ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
رحمتِ الٰہی کے مستحقین، قرآن کی روشنی میں
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

رحمتِ الٰہی کے مستحق صرف اہل ایمان ہیں، اور اسی لیے اہل ایمان صرف اللہ ہی سے رحمت کی امید کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ اُولٰٓئِكَ يَرْجُوْنَ رَحْـمَتَ اللّـٰهِ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ" (البقرة:218) بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے-
آئیے آج دیکھتے ہیں کہ کتاب اللہ کی روشنی میں رحمتِ الٰہی کے مستحق کونسے لوگ ہیں-
1) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت وپیروی کرنے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَاَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُـوْنَ" (آل عمران:132) اور اللہ اور رسول کی تابعداری کرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ-
2) کتاب مبارک (قرآن) کی پیروی کرنے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ" (الأنعام:155) اور یہ کتاب بھی ہم ہی نے اتاری ہے جو برکت والی ہے تو اس کی پیروی کرو اور (اللہ سے) ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے-
3) اللہ سے ڈرنے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "اَوَعَجِبْتُـمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوْا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُوْنَ" (الأعراف:63) کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے رب کی طرف سے تم ہی میں سے ایک مرد کی زبانی تمہارے پاس نصیحت آئی ہے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ اور تم رحم کیے جاؤ-
4) قرآن بغور سننے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَـهٝ وَاَنْصِتُـوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُوْنَ" (الأعراف:204) اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے-
5) نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرنے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُوْنَ" (النور:56) اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے-
6) استغفار کرنے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "قَالَ يَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُوْنَ" (النمل:46) کہا اے میری قوم بھلائی سے پہلے برائی کو کیوں جلدی مانگتے ہو، اللہ سے مغفرت طلب کیوں نہیں کرتے ہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے-
7) اللہ کے عذاب سے ڈرنے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمُ اتَّقُوْا مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُـوْنَ" (یاسین:45) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے سامنے اور پیچھے آنے والے عذاب سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے-
8) صلح کرانے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "اِنَّمَا الْمُؤْمِنُـوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُـوْنَ" (الحجرات:10) بےشک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں سو اپنے بھائیوں میں صلح کرادو، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے-
9) مصائب ومشكلات پر صبر کرنے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "اَلَّـذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُـمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلّـٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ، اُولٰٓئِكَ عَلَيْـهِـمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِـمْ وَرَحْـمَةٌ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُهْتَدُوْنَ" (البقرۃ:156-157) وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں ہیں اور رحمتیں ہیں اور یہی ہدایت پانے والے ہیں-
10) دین وایمان پر استقامت اختیار کرنے والے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "فَاَمَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا بِاللّـٰهِ وَاعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَيُدْخِلُـهُـمْ فِىْ رَحْـمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ" (النساء:175) سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو انہیں وہ اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا-
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت میں داخل کرلے اور ہم سبھوں کے گناہوں کو معاف کر دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top