ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
امانت داری کا ایک انمول واقعہ
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

مومن کی ایک صفت امانت دار بننا ہے، مومن اپنے ہر معاملات میں امانت دار ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ" (المؤمنون:8) کامیاب وہ لوگ ہیں جو لوگ اپنی امانتوں اور عہدو پیمان کی رعایت وحفاظت کرتے ہیں-
امانت داری اتنی اہم چیز ہے کہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے: "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا" (النساء:58) اللہ تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے اصل مالکان تک پہنچادو-
قارئین کرام! آج بخاری شریف کے حوالے سے ہم آپ کو امانت داری کے متعلق ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ بتلانا چاہتے ہیں-
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ ﷲ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى ﷲ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ، خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضِ، وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ، وَقَالَ الَّذِي لَهُ الْأَرْضُ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا، فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ أَلَكُمَا وَلَدٌ؟ قَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلَامٌ وَقَالَ الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ، قَالَ أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا" (صحیح بخاری:3472) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص نے دوسرے شخص سے زمین خریدی، جس نے زمین خریدی تھی اس نے زمین میں ایک گھڑا پایا جو سونے سے بھرا ہوا تھا تو اس نے فروخت کرنے والے سے کہا کہ تم اپنا سونا مجھ سے لے لو، کیونکہ میں نے تجھ سے صرف زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا تھا، زمین کے مالک نے کہا کہ میں نے زمین اور جو کچھ اس میں تھا سب تجھے فروخت کردیاتھا، آخر وہ دونوں ایک تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے، فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا کیا تم دونوں کی اولاد ہے؟ تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ جی میرا ایک لڑکا ہے، دوسرے نے بھی کہا کہ میری ایک لڑکی ہے، اس (فیصلہ کرنے والے) نے کہا کہ اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے کردو اور اس مال کو ان دونوں پر خرچ کردو، اور اس مال میں سے کچھ صدقہ وخیرات بھی کر دو-
یہ واقعہ صحیح بخاری کا ہے جو اپنے اندر امانت داری کی ایک بہترین مثال رکھتا ہے، لیکن افسوس آج ہم اکثر مسلمان خیانت کرتے ہیں، امانت ادا نہیں کرتے ہیں، مال کے لیے جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، ایک ایک انچ انچ زمین کے لیے خون خرابہ کرتے ہیں، قتل وغارت گری کا بازار گرم کرتے ہیں، یہ واقعہ ہم سب کو امانت داری کی تعلیم دیتا ہے، حلال کھانے کی ترغیب دیتا ہے، لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم امانت دار بنیں، حلال کھائیں، نیک عمل کریں، خیانت اور حرام خوری سے بچیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو امین وصادق بنائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top