ذیشان خان

Administrator
گردن کا مسح کرنا

گردن کا مسح کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے ، اس لئے کسی کو گردن کا مسح نہیں کرنا چاہئے ، اس سے متعلق چند روایات ذکر کی جاتی ہیں ، آئیے دیکھتے ہیں یہ کیسی ہیں ؟
(1):-مصرف بن عمرو سے روایت ہے وہ اسے پہنچاتے ہیں کعب بن عمر تک ،وہ کہتے ہیں ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اپنی داڑھی کا اور گردن کا گدی تک مسح کیا –‘‘
ابن السکن نے اسے کتاب الحروف میں نکالا – اس حدیث کو ابوداؤد نے (1/19) اور احمد نے نکالااور اس کی سند ضعیف ہے اس میں لیث بن سلیم راوی کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے جیسے کہ نووی نے تہذیب الاسماء واللفات میں کہا –
اور مصرف بن عمرو مجہول ہے جیسے کہ ابن القطان نے کہا ،جیسے کہ نیل الاوطار (1/203)مین ہے :امام احمد اور ابن عیینہ نے اسے ضعیف کہا ہے جیسے کہ ابو داؤد میں ہے –جب کہ ابو داؤد کی روایت میں لفظ ’’القذال ‘‘ کا ہے اور وہ کردن کے مسح پر دلالت نہیں کرتا –
(2)-ابو نعیم نے تاریخ اصفہان میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو وضوء کرے اور گردن کا مسح کرے تو قیامت کے دن طوق پہنائے جانے سے بچ گیا ‘‘-اور اس کی سند میں محمد بن عمرو الانصاری ضعیف ہے جیسے کہ نیل الاوطار (1/203) میں ہے اور حدیث موضوع ہے جیسے کہ السلسلہ (2/167)برقم (744) میں ہے –
(3)-ابو عبید ہ نے کتاب الطہور میں عبد الرحمن بن مہدی سے روایت کیا ہے ،وہ اسے موسی بن طلحہ تک پہنچاتا ہے وہ کہتا ہے کہ جس نے سر کے ساتھ گدی کا مسح کیا نو قیامت کے دن وہ طوق سے بچ گیا –
عینی نے شرح الہدایہ میں کہا ہے :یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن اسے رفع کا حکم حاصل ہے کیو نکہ اس میں رائے کی گنجائش نہیں-
میں کہتا ہوں :آپ کو کس نے کہا کہ موسی بن طلحہ صحابی ہے بلکہ وہ تابعین یا اتباع تابعین میں سے ہے تو آپ کے قول کے مطابق تمام روایتیں اور تابعین کے اقوال جس میں رائے کی کوئی گنجائش نہ ہو وہ اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو گئے ،اور اس قول کا فساد اللہ ہی جانتا ہے ،باقی سند پر نظر ڈالیں اور یہ تلخیص الحہیر (1/92) میں ہے اور السلسلہ (1/98) میں یہ ہے کہ اس کی سند میں المسعودی ہے اور وہ مختلط تھا –(برقم :69-744)
(4)-مسند الفردوس میں دیلمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث مرفوعا روایت کی ہے :’’گردن کا مسح قیامت کے دن طوق سے امن کا سبب بنے گا‘‘-
مین کہتا ہوں: یہ حدیث اور دوسری حدیث ایک ہی ہیں اس کے ساتھ اس کی سند بہت ضعیف ہے جیسے کہ الموضوعات الکبری ص(63) میں ہے کیونکہ اس کی علت محمد بن عمرو الانصاری ہے اور وہ ابو سہل البصری ہے جس کے ضعف پر اتفاق ہے اسی لئے امام نووی نے اسے موضوع کہا ہے –
گردن کا مسح کرنا بدعت ہے –(386)
امام ابن قیم نے زاد المعاد (1/28) میں کہا ہے :’’گردن کے مسح کی کوئی حدیث نہیں ،گردن کے مسح میں سرے سے کوئی حدیث ثابت نہیں ‘‘-
امام ابن تیمہ رحم اللہ الفتاوی (21/127) میں کہتے ہیں :’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ صحیح ثابت نہیں کہ آپ نے اپنے وضوء میں گردن کا مسح کیا ہو ،نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی روایت ہے –بلکہ وہ صحیح احادیث جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء بیان ہوا ہے ،میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کا مسح نہیں کیا ،اسی لیے مالک،شافعی ، احمد وغیرہ جمہور علماء نے اسے مستحب نہیں سمجھا اور جو اسے مستحب سمجھتا ہے اس کا اعتماد اس اثر پر ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یا حدیث جس کی نقل ضعیف ہے –
 
Top