ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ کرنے کا حکم
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ

مسجد بنانا یا مسجد آباد کرنا یہ اہل ایمان کا کام ہے، جیسا کہ تعالیٰ فرماتا ہے: "إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ" (التوبة:18) اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو حقیقت میں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں-
اللہ کی نگاہ میں مسجد روئے زمین کا سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب ترین حصہ ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "أَحَبُّ الْبِلاَدِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا" (صحیح مسلم:1560) اللہ کے نزدیک سب سے پیاری جگہیں مساجد ہیں-
قارئین کرام! مسجد کی تعمیر وترقی کے لیے چندہ کرنا، لوگوں سے ڈونیشن لینا جائز ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد کے لیے صحابہ کرام سے چندہ لیا ہے، بڑی مشہور روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: " مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي" (سنن ترمذی:3701/ حسن) کون ہے جو آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو خرید کر مسجد کی توسیع کے لیے لگا دے تو جنت میں اس کے لیے اس سے بہتر چیز ملے گی تو میں (یعنی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) نے اسے اپنے اصل مال سے خرید لیا (اور مسجد کے لیے وقف کر دیا)
بنیادی طور پر اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں، پہلی بات یہ کہ مسجد کے لیے چندہ کرنا، لوگوں سے ڈونیشن لینا جائز اور درست ہے، چندہ کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، دوسری بات یہ کہ مسجد میں چندہ دینا جنت میں داخل کرنے والا عمل ہے-
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مسجد کے لیے چندہ کرنے یا چندہ دینے میں پیچھے نہ رہیں، اللہ کے گھر کی تعمیر وترقی میں ہمیشہ پیش پیش رہیں، بالخصوص جہاں مسلمان آباد ہوں اور وہاں اللہ کا گھر نہ ہو تو گاؤں کے لوگوں پر فرض ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اللہ کا گھر بنائیں، اگر مسجد بنانے کی طاقت نہ ہو تو دوسرے گاؤں واطراف کے لوگوں سے چندہ لیں، اور باجماعت نماز پڑھیں اور اپنا دعوتی وتربیتی پلیٹ فارم تیار کریں، ورنہ یاد رکھیں ایسی مسلم بستی جس میں نماز کی پابندی نہ ہو تو ایسے علاقے پر شیطان حاوی ہو جاتا ہے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ" (سنن ابوداؤد:546/حسن) جس بستی اور گاؤں میں تین افراد آباد ہوں اور وہاں پر نماز ادا نہیں کی جاتی ہو تو شیطان ایسے لوگوں پر غالب آجاتا ہے-
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ کرنا نبی سے ثابت ہے، لیکن چندہ کرنے والوں پر ضروری ہے کہ امانت دار بنیں، مخلص بنیں، مصلح بنیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مسجد کی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top