ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
پاکدامن بنیں
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ

پاکدامن بننا اور زنا سے دور رہنا یہ اہل ایمان کی مرکزی صفات میں سے ہے جیسا اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وَالَّـذِيْنَ هُـمْ لِفُرُوْجِهِـمْ حَافِظُوْنَ" (المؤمنون:5) اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں-
اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ ہم پاکدامن بنیں، زنا سے بچیں، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑھ کر باحیا اور پاکدامن کون ہوسکتا ہے لیکن پھر بھی آپ پاکدامنی کے لیے اللہ سے دعائیں کرتے تھے آپ کی ایک مشہور دعا یہ بھی تھی،اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ الهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى" (صحیح مسلم:2721) اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، پاکدامنی اور بےنیازی کا سوال کرتا ہوں-
سیدنا یوسف علیہ السلام کی سیرت پڑھیں، ان کو حاکمِ مصر کی بیوی نے زنا پر آمادہ کیا لیکن یوسف علیہ السلام بھاگ کھڑے ہوئے اور اللہ نے ان کو صاف زنا کی گندگی سے بچا لیا-
قارئین کرام! پاکدامنی مومن کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، عفت وحیا کی چادر یہ سب سے بڑی دولت ہے، اسی لیے ہمارے اسلاف کو زنا اور بےحیائی کے مواقع ملتے تھے لیکن وہ زنا نہیں کرتے تھے، پاکدامنی اختیار کرتے تھے، یہ سیدنا مرثد غنوی رضی اللہ عنہ ہیں جو کسی کام سے مکہ گئے ہوئے تھے وہاں ان کی معشوقہ عناق نامی خاتون تھی جس سے دَور جاہلیت میں ان کے پرانے مراسم تھے مگر قبول اسلام کے بعد حضرت مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے عناق سے بات کرنا گوارا نہیں کیا، جب کہ انہیں رات کی تاریکی میں تنہائی نصیب ہو گئی تھی مزید عناق ملنا بھی چاہتی تھی لیکن صحابی رسول حضرت مرثد غنوی نے عناق کو چھوڑ دیا، یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں جن سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے، سبحان اللہ! کیونکہ آپ بہت بڑے پاکدامن تھے، حضرت عثمان بن عفان رضي اللہ عنہ کہتے ہیں: "فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إسْلَامٍ" (سنن ترمذی:2157/صحيح) اللہ کی قسم میں نے نہ دَور جاہلیت میں زنا کیا اور نہ زمانہ اسلام میں زنا کیا-
سوال یہ ہے کہ ہم اگر پاکدامنی اختیار کریں اور زنا کا موقع ہاتھ آنے کے بعد بھی اللہ کے خوف کی وجہ سے زنا چھوڑ دیں اور پاکدامنی اختیار کریں تو ہمیں کیا ملے گا؟ جی ہاں! اللہ تعالیٰ ایسے پاکدامن نوجوان کو کل قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ" سات ایسے خوش نصیب ہیں جنہیں کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں جگہ عنایت کرے گا، اور اس دن عرش باری تعالیٰ کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا، اور آپ نے پانچویں نمبر پر فرمایا: "وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ" اور ایسا نوجوان جس کو کسی حسن وجمال اور منصب واقتدار والی خاتون نے زنا کی دعوت دی مگر اس نوجوان نے کہا کہ میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں (صحيح بخاری:1423/صحیح مسلم:2427)
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی شرم گاہ کی حفاظت کریں اور خود پاکدامن بنیں، اس پاکدامنی کی وجہ سے اللہ ہم کو دنیا کی مصیبت اور عذاب اور آفت سے بچائے گا، جیسا کہ بہت مشہور واقعہ ہے تین لوگ تھے کہیں جا رہے تھے، راستے میں شدید طوفانی بارش ہونے لگی وہ تینوں لوگ ایک غار میں جا کر چھپ گئے تاکہ طوفان سے بچ سکیں لیکن جیسے اندر داخل ہوئے تو غار کا منہ بند ہو گیا، اب جان بچانے کا کوئی راستہ نہ تھا سبھوں نے اللہ سے دعا کی دوسرے شخص نے یہ دعا کی: "اللَّهُمَّ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ فَأَرَدْتُهَا عَنْ نَفْسِهَا فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنْ السِّنِينَ فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ عَلَى أَنْ تُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا فَفَعَلَتْ حَتَّى إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا قَالَتْ لَا أُحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَتَحَرَّجْتُ مِنْ الْوُقُوعِ عَلَيْهَا فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ وَتَرَكْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ فَانْفَرَجَتْ الصَّخْرَةُ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ مِنْهَا (صحيح بخاری:2272) اے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جو سب سے زیادہ مجھے محبوب تھی، میں نے اس کے ساتھ برا کام کرنا چاہا، لیکن اس نے نہ مانا، اسی زمانہ میں ایک سال قحط پڑا تو وہ میرے پاس آئی میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ خلوت میں مجھے سے برا کام کرائے، چنانچہ وہ راضی ہو گئی، اب میں اس پر قابو پاچکا تھا، لیکن اس نے کہا کہ تمہارے لیے میں جائز نہیں کرتی کہ اس مہر کو تم حق کے بغیر توڑو (یعنی بدکاری کرو) یہ سن کر میں اپنے برے ارادے سے باز آگیا اور وہاں سے چلا آیا، حالانکہ وہ مجھے سب سے بڑھ کر محبوب تھی اور میں نے اپنا دیا ہوا سونا بھی واپس نہیں لیا، اے اللہ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے، چنانچہ چٹان ذرا سی اور کھسکی، لیکن اب بھی اس سے باہر نہیں نکلا جاسکتا تھا-
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو زنا سے بچائے اور پاکدامن بنائے امین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top