ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
منگنی کی رسم
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

منگنی نکاح کے متعلق بات چیت کرنے کا نام ہے، رشتہ طے کرنے کا نام ہے، منگنی فی نفسہ حرام نہیں ہے منگنی کے نام پر جو حرام خوری ہوتی ہے بیجا مطالبات ہوتے ہیں وہ ناجائز عمل ہے، یعنی آج جہالت کی وجہ سے منگنی یہ مانگنے کا کام بن گیا ہے، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ہندوانہ رسم بنتا جا رہا ہے، منگنی کا تصور آج کچھ اس طرح ہے عقد نکاح کی تعین، شروط، مطالبات، جہیز کی پیشگی لسٹ، منگنی کے موقع پر لڑکا لڑکی دونوں کی طرف لین دین جیسے زیور، بھاری سوٹ، ایک کنٹل مٹھائی، فروٹ، ہزاروں لاکھوں روپیے وغیرہ، مزید دس بیس پچیس پچاس مہمانوں کی معیاری ضیافت، یہ رسم ملک کے مختلف علاقوں میں کہیں کچھ کم کہیں کچھ زیادہ رائج ہے، آپ کہیں گے کہ اس میں کیا خرابی ہے، تو ہم کہیں گے کہ جی اس رسم میں بہت خرابی ہے، پہلی بات تو یہ کہ منگنی کی رسم پر اس طرح عمل کرنا یہ دنیا داروں کا کام ہے، یہ رسم ہندوانہ تہذیب کی ترجمانی کرتا ہے، علاوہ ازیں اس رسم پر چلنے میں لڑکا لڑکی دونوں طرف سے مالی نقصان بھی ہے جسے کھل کر اسراف اور فضول خرچی کا نام دیا جا سکتا ہے-
قارئین کرام! شیطان کی ایک چال یہ بھی ہے کہ وہ مال کا غلط استعمال کراتا ہے، ناجائز جگہوں پر مال لٹانے کا کام کراتا ہے، فضول خرچی کے عمل میں داخل کراتا ہے اس لیے ہم سب کو شیطان کی اس رکیک چال سے الرٹ رہنا چاہیے، اپنے مال کی حفاظت کرنا چاہیے، اور فضول خرچی سے بچنا چاہیے، کیونکہ فضول خرچ کرنے والا شیطان کا بھائی ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا" (الإسراء:27) بلا شبہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نافرمان اور ناشکرا ہے-
اسراف اور فضول خرچی کرنے والوں سے اللہ محبت نہیں کرتا ہے جیساکہ اللہ نے فرمایا: "وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ" (الأعراف:31) اور فضول خرچی نہ کرو، کیونکہ وہ (اللہ) فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے-
رسم ورواج پر عمل کرنے والے اور اسلامی تعلیمات کی مخالفت کرنے والے، جاہلیت کے طرز پر چلنے والے اللہ کو سخت ناپسند ہیں، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلاَثَةٌ مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ" (صحیح بخاری:6882) اللہ کے نزدیک تین لوگ واقعی بہت مبغوض ہیں، اول: حرم میں ظلم وستم ڈھانے والا، دوم: اسلام میں جاہلی روایات اور خرافات ڈھونڈنے والا، سوم: ناحق کسی کا خون بہانے کے واسطے اس کے پیچھے پڑنے والا تاکہ اس کا قتل عام کر دے-
لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم آبائی رسومات، جاہلی روایات، خرافات کو اپنی زندگی سے اکھاڑ پھینکیں، سنت وشریعت کے مطابق عمل کریں، اپنی شادیوں کو آسان بنائیں، اتنی سادگی سے شادی کریں کہ ہر جوان لڑکے لڑکیوں کی شادی وقت پر بآسانی ہو جائے، سماج میں کوئی کنوارا نہ رہے، گھر میں جوان بیٹیاں بوجھ نہ سمجھی جائیں، لیکن افسوس آج شادی بہت مشکل ہو گئی ہے، آج ہر گھر گھر میں جوان بیٹے بیٹیاں شادی کی عمر تک پہنچ چکے ہیں لیکن شادی نہیں ہو رہی ہے تاخیر سے شادیاں ہو رہی ہیں، کیوں؟ لین دین کا مسئلہ ہے، پیسہ نہیں ہے، ہمارے مزاج کے مطابق رشتہ نہیں مل رہا ہے لڑکی غریب ہے، لڑکا کم کماتا ہے، اللہ کے بندو! ڈرو اللہ سے، جاہلی رسومات کو لات مارو، دین سیکھو، شادی کو آسان بناؤ، نبی کی سیرت پڑھو، صحابہ کی سیرت پڑھو، دیکھو وہ نیک لوگ کیسے شادی کرتے تھے، نبی نے گیارہ شادی کی، مجھے بتاؤ نبی نے کیا لیا اور کیا دیا، کچھ بھی نہیں، بلکہ آپ نے سبھوں کو اپنی بساط کے مطابق مہر دیا، بس یہی ایک کام ہے جو نکاح میں ضروری ہے-
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی شادیوں کو پاکیزہ بنائیں، سنت وشریعت کی روشنی میں شادی کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top