ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
ایک سے زائد شادی کا فائدہ
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

شادی بیاہ جہاں ہماری فطری ضرورت ہے وہیں یہ اللہ کی نشانی بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً" (الروم:21) اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون اور آرام حاصل کرو، اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی ہے-
قارئین کرام! ایک مرد کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ بیک وقت چار بیوی رکھے یعنی چار شادی کرنا جائز اور درست ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: "فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ، فَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً" (النساء:3) جو عورتیں تمہیں پسند آئیں اس میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو، اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہیں کر سکوگے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو-
شادی کا ایک اہم مقصد افزائش نسل ہے، پاکیزہ ذریت کا تناسب وتعداد میں اضافہ کرنا، اسی لیے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے زیادہ بچہ جننے والی عورت سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے، آپ نے فرمایا: "تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ" (سنن ابوداؤد:2049/حسن صحيح) تم لوگ خوب محبت کرنے والی اور زیادہ بچہ جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ میں اپنی امت کی کثرت پر کل قیامت کے دن فخر کروں گا-
قارئین کرام! ایک سے زائد شادی کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ امت محمدیہ کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور انسان کو پاکدامنی اور عفت کی چادر نصیب ہوگی، اس لیے ایک سے زائد شادی کرنے میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ دوسری شادی تیسری چوتھی شادی میں بہت خیر وبرکت ہے، آئیے آج کچھ اہم فوائد کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں-
1) ایمان کی تکمیل اور برائی کا سدباب-
2) لڑکیوں کی شادی کا آسان ہونا-
3) رسم ورواج کا خاتمہ-
4) بیواؤں اور مطلقہ عورتوں سے شادی کرکے ان کے مسائل کا حل کرنا اور ان کا سہارا بننا-
5) اولاد کی کثرت-
6) رشتہ داری کی کثرت اور صلہ رحمی کا مناسب موقع-
7) ہمیشہ جسمانی لذت سے محظوظ ہونا، حیض، حمل اور نفاس کی وجہ سے ایک بیوی والا آدمی بہت بےقرار اور بےچین رہتا ہے-
8) اہل وعیال کے نان ونفقہ میں مال کا زیادہ خرچ ہونا اور زیادہ بہترین صدقے کا ثواب پانا-
9) بیوی اور شوہر کے مابین اختلاف کا کم ہونا اور اپنی ہر بیوی سے اس کی محبت کا زیادہ حصہ پانا، ہر روز شوہر کی الگ الگ خدمت کا ہونا-
10) خیر وبرکت کا ملنا اور رزق میں اضافہ ہونا-
11) قوت باہ (مردانگی) میں اضافہ، صحت وتندرستی میں اضافہ-
12) کثرت جماع سے کثرت ثواب کا ملنا، انبیاء کی سنت پر عمل کرنے کا اجر کا پانا-
13) فرحت وسرور کا ملنا-
14) اللہ کی مدد کا ملنا-
15) بچے جس قدر زیادہ ہوں گے بڑھاپے میں اس قدر سکون اور آرام ملے گا-
16) پاکدامنی کا حصول، زناکاری اور فحاشی سے نجات-
یہ شادی کے کچھ اہم فوائد ہیں اس لیے ہم سب کو شادی کرنے میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے، طاقت وقوت ہو تو ایک سے زائد شادی کرنا چاہیے، لیکن تمام بیویوں کے درمیان انصاف بھی کرنا چاہیے، ہم یہ بات اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ اکثر لوگ چار چار شادیاں کرلیتے ہیں مگر بیویوں میں انصاف نہیں کرتے ہیں، یہ بیویوں پر ظلم ہے-
اکثر لوگ اور بالخصوص خواتین دوسری شادی کو عیب اور گناہ سمجھتی ہیں، شوہر زنا کرے سماج برا نہیں کہے گا، عشق وعاشقی کے فتنے میں مبتلا ہو کوئی نہیں روکے گا لیکن جب حلال راستے پر چلے اور شادی بیاہ کرلے تو سب لوگ اس کے دشمن بن جائیں گے، سب سے پہلے والدین اور بیوی دوسری شادی میں رکاوٹ ڈالے گی، یہ انتہائی دکھ کی بات ہے اور ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی جاہلی روایات وخرافات سے ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top