ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا حکم
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

جیساکہ ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ صدقہ وخیرات کرنے کی بڑی فضیلت ہے، انسانی زندگی میں صدقہ کا بڑا فائدہ ہے، صدقہ کی وجہ سے مال کم نہیں ہوتا ہے بلکہ مال بڑھتا ہے، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:‏ "مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ" (صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب استحباب العفو والتواضع، حديث رقم:4817) صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا-
اس لیے ہم سب کو اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہنا چاہیے، صدقہ وخیرات کرنا چاہیے، مال جمع کرکے صرف اپنے اکاؤنٹ میں نہیں رکھنا چاہیے بلکہ مرنے سے پہلے پہلے خرچ کرنا چاہیے، تاکہ یہ نیکیاں ہم کو آخرت میں فائدہ پہنچا سکیں، کیونکہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اسے دوبارہ نیکی کا موقع ہاتھ نہیں آتا ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ، إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَةٍ إِلاَّ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ" (صحيح مسلم:4310) جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب میت کو برابر ملتے رہتا ہے (1) صدقہ جاریہ (2) وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں (3) وہ صالح اولاد جو اپنے والدین کے حق میں دعا کرے-
قارئین کرام! سوال یہ ہے کہ فوت شدہ اشخاص کی طرف سے صدقہ دینے کا حکم کیا ہے؟ کیا میت کی طرف سے صدقہ دیا جائے تو میت کو فائدہ پہنچتا ہے؟ تو اس سلسلے میں احادیث کے اندر یہ وضاحت ملتی ہے کہ فوت شدہ اشخاص کی طرف سے صدقہ کرنا جائز اور درست ہے اور ایسے صدقات وخیرات کی وجہ سے میت کو فائدہ پہنچتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری والدہ اچانک فوت ہو گئی، اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسے کچھ بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ ضرور کرتی، تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (صحیح بخاری:1388)
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ فوت ہوگئی، انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم! میری عدم موجودگی میں میری والدہ فوت ہوگئی تو کیا اگر میں کوئی چیز ان کی طرف سے صدقہ کروں تو وہ انہیں نفع پہنچائے گی؟ آپ نے فرمایا ہاں! حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ میرا پھل دار باغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے (صحیح بخاری:2756)
سنن ابوداؤد میں ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے حق میں کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا پانی پلانے کا صدقہ سب سے زیادہ بہتر ہے، پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ ام سعد یعنی میری والدہ کےلیے (صدقہ ) ہے (سنن ابوداؤد:1680/حسن)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے مزید یہ کہ صدقہ کی وجہ سے میت کو فائدہ بھی پہنچتا ہے، اور ایک اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ فوت شدگان کی طرف سے سب سے بہترین صدقہ پانی پلانا ہے، لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے فوت شدہ متعلقین اور اقرباء کی طرف سے صدقہ وخیرات کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top