ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
دکان مکان کی حفاظت کے لیے کیمرہ لگانے کاحکم
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

گھر مکان کی حفاظت کے لیے، کھیت کی رکھوالی کے لیے اور کھیت اور باڑے کی حفاظت کے لیے، جانور اور پرندے کا شکار کے لیے کتا پالنا جائز ہے جب کہ شوقیہ کتا پالنا حرام اور ناجائز عمل ہے بلکہ نیکیوں کو برباد کرنے والا عمل ہے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا لِصَيْدٍ أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ" (صحیح بخاری:5481) جو کوئی ایسا کتا پالتا ہے جو شکار یا جانوروں کی حفاطت کے لیے نہ ہو تو اس کے ثواب سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے-
جب کہ کتا تمام جانوروں میں سب سے خبیث اور ناپاک جانور ہے جس جگہ کتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے ہیں، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ" (صحيح بخاری:4002) رحمت کے فرشتے اس گھر میں تشریف نہیں لاتے ہیں جس میں کتا اور تصویر ہو-
اور کتا جس برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھلنا ضروری ہو جاتا ہے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "إِذَا شَرِبَ الكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا" (صحیح بخاری:172) جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے پی لے تو چاہیے کہ اس کو سات مرتبہ دھلو-
مزید یہ کہ پہلی بار مٹی سے بھی دھلنا چاہیے جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أُولاهُنَّ بِالتُّرَابِ" (صحیح مسلم:677) تمہارے جس برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سات بار پانی سے دھلو اور پہلی بار مٹی سے صاف کرو-
اور اس برتن میں جو کھانا وغیرہ ہو تو اسے پھینک دینا چاہیے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مِرَارٍ" (صحيح مسلم:674) جب کتا تمہارے برتن میں منہ ڈال دے تو اس کی چیز کو گرا دو، بہادو یعنی اس کو استعمال مت کرو، اور پھر اس برتن کو سات مرتبہ دھلو-
ان تعلیمات پر غور کریں کہ کتا اتنا نجس اور گندا جانور ہے پھر بھی ضرورت کے وقت جیسے شکار، کھیت، مکان منزل اور جانور کی حفاظت کی خاطر پالنا جائز ہے تو اسی طرح دکان، مکان، منزل، گھر، کارخانہ، کمپنی، مسجد، مدرسہ، آفس، لائبریری وغیرہ وغیرہ کی حفاظت کے لیے سی سی ٹی وی کیمرہ لگانا جائز ہے، قدیم زمانے میں کتا نگرانی کرتا تھا اور چوروں اور بدمعاشوں کو بھگاتا تھا، آج جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اتنی سہولت ہوگئی ہے کہ چوروں اور بدمعاشوں کو بآسانی پکڑ سکتے ہیں اور اپنی جان ومال کی حفاظت کر سکتے ہیں، اس لیے جہاں سیکورٹی کی ضرورت ہو، دکان مکان کی حفاظت کی ضرورت ہو بلاجھجک سی سی ٹی وی کیمرہ لگالیں، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، اور جو لوگ دکان مکان کی حفاظت کی خاطر کیمرہ لگانے کو ناجائز اور حرام کہتے ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے، اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ دے اور جدید وسائل کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top