ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
حمل کی تکلیف
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

عورت جب حمل سے ہوتی ہے تو سر تا پیر درد اور مصیبت میں ڈوبی ہوتی ہے جس کا اندازہ قرآن کی ان دو آیتوں سے ہم لگا سکتے ہیں-
اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِـدَيْهِ حَـمَلَتْهُ اُمُّهٝ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ" (لقمان:14) اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق (حسن سلوک اور احسان کی) تاکید کی ہے، اس کی ماں نے کمزوری در کمزوری کے ساتھ پیٹ میں رکھا ہے، یعنی تکلیف در تکلیف سہہ کر، مشقت در مشقت برداشت کرکے پیٹ میں رکھا ہے-
اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِـدَيْهِ اِحْسَانًا حَـمَلَتْهُ اُمُّهٝ كُرْهًا وَّوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَـمْلُـهٝ وَفِصَالُـهٝ ثَلَاثُوْنَ شَهْرًا" (الأحقاف:15) اور اس نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی، کہ اسے اس کی ماں نے (اپنے پیٹ میں) تکلیف سے اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف سے جنا، اور اس کا حمل اور دودھ کا چھڑانا تیس مہینے ہیں-
قارئین کرام کرام! حالت حمل میں اکثر عورتوں کو ابتداء تا انتہاء کچھ تکالیف ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں-
1) پیٹ میں شدید درد کا ہونا، پیٹ کا بوجھل ہونا جس سے چلنے، پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے، سونے اور گھر کا کام کرنے میں تکلیف کا ہونا-
2) متلی کی شکایت یا منہ بھر قے کا آنا-
3) کھانے کی چاہت کا کم ہونا، کھانا اچھا نہ لگنا، خوراک کم کر دینا-
4) چکر کا آنا-
5) کمر کا درد-
6) پیر کا سوج جانا-
7) قبض کی شکایت-
8) کھجلی کی شکایت-
9) جسمانی کمزوری یا وزن کا گھٹنا-
10) بےچینی، گھبراہٹ اور خوف کا پیدا ہونا-
11) چھاتی کا درد-
12) ریڑھ کی ہڈی کا درد-
درد وتکلیف کی یہ چند جھلکیاں جو سابقہ سطور میں بیان کی گئی ہیں اس کا اندازہ پڑھنے اور لکھنے والوں کو کیا ہوگا، بس عورت کو اللہ نے ایسا بنایا ہے جو اس قدر درد کو برداشت کرتی ہیں اور پھر اس کے بعد ماں بنتی ہیں، اسی لیے شارع علیہ السلام نے ماں کا بہت اونچا مقام عطا کیا ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مجاہد سے فرمایا جہاد میں نہ جاؤ بلکہ "فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا" (سنن نسائی:3104/حسن صحيح) ماں کو لازم پکڑو یعنی اس کی خدمت کرو، اس لیے کہ اس کے قدموں تلے جنت ہے-
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ" (صحیح بخاری:5971) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے، پھر پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے، انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں، انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارے والد-
علامہ عینی شارح صحیح رحمہ اللہ کہتے ہیں: "أن صعوبة الحمل والوضع والرضاع والتربية تنفرد بها الأم وتشقى بها دون الأب فهذه ثلاث منازل يخلو منها الأب" (عمدة القاري:82/22) ماں کا حق باپ کے حق پر مقدم ہے، کیونکہ حمل، وضع حمل اور دودھ پلانے کی مشقت اورصعوبت صرف ماں اٹھاتی ہے باپ نہیں اٹھاتا ہے-
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلم مریضوں کو شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top