے دست وبازو بن کر ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
سعودی عرب کی جامعات میں موجود اپنے نوجوان اسکالرس سے ایک درخواست یہ کروں گا کہ گزشتہ کئی سالوں سے اسلامی تراث کو ازسر نوایڈٹ کرنے کا جو علمی رجحان عام ہوا ہے،وہ بہت ہی خوش آیند ہے ۔آج کے محققین نہ صرف کتاب کی تحقیق وتخریج کرتے ہیں بلکہ کتاب کے آغاز میں کتاب اور صاحب کتاب پر ان کا مقدمہ بہت تفصیلی اور علمی ہوتا ہے۔کتب احادیث پر اس قسم کے جو مقدمے عربی میں لکھے جارہے ہیں،اگر وقتاً فوقتاً ان کو اردو میں منتقل کرتے رہیں تو اس سے اردو کا اسلامی ادب بھی مالا مال ہوجائے گا اور اس عصری رجحان سے بھی ہم واقف ہوسکیں گے جو حدیث کے سلسلے میں عام ہورہا ہے۔
احادیث کی تحقیق وتخریج کے ساتھ فقہ الحدیث پر بھی الحمد للہ خاصا کام ہوچکا ہے اور آج بھی یہ بابرکت سلسلہ جاری ہے۔اردو میں محمد اقبال کیلانی،حافظ عمران ایوب کی کتابوں کے علاوہ دارالسلام سے شائع ہونے والا کتب صحاح کا نیا ایڈیشن بھی بہت مفید ہے جس پر مترجمین نے اردو ترجمہ کے ساتھ ساتھ حدیث کے فوائد بھی تحریر کیے ہیں۔عصر حاضر کے جو موضوعات اسلام اور اہل اسلام کے حوالے سے زیر بحث ہیں،ان پر قرآن مجید کی آیتوں سے استدلال اور مسائل پر قرآنی آیات کے انطباق کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہمارا یقین وایمان ہے کہ قرآن مجید کی طرح احادیث نبویہ بھی زمان ومکان کی قید سے آزاد ہیں،ان کی حیثیت دائمی ہے اوردنیا کے تمام انسانوں کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت احادیث میں موجود ہے لیکن شاید اس موضوع پر زیادہ کام یا خاطر خواہ کام کسی وجہ سے نہیں ہوپارہا ہے۔شاید ہم خدام حدیث کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس پہلو سے احادیث پر غور کریں ،متقدمین شارحین حدیث سے استفادہ ضرور کریں لیکن حدیث کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہوئے اسے عصری مسائل پر بھی منطبق کرنے اور احادیث کی روشنی میں ان کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
نصوص دائمی ہیں،عالم گیریت اور آفاقیت ان کا امتیاز ہے ،فکر وفہم میں جمود نہیں اور نہ یہ کسی دور تک محدود ہیں،آخری رسالت اور اس کی تعلیمات کو قیامت تک باقی رکھنے کے پیچھے یہی دعوی ہے کہ اس کے اندر اتنی وسعت اور جامعیت ہے کہ وہ ہر دور کے مشکل سے مشکل مسئلہ کو حل کرسکتی ہیں لیکن اس دعوی کو زمینی حقیقت بنانے کی ذمہ داری ہماری ہے ۔آخری رسالت کے امین کی حیثیت سے یہ چیلنج ہم نے قبول کیا ہے اور ہمیں ہر اسٹیج پر اس کے لیے موجود رہنا ہوگا۔یہی ہماری منصبی ذمہ داری ہے ،کیا آج کے حالات میں یہ ذمہ داری ہم سے ادا ہورہی ہے اور ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں کہ مسائل حیات کا وہ حل جو اسلام پیش کرتا ہے ،وہ دنیا کے کسی مذہب اور جدید نظریے میں موجود نہیں ہے۔
 
Top