ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
عقیقہ میں بال کے وزن برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

شریعت اسلامیہ نے بچے کی پیدائش کی خوشی میں بطور شکرانہ عقیقہ کرنے کا حکم دیا ہے، اس واسطے عقیقہ کی سنت زندہ کرنا چاہیے، بچے کی طرف سے اس کی پیدائش کے ساتویں روز دوبکرا اور بچی کی طرف سے ایک بکری قربان کرنا چاہیے اور بچے کا نام رکھنا چاہیے اور اس کے سر کے بال حلق کرنا چاہیے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُسَمَّى فِيهِ، وَيُحْلَقُ، وَيُسَمَّى" (سنن ابوداؤد:2837/صحيح) ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی پر رکھا رہتا ہے، اس کی پیدائش کے ساتویں روز جانور قربان کیا جائے گا، اور (بچے کا) بال حلق کیا جائے گا اور بچے کا نام رکھا جائے گا-
قارئین کرام! عقیقہ کے متعلق اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا بال کے عوض چاندی صدقہ کرنا چاہیے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ صدقہ کرنا چاہیے اور بعض لوگ بال کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے سے منع کرتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ حدیث اس باب میں ضعیف ہے، لیکن شیخ البانی اور دیگر محدثین نے اس روایت کی تحسین کی ہے، دیکھیے پوری روایت، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: "عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الحَسَنِ بِشَاةٍ، وَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ! احْلِقِي رَأْسَهُ، وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً، قَالَ: فَوَزَنَتْهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ" (سنن ترمذی:1518/ حسن) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک بکری عقیقہ میں ذبح کیا اور پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ حسن کے بال حلق کرو اور پھر بال کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرو، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے وزن کیا تو بال کا وزن ایک درہم یا اس سے کچھ کم وزن تھا-
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں: "إِنَّ فَاطِمَة رَضِي الله عَنْهَا حلقتْ رَأسَ الْحسنِ وَالْحُسَيْنِ، وتصدقتْ بِوَزْنِ شَعرِهِما وَرِقََا يعني فضةََ" (تحفة المودود لابن القيم:ص 97) فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسن حسین کے بالوں کو حلق کیا اور پھر ان دونوں کے بال کے وزن کے مساوی (برابر) چاندی صدقہ کیا-
اس روایت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ بال کے وزن برابر چاندی صدقہ کرنا مسنون عمل ہے، لہٰذا صدقہ کرنا چاہیے، لیکن بعض لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی تضعیف کی ہے اس لیے وہ یہ کہتے ہیں کہ بس عقیقہ میں بچے کا بال بنا لیا جائے گا اور صدقہ وغیرہ نہیں کیا جائے گا-
جمہور علماء میں جیسے مالکیہ، شافعیہ اور حنبلیہ وغیرہ یہ سب پیدائش کے ساتویں روز بچے کے بال کو حلق کرنے کو مستحب قرار دیتے ہیں اور اسی طرح بال کے وزن کے برابر سونے یا چاندی صدقہ کرنے کے قائل ہیں (الموسوعة الفقهية: 107/26)
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے میں راجح موقف کیا ہے؟ تو اس سلسلے میں سب سے بہتر بات یہی ہے کہ بال کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کر دینا چاہیے کیونکہ سلف صالحین کا اس پر عمل رہا ہے، لیکن یاد رہے کہ چاندی کا صدقہ کرنا یہ واجبی عمل نہیں ہے، اگر صدقہ کر دیں تو بہتر ورنہ کوئی بات نہیں ہے یعنی چاندی کا صدقہ نہ کرنے کی وجہ سے عقیقہ پر کچھ نقصان یا ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی، اس لیے اس مسئلے میں سختی نہیں کرنی چاہیے تشدد نہیں برتنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم نافع اور عمل صالح کی توفیق فرمائے آمین-
(نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں *الإسلام سؤال وجواب رقم السؤال:222929/* سے استفادہ کیا گیا ہے)
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top