ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
ہماری مسجدیں اور ہمارے بچے
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

دیہاتوں میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب چھوٹے بچے مسجد میں نماز پڑھنے اپنے بھائی یا ابو وغیرہ کے ساتھ جاتے ہیں اور کچھ نماز میں معمولی شرارت کرتے ہیں تو نمازیوں میں سے بعض بزرگ حضرات بچوں کو ڈانتے ہیں، مسجد سے بھگاتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ ہماری نماز خراب ہوتی ہے مسجد میں نہ آیا کرو، میرے بھائیو! تربیت کا یہ طریقہ انتہائی غلط ہے، بچوں کو مسجد سے نکالنا گویا بچوں کو نماز اور مسجد سے متنفر کرنا ہے اور دوسری بات جو ہمارے بزرگ احباب یہ کہتے ہیں کہ بچوں کے کھیلنے یا چلانے سے نماز خراب ہوتی ہے تو یہ بات بھی بچکانہ ہے کیونکہ بچوں کی شرارت سے کسی کی بھی نماز خراب نہیں ہوتی ہے-
قارئین کرام! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم چھوٹے بچوں کو مسجد لاتے تھے اور ان کو مسجد اور نماز سے قریب رکھتے تھے آئیے کچھ دلائل دیکھتے ہیں تاکہ ہماری اصلاح ہوسکے-
1) حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق کہتے ہیں: "كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِأَبِي العَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا" (صحیح بخاری:516) آپ صلی اللہ علیہ وسلم امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بعض اوقات) نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے، ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی حدیث میں ہے کہ سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے تھے-
2) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلاَةِ أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ" (صحیح بخاری:707) میں لمبی نماز پڑھانے کے ارادہ سے کھڑا ہوتا ہوں، لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں، کیوں کہ میں اس کی ماں کو تکلیف میں ڈالنے کو برا سمجھتا ہوں-
3) حضرت شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: "خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعِشَاءِ وَهُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا قَالَ أَبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ إِلَى سُجُودِي فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ سَجَدْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِكَ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ قَالَ كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ" (سنن نسائی:1141/صحيح) مغرب یا عشاء کی نماز کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے حضرت حسن یا حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (نماز پڑھانے کے لیے) آگے بڑھے اور بچے کو نیچے بٹھا دیا، پھر نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی اور نماز شروع کر دی، نماز میں آپ نے ایک سجدہ بہت لمبا کر دیا، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو بچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علیہ وسلم کی پشت پر بیٹھا تھا اور آپ سجدے میں تھے، میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پوری فرمائی تو لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم! آپ نے نماز میں ایک سجدہ اس قدر لمبا کیا کہ ہم نے سمجھا کوئی حادثہ ہوگیا ہے یا آپ کو وحی آنے لگی ہے، آپ نے فرمایا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ میرا بیٹا میری پشت پر سوار ہوگیا تو میں نے پسند نہ کیا کہ اس کو میں جلدی کروں یعنی اپنی بیٹھ سے جلد اتار دوں یہاں تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری کرلے یعنی اچھی طرح کھیل کر خوش ہو جائے-
4) حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا, عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ، يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ، فَأَخَذَهُمَا، فَصَعِدَ بِهِمَا الْمِنْبَرَ" (سنن ابوداؤد:1108/ صحيح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ (اس اثناء میں) سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سرخ قمیصیں پہنے ہوئے آئے وہ گرتے تھے اور اٹھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم منبر سے اتر پڑے ان کو پکڑا اور ان دونوں کو لے کر منبر پر تشریف لائے-
ان دلائل سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بچوں کو مساجد سے کتنا قریب رکھتے تھے اور بچوں کو لے کر کبھی ضرورت کے وقت خطبہ اور نماز دونوں پڑھا دیتے تھے، لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم بچوں سے نہ جلیں، ان کو مسجد سے نہ بھگائیں، ان کو نہ ڈانٹیں، پیار ومحبت سے سمجھائیں، نماز سے قریب کریں، ان کی انگلی پکڑ کر مسجد میں اپنے ساتھ لائیں، جیسا کہ اللہ کے نبی اور صحابہ کرام اور اسلاف عظام اپنے بچوں کو مساجد سے قریب رکھتے تھے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مساجد کا احترام کرنے اور انہیں اچھی طرح آباد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top