ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
یہ حدیث صحیح نہیں ہے
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

ہر سال رمضان سے پہلے یہ حدیث سوشل میڈیا پر ضرور گردش کرتی ہے کہ جو رمضان کی آمد کی خبر دے تو اس پر جہنم کی آگ حرام کر دی جاتی ہے، حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں "إِذا بَلَّغْتَ النًّاسَ بِشَهرِ رَمَضَانَ حَرُمَتْ عَلَيكَ النَّارُ" جب تم لوگوں کو ماہ رمضان کی خبر پہنچاؤگے تو تم پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی-
اصل میں اس طرح حدیث کی کسی بھی کتابوں میں کوئی حدیث ہے ہی نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے، بس لوگوں نے اپنی طرف سے گڑھ لیا ہے لہٰذا ایسی بےسند روایات کو بیان کرنے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے سے بچنا چاہیے، کیونکہ دین اور شریعت کے نام پر فراڈ کرنا، جھوٹی روایات بیان کرنا بہت خطرناک معاملہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَـرٰى عَلَى اللّـٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيَاتِهٖ اِنَّهٝ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُوْنَ" (الأنعام:21) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے، بے شک ظالم کامیاب نہیں ہوں گے-
اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" (صحيح بخاری:110_ مقدمة صحيح مسلم:4) جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے-
آیت وحدیث میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ قرآن وحدیث کو بیان کرنے میں بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے، دین کی اسی بات کو پھیلانا چاہیے جو مستند ہو، محقق ہو، مدلل ہو، اس کے متعلق مکمل علم ہو، مزید دین کے نام پر اپنی طرف سے کبھی کچھ جھوٹ نہیں پھیلانا چاہیے، کیونکہ جھوٹ تو جھوٹ ہے، کبیرہ گناہ ہے، اس پر مستزاد یہ کہ اللہ اور رسول کا نام لے کر جھوٹ بولا جائے پھر اسے دین میں شامل کر لیا جائے اور دین سمجھ کر عمل کیا اور کرایا جائے جوکہ شریعت سازی ہے، اسی لیے اسلام نے دین کے نام پر، اللہ اور رسول کے نام پر جھوٹ بولنے والوں کو ظالم قرار دیا ہے اور جہنم کی وعید سنائی ہے، لہٰذا ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم صحیح حدیثوں کو پھیلائیں، ضعیف، موضوع، منکر اور من گھڑت روایتوں کو نہ بھیجیں، اور جہاں حدیث کے متعلق اشکال ہو یا اس کے حکم کے متعلق شبہ ہو جائے فوراً اہل علم سے رجوع کریں، اور حدیث چیک کرائیں، پھر جب سمجھ میں آجائے اور روایت مستند ہو تبھی نشر کریں ورنہ خاموش رہیں یہی بہتر طریقہ ہے اسی میں عافیت ہے-
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رمضان المبارک کی آمد کی اطلاع دینا اور لوگوں کو اعمال رمضان کی ترغیب وتاکید کرنا اچھی بات ہے نیک کام ہے لیکن اس ایک عمل پر بھاری فضیلت اور ڈھیر ثواب بتانا یہ بالکل غیر مناسب بات ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top